حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی کالے جن سے کشتی

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ انسانوں سے بھی جنگ کی ہے اور جنات سے بھی۔ سوال کیا گیا کہ آپ نے جنات سے کس طرح لڑائی کی؟ تو انہوں نے فرمایا کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ ایک منزل پر اترے تو میں نے پانی لانے کیلئے اپنا ڈول اور مشکیزہ لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ پانی پر تمہارے پاس ایک شخص آئے گا جو تمہیں پانی لینے سے منع کرے گا۔ جب میں کنویں پر پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک کالے رنگ کا آدمی ہے اس نے کہا کہ واللہ! آج تم اس میں سے ایک ڈول بھی نہیں بھر سکتے۔ اس نے مجھے پکڑا مگر میں نے اسے پچھاڑ دیا اور ایک پتھر لے کر اس کے چہرہ اور ناک کو توڑ دیا۔ پھر اپنا مشکیزہ بھر کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور پورا قصہ سنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں معلوم ہے کہ وہ کون تھا؟ (جسے تم نے پچھاڑا) میں نے عرض کیا کہ مجھے معلوم نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شیطان تھا۔ دوسری روایت میں ہے کہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر مجھے معلوم ہوتا کہ وہ شیطان ہے تو میں اسے قتل کر دیتا۔ میں نے چاہا کہ اس کی ناک اپنے دانتوں سے کاٹ دوں لیکن اس کی بدبو کی وجہ سے میں ایسا نہ کر سکا۔

علامہ لاہوتی پراسراری صاحب دامت برکاتہم کے کالم ”جنات کے پیدائشی دوست“ کو عقل کے پیمانے میں جانچنے والے لوگ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی اس حدیث پر کیا ارشاد فرمائیں گے؟ کیا یہ حدیث بھی نعوذ باللہ ”عمران سیریز“ کی قسط ہے؟ کیا اس واقعے کو بھی صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا وہم کہا جا سکتا ہے؟

پوسٹ کو شیئر کریں

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026