شیخ الوظائف پر ضعیف روایات بیان کرنے کا الزام لگانے والے ضرور پڑھیں ۔۔۔!

اللہ کے فضل و کرم سے تسبیح خانہ کا منبر قرآن و سنت اور تعلیماتِ اکابر کے پرچار میں ہمہ تن مشغول ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم بھی اپنے بڑوں کی زندگی کو پڑھنے اور سمجھنے والے بن جائیں یہ نہیں کہ دو چار کتابیں پڑھ کر سطحی علم رکھ کر دوسروں پر انگلیاں اٹھاتے پھریں۔ اللہ کریم ہمیں اعتدال کی راہ سمجھنے اور اس پر عمل کرنے والا بنائے۔

مالٹا سے تقریباً 50 میل دور بحیرہ روم کا سب سے بڑا جزیرہ سسلی واقع تھا۔ حضرت والامفتی محمد تقی عثمانی صاحب وہاں سیر کیلئے تشریف لے گئے۔۔ وہاں سے واپسی پر ہوٹل واپس پہنچنے سے پہلے اکابر اور دیگر بزرگانِ دین ترکی کے فوجی قبرستان پہنچے جو کہ عثمانی سلطنت کے سلطان عبدالعزیز خان نے یہاں اپنی آمد کے بعد مسلمانوں کی تدفین کیلئے ۱۸۷۴ میں مالٹا میں بنوایا تھا اور اس وقت بھی یہ قبرستان ترکی کی حکومت کی نگرانی میں ہے۔ خلافت عثمانیہ کے چند سپاہی اس قبرستان میں مدفون ہیں، اس کے علاوہ اس قبرستان میں شیخ الہند مولانا محمود حسن رحمہ اللہ کے ساتھی حکیم نصرت حسین رحمہ اللہ بھی آرام فرما ہیں۔ شیخ الہند رحمہ اللہ اور ان کے رفقاء زمانہ اسیری میں اس قبرستان تشریف لایا کرتے تھے جس کا ذکر مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ نے اپنے سفر نامے میں کیا ہے۔

ایسے سفروں، جیسا کہ ازبکستان کے سفر کے دوران ہمارے حضرت والامولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظہم، اکابر اور دیگر بزرگانِ رحمہم اللہ دین کی قبروں پر حاضر ہوا کرتے ہیں۔ قبروں کی زیارت کرنا نہ صرف جائز ہے بلکہ ایک مسنون اور باعثِ اجر و ثواب عمل ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں قبروں پر جانے سے منع کیا کرتا تھا، لیکن اب تم قبروں پر جایا کرو (مسلم شریف) اور قبروں کی زیارت کیا کرو کہ اس سے موت یاد رہتی ہے۔۔ (مسلم) قبروں کی زیارت کرنے کے بہت سے فوائد ہیں جیسا کہ (1) سنتِ نبوی پر عمل کرنا (2) اپنی موت کو یاد کرنا (3) صاحبِ قبر کو دعا اور تلاوت (ایصالِ ثواب کر کے) فائدہ پہنچانا۔

جیسے ہی ہم قبرستان میں داخل ہوئے حضرت والا نے باآوازِ بلند سلامِ مسنون کہا ”السلام علیکم یا دار قوم مومنین، انتم لنا سلف و ان شاء اللہ بکم لاحقون“ اس کے بعد آپ نے ہمیں بتایا کہ ایک ضعیف روایت ہے جس کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی بھی 11 مرتبہ سورۂ اخلاص کی تلاوت قبرستان میں کرے اور اس کا ایصالِ ثواب قبرستان والوں کو کرے تو خود اسے بھی اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا کہ اہل قبور کی تعداد ہے۔

سوال کرنے پر حضرت والا نے فرمایا اہل قبور کو ایصالِ ثواب کسی بھی مقام سے کیا جا سکتا ہے تاہم صاحبِ قبر کو سلام صرف قبر پر ہی کیا جا سکتا ہے۔ آپ کی عادت جو کہ میں نے بہت سے مقامات پر نوٹ کی ہے یہ ہے کہ آپ قبر پر تلاوت کیا کرتے ہیں اور واپسی پر بلند آواز سے السلام علیکم کہا کرتے ہیں۔

کیا ہمارے بڑے نہیں جانتے تھے کہ مزارات کی حاضری شرک کا دروازہ کھول دے گی۔۔۔ یا ضعیف روایت بیان نہیں کرنی چاہیں۔۔۔!

فاعتبروا یا اولی الابصار

پوسٹ کو شیئر کریں

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026