گھر کا دروازہ بند کرلیں کہیں جنات داخل نہ ہو جائیں۔۔۔!

عبقری میں ذکر کردہ جناتی حملوں کی دسویں دلیل جنات کی کارستانیوں کے مستند واقعات کے سلسلہ کی نویں دلیل میں آپ نے پڑھا کہ میاں بیوی کے تعلقات کے وقت بھی جنات حملہ آور ہوتے ہیں۔۔۔! آج دسویں دلیل میں آپ پڑھیں گے کہ اگر آپ گھر کے دروازے بند کرتے وقت اللہ کا نام نہیں لیں گے تو جنات بھی آپ کے گھر میں داخل ہو جائیں گے۔ ’’ماہنامہ عبقری میں علامہ لاہوتی صاحب کے ذکر کردہ اس جناتی حملے کی دلیل سنن ابو داؤد، اور مسند امام احمد کی وہ روایت ہے جس میں ذکر کیا گیا ہے کہ جس دروازے کو بسم اللہ کہہ کر بند کیا گیا ہو اس کو جنات نہیں کھول سکتے: ’’حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: دروازے بند کرو اور بند کرتے وقت اللہ کا نام لو۔ شیطان (جن) ایسا دروازہ نہیں کھول سکتا جو اللہ کے نام پر بند کر دیا گیا ہو۔‘‘ اب آپ ہی بتائیے کہ علامہ لاہوتی صاحب جنات کے حملوں کے واقعات بناتے ہیں یا بتاتے ہیں۔۔۔! عبقری میں ذکر کردہ جناتوں کے انسانوں پر حملوں کے مستند حوالہ جات ’’اکابر پر اعتماد‘‘ کے دوست اگلی قسط میں ملاحظہ فرمائیں۔

میاں بیوی کیلئے اہم پیغام۔۔۔! جنات سے بچ جائیں۔۔۔!

عبقری میں ذکر کردہ جناتی حملوں کی نویں دلیل جنات کی کارستانیوں کے مستند واقعات کے سلسلہ کی آٹھویں دلیل میں آپ نے پڑھا کہ جنات نوزائیدہ بچوں کو بھی نہیں چھوڑتے اسی وجہ سے پیدا ہونے والے بچوں کے کانوں میں اذان دی جاتی ہے۔ آج نویں دلیل میں آپ پڑھیں گے کہ میاں بیوی کے تخلیہ کے وقت بھی جنات حملہ آور ہوتے ہیں۔۔۔! ’’ماہنامہ عبقری میں علامہ لاہوتی صاحب کے ذکر کردہ اس جناتی حملے کی دلیل صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی وہ دلیل ہے جو کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "اگر تم میں سے کوئی اپنی بیوی سے جماع کرنے سے پہلے یہ دعا پڑھ لے تو ان کے یہاں جو بچہ پیدا ہوگا شیطان (جنات) اسے کبھی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔” ’’بِسْمِ اللہِ ، اَللّٰھُمَّ جَنِّبْنَا الشَّیْطَانَ وَجَنِّبِ الشَّیْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا۔‘‘ اے اللہ! تو ہمیں شیطان (جنات) سے محفوظ رکھ اور تو ہمیں جو اولاد عطا کرے اسے بھی شیطان سے بچانا۔” (صحیح بخاری و صحیح مسلم) عبقری کا مشن ہی یہ ہے کہ انسانیت کے دکھوں کا بانٹا جائے اور زیادہ سے زیادہ جنات کے حملوں سے بچایا جائے۔ عبقری میں ذکر کردہ جناتوں کے انسانوں پر حملوں کے مستند حوالہ جات ’’اکابر پر اعتماد‘‘ کے دوست اگلی قسط میں ملاحظہ فرمائیں۔

گوجرانوالہ میں جنات کو شرعی مسائل بتانے والی ہستی

محترم قارئین! جنات کے پیدائشی دوست میں علامہ لاہوتی پراسراری دامت برکاتہم کی جنات سے ملاقاتوں اور ان سے بات چیت کون سی نئی چیز ہے، جو عقل انسانی میں نہ سما سکے؟ ہر دور میں ایسی ہستیاں گزریں، جن کو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے ساتھ ساتھ جنوں کا بھی مخدوم بنایا۔ حضرت مولانا قاضی حمید اللہ خان صاحب سابق ایم این اے نے بتایا کہ ایک مرتبہ میں حضرت صوفی صاحب (مولانا عبدالحمید سواتیؒ بانی جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ) سے ملنے کے لیے آیا تو انہوں نے مجھ سے فقہ کا ایک سوال پوچھا کہ کیا ایک جنس کی دوسری جنس سے شادی ہو سکتی ہے؟ یعنی انسان اور جن کی؟ مجھے یہ جزئیہ یاد نہ تھا، میں نے کہا کہ دیکھوں گا۔ جا کر میں نے فتاویٰ کی کتابیں چھان ماریں، کہیں یہ جزئیہ نہ ملا۔ البتہ حضرت تھانویؒ کے مواعظ میں ایک جگہ یہ بات ملی کہ ایسا نکاح احناف کے نزدیک جائز نہیں ہے۔ میں فوراً صوفی صاحب کے پاس حاضر ہوا اور بتایا کہ فقہ و فتاویٰ میں تو ایسی کوئی صراحت نہیں ملی البتہ حضرت تھانویؒ کے مواعظ میں یہ بات ملی ہے کہ جائز نہیں۔ اس وقت حضرت صوفی صاحبؒ مدرسہ میں نیم کے درخت کے نیچے تشریف فرما تھے تو آپؒ نے نیم کی طرف منہ کر کے تین دفعہ فرمایا کہ ’’مسئلہ یہی ٹھیک ہے‘‘۔ قاضی صاحب فرماتے ہیں کہ مجھے بڑی حیرانی ہوئی کہ نیم کی طرف منہ کر کے آپ فرما رہے ہیں۔ بعد میں مجھے خیال آیا کہ یقیناً جنات نے ان سے ایسا مسئلہ پوچھا ہوگا، یا ان کو نکاح کی پیش کش کی ہوگی۔ بحوالہ: ماہنامہ نصرۃ العلوم مفسر قرآن نمبر 402، 403 بحوالہ کتاب: اکابرین دیوبند کے واقعات و کرامات صفحہ 625، مصنف: حافظ مومن خان عثمانی، ناشر: مکتبہ المیزان، اردو بازار لاہور محترم قارئین! جنات سے ملاقاتیں، گفتگو کرنا، ان سے وظائف پوچھنا یا بتانا یا ان سے احادیث کی روایات لینا ہمارے اکابرین میں تواتر سے چلا آ رہا ہے، ضروری نہیں جو بات ہمیں معلوم نہ ہو تو ہم اس کا انکار ہی کر دیں۔۔۔!

وظائف اور تعویذ سے علاج کرنا حرام ہے؟؟؟

موجودہ دور میں کچھ لوگوں نے دین کے انتہائی حساس شعبے "فتویٰ دینے” کو معمولی مشغلہ سمجھ لیا ہے اور آئے دن قرآن و سنت اور اجماعِ اُمت کے خلاف نت نئے فتوے جاری کرتے رہتے ہیں۔ ماہنامہ عبقری میں شائع ہونے والے شرک و بدعت سے پاک وظائف کو بھی تختہ مشق بنا کر غلط اعتراض کیا جاتا ہے کہ عبقری کے وظائف خود ساختہ ہیں۔ حالانکہ انہیں رٹی رٹائی باتیں بیان کرنے سے وقت نکال کر تھوڑا بہت دین کا علم بھی حاصل کرنا چاہئے، تاکہ انہیں معلوم ہو سکے کہ دَم کرنے، وظائف پڑھنے اور تعویذ استعمال کرنے کا شریعت میں کیا حکم ہے؟ زبدوۃ المحدثین علامہ سید محمد صدیق حسن خانؒ (مکتبہ اہل حدیث) کا فتویٰ: حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (لا بأس بالرقى ما لم يكن فيه شرك) ایسا دَم کرنے میں کوئی حرج نہیں، جس میں شرک نہ ہو (صحیح مسلم) پس جو دَم (وظائف) زمانہ جاہلیت کے ہوں، یا کفار اور مشرکین کے ہوں، وہ ممنوع ہیں۔ ان کے سوا جو دَم (وظائف) اسلام کے ہوں، یا قرآن و حدیث سے ثابت ہوں، یا علمائے اہلِ توحید سے ماثور ہوں، وہ بلا شک و شبہ جائز ہیں۔ اور سب سے بہتر دَم (وظیفہ) سورۃ الفاتحہ، اخلاص اور معوذتین کا ہے۔ (بحوالہ کتاب: الداء والدواء صفحہ 17 ناشر: مشتاق بک کارنر، اردو بازار، لاہور) مفتی محمد ایوب نعیمی رضوی مدظلہ (مکتبہ بریلویہ) کا فتویٰ: یہ ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ جس طرح انسانی جسم بیماری کا شکار ہوتا ہے، اسی طرح اس کی روحانی طاقت بھی کچھ غیر محسوس اور غلط قوتوں کی زد میں آ کر مختلف بیماریوں کا شکار ہو جاتی ہے۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان علاج کی خاطر بے پناہ وسائل استعمال کر کے بھی ناکام رہتا ہے۔ اس لیے شفاء حاصل کرنے کیلئے نقوش (تعویذات) اور عملیات کا سلسلہ زمانہ قدیم سے چلا آ رہا ہے۔ (بحوالہ کتاب: شمع شبستان رضا، صفحہ 6 ناشر: قادری رضوی کتب خانہ، گنج بخش روڈ لاہور) مفتی محمد عبدالغنی مدظلہ کا فتویٰ: سنن ابی داؤد میں حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر مرض کا علاج رکھا ہے، اس لیے تم علاج کرولیکن حرام چیز سے نہ کرو”۔ اکابر و مشائخ کا ہمیشہ سے یہ عمل رہا ہے کہ وہ قرآنی آیات اور دعاؤں کو لکھ کر اس کا دھویا ہوا پانی مریضوں کو پلاتے ہیں اور اس سے شفاء بھی ہو جاتی ہے۔ ملّاعلی قاریؒ کا بھی یہی فرمان ہے کہ قرآنی آیات، اسمائے حسنیٰ یا ماثورہ دعاؤں سے علاج کرنا نہ صرف جائز ہے، بلکہ افضل ہے۔ چاہے یہ علاج تعویذ کی شکل میں ہو، یا دَم اور منتر کی صورت میں۔ بحوالہ کتاب: مستند علاج نبوی ﷺ صفحہ 13 تالیف: الشیخ احمد بن محمود الدیب، ترجمہ: مفتی محمد عبدالغنی فاضل بنوری ٹاؤن، ناشر: درخواستی کتب خانہ، علامہ بنوری ٹاؤن، کراچی

مدینے کی خاتون کو چمٹ جانے والا جن

حضرت علی بن حسین رضی اللہ عنہما المعروف بہ امام زین العابدینؒ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کے متعلق مدینہ منورہ میں سب سے پہلے اس طرح خبر ہوئی، کہ وہاں کی ایک خاتون کے پاس جن آیا کرتا تھا۔ چنانچہ ایک دن وہ جن آیا تو دیوار پر کھڑا ہو گیا۔ اس عورت نے کہا: تم نیچے کیوں نہیں آتے؟ اس نے کہا: نہیں! اب وہ رسول ﷺ مبعوث ہو گئے ہیں، جنہوں نے زنا کو حرام قرار دیا ہے۔ (اخرجہ الواقدی، کذا فی البدایہ جلد 2 صفحہ 328) بحوالہ کتاب: حیات الصحابہؓ، حصہ سوم صفحہ 918 مصنف: حضرت مولانا محمد یوسف کاندھلویؒ۔ زم زم پبلشرز اردو بازار کراچی قارئین! ماہنامہ عبقری میں ”جنات کا پیدائشی دوست“ کالم لکھنے والے علامہ لاہوتی صاحب دامت برکاتہم کو اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطا فرمائے جنہوں نے جنات کے چمٹ جانے، ان کی نظر بد لگنے، ان کی چوریوں اور ان کے ظلم سے بچاؤ کیلئے ایسے سینکڑوں وظائف اور حفاظتی عملیات مخلوقِ خدا میں عام کیے جو شرک و بدعت کی بجائے قرآن و سنت اور ہمارے اکابرین رحمہم اللہ اجمعین کی زندگی سے ثابت ہیں۔ اب جو لوگ کہتے ہیں کہ علامہ لاہوتی صاحب دامت برکاتہم ایسی باتیں کرتے ہیں جن کا وجود صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانے میں نہیں تھا، ان سب حضرات کو دعوتِ فکر ہے کہ درج بالا واقعہ اہلِ بیتِ اطہار کے شہسوار اور جلیل القدر تابعی امام زین العابدینؒ کا بیان کردہ اور مولانا محمد یوسف صاحب کاندھلویؒ کا تحریر کردہ ہے۔ کیا آج عبقری پر اعتراض کرنے والا کوئی شخص اس واقعے کو جھوٹے قصے کہانیاں کہنے کی جسارت کر سکتا ہے؟؟؟

زمین کے بل میں پیشاب کرنا کیون منع ہے

( تمام مکاتب فکر کے علماء کا متفق فیصلہ ) جب سے ماہنامہ عبقری کے معروف کالم ” جنات کا پیدائشی دوست” میں حضرت علامہ لاہوتی پراسراری دامت برکاتہم العالیہ نے جنات کی دنیا سے پردہ کشائی فرمائی ہے، کچھ لوگ ان کے کالم میں بیان کردہ باتوں کو صرف افسانہ سمجھ کر رڈ کر دیتے ہیں۔ حالانکہ تمام مکاتب فکر کے علماء و مجتہدین ، اور اکابر واسلاف کا متفقہ فیصلہ ہے کہ احادیث کی روشنی میں درج ذیل جگہوں پر جنات کا رہنا ثابت ہے۔ اسی لیے بل کے اندر پیشاب کرنے سے منع فرمایا گیا ہے ، تاکہ جنات کو تکلیف نہ پہنچے ، ورنہ وہ انسان کو مختلف حادثات میں مبتلاء کر کے اپنا انتقام لیتے ہیں۔ (1) بیابان ، جنگل ، وادیاں ، گھاٹیاں وغیرہ (2) کوڑا کرکٹ اور لید وغیرہ پھینکنے کی جگہوں پر اور ایسی جگہوں پر جہاں انہیں اپنا مخصوص کھانا (ہڈی، گوبر اور کوئلہ ) میسر ہو (3) غسل خانوں اور بیت الخلاؤں میں (4) زمین کی کی دراڑوں ، بلوں ، غاروں، سرنگوں اور متروکہ مکانوں میں (5) انسانوں کے ساتھ ان کے گھروں میں ، ایسے جنوں کو عامر کہا جاتا ہے (6) اونٹوں کے باڑے میں (7) کھنڈرات اور پرانی عمارتوں میں (8) قبرستانوں میں (9) بازاروں میں۔ تفصیل کیلئے دیکھیں کتاب : جناتی اور شیطانی اور چالوں کا توڑ،مصنف : شیخ عبدالله محمد بن احمد الطیار ، شیخ سامی بن سلمان المبارک ، نظر ثانی شیخ حافظ صلاح الدین یوسف، ابوالحسن مبشر احمد ربانی، ناشر دار الا بلاغ لا ہور ( مکتبہ اہل حدیث) دوسری کتاب : جن ہی جن ، مصنف: حضرت علامہ مفتی محمد فیض احمد اویسی قادری ناشر: سیرانی کتب خانه نز د سیرانی مسجد بہاول پور ( مکتبہ بریلویه ) تیسری کتاب : تاریخ جنات و شیاطین ، مترجم: حضرت مولانا امداد اللہ انور صاحب، ناشر: دار المعارف عنایت پور تحصیل جلالپور پیر والا ، ملتان

اندھیروں میں اللہ تعالی سے دل لگانے کا فائدہ

حضرت جنید بغدادی فرماتے ہیں کہ میں نے شیخ سری سقطی کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں ایک دن سفر پر نکلا تو ایک پہاڑ کے دامن میں اندھیری رات نے گھیر لیا۔ وہاں میرا کوئی جاننے والا نہ تھا۔ اچانک کسی نے آواز دی کہ : اندھیروں میں دل نہیں چھلنے چاہئیں بلکہ محبوب ( اللہ تعالیٰ) کے حاصل نہ ہونے کے خوف سے نفوس کو چھلنا چاہیے یہ سن کر میں گھبرا گیا۔ اسی وقت آواز آئی کہ ہم اللہ پر ایمان رکھنے والے مومن جنات ہیں۔ یہاں اور بھی بہت مومن جنات موجود ہیں اور ان جنات کے پاس مجھ سے بھی زیادہ ایمان ہے۔ دوسرے جن نے مجھے نصیحت کی : خدا کا غیر اس وقت نہیں نکلتا جب تک کہ دائمی طور پر بے گھر نہ رہا جائے ۔ تیسرے جن نے مجھے کہا: جواند ھیروں میں اللہ تعالی کے ساتھ مانوس رہتا ہے، اس کو کسی قسم کا فکر نہیں ہوتا ۔ صحیح فرماتے ہیں: میں نے ان جنات سے کہا: مجھے کوئی نصیحت کرو۔ وہ تمام جنات کہنے لگے : اللہ تعالیٰ تقوی اختیار کرنے والے دلوں کو ہی جلا بخشتا ہے، جو غیر خدا کی طمع کرے گا اس نے ایسی جگہ کی لالچ کی جو لالچ کے قابل نہ تھی۔ اس کے بعد انہوں نے مجھے الوداع کیا اور چلے گئے۔ میں اس کلام کی برکت ہمیشہ اپنے دل میں محسوس کرتا ہوں۔ صفة الصفوۃ ابن جوزی بحوالہ کتاب لقط المرجان فی احکام الجان ترجمہ مولانا امداداللہ انور، ص 305 ناشر : دار المعارف عنایت پور تحصیل جلالپور پیر والا ، ملتان محترم قارئین! ہمارے اکا بڑ کی جنات سے ملاقاتوں کی طرح جنات کے پیدائشی دوست حضرت علامہ لاہوتی صاحب دامت برکاتہم کے واقعات بھی سو فیصد حقیقت پر مبنی ہیں۔ اب جو لوگ ماہنامہ عبقری میں بیان کردہ ایسی باتوں کو صرف عقل کی ترازو میں تولتے ہیں، وہ اپنے اکابر کے واقعات کو کیا کہیں گے۔

بیدار آنھکوں سے حضور ﷺ کی زیارت کیسے ہوتی ہے؟

ماہنامہ عبقری میں جب علامہ لاہوتی پراسراری دامت برکاتہم کے ایسے واقعات شائع ہوتے ہیں ، جن میں جاگتی آنکھوں سے حضور سرور کونین سام کی یا بعض دیگر انبیاء وصلحاء کی زیارت کا ذکر ہوتا ہے تو کچھ لوگ سوال کرتے ہیں کہ یہ کیسے ممکن ہے؟ آئیے اس کا جواب اپنے اکابر کی زندگی میں تلاش کرتے ہیں۔ علامہ وحید الزمان حیدر آبادی رحمہ اللہ ( مکتبہ اہل حدیث) لکھتے ہیں : اب بھی بعض خدا کے بندے ایسے موجود ہیں جو آنکھ بند کرتے ہی آپ ماتم کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں اور انہیں حالت بیداری میں آپ مسلہ تم کا جمال مبارک نظر آجاتا ہے۔ یہ دولت اس کو ملتی ہے جو کثرت سے درود وسلام پڑھنے والا ہوتا ہے (بحوالہ کتاب: لغات الحدیث، ج 2 ص 223 ناشر: نعمانی کتب خانہ، اردو بازار لاہور ) مولانا جلال الدین احمد امجدی رحمہ اللہ ( مکتبہ بریلویہ ) لکھتے ہیں : حضرت سید کبیر احمد رفاعی رحمہ اللہ جب 555ھ میں حج سے فارغ ہو کر مدینہ منورہ تشریف لے گئے تو وہاں پر آپ نے محبت بھرے چند اشعار پڑھے ، جس کے بعد روضہ اقدس ﷺ یہ تم سے دست مبارک ظاہر ہوا اور آپ نے اس کو بوسہ دیا۔ اس وقت کئی ہزار لوگوں کا مجمع موجود تھا اور اس میں پیران پیر شیخ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ بھی موجود تھے۔ ( بحوالہ کتاب بزرگوں کے عقیدے ص 330 ناشر : اکبر بک سیلرز لاہور ) مرکز اہلسنت کے ابتدائی بزرگ حضرت حاجی محمد عابد قدس سرہ نے حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ سے فرمایا کہ ایک بات کہتا ہوں جسے میری زندگی میں ظاہر نہ کرنا۔ میں نے حالت بیداری میں حرم مکہ میں بعض انبیاء علیہم السلام کی زیارت کی ہے، یہ جو میری موجودہ حالت دیکھتے ہو، یہ انہی انبیاء علیہم السلام کی نظر کا اثر ہے ( بحوالہ کتاب:عاشقان رسول ﷺ کو خواب میں زیارت نبی ﷺ صفحہ 222 ناشر: مکتبہ عمر فاروق، شاہ فیصل کالونی کراچی) آیة اللہ سید عبد الحسین دستغیب شیرازی ( مکتبہ اثناء عشریہ لکھتے ہیں : امام جعفر صادق علیہ السلام کو کئیمرتبہ جاگتی آنکھوں سے سرکار دو عالم سان پیتم کی زیارت کا شرف حاصل ہوا۔ ( بحوالہ کتاب: عالم برزخ، صفحہ 233 ناشر : اے بی سی آفسٹ پریس دہلی ۔ سن اشاعت: 1993ء) محترم قارئین ! اب اگر علامہ لاہوتی صاحب کے کالم میں بیداری کی حالت میں زیارت کے واقعات سامنے آئیں تو اس میں کیا قباحت ہے؟ مولانا سید محمد داؤد غزنوی (صدر جمعیت اہل حدیث پاکستان) فرمایا کرتے تھے : اگر کوئی شخص اتنا نیک ہو جائے کہ اسے کشف ہونے لگے تو تمہیں کیا اعتراض ہے؟ (دیکھیں کتاب : نقوش عظمت رفتہ، مصنف: مولانامحمد اسحاق بھٹی ، ناشر: مکتبہ قدوسیہ، اردو بازارلاہور )

جنات ، عامل کی بات مانتے ہیں یا اولیاء کی؟

محترم قارئین ! جس طرح جنات کے پیدائشی دوست حضرت علامہ لاہوتی پراسراری دامت برکاتہم کے شب وروز مسلسل جنات کی ہمراہی میں گزر رہے ہیں، اسی طرح ہمارے اکا بر واسلاف میں کئی جلیل القدر ہستیاں اپنے اپنے زمانے میں جنات کی مخدوم تھیں ۔ جن لوگوں کا مطالعہ ایسی باتوں کی طرف نہیں ہوتا، وہ ماہنامہ عبقری کے اس کالم پر بے بنیاد اعتراض کرتے ہیں۔ لیکن اہل علم حضرات جانتے ہیں کہ جنات سے دوستی ہو جانا، یا ان کا مخدوم بن جانا کوئی ایسی چیز نہیں، جونا ممکنات میں سے ہو۔ آئیے ! قارئین عبقری کی طرف سے بھیجی گئی چند مزید مستند معتبر اور باحوالہ مثالیں ملاحظہ فرمائیں۔ مفتی محمد فیض احمد اویسی رحمتہ اللہ علیہ ( مکتبہ بریلویہ ) لکھتے ہیں کہ : حضرت غوث اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کے جنات غلام تھے۔ ایک مرتبہ اصفہان کا رہائشی ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی : اے غریب نواز ! میری بیوی کو آسیب کا مسئلہ ہے اور اسے بہت کثرت سے دورے پڑتے ہیں۔ تمام عامل اس کے علاج سے عاجز آگئے ہیں۔ حضرت غوث اعظم نے فرمایا: یہ سراندیپ کے بیابان کا جن ہے، جس کا نام خانس ہے۔ اب جس وقت تمہاری بیوی کو اس کی شکایت ہو تو کہنا: اے خانس ! بغداد کے عبد القادر کہتے ہیں، سرکشی نہ کر! اگر آج کے بعد تو نے ایسا کیا تو ہلاک کر دیا جائے گا۔ چنانچہ اس کے بعد اس کی بیوی کو کبھی شکایت نہ ہوئی. ( دیکھیں کتاب : بہتہ الاسرار صفحہ 72 ، تحفہ قادریہ صفحہ 68، حوالہ کتاب: جن ہی جن صفحہ 154 ناشر : سیرانی کتب خانہ، نز د سیرانی مسجد بہاولپور ) علامہ مولانا محمد یوسف خان کلکتوی رحمتہ اللہ علیہ ( مکتبہ اہل حدیث) کی خطابت میں ایسا جادو تھا کہ کوئی شخص بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔ مدرسہ غزنویہ میں کچھ جنات آپ کے باقاعدہ طور پر شاگرد بن چکے تھے۔ ایک دن جنات نے آپ سے گزارش کی کہ آپ ہمارے قبیلے میں تشریف لے چلیں اور وہاں دین کی تبلیغ فرمائیں۔ آپ کی تبلیغ سے ہمارے بہت سے بھائی راہ راست پہ آجائیں گے۔ چنانچہ جنات علامہ صاحب کو اٹھا کر اپنی بستی میں لے گئے اور پورا ایک ہفتہ آپ سے وعظ ونصیحت سنتے رہے۔ علامہ صاحب کے گھر والوں اور مدرسے کے ناظمین کوکوئی خبر نہ تھی کہ آپ کہاں ہیں۔ بالآخر ایک ہفتے بعد اچانک خود تشریف لائے اور آکر سارا واقعہ سنایا؛ یہ بھی فرمایا کہ جنات نے مجھے ایک خاص وظیفہ دیا ہے کہ مجھے جب کبھی ان کی ضرورت پڑے، تو میں انہیں اسی وقت حاضر کر لیا کروں ( بحوالہ کتاب: سوانح علامہ یوسف خان کلکتوی صفحہ 162 ترتیب: مولا نا شفیق الرحمان فرخ حفظہ اللہ ، ناشر: هدی اکیڈمی ، گلدیپ کالونی سمن آبا دلا ہور ) حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ خواجہ محمد غوث گوالیاری نے ایک مرتبہ اپنے خادم جنات کو بھیجا کہ جا کر شیخ عبدالقدوس گنگوہی کو یہاں لے آئیں۔ جنات ان کی مسجد میں پہنچے ،مگر شیخ کے پاس جانے کی ہمت نہ ہوئی۔ شیخ عبدالقدوس گنگوہی نے خود ہی محسوس کیا تو فرمایا : کدھر آئے ہو؟ جنات نے جواب دیا کہ خواجہ محمد غوث آپ کی زیارت کرنا چاہتے ہیں، اگر آپ کا حکم ہو تو ہم آپ کو ایسے طریقے سے لے جائیں گے کہ آپ کو تکلیف نہ ہوگی ۔ شیخ عبدالقدوس نے فرمایا: میں حکم دیتا ہوں کہ محمد غوث کو میرے پاس لے آؤ۔ یہ سنتے ہی جنات واپس گئے اور خواجہ محمد غوث کو اٹھالیا۔ انہوں نے پوچھا: بھئی تم تو میرے مطبع تھے، اب مجھے ہی کیوں اٹھانے لگے؟ جنات نے کہا: جناب ! ہم آپ کی بات ہر کسی کے مقابلے میں مان سکتے ہیں لیکن شیخ عبد القدوس گنگوہی کے مقابلے میں نہیں مان سکتے۔ چنانچہ خواجہ محمد غوث گوالیاری، شیخ عبد القدس گنگوہی کی خدمت میں پہنچے، معافی مانگی اور ان کی بیعت میں شامل ہو گئے ۔ ( بحوالہ کتاب : قصص الا کا برا صفحہ 24 ناشر: اداره تالیفات اشرفیه، فوارہ چوک ، ملتان) الحاج مولانا روشن علی نجفی ( مکتبہ اثناء عشریہ) لکھتے ہیں کہ امام موسیٰ کاظم کی مجلس میں ہر وقت تیس ہزار جنات حاضر رہتے تھے، جو اپنے اپنے قبائل کے سردار تھے۔ ایک دن امام موسیٰ کاظم کو بخار کی شکایت ہوئی تو ان کے خدام جنات میں سے عبدالوارث نامی جن اپنے قبیلے کا ماہر حکیم بلا کر لایا، جس کے خاندان میں گزشتہ پانچ ہزار سالوں سے طب و حکمت چلی آرہی تھی۔ اس حکیم جن نے امام موسیٰ کاظم کے پاس رہتے ہوئے متواتر تین دن تک علاج کیا،جس سے آپ رو بصحت ہو گئے (بحوالہ کتاب: آل رسول کے مستند واقعات ، صفحہ 67 ناشر: مطبع خاک نجف، حسین علی روڈ، بنارس)

علی گڑھ یونیورسٹی کے ناظم کیساتھ جنات کی شرارت

محترم قارئین ! جولوگ ماہنامہ عبقری میں شائع ہونے والے ہر دلعزیز کالم جنات کا پیدائشی دوست کو محض قصے کہانیاں کہہ کر رد کر دیتے ہیں ، انہیں اکابر و اسلاف کی ترتیب زندگی پر غور کرنا چاہئے کہ اگر جنات کا پیدائشی دوست میں بیان کیے جانے والے حقائق من گھڑت ہیں تو درج ذیل واقعات کے متعلق آپ کیا کہیں گے؟ معروف مصنف جناب رئیس امروہوی لکھتے ہیں کہ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے ناظم دینیات مولانا ابوبکر شیث کے مکان میں جنات رہتے تھے۔ ان کے گھر میں جو بچے پڑھنے جاتے ، ایک دن انہوں نے دیکھا کہ مولانا کی شیروانی خود بخو دکھونٹی کے اندر گھس گئی ، یہ دیکھ کر سب بچے سہم گئے تو مولانا نے فرمایا: کیوں بچوں کو پریشان کرتے ہو ، بس کرو ۔ ان کے فرماتے ہی یہ سلسلہ بند ہو گیا۔ اسی طرح حضرت شاہ غلام اعظم ( مکتبہ بریلویہ ) بھی قرآن وحدیث کا درس دیتے تھے۔ ایک دن ان کے طلباء آپس میں کہنے لگے کہ اگر قندھاری انار اور سیب کھانے کو مل جائیں تو مزہ آجائے۔ انہی طلباء میں سے مولا بخش نامی ایک طالب علم نے یوں ہاتھ بلند کیا اور اسی لمحے قندھاری انار اور سیب لا کر رکھ دیے۔ جب شاہ غلام اعظم صاحب کو پتہ چلا تو انہوں نے اسے خوب ڈانٹا اور فرمایا: بچوں کے سامنے ایسی حرکتیں کرتے ہو ، کل سے درس میں نہ آنا۔ اس کے علاوہ ان کے مدرسے میں رہنے والوں کا بارہا تجربہ تھا کہ چھت پر سے خوش الحانی کے ساتھ قرآن خوانی کی آواز آتی لیکن کوئی نظر نہ آتا. ( بحوالہ کتاب: جنات ، صفحہ 101 ناشر : فرید پبلشرز، اردو بازار کراچی) امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : حضرت یحیی بن سعید نے فرمایا کہ جب اماں عروہ بنت عبد الرحمان رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت آیا تو ان کے پاس بہت سے تابعین جمع ہو گئے۔ ابھی ہم ان کے پاس ہی تھے کہ سب نے چھت پھٹنے کی آواز سنی ، پھر ایک کالا سانپ گرا، جو بڑی کھجور کی مانند تھا۔ جونہی وہ اس خاتون کی طرف لپکا تو اچانک ایک سفید کاغذ گرا، جس پر لکھا تھا : بِسمِ اللهِ الرَّحْمِنِ الرَّحِیمِ عکب کے رب کی طرف سے عکب کی طرف! اے عکب تمہیں نیک لوگوں کی بیٹیوں پر ہاتھ بڑھانے کی اجازت نہیں ہے۔ جب اس نے یہ رقعہ دیکھا تو جہاں سے اترا تھا، وہیں واپس چڑھ گیا ( بحوالہ : دلائل النبوۃ جلد 7 صفحہ 16 بحوالہ کتاب: جن ہی جن ،صفحہ 134 مصنف: مفتی فیض احمد اویسی ، ناشر: سیرانی کتب خانہ، نز دسیرانی مسجد بہاولپور) مولانا محمد اسحاق بھٹی لکھتے ہیں کہ ایک دن مولانا معین الدین لکھوی کسی کے گھر جن نکالنے گئے۔ میں بھی ان کے ساتھ تھا۔ میزبان کی اہلیہ پر جن حاضر تھا۔ مولانا معین الدین لکھوی نے پوچھا کہ تم کون ہو؟ آواز آئی کہ میں آپ کے پڑدادے حافظ محمد لکھوی صاحب کا شاگرد ہوں اور ان کے پاس لکھو کے میں پڑھا ہوا ہوں ۔مولانا معین الدین لکھوی نے فرمایا کہ میرے پڑدادا نے کسی کو بھی یہ تعلیم تو نہیں دی کہ لوگوں کو پریشان کرنا چاہئے ،لہذامیں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ تم یہاں سے چلے جاؤ۔ پس اس جن نے بھاری آواز میں السلام علیکم کہا اور چلا گیا۔ (بحوالہ کتاب: گزرگئی گزران ،صفحہ 156 ناشر: مکتبہ نشریات 40 اردو بازار لاہور )

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026