کچھ عرصہ پہلے تسبیح خانے میں درس کے دوران سفید مرغ کے کمالات بتائے گئے تو کچھ لوگوں نے کہا کہ یہ سب من گھڑت باتیں ہیں۔ بھلا مرغ کا سکھ اور سلامتی سے کیا رشتہ؟ حالانکہ ایسے حضرات کو سوچنا چاہئے تھا کہ بھلا دینی امور کے ساتھ کم عقلی کا کیا رشتہ؟ 1400 سال پہلے نازل ہونے والی شریعت میں آقائے دو جہاں ﷺ نے جن باتوں کو کائنات پر بسنے والے انسانوں اور جنات کے سامنے پیش کر دیا، بھلا آج ایسی کون سی تبدیلی آ گئی ہے کہ ان باتوں سے انکار کر دیا جائے؟ کیا آج کا انسان روٹی کی بجائے چارہ کھانا شروع ہو گیا ہے؟ کیا آج کا انسان لباس کی بجائے چیتے کی کھال سے جسم ڈھانپنا شروع ہو گیا ہے؟ کیا آج کا انسان زمین کی بجائے جنت الفردوس کا باسی بن گیا ہے؟ اگر ایسا کچھ نہیں ہوا تو پھر جان لیں کہ ہمیں بھی انہی احتیاطوں کی ضرورت ہے جو آج سے 1400 برس پہلے بتائی گئی تھیں۔ الحمد للہ! عبقری اور تسبیح خانے کا عالمی مقصد یہی ہے کہ مخلوقِ خدا کو ایسے آزمودہ وظائف اور آسان ٹوٹکے بتائے جائیں، جن کی برکت سے ان کی دنیاوی زندگی بھی خوشحال ہو جائے اور آخرت بھی بہترین۔
امام طبرانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: سفید مرغ رکھا کرو، کیونکہ جس گھر میں سفید مرغ ہو، وہاں نہ تو شیطان اس گھر کے قریب ہو گا، نہ جادوگر اور نہ کوئی درندہ ان گھروں کے قریب آئے گا جو اس گھر کے اردگرد ہیں (رواہ فی الاوسط)
امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: مرغ نماز کیلئے اذان دیتا ہے اور جو شخص سفید مرغ رکھے گا، اس کی تین چیزوں سے حفاظت کی جائے گی۔ 1: شیطان کے شر سے۔ 2: جادوگر کے شر سے۔ 3: کاہن کے شر سے (رواہ فی شعب الایمان)
امام حارث بن ابی اسامہ رحمۃ اللہ علیہ حضرت ابوزید انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: سفید مرغ میرا دوست ہے اور میرے دوست کا بھی دوست ہے۔ یہ اپنے مالک کے گھر کی نگہبانی بھی کرتا ہے اور اس کے اردگرد کے سات گھروں کی نگہبانی بھی (مسند حارث)
حضرت انس رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: شاخِ دار چینی والا سفید مرغ میرا دوست ہے اور میرے دوست حضرت جبرئیل علیہ السلام کا بھی دوست ہے۔ یہ اپنے گھر کی بھی حفاظت کرتا ہے اور اپنے پڑوس کے 16 گھروں کی بھی حفاظت کرتا ہے۔ 4 دائیں طرف سے، 4 بائیں طرف سے، 4 سامنے سے اور 4 پیچھے سے (رواہ ابو الشیخ فی کتاب العظمۃ)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سفید مرغ کو برا بھلا مت کہو، اس لیے کہ یہ میرا دوست ہے اور میں اس کا دوست ہوں اور اس کا دشمن میرا دشمن ہے۔ جہاں تک اس کی آواز پہنچتی ہے، یہ جنات کو دفع کرتا ہے (رواہ ابن حبان)
