زمین کے بل میں پیشاب کرنا کیون منع ہے

( تمام مکاتب فکر کے علماء کا متفق فیصلہ ) جب سے ماہنامہ عبقری کے معروف کالم ” جنات کا پیدائشی دوست” میں حضرت علامہ لاہوتی پراسراری دامت برکاتہم العالیہ نے جنات کی دنیا سے پردہ کشائی فرمائی ہے، کچھ لوگ ان کے کالم میں بیان کردہ باتوں کو صرف افسانہ سمجھ کر رڈ کر دیتے ہیں۔ حالانکہ تمام مکاتب فکر کے علماء و مجتہدین ، اور اکابر واسلاف کا متفقہ فیصلہ ہے کہ احادیث کی روشنی میں درج ذیل جگہوں پر جنات کا رہنا ثابت ہے۔ اسی لیے بل کے اندر پیشاب کرنے سے منع فرمایا گیا ہے ، تاکہ جنات کو تکلیف نہ پہنچے ، ورنہ وہ انسان کو مختلف حادثات میں مبتلاء کر کے اپنا انتقام لیتے ہیں۔ (1) بیابان ، جنگل ، وادیاں ، گھاٹیاں وغیرہ (2) کوڑا کرکٹ اور لید وغیرہ پھینکنے کی جگہوں پر اور ایسی جگہوں پر جہاں انہیں اپنا مخصوص کھانا (ہڈی، گوبر اور کوئلہ ) میسر ہو (3) غسل خانوں اور بیت الخلاؤں میں (4) زمین کی کی دراڑوں ، بلوں ، غاروں، سرنگوں اور متروکہ مکانوں میں (5) انسانوں کے ساتھ ان کے گھروں میں ، ایسے جنوں کو عامر کہا جاتا ہے (6) اونٹوں کے باڑے میں (7) کھنڈرات اور پرانی عمارتوں میں (8) قبرستانوں میں (9) بازاروں میں۔ تفصیل کیلئے دیکھیں کتاب : جناتی اور شیطانی اور چالوں کا توڑ،مصنف : شیخ عبدالله محمد بن احمد الطیار ، شیخ سامی بن سلمان المبارک ، نظر ثانی شیخ حافظ صلاح الدین یوسف، ابوالحسن مبشر احمد ربانی، ناشر دار الا بلاغ لا ہور ( مکتبہ اہل حدیث) دوسری کتاب : جن ہی جن ، مصنف: حضرت علامہ مفتی محمد فیض احمد اویسی قادری ناشر: سیرانی کتب خانه نز د سیرانی مسجد بہاول پور ( مکتبہ بریلویه ) تیسری کتاب : تاریخ جنات و شیاطین ، مترجم: حضرت مولانا امداد اللہ انور صاحب، ناشر: دار المعارف عنایت پور تحصیل جلالپور پیر والا ، ملتان
اندھیروں میں اللہ تعالی سے دل لگانے کا فائدہ

حضرت جنید بغدادی فرماتے ہیں کہ میں نے شیخ سری سقطی کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں ایک دن سفر پر نکلا تو ایک پہاڑ کے دامن میں اندھیری رات نے گھیر لیا۔ وہاں میرا کوئی جاننے والا نہ تھا۔ اچانک کسی نے آواز دی کہ : اندھیروں میں دل نہیں چھلنے چاہئیں بلکہ محبوب ( اللہ تعالیٰ) کے حاصل نہ ہونے کے خوف سے نفوس کو چھلنا چاہیے یہ سن کر میں گھبرا گیا۔ اسی وقت آواز آئی کہ ہم اللہ پر ایمان رکھنے والے مومن جنات ہیں۔ یہاں اور بھی بہت مومن جنات موجود ہیں اور ان جنات کے پاس مجھ سے بھی زیادہ ایمان ہے۔ دوسرے جن نے مجھے نصیحت کی : خدا کا غیر اس وقت نہیں نکلتا جب تک کہ دائمی طور پر بے گھر نہ رہا جائے ۔ تیسرے جن نے مجھے کہا: جواند ھیروں میں اللہ تعالی کے ساتھ مانوس رہتا ہے، اس کو کسی قسم کا فکر نہیں ہوتا ۔ صحیح فرماتے ہیں: میں نے ان جنات سے کہا: مجھے کوئی نصیحت کرو۔ وہ تمام جنات کہنے لگے : اللہ تعالیٰ تقوی اختیار کرنے والے دلوں کو ہی جلا بخشتا ہے، جو غیر خدا کی طمع کرے گا اس نے ایسی جگہ کی لالچ کی جو لالچ کے قابل نہ تھی۔ اس کے بعد انہوں نے مجھے الوداع کیا اور چلے گئے۔ میں اس کلام کی برکت ہمیشہ اپنے دل میں محسوس کرتا ہوں۔ صفة الصفوۃ ابن جوزی بحوالہ کتاب لقط المرجان فی احکام الجان ترجمہ مولانا امداداللہ انور، ص 305 ناشر : دار المعارف عنایت پور تحصیل جلالپور پیر والا ، ملتان محترم قارئین! ہمارے اکا بڑ کی جنات سے ملاقاتوں کی طرح جنات کے پیدائشی دوست حضرت علامہ لاہوتی صاحب دامت برکاتہم کے واقعات بھی سو فیصد حقیقت پر مبنی ہیں۔ اب جو لوگ ماہنامہ عبقری میں بیان کردہ ایسی باتوں کو صرف عقل کی ترازو میں تولتے ہیں، وہ اپنے اکابر کے واقعات کو کیا کہیں گے۔
بیدار آنھکوں سے حضور ﷺ کی زیارت کیسے ہوتی ہے؟

ماہنامہ عبقری میں جب علامہ لاہوتی پراسراری دامت برکاتہم کے ایسے واقعات شائع ہوتے ہیں ، جن میں جاگتی آنکھوں سے حضور سرور کونین سام کی یا بعض دیگر انبیاء وصلحاء کی زیارت کا ذکر ہوتا ہے تو کچھ لوگ سوال کرتے ہیں کہ یہ کیسے ممکن ہے؟ آئیے اس کا جواب اپنے اکابر کی زندگی میں تلاش کرتے ہیں۔ علامہ وحید الزمان حیدر آبادی رحمہ اللہ ( مکتبہ اہل حدیث) لکھتے ہیں : اب بھی بعض خدا کے بندے ایسے موجود ہیں جو آنکھ بند کرتے ہی آپ ماتم کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں اور انہیں حالت بیداری میں آپ مسلہ تم کا جمال مبارک نظر آجاتا ہے۔ یہ دولت اس کو ملتی ہے جو کثرت سے درود وسلام پڑھنے والا ہوتا ہے (بحوالہ کتاب: لغات الحدیث، ج 2 ص 223 ناشر: نعمانی کتب خانہ، اردو بازار لاہور ) مولانا جلال الدین احمد امجدی رحمہ اللہ ( مکتبہ بریلویہ ) لکھتے ہیں : حضرت سید کبیر احمد رفاعی رحمہ اللہ جب 555ھ میں حج سے فارغ ہو کر مدینہ منورہ تشریف لے گئے تو وہاں پر آپ نے محبت بھرے چند اشعار پڑھے ، جس کے بعد روضہ اقدس ﷺ یہ تم سے دست مبارک ظاہر ہوا اور آپ نے اس کو بوسہ دیا۔ اس وقت کئی ہزار لوگوں کا مجمع موجود تھا اور اس میں پیران پیر شیخ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ بھی موجود تھے۔ ( بحوالہ کتاب بزرگوں کے عقیدے ص 330 ناشر : اکبر بک سیلرز لاہور ) مرکز اہلسنت کے ابتدائی بزرگ حضرت حاجی محمد عابد قدس سرہ نے حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ سے فرمایا کہ ایک بات کہتا ہوں جسے میری زندگی میں ظاہر نہ کرنا۔ میں نے حالت بیداری میں حرم مکہ میں بعض انبیاء علیہم السلام کی زیارت کی ہے، یہ جو میری موجودہ حالت دیکھتے ہو، یہ انہی انبیاء علیہم السلام کی نظر کا اثر ہے ( بحوالہ کتاب:عاشقان رسول ﷺ کو خواب میں زیارت نبی ﷺ صفحہ 222 ناشر: مکتبہ عمر فاروق، شاہ فیصل کالونی کراچی) آیة اللہ سید عبد الحسین دستغیب شیرازی ( مکتبہ اثناء عشریہ لکھتے ہیں : امام جعفر صادق علیہ السلام کو کئیمرتبہ جاگتی آنکھوں سے سرکار دو عالم سان پیتم کی زیارت کا شرف حاصل ہوا۔ ( بحوالہ کتاب: عالم برزخ، صفحہ 233 ناشر : اے بی سی آفسٹ پریس دہلی ۔ سن اشاعت: 1993ء) محترم قارئین ! اب اگر علامہ لاہوتی صاحب کے کالم میں بیداری کی حالت میں زیارت کے واقعات سامنے آئیں تو اس میں کیا قباحت ہے؟ مولانا سید محمد داؤد غزنوی (صدر جمعیت اہل حدیث پاکستان) فرمایا کرتے تھے : اگر کوئی شخص اتنا نیک ہو جائے کہ اسے کشف ہونے لگے تو تمہیں کیا اعتراض ہے؟ (دیکھیں کتاب : نقوش عظمت رفتہ، مصنف: مولانامحمد اسحاق بھٹی ، ناشر: مکتبہ قدوسیہ، اردو بازارلاہور )
جنات ، عامل کی بات مانتے ہیں یا اولیاء کی؟

محترم قارئین ! جس طرح جنات کے پیدائشی دوست حضرت علامہ لاہوتی پراسراری دامت برکاتہم کے شب وروز مسلسل جنات کی ہمراہی میں گزر رہے ہیں، اسی طرح ہمارے اکا بر واسلاف میں کئی جلیل القدر ہستیاں اپنے اپنے زمانے میں جنات کی مخدوم تھیں ۔ جن لوگوں کا مطالعہ ایسی باتوں کی طرف نہیں ہوتا، وہ ماہنامہ عبقری کے اس کالم پر بے بنیاد اعتراض کرتے ہیں۔ لیکن اہل علم حضرات جانتے ہیں کہ جنات سے دوستی ہو جانا، یا ان کا مخدوم بن جانا کوئی ایسی چیز نہیں، جونا ممکنات میں سے ہو۔ آئیے ! قارئین عبقری کی طرف سے بھیجی گئی چند مزید مستند معتبر اور باحوالہ مثالیں ملاحظہ فرمائیں۔ مفتی محمد فیض احمد اویسی رحمتہ اللہ علیہ ( مکتبہ بریلویہ ) لکھتے ہیں کہ : حضرت غوث اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کے جنات غلام تھے۔ ایک مرتبہ اصفہان کا رہائشی ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی : اے غریب نواز ! میری بیوی کو آسیب کا مسئلہ ہے اور اسے بہت کثرت سے دورے پڑتے ہیں۔ تمام عامل اس کے علاج سے عاجز آگئے ہیں۔ حضرت غوث اعظم نے فرمایا: یہ سراندیپ کے بیابان کا جن ہے، جس کا نام خانس ہے۔ اب جس وقت تمہاری بیوی کو اس کی شکایت ہو تو کہنا: اے خانس ! بغداد کے عبد القادر کہتے ہیں، سرکشی نہ کر! اگر آج کے بعد تو نے ایسا کیا تو ہلاک کر دیا جائے گا۔ چنانچہ اس کے بعد اس کی بیوی کو کبھی شکایت نہ ہوئی. ( دیکھیں کتاب : بہتہ الاسرار صفحہ 72 ، تحفہ قادریہ صفحہ 68، حوالہ کتاب: جن ہی جن صفحہ 154 ناشر : سیرانی کتب خانہ، نز د سیرانی مسجد بہاولپور ) علامہ مولانا محمد یوسف خان کلکتوی رحمتہ اللہ علیہ ( مکتبہ اہل حدیث) کی خطابت میں ایسا جادو تھا کہ کوئی شخص بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔ مدرسہ غزنویہ میں کچھ جنات آپ کے باقاعدہ طور پر شاگرد بن چکے تھے۔ ایک دن جنات نے آپ سے گزارش کی کہ آپ ہمارے قبیلے میں تشریف لے چلیں اور وہاں دین کی تبلیغ فرمائیں۔ آپ کی تبلیغ سے ہمارے بہت سے بھائی راہ راست پہ آجائیں گے۔ چنانچہ جنات علامہ صاحب کو اٹھا کر اپنی بستی میں لے گئے اور پورا ایک ہفتہ آپ سے وعظ ونصیحت سنتے رہے۔ علامہ صاحب کے گھر والوں اور مدرسے کے ناظمین کوکوئی خبر نہ تھی کہ آپ کہاں ہیں۔ بالآخر ایک ہفتے بعد اچانک خود تشریف لائے اور آکر سارا واقعہ سنایا؛ یہ بھی فرمایا کہ جنات نے مجھے ایک خاص وظیفہ دیا ہے کہ مجھے جب کبھی ان کی ضرورت پڑے، تو میں انہیں اسی وقت حاضر کر لیا کروں ( بحوالہ کتاب: سوانح علامہ یوسف خان کلکتوی صفحہ 162 ترتیب: مولا نا شفیق الرحمان فرخ حفظہ اللہ ، ناشر: هدی اکیڈمی ، گلدیپ کالونی سمن آبا دلا ہور ) حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ خواجہ محمد غوث گوالیاری نے ایک مرتبہ اپنے خادم جنات کو بھیجا کہ جا کر شیخ عبدالقدوس گنگوہی کو یہاں لے آئیں۔ جنات ان کی مسجد میں پہنچے ،مگر شیخ کے پاس جانے کی ہمت نہ ہوئی۔ شیخ عبدالقدوس گنگوہی نے خود ہی محسوس کیا تو فرمایا : کدھر آئے ہو؟ جنات نے جواب دیا کہ خواجہ محمد غوث آپ کی زیارت کرنا چاہتے ہیں، اگر آپ کا حکم ہو تو ہم آپ کو ایسے طریقے سے لے جائیں گے کہ آپ کو تکلیف نہ ہوگی ۔ شیخ عبدالقدوس نے فرمایا: میں حکم دیتا ہوں کہ محمد غوث کو میرے پاس لے آؤ۔ یہ سنتے ہی جنات واپس گئے اور خواجہ محمد غوث کو اٹھالیا۔ انہوں نے پوچھا: بھئی تم تو میرے مطبع تھے، اب مجھے ہی کیوں اٹھانے لگے؟ جنات نے کہا: جناب ! ہم آپ کی بات ہر کسی کے مقابلے میں مان سکتے ہیں لیکن شیخ عبد القدوس گنگوہی کے مقابلے میں نہیں مان سکتے۔ چنانچہ خواجہ محمد غوث گوالیاری، شیخ عبد القدس گنگوہی کی خدمت میں پہنچے، معافی مانگی اور ان کی بیعت میں شامل ہو گئے ۔ ( بحوالہ کتاب : قصص الا کا برا صفحہ 24 ناشر: اداره تالیفات اشرفیه، فوارہ چوک ، ملتان) الحاج مولانا روشن علی نجفی ( مکتبہ اثناء عشریہ) لکھتے ہیں کہ امام موسیٰ کاظم کی مجلس میں ہر وقت تیس ہزار جنات حاضر رہتے تھے، جو اپنے اپنے قبائل کے سردار تھے۔ ایک دن امام موسیٰ کاظم کو بخار کی شکایت ہوئی تو ان کے خدام جنات میں سے عبدالوارث نامی جن اپنے قبیلے کا ماہر حکیم بلا کر لایا، جس کے خاندان میں گزشتہ پانچ ہزار سالوں سے طب و حکمت چلی آرہی تھی۔ اس حکیم جن نے امام موسیٰ کاظم کے پاس رہتے ہوئے متواتر تین دن تک علاج کیا،جس سے آپ رو بصحت ہو گئے (بحوالہ کتاب: آل رسول کے مستند واقعات ، صفحہ 67 ناشر: مطبع خاک نجف، حسین علی روڈ، بنارس)
علی گڑھ یونیورسٹی کے ناظم کیساتھ جنات کی شرارت

محترم قارئین ! جولوگ ماہنامہ عبقری میں شائع ہونے والے ہر دلعزیز کالم جنات کا پیدائشی دوست کو محض قصے کہانیاں کہہ کر رد کر دیتے ہیں ، انہیں اکابر و اسلاف کی ترتیب زندگی پر غور کرنا چاہئے کہ اگر جنات کا پیدائشی دوست میں بیان کیے جانے والے حقائق من گھڑت ہیں تو درج ذیل واقعات کے متعلق آپ کیا کہیں گے؟ معروف مصنف جناب رئیس امروہوی لکھتے ہیں کہ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے ناظم دینیات مولانا ابوبکر شیث کے مکان میں جنات رہتے تھے۔ ان کے گھر میں جو بچے پڑھنے جاتے ، ایک دن انہوں نے دیکھا کہ مولانا کی شیروانی خود بخو دکھونٹی کے اندر گھس گئی ، یہ دیکھ کر سب بچے سہم گئے تو مولانا نے فرمایا: کیوں بچوں کو پریشان کرتے ہو ، بس کرو ۔ ان کے فرماتے ہی یہ سلسلہ بند ہو گیا۔ اسی طرح حضرت شاہ غلام اعظم ( مکتبہ بریلویہ ) بھی قرآن وحدیث کا درس دیتے تھے۔ ایک دن ان کے طلباء آپس میں کہنے لگے کہ اگر قندھاری انار اور سیب کھانے کو مل جائیں تو مزہ آجائے۔ انہی طلباء میں سے مولا بخش نامی ایک طالب علم نے یوں ہاتھ بلند کیا اور اسی لمحے قندھاری انار اور سیب لا کر رکھ دیے۔ جب شاہ غلام اعظم صاحب کو پتہ چلا تو انہوں نے اسے خوب ڈانٹا اور فرمایا: بچوں کے سامنے ایسی حرکتیں کرتے ہو ، کل سے درس میں نہ آنا۔ اس کے علاوہ ان کے مدرسے میں رہنے والوں کا بارہا تجربہ تھا کہ چھت پر سے خوش الحانی کے ساتھ قرآن خوانی کی آواز آتی لیکن کوئی نظر نہ آتا. ( بحوالہ کتاب: جنات ، صفحہ 101 ناشر : فرید پبلشرز، اردو بازار کراچی) امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : حضرت یحیی بن سعید نے فرمایا کہ جب اماں عروہ بنت عبد الرحمان رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت آیا تو ان کے پاس بہت سے تابعین جمع ہو گئے۔ ابھی ہم ان کے پاس ہی تھے کہ سب نے چھت پھٹنے کی آواز سنی ، پھر ایک کالا سانپ گرا، جو بڑی کھجور کی مانند تھا۔ جونہی وہ اس خاتون کی طرف لپکا تو اچانک ایک سفید کاغذ گرا، جس پر لکھا تھا : بِسمِ اللهِ الرَّحْمِنِ الرَّحِیمِ عکب کے رب کی طرف سے عکب کی طرف! اے عکب تمہیں نیک لوگوں کی بیٹیوں پر ہاتھ بڑھانے کی اجازت نہیں ہے۔ جب اس نے یہ رقعہ دیکھا تو جہاں سے اترا تھا، وہیں واپس چڑھ گیا ( بحوالہ : دلائل النبوۃ جلد 7 صفحہ 16 بحوالہ کتاب: جن ہی جن ،صفحہ 134 مصنف: مفتی فیض احمد اویسی ، ناشر: سیرانی کتب خانہ، نز دسیرانی مسجد بہاولپور) مولانا محمد اسحاق بھٹی لکھتے ہیں کہ ایک دن مولانا معین الدین لکھوی کسی کے گھر جن نکالنے گئے۔ میں بھی ان کے ساتھ تھا۔ میزبان کی اہلیہ پر جن حاضر تھا۔ مولانا معین الدین لکھوی نے پوچھا کہ تم کون ہو؟ آواز آئی کہ میں آپ کے پڑدادے حافظ محمد لکھوی صاحب کا شاگرد ہوں اور ان کے پاس لکھو کے میں پڑھا ہوا ہوں ۔مولانا معین الدین لکھوی نے فرمایا کہ میرے پڑدادا نے کسی کو بھی یہ تعلیم تو نہیں دی کہ لوگوں کو پریشان کرنا چاہئے ،لہذامیں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ تم یہاں سے چلے جاؤ۔ پس اس جن نے بھاری آواز میں السلام علیکم کہا اور چلا گیا۔ (بحوالہ کتاب: گزرگئی گزران ،صفحہ 156 ناشر: مکتبہ نشریات 40 اردو بازار لاہور )
جس کو شک ہے، آئے میں اسے جنات کے نام رقعہ لکھ کر دیتا ہوں

محترم قارئین ! ماہنامہ عبقری کے کالم ” جنات کا پیدائشی دوست” میں بیان کیے جانے والے تمام حقائق ہمارے اکابر واسلاف کی کتب میں صدیوں سے چلے آرہے ہیں۔ جس شخص کا مطالعہ اس موضوع پر نہیں ہوتا وہ اپنی معلومات کے خلاف ہر بات کو خلاف شریعت کہ کر رد کر دیتا ہے۔ حالانکہ دین عقل کا نام نہیں نقل کا نام ہے۔ یعنی اکابر سے جو روایات سینہ در سینہ نقل ہوتی چلی آرہی ہوں اور لاکھوں لوگوں کے مشاہدات بھی موجود ہوں تو ان کا انکار کرنا ایسے ہی ہے ، جیسے کوئی نابینا شخص روشن دن کو بھی تاریک رات کہہ دے۔ درج ذیل مثالیں ملاحظہ فرمائیں : مولانا محمد الیاس قادری (مکتبہ بریلویہ) لکھتے ہیں کہ حضرت ابو میسر ہ حرانی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: ایک دن قاضی محمد بن علاثہ رحمتہ اللہ علیہ کے پاس مدینہ منورہ کے جنات اور انسان ایک کنویں کا جھگڑا لے کر آئے ۔ میں نے ان کی گفتگوسنی ۔ قاضی صاحب نے انسانوں کیلئے فیصلہ کیا کہ وہ طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک اس کنویں سے پانی بھر لیا کریں اور جنات کیلئے یہ فیصلہ کیا کہ وہ غروب آفتاب سے لے کر طلوع فجر تک پانی لے لیا کریں۔ چنانچہ اس فیصلے کے بعد اگرکوئی انسان غروب آفتاب کے بعد کنویں سے پانی لیتا تو اسے پتھر مارا جاتا. ( بحوالہ کتاب: قوم جنات اور امیر اہل سنت صفحہ 82 ناشر: مکتبۃ المدینہ کراچی) مولانا حکیم محمد ادریس فاروقی ( مکتبہ اہل حدیث) لکھتے ہیں کہ ایک دن مولا نا عبدالمجید سوہدروی نے منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا کہ جنات بھی انسانوں کی طرح ایک مخلوق ہے ، جن میں اچھے اور برے دونوں پائے جاتے ہیں۔ ایک تعلیم یافتہ شخص نے اسی وقت جنات کے وجود پر تذبذب کا اظہار کیا تو آپ نے فرمایا : جب قرآن و حدیث میں جنات کا تذکرہ موجود ہے تو انکار کرنے کی کیا گنجائش ہے؟ اگر آپ اپنی آنکھوں سے جنات کا مشاہدہ کرنا چاہتے ہیں تو میں آپ کو ایک رقعہ دے کر فلاں جگہ بھیجتا ہوں ، وہاں پانچ ہزار اہل حدیث جنات موجود ہیں، جو آپ کو کھانا بھی کھلا ئیں گے۔ پھر آپ کو ان کے متعلق کسی قسم کا شبہ نہیں رہے گا ( بحوالہ کتاب: کرامات اہل حدیث ہصفحہ 131 ناشر بمسلم پبلی کیشنز سوہدرہ) امام جلال الدین سیوطی ( مکتبہ حنفیہ ) لکھتے ہیں کہ شیخ ابونصر شعرانی نے حماد بن شعیب سے روایت بیان کی کہ وہ ایک ایسے شخص سے ملے جو جنات سے کلام کیا کرتے تھے۔ جنات نے انہیں بتایا کہ انسانوں میں جو شخص سنت نبوی سالی تم پر زیادہکار بند ہو، وہ قوم جنات پر زیادہ بھاری ہوتا ہے۔ (بحوالہ کتاب: لقط المرجان فی احکام الجان ، صفحہ 144 ناشر: مکتبہ برکات المدین، بہادر آباد کراچی) ملا محسن فیض کاشانی ( مکتبہ اثنا عشریہ ) لکھتے ہیں : حضرت سعید بن عباس رازگی سے روایت ہے کہ یمن کے چند لوگ امام مالک کی خدمت میں گئے اور کہا : ہمارے ہاں ایک جن ہماری لڑکی کو نکاح کا پیغام بھیجتا ہے اور کہتا ہے کہ میں حلال کا خواہش مند ہوں۔ امام مالک نے فرمایا کہ میں اس کے متعلق دین میں کوئی حرج نہیں سمجھتا لیکن اس بات کو پسند بھی نہیں کرتا۔ ( بحوالہ کتاب : المحجة البيضاء صفحہ 123 ناشر : مكتب الصدوق تهران)
ایک دن میں دس کتابیں پڑھنا اور سینکڑوں صفحات لکھنا کیسے ممکن ہے؟

ماہنامہ عِقْرِی کے سَر پَرَسْت حضرت علامہ لاہوتی پراسراری دامت برکاتہم کے کالم ”جنات کا پیدا اَشی دوست“ میں یہ بات عام طور پر ملتی ہے کہ وہ کم وقت میں زیادہ کام کر لیتے ہیں، یا چند لمحات میں لمبا فاصلہ طے کر لیتے ہیں، ان کے متعلق جو لوگ جو لوگ بات عام طور پر سُنتے ہیں وہ کم وقت میں زیادہ کام کر لینے، یا چند لمحَات میں لَمبَا فَاصِلہ طے کر لینے میں ان کے متعلق جو لوگ ایسی باتوں کو صرف عقل کے معیار پر تولتے ہو تو کہتے ہیں کہ یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟ انہیں مَعْلُوم ہونا چاہئے کہ اولیاء اللہ کی کرامات بَر حَق ہیں۔ اور کرامت تو کہتے ہی اُسے ہیں، جو عام انسان کے بس سے باہر اور عقل سے ماوراء ہو جیسا کہ: امام ابن قیم علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں کہ میں نے خود شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ (مکتبہ اہل حدیث) کے کمال میں عجیب وغریب بَرکَت دیکھی۔ آپ صرف ایک دن میں اتنی زیادہ تحریر کر لیتے تھے، جتنی ایک کاتب پورے ہفتے میں بھی نہیں کر سکتا، صِرف تحریر و تصنیف میں ہی نہیں، بلکہ آپ میدان جنگ میں بھی کامل تھے۔ چُنانچہ تاتاریوں کے خِلاف جِہاد میں آپ نے وہ کمالات دکھائے، کہ بڑے سے بڑے بہادروں کے منہ کھلے رہ جاتے ہیں۔ (حوالہ: کتاب: ذکر ابی، صفحہ 203، ناشر: دار السلفیہ، حفظ الدین روڈ ممبئی نمبر 8) حكيم الامت مولانا اشرف على تھانوی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں کہ امام غزالی کی لکھی ہوئی کتابوں کو اگر ان کی پوری زندگی پر تقسیم کیا جائے تو روزانہ سولہ جز کی تصنیف بنتی ہے، جو کسی طرح سَمجھ نہیں آتی مگر جب اللہ تعالی آپ پر اپنی وَلائت کی کتاب، ”الیواقیت والجواہر“ کے متعلق فرمایا ہے کہ اس کتاب کے 300 باب ہیں اور مکمل کتاب بھی ہزار صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کے ہر باب کو لکھنے سے پہلے میں نے شیخ اکبر علامہ محی الدین ابن عربی کی کتاب ”فتوحاتِ مَكِّیَّہ“ کا مکمل مُطالَعَہ کیا ہے۔ یعنی 300 باب لکھنے سے پہلے 300 مرتبہ فتوحات مَكِّیَّہ کا مُطالَعَہ کیا، یہ سب سے پہلے کی گئی ہے۔ پھر سَب یہ بات دَرج کی گئی کہ یہ کتاب بھی 30 دن کے اندر لکھی گئی ہے۔ لہٰذا روزانہ فتوحاتِ مَكِّیَّہ کا مُطالَعَہ بھی دَس دفعہ ہوتا ہے اور کتاب کے لکھے جانے والے باب بھی روزانہ دَس بَنتے ہیں۔ (حوالہ: حضرت تھانوی کے پسندیدہ واقعات، صفحہ 204، مرتب: مولانا ابوالحسن علی ندوی، ناشر: مکتبہ مدینہ اردو بازار، لاہور) مولانا سید محمد ذاکر شاہ چشتی سیالوی (مکتبہ بریلویہ) لکھتے ہیں کہ حضرت شیخ بن علی ایک دفعہ محرقہ نامی جگہ میں اپنے شَاگِرد عبداللہ بن محمد کے ساتھ تھے، شَاگِرد نے کہا کہ ہم یہاں مَغرب کی نماز ادا کر لیتے ہیں، پھر سَفَر پہ روانہ ہوجائیں گے۔ یہ سُن کر آپ نے فرمایا کہ تُم مَغرب کی نماز تُم یہیں پر جا کر پڑھیں۔ حالانکہ مَغرب اور تُم کا فَاصِلَہ 3 کوس کا تھا اور سُورج غُروب ہونے سے پہلے وہاں پہنچنا نامُمکن تھا۔ چُنانچہ آپ کے شَاگِرد نے کہا: اَیسا ہونا تو بہت مُشکِل ہے۔ آپ نے فرمایا: ذرا اپنی آنکھیں بند کر و۔ اُس نے آنکھیں بند کیں تو فرمایا: اب کھول لو۔ جب دیکھا تو وہ تُم یہیں کھڑے تھے اور سُورج اَبھی ویسے کا ویسا تھا۔ (بِحوالہ کتاب: جامع کراماتِ الاَولِیاء، صفحہ 235، ناشر: ضیاء القرآن پبلیکیشنز، لاہور)
علامہ لاہوتی صاحب کے خوشی غم میں شریک ہونے والے جنات کی حقیقت

موجودہ صدی میں جہاں انسانی دماغ ترقی کرتا جارہا ہے اسی رفتار سے ہماری روح بھی تنزل کی طرف جاتی جارہی ہے ، آج ہم آنکھ سے نظر نہ آنے والی ہر چیز کو سائنسی ریسرچ اور تحقیق کہ کر تو قبول کر لیتے ہیں۔۔۔ لیکن اللہ معاف کرے قرآن وحدیث اور بزرگانِ دین کے واقعات کو اپنی عقل کے ترازو پر تولتے رہتے ہیں ۔۔۔ علامہ لاہوتی صاحب کی ” جنات سے ملاقاتیں ، ان کے ساتھ خوشی غمی میں شریک ہونا کوئی ایسی ناممکن بات نہیں تاریخ میں ہمیں ایسی بہت سی مثالیں ملتی جو کہ علامہ صاحب کے ہر ہر واقعہ کی تصدیق کرتی ہیں۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا انظر شاہ صاحب کا شمیری ( جنہوں نے حضرت شیخ الوظائف دامت برکاتہم کو سلسلہ عالیہ نقشبند یہ اور دیگر سلاسل میں خلافت عطا فرمائی۔ تفصیل کیلئے دیکھیں ماہنامہ احسن لاہور، بمطابق اگست 2009 ) اپنے والد محترم حضرت علامہ انورشاہ کا شمیری کے انتقال پر ملال پر ” جنات“ کے غم کا اظہار کچھ اس طرح فرماتے ہیں: عصر اور مغرب کے درمیان بیای کی شدت بڑھتی رہی بلکہ مغرب کے بعد سے نزع کی کیفیات طاری ہو گئیں ہوش و حواس کی سلامتی جاتی رہی ، وقت گزرنے کے ساتھ آپ کی بے چینی بڑھتی جاتی تشنگی کا یہ عالم تھا کہ چند سیکنڈ کے وقفہ سے پانی کی ضرورت محسوس کرتے پانی پینے کے ساتھ حسبنا اللہ پڑھتے اور لیٹ جاتے خالہ زاد بھائی محمد سعید کی والدہ کا بیان ہے میں نے جلتے ہوئے چراغ کو پست کیا تو گھر کا پورا صحن سفید پوش لوگوں سے جن کے سروں پر عربی عمامے تھے لبریز ہوگیا، مجھے کبھی اپنی آنکھوں پر شبہ ہوتا اور کبھی اس منظر پر حیرت ہوتی کیا یہ دارالعلوم کے طلبہ ہیں؟ لیکن آج تو اندر آنے کی کسی کو اجازت نہیں، کیا یہ بلند پایہ علماءکا گروہ ہے؟ جنہیں ان کی خصوصیت کی بناء پر آنے کی اجازت ملی ہے۔ وہ مقدس ہجوم (فرشتوں و جنات) جس نے گھر کے ماحول کو لبریز کر رکھا تھا کلمہ طیبہ کے ورد کے ساتھ کوئی چیز ہاتھ میں لے کر گھر سے باہر جارہا تھا۔ میں نے جب شاہ صاحب کی طرف دیکھا تو وہ اس وقت ساکت وصامت لیٹے ہوئے تھے علم و کمال کا آفتاب غروب ہو گیا۔۔۔! جنات کی پر درد آواز : ایک بھیانک پر درد آوازسنی گئی ”لوگوتم سور ہے ہو امام الحدیث کی وفات ہوگئی یہ ایسی سوز گوار اور درد بھری آواز تھی کہ دار العلوم میں سوئے ہوئے سب طالبعلم جاگ گئے ۔ تیسری جانب حضرت مدنی کے خادم ان کے سر کی مالش کر کے ابھی جا کر لیٹے ہی تھے فلک شگاف نعرہ کانوں میں گونجا میں گھبرا کر اٹھا دیکھا کہ حضرت مدنی باہر تشریف لے آئے فرمایا ”یہ بلند اور آہنگ آواز جنات کی تھی جو کہ حضرت شاہ صاحب کی وفات پر ماتم کناں ہیں کچھ طلبہ نے جنات کے گروہ کو بھی جاگتی آنکھوں سے دیکھا، جہاں سے یہ درد و الم اور یہ خوفناک آواز میں نکل رہی تھیں ۔ (بحوالہ کتاب حیات محدث کشمیری ، مصنف حضرت مولانا محمد انظر شاہ مسعودی ص58 محترم قارئین ! کیا ہم اس واقعہ کو بھی من گھڑت ، خودساختہ، یا دیو مالائی کہانی کہہ کر جھٹلا دیں گے۔ نہیں ہرگز نہیں ۔۔۔ !ہمیں اکابر پر اعتماد تھا۔۔ہے۔۔۔اور انشاء اللہ رہے گا۔ (ناشر : اداره تالیفات اشرفیہ)
علامہ لاہوتی صاحب کی طرح حالت بیداری میں زیارت النبی صلى الله عليه وسلم کا فیض پانے اولیائے کرام

علامہ لاہوتی صاحب دامت برکاتہم کے واقعات میں بارہا حالت بیداری میں زیارت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ ملتا ہے ہمارے اکا بر کی زندگی میں بھی بہت سے اس قسم کے واقعات ملتے ہیں چند اکابر پر اعتماد کے دوستوں کی خدمت میں پیش خدمت ہیں: (1) حضرت مولانا عبید اللہ صاحب فرماتے ہیں کہ بانی تبلیغ حضرت مولانا الیاس کو نسبت حضوری حاصل تھی ایک مرتبہ خصوصی خدام کی مجلس میں فرمایا جب دل کو طلب ہوتی ہے سرکار دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں بند کرتے ہی زیارت ہو جاتی ہے بحوالہ کرامات و کمالات اولیاء ج 1 ص 78، مجموعہ ارشادات شیخ الحدیث حضرت مولانا یوسف متالا صاحب ، ناشر :از هراکیڈمی لندن) (2) حضرت مولانا فضل رحمن گنج مراد آبادی کے خاص خدام فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ آپ فرمانے لگے یہ جنت ہے یہ جنت ہے چاروں سمت ہاتھ سے اشارہ کرتے رہے اور فرمانے لگے حضرت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے کر آئے ہیں۔ ( بحوالہ تذکرہ حضرت مولانا فضل الرحمن گنج مراد آبادی ، ص89، مصنف: مولانا سید ابوالحسن علی ندوی، ناشر : مجلس صحافت ونشریات لکھنو) (3) قطب ربانی امام شعرانی اپنی کتاب ”میزان میں لکھتے ہیں کہ شیخ سید محمد بن زین کو اکثر حالت بیداری میں آپ صل اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہو جایا کرتی تھی ( بحوالہ براہین قاطعہ ، مولانا خلیل احمد سہارنپوری، 222، ناشر: دارالاشاعت کراچی) شیخ اکبر حضرت محی الدین ابن عربی فرماتے ہیں کہ محض دلیل و برہان سے نہیں بلکہ دیکھتی آنکھوں سے بیداری میں حضرت رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت با برکت سے مشرف ہوں اور یہ مقام تو میرے بہت سے بھائیوں کو بھی حاصل ہے جیسے شیخ سید احمد الرفاعی اس دولت کبری سے حالت بیداری میں مالا مال ہوئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں جنت کے تخت پر بٹھایا (سعادت دارین ج 2 ص 98) محترم قارئین! آج اللہ کریم کے فضل سے عبقری کا پیغام سارے عالم میں پھیل گیا اس کی وجہ مخلصین کا اخلاص اور اہل اللہ کی سر پرستی ہے جو لوگ اب تک اس ماحول سے دور ہیں ان سے گزارش ہے ضرور تسبیح خانہ لاہور میں ایک مرتبہ آکر ماحول کو دیکھیں اللہ کریم کی عطا سے زندگی ایمان وسنت کے نور سے مزین اورا کا بر کی محبت سے لبریز ہو جائے گی۔انشاءاللہ
علامہ لا ہوتی صاحب کی طرح دربار رسالت صلی اللہ علیہ وسلم سے فیض پانے والے اولیائے کرام

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارکہ ہے جس نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے مجھے حقیقت میں دیکھا وہ آنکھیں کتنی خوش نصیب ہیں جنہیں زندگی میں ایک مرتبہ خواب میں زیارت النبی صلی اللہ علیہ وسلم نصیب ہو جائے ۔۔۔! اور وہ وجود کتنے ہی سعادت مند ہوں گے جنہیں حالت بیداری میں زیارت باسعادت بار ہا نصیب ہوتی ہے ایسی سعادت مند ہستیوں میں آج کے دور میں علامہ لاہوتی پراسراری صاحب بھی ہیں، تاریخ کے اوراق سے چند واقعات اکابر پر اعتماد کے دوستوں کیلئے پیش خدمت ہیں: حضرت عبد اللہ بن موسیٰ فرماتے ہیں کہ حضرت علی بن صالح کے انتقال کے بعد میں ان کے بھائی شیخ حسن بن صالح ”ل کے پاس تعزیت کیلئے آیا تو مجھے وہاں رونا آگیا وہ کہنے لگے کہ رونے سے پہلے ان کے انتقال کی کیفیت سن لو، کیسے لطف کی بات ہے کہ جب ان پر نزع کی تکلیف شروع ہوئی مجھ سے پانی مانگا جیسے ہی میں پانی لے کر آیا تو فرمانے لگے میں نے تو پانی پی لیا میں نے دریافت کیا کہ کس نے پلایا ؟ تو فرمانے لگے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم فرشتوں کی بہت سی صفوں کے ساتھ تشریف لائے تھے ، انہوں نے مجھے پانی پلا دیا۔ مجھے خیال ہوا کہ کہیں غفلت میں نہ کہہ رہے ہوں اس لئے پوچھا کہ فرشتوں کی صفیں کس طرح تھیں؟ بولے اس طرح اوپر نیچے تھیں اور ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ کے اوپر کر کے بتایا۔ فضائل صدقات حصہ 2 ص 128 مصنف شیخ الحدیث مولانامحمد ذکریا، کتب خانہ فیضی)۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے بالمشافہ حالت بیداری میں اور خواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت سی احادیث سنیں اور بعض کی اصلاح بھی فرمائی جنہیں آپ نے ایک کتاب در ثمین“ کے نام سے شائع کیا۔ (ماہنامہ الفرقان ولی اللہ نمبر ) شیخ محمد بن ابی الحمائل کثرت سے بیداری میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہوا کرتے تھے یہاں تک کہ جب کسی چیز کے بارے میں پوچھا جاتا تو فرماتے کہ میں اسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کرلوں اس کے بعد اپنا سر گریبان میں لے جاتے اور پھر فرماتے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں یہ فرمایا ہے پھر ویسا ہیہوتا جیسا فرماتے کبھی اس کے خلاف نہ ہوتا تھا۔ (سعادت دارین حصہ 2 ص 438) محترم قارئین بطور برکت یہ چند واقعات لکھے گئے جس سے آپ کو علامہ صاحب کے کمالات کا یقین ہو گیا ہوگا، اللہ کریم ہم سب کو زیادہ سے زیادہ عبقری کے فیض کو بانٹنے والا بنائے اور اکابر پر اعتماد نصیب فرمائے. (مولانا قاری حافظ عطاء اللہ صاحب، جامعہ اشرفیہ، لاہور ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارکہ ہے جس نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے مجھے حقیقت میں دیکھا وہ آنکھیں کتنی خوش نصیب ہیں جنہیں زندگی میں ایک مرتبہ خواب میں زیارت النبی صلی اللہ علیہ وسلم نصیب ہو جائے ۔۔۔! اور وہ وجود کتنے ہی سعادت مند ہوں گے جنہیں حالت بیداری میں زیارت باسعادت بار ہا نصیب ہوتی ہے ایسی سعادت مند ہستیوں میں آج کے دور میں علامہ لاہوتی پراسراری صاحب بھی ہیں، تاریخ کے اوراق سے چند واقعات اکابر پر اعتماد کے دوستوں کیلئے پیش خدمت ہیں: