جس کو شک ہے، آئے میں اسے جنات کے نام رقعہ لکھ کر دیتا ہوں

محترم قارئین ! ماہنامہ عبقری کے کالم ” جنات کا پیدائشی دوست” میں بیان کیے جانے والے تمام حقائق ہمارے اکابر واسلاف کی کتب میں صدیوں سے چلے آرہے ہیں۔ جس شخص کا مطالعہ اس موضوع پر نہیں ہوتا وہ اپنی معلومات کے خلاف ہر بات کو خلاف شریعت کہ کر رد کر دیتا ہے۔ حالانکہ دین عقل کا نام نہیں نقل کا نام ہے۔ یعنی اکابر سے جو روایات سینہ در سینہ نقل ہوتی چلی آرہی ہوں اور لاکھوں لوگوں کے مشاہدات بھی موجود ہوں تو ان کا انکار کرنا ایسے ہی ہے ، جیسے کوئی نابینا شخص روشن دن کو بھی تاریک رات کہہ دے۔ درج ذیل مثالیں ملاحظہ فرمائیں : مولانا محمد الیاس قادری (مکتبہ بریلویہ) لکھتے ہیں کہ حضرت ابو میسر ہ حرانی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: ایک دن قاضی محمد بن علاثہ رحمتہ اللہ علیہ کے پاس مدینہ منورہ کے جنات اور انسان ایک کنویں کا جھگڑا لے کر آئے ۔ میں نے ان کی گفتگوسنی ۔ قاضی صاحب نے انسانوں کیلئے فیصلہ کیا کہ وہ طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک اس کنویں سے پانی بھر لیا کریں اور جنات کیلئے یہ فیصلہ کیا کہ وہ غروب آفتاب سے لے کر طلوع فجر تک پانی لے لیا کریں۔ چنانچہ اس فیصلے کے بعد اگرکوئی انسان غروب آفتاب کے بعد کنویں سے پانی لیتا تو اسے پتھر مارا جاتا. ( بحوالہ کتاب: قوم جنات اور امیر اہل سنت صفحہ 82 ناشر: مکتبۃ المدینہ کراچی) مولانا حکیم محمد ادریس فاروقی ( مکتبہ اہل حدیث) لکھتے ہیں کہ ایک دن مولا نا عبدالمجید سوہدروی نے منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا کہ جنات بھی انسانوں کی طرح ایک مخلوق ہے ، جن میں اچھے اور برے دونوں پائے جاتے ہیں۔ ایک تعلیم یافتہ شخص نے اسی وقت جنات کے وجود پر تذبذب کا اظہار کیا تو آپ نے فرمایا : جب قرآن و حدیث میں جنات کا تذکرہ موجود ہے تو انکار کرنے کی کیا گنجائش ہے؟ اگر آپ اپنی آنکھوں سے جنات کا مشاہدہ کرنا چاہتے ہیں تو میں آپ کو ایک رقعہ دے کر فلاں جگہ بھیجتا ہوں ، وہاں پانچ ہزار اہل حدیث جنات موجود ہیں، جو آپ کو کھانا بھی کھلا ئیں گے۔ پھر آپ کو ان کے متعلق کسی قسم کا شبہ نہیں رہے گا ( بحوالہ کتاب: کرامات اہل حدیث ہصفحہ 131 ناشر بمسلم پبلی کیشنز سوہدرہ) امام جلال الدین سیوطی ( مکتبہ حنفیہ ) لکھتے ہیں کہ شیخ ابونصر شعرانی نے حماد بن شعیب سے روایت بیان کی کہ وہ ایک ایسے شخص سے ملے جو جنات سے کلام کیا کرتے تھے۔ جنات نے انہیں بتایا کہ انسانوں میں جو شخص سنت نبوی سالی تم پر زیادہکار بند ہو، وہ قوم جنات پر زیادہ بھاری ہوتا ہے۔ (بحوالہ کتاب: لقط المرجان فی احکام الجان ، صفحہ 144 ناشر: مکتبہ برکات المدین، بہادر آباد کراچی) ملا محسن فیض کاشانی ( مکتبہ اثنا عشریہ ) لکھتے ہیں : حضرت سعید بن عباس رازگی سے روایت ہے کہ یمن کے چند لوگ امام مالک کی خدمت میں گئے اور کہا : ہمارے ہاں ایک جن ہماری لڑکی کو نکاح کا پیغام بھیجتا ہے اور کہتا ہے کہ میں حلال کا خواہش مند ہوں۔ امام مالک نے فرمایا کہ میں اس کے متعلق دین میں کوئی حرج نہیں سمجھتا لیکن اس بات کو پسند بھی نہیں کرتا۔ ( بحوالہ کتاب : المحجة البيضاء صفحہ 123 ناشر : مكتب الصدوق تهران)

ایک دن میں دس کتابیں پڑھنا اور سینکڑوں صفحات لکھنا کیسے ممکن ہے؟

ماہنامہ عِقْرِی کے سَر پَرَسْت حضرت علامہ لاہوتی پراسراری دامت برکاتہم کے کالم ”جنات کا پیدا اَشی دوست“ میں یہ بات عام طور پر ملتی ہے کہ وہ کم وقت میں زیادہ کام کر لیتے ہیں، یا چند لمحات میں لمبا فاصلہ طے کر لیتے ہیں، ان کے متعلق جو لوگ جو لوگ بات عام طور پر سُنتے ہیں وہ کم وقت میں زیادہ کام کر لینے، یا چند لمحَات میں لَمبَا فَاصِلہ طے کر لینے میں ان کے متعلق جو لوگ ایسی باتوں کو صرف عقل کے معیار پر تولتے ہو تو کہتے ہیں کہ یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟ انہیں مَعْلُوم ہونا چاہئے کہ اولیاء اللہ کی کرامات بَر حَق ہیں۔ اور کرامت تو کہتے ہی اُسے ہیں، جو عام انسان کے بس سے باہر اور عقل سے ماوراء ہو جیسا کہ: امام ابن قیم علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں کہ میں نے خود شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ (مکتبہ اہل حدیث) کے کمال میں عجیب وغریب بَرکَت دیکھی۔ آپ صرف ایک دن میں اتنی زیادہ تحریر کر لیتے تھے، جتنی ایک کاتب پورے ہفتے میں بھی نہیں کر سکتا، صِرف تحریر و تصنیف میں ہی نہیں، بلکہ آپ میدان جنگ میں بھی کامل تھے۔ چُنانچہ تاتاریوں کے خِلاف جِہاد میں آپ نے وہ کمالات دکھائے، کہ بڑے سے بڑے بہادروں کے منہ کھلے رہ جاتے ہیں۔ (حوالہ: کتاب: ذکر ابی، صفحہ 203، ناشر: دار السلفیہ، حفظ الدین روڈ ممبئی نمبر 8) حكيم الامت مولانا اشرف على تھانوی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں کہ امام غزالی کی لکھی ہوئی کتابوں کو اگر ان کی پوری زندگی پر تقسیم کیا جائے تو روزانہ سولہ جز کی تصنیف بنتی ہے، جو کسی طرح سَمجھ نہیں آتی مگر جب اللہ تعالی آپ پر اپنی وَلائت کی کتاب، ”الیواقیت والجواہر“ کے متعلق فرمایا ہے کہ اس کتاب کے 300 باب ہیں اور مکمل کتاب بھی ہزار صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کے ہر باب کو لکھنے سے پہلے میں نے شیخ اکبر علامہ محی الدین ابن عربی کی کتاب ”فتوحاتِ مَكِّیَّہ“ کا مکمل مُطالَعَہ کیا ہے۔ یعنی 300 باب لکھنے سے پہلے 300 مرتبہ فتوحات مَكِّیَّہ کا مُطالَعَہ کیا، یہ سب سے پہلے کی گئی ہے۔ پھر سَب یہ بات دَرج کی گئی کہ یہ کتاب بھی 30 دن کے اندر لکھی گئی ہے۔ لہٰذا روزانہ فتوحاتِ مَكِّیَّہ کا مُطالَعَہ بھی دَس دفعہ ہوتا ہے اور کتاب کے لکھے جانے والے باب بھی روزانہ دَس بَنتے ہیں۔ (حوالہ: حضرت تھانوی کے پسندیدہ واقعات، صفحہ 204، مرتب: مولانا ابوالحسن علی ندوی، ناشر: مکتبہ مدینہ اردو بازار، لاہور) مولانا سید محمد ذاکر شاہ چشتی سیالوی (مکتبہ بریلویہ) لکھتے ہیں کہ حضرت شیخ بن علی ایک دفعہ محرقہ نامی جگہ میں اپنے شَاگِرد عبداللہ بن محمد کے ساتھ تھے، شَاگِرد نے کہا کہ ہم یہاں مَغرب کی نماز ادا کر لیتے ہیں، پھر سَفَر پہ روانہ ہوجائیں گے۔ یہ سُن کر آپ نے فرمایا کہ تُم مَغرب کی نماز تُم یہیں پر جا کر پڑھیں۔ حالانکہ مَغرب اور تُم کا فَاصِلَہ 3 کوس کا تھا اور سُورج غُروب ہونے سے پہلے وہاں پہنچنا نامُمکن تھا۔ چُنانچہ آپ کے شَاگِرد نے کہا: اَیسا ہونا تو بہت مُشکِل ہے۔ آپ نے فرمایا: ذرا اپنی آنکھیں بند کر و۔ اُس نے آنکھیں بند کیں تو فرمایا: اب کھول لو۔ جب دیکھا تو وہ تُم یہیں کھڑے تھے اور سُورج اَبھی ویسے کا ویسا تھا۔ (بِحوالہ کتاب: جامع کراماتِ الاَولِیاء، صفحہ 235، ناشر: ضیاء القرآن پبلیکیشنز، لاہور)

علامہ لاہوتی صاحب کے خوشی غم میں شریک ہونے والے جنات کی حقیقت

موجودہ صدی میں جہاں انسانی دماغ ترقی کرتا جارہا ہے اسی رفتار سے ہماری روح بھی تنزل کی طرف جاتی جارہی ہے ، آج ہم آنکھ سے نظر نہ آنے والی ہر چیز کو سائنسی ریسرچ اور تحقیق کہ کر تو قبول کر لیتے ہیں۔۔۔ لیکن اللہ معاف کرے قرآن وحدیث اور بزرگانِ دین کے واقعات کو اپنی عقل کے ترازو پر تولتے رہتے ہیں ۔۔۔ علامہ لاہوتی صاحب کی ” جنات سے ملاقاتیں ، ان کے ساتھ خوشی غمی میں شریک ہونا کوئی ایسی ناممکن بات نہیں تاریخ میں ہمیں ایسی بہت سی مثالیں ملتی جو کہ علامہ صاحب کے ہر ہر واقعہ کی تصدیق کرتی ہیں۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا انظر شاہ صاحب کا شمیری ( جنہوں نے حضرت شیخ الوظائف دامت برکاتہم کو سلسلہ عالیہ نقشبند یہ اور دیگر سلاسل میں خلافت عطا فرمائی۔ تفصیل کیلئے دیکھیں ماہنامہ احسن لاہور، بمطابق اگست 2009 ) اپنے والد محترم حضرت علامہ انورشاہ کا شمیری کے انتقال پر ملال پر ” جنات“ کے غم کا اظہار کچھ اس طرح فرماتے ہیں: عصر اور مغرب کے درمیان بیای کی شدت بڑھتی رہی بلکہ مغرب کے بعد سے نزع کی کیفیات طاری ہو گئیں ہوش و حواس کی سلامتی جاتی رہی ، وقت گزرنے کے ساتھ آپ کی بے چینی بڑھتی جاتی تشنگی کا یہ عالم تھا کہ چند سیکنڈ کے وقفہ سے پانی کی ضرورت محسوس کرتے پانی پینے کے ساتھ حسبنا اللہ پڑھتے اور لیٹ جاتے خالہ زاد بھائی محمد سعید کی والدہ کا بیان ہے میں نے جلتے ہوئے چراغ کو پست کیا تو گھر کا پورا صحن سفید پوش لوگوں سے جن کے سروں پر عربی عمامے تھے لبریز ہوگیا، مجھے کبھی اپنی آنکھوں پر شبہ ہوتا اور کبھی اس منظر پر حیرت ہوتی کیا یہ دارالعلوم کے طلبہ ہیں؟ لیکن آج تو اندر آنے کی کسی کو اجازت نہیں، کیا یہ بلند پایہ علماءکا گروہ ہے؟ جنہیں ان کی خصوصیت کی بناء پر آنے کی اجازت ملی ہے۔ وہ مقدس ہجوم (فرشتوں و جنات) جس نے گھر کے ماحول کو لبریز کر رکھا تھا کلمہ طیبہ کے ورد کے ساتھ کوئی چیز ہاتھ میں لے کر گھر سے باہر جارہا تھا۔ میں نے جب شاہ صاحب کی طرف دیکھا تو وہ اس وقت ساکت وصامت لیٹے ہوئے تھے علم و کمال کا آفتاب غروب ہو گیا۔۔۔! جنات کی پر درد آواز : ایک بھیانک پر درد آوازسنی گئی ”لوگوتم سور ہے ہو امام الحدیث کی وفات ہوگئی یہ ایسی سوز گوار اور درد بھری آواز تھی کہ دار العلوم میں سوئے ہوئے سب طالبعلم جاگ گئے ۔ تیسری جانب حضرت مدنی کے خادم ان کے سر کی مالش کر کے ابھی جا کر لیٹے ہی تھے فلک شگاف نعرہ کانوں میں گونجا میں گھبرا کر اٹھا دیکھا کہ حضرت مدنی باہر تشریف لے آئے فرمایا ”یہ بلند اور آہنگ آواز جنات کی تھی جو کہ حضرت شاہ صاحب کی وفات پر ماتم کناں ہیں کچھ طلبہ نے جنات کے گروہ کو بھی جاگتی آنکھوں سے دیکھا، جہاں سے یہ درد و الم اور یہ خوفناک آواز میں نکل رہی تھیں ۔ (بحوالہ کتاب حیات محدث کشمیری ، مصنف حضرت مولانا محمد انظر شاہ مسعودی ص58 محترم قارئین ! کیا ہم اس واقعہ کو بھی من گھڑت ، خودساختہ، یا دیو مالائی کہانی کہہ کر جھٹلا دیں گے۔ نہیں ہرگز نہیں ۔۔۔ !ہمیں اکابر پر اعتماد تھا۔۔ہے۔۔۔اور انشاء اللہ رہے گا۔ (ناشر : اداره تالیفات اشرفیہ)

علامہ لاہوتی صاحب کی طرح حالت بیداری میں زیارت النبی صلى الله عليه وسلم کا فیض پانے اولیائے کرام

علامہ لاہوتی صاحب دامت برکاتہم کے واقعات میں بارہا حالت بیداری میں زیارت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ ملتا ہے ہمارے اکا بر کی زندگی میں بھی بہت سے اس قسم کے واقعات ملتے ہیں چند اکابر پر اعتماد کے دوستوں کی خدمت میں پیش خدمت ہیں: (1) حضرت مولانا عبید اللہ صاحب فرماتے ہیں کہ بانی تبلیغ حضرت مولانا الیاس کو نسبت حضوری حاصل تھی ایک مرتبہ خصوصی خدام کی مجلس میں فرمایا جب دل کو طلب ہوتی ہے سرکار دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں بند کرتے ہی زیارت ہو جاتی ہے بحوالہ کرامات و کمالات اولیاء ج 1 ص 78، مجموعہ ارشادات شیخ الحدیث حضرت مولانا یوسف متالا صاحب ، ناشر :از هراکیڈمی لندن) (2) حضرت مولانا فضل رحمن گنج مراد آبادی کے خاص خدام فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ آپ فرمانے لگے یہ جنت ہے یہ جنت ہے چاروں سمت ہاتھ سے اشارہ کرتے رہے اور فرمانے لگے حضرت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے کر آئے ہیں۔ ( بحوالہ تذکرہ حضرت مولانا فضل الرحمن گنج مراد آبادی ، ص89، مصنف: مولانا سید ابوالحسن علی ندوی، ناشر : مجلس صحافت ونشریات لکھنو) (3) قطب ربانی امام شعرانی اپنی کتاب ”میزان میں لکھتے ہیں کہ شیخ سید محمد بن زین کو اکثر حالت بیداری میں آپ صل اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہو جایا کرتی تھی ( بحوالہ براہین قاطعہ ، مولانا خلیل احمد سہارنپوری، 222، ناشر: دارالاشاعت کراچی) شیخ اکبر حضرت محی الدین ابن عربی فرماتے ہیں کہ محض دلیل و برہان سے نہیں بلکہ دیکھتی آنکھوں سے بیداری میں حضرت رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت با برکت سے مشرف ہوں اور یہ مقام تو میرے بہت سے بھائیوں کو بھی حاصل ہے جیسے شیخ سید احمد الرفاعی اس دولت کبری سے حالت بیداری میں مالا مال ہوئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں جنت کے تخت پر بٹھایا (سعادت دارین ج 2 ص 98) محترم قارئین! آج اللہ کریم کے فضل سے عبقری کا پیغام سارے عالم میں پھیل گیا اس کی وجہ مخلصین کا اخلاص اور اہل اللہ کی سر پرستی ہے جو لوگ اب تک اس ماحول سے دور ہیں ان سے گزارش ہے ضرور تسبیح خانہ لاہور میں ایک مرتبہ آکر ماحول کو دیکھیں اللہ کریم کی عطا سے زندگی ایمان وسنت کے نور سے مزین اورا کا بر کی محبت سے لبریز ہو جائے گی۔انشاءاللہ

علامہ لا ہوتی صاحب کی طرح دربار رسالت صلی اللہ علیہ وسلم سے فیض پانے والے اولیائے کرام

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارکہ ہے جس نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے مجھے حقیقت میں دیکھا وہ آنکھیں کتنی خوش نصیب ہیں جنہیں زندگی میں ایک مرتبہ خواب میں زیارت النبی صلی اللہ علیہ وسلم نصیب ہو جائے ۔۔۔! اور وہ وجود کتنے ہی سعادت مند ہوں گے جنہیں حالت بیداری میں زیارت باسعادت بار ہا نصیب ہوتی ہے ایسی سعادت مند ہستیوں میں آج کے دور میں علامہ لاہوتی پراسراری صاحب بھی ہیں، تاریخ کے اوراق سے چند واقعات اکابر پر اعتماد کے دوستوں کیلئے پیش خدمت ہیں: حضرت عبد اللہ بن موسیٰ فرماتے ہیں کہ حضرت علی بن صالح کے انتقال کے بعد میں ان کے بھائی شیخ حسن بن صالح ”ل کے پاس تعزیت کیلئے آیا تو مجھے وہاں رونا آگیا وہ کہنے لگے کہ رونے سے پہلے ان کے انتقال کی کیفیت سن لو، کیسے لطف کی بات ہے کہ جب ان پر نزع کی تکلیف شروع ہوئی مجھ سے پانی مانگا جیسے ہی میں پانی لے کر آیا تو فرمانے لگے میں نے تو پانی پی لیا میں نے دریافت کیا کہ کس نے پلایا ؟ تو فرمانے لگے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم فرشتوں کی بہت سی صفوں کے ساتھ تشریف لائے تھے ، انہوں نے مجھے پانی پلا دیا۔ مجھے خیال ہوا کہ کہیں غفلت میں نہ کہہ رہے ہوں اس لئے پوچھا کہ فرشتوں کی صفیں کس طرح تھیں؟ بولے اس طرح اوپر نیچے تھیں اور ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ کے اوپر کر کے بتایا۔ فضائل صدقات حصہ 2 ص 128 مصنف شیخ الحدیث مولانامحمد ذکریا، کتب خانہ فیضی)۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے بالمشافہ حالت بیداری میں اور خواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت سی احادیث سنیں اور بعض کی اصلاح بھی فرمائی جنہیں آپ نے ایک کتاب در ثمین“ کے نام سے شائع کیا۔ (ماہنامہ الفرقان ولی اللہ نمبر ) شیخ محمد بن ابی الحمائل کثرت سے بیداری میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہوا کرتے تھے یہاں تک کہ جب کسی چیز کے بارے میں پوچھا جاتا تو فرماتے کہ میں اسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کرلوں اس کے بعد اپنا سر گریبان میں لے جاتے اور پھر فرماتے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں یہ فرمایا ہے پھر ویسا ہیہوتا جیسا فرماتے کبھی اس کے خلاف نہ ہوتا تھا۔ (سعادت دارین حصہ 2 ص 438) محترم قارئین بطور برکت یہ چند واقعات لکھے گئے جس سے آپ کو علامہ صاحب کے کمالات کا یقین ہو گیا ہوگا، اللہ کریم ہم سب کو زیادہ سے زیادہ عبقری کے فیض کو بانٹنے والا بنائے اور اکابر پر اعتماد نصیب فرمائے. (مولانا قاری حافظ عطاء اللہ صاحب، جامعہ اشرفیہ، لاہور ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارکہ ہے جس نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے مجھے حقیقت میں دیکھا وہ آنکھیں کتنی خوش نصیب ہیں جنہیں زندگی میں ایک مرتبہ خواب میں زیارت النبی صلی اللہ علیہ وسلم نصیب ہو جائے ۔۔۔! اور وہ وجود کتنے ہی سعادت مند ہوں گے جنہیں حالت بیداری میں زیارت باسعادت بار ہا نصیب ہوتی ہے ایسی سعادت مند ہستیوں میں آج کے دور میں علامہ لاہوتی پراسراری صاحب بھی ہیں، تاریخ کے اوراق سے چند واقعات اکابر پر اعتماد کے دوستوں کیلئے پیش خدمت ہیں:

جنات کو تعلیم دینے اور مشورہ کرنے والے تبلیغی علامہ لاہوتی پراسراری

اکابر پر اعتماد پیج دیکھ کرادارہ عبقری کیلئے بڑی دعائیں نکلتی ہیں کیونکہ موجودہ دور میں علمی اور فکری گمراہیوں سے بچنے کیلئے عبقری کی خدمات نہایت قابل تحسین ہیں اس دور میں اسلاف پر بے اعتمادی۔۔۔۔ ہزار گمراہیوں کی ایک گمراہی ہے۔ تبلیغی جماعت کے بڑے بزرگ جو کہ اپنے وقت کے علامہ لا ہوتی صاحب ہی تھے ان کی جناتوں سے ملاقاتوں کے واقعات بہت کثرت سے ملتے ہیں ان میں سے چند آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں: (1) مفتی محمد شاکر خان قاسمی صاحب لکھتے ہیں کہ تبلیغی جماعت کے بزرگ حضرت مولانا محمد یونس صاحب (جو کہ پونہ کے رہائشی اور علامہ لاہوتی صاحب کی طرح جنات سے ملاقات کرنے اور ان کو تعلیم دینے والے باکمال بزرگ تھے ) ان کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ سلیم تالاب صاحب نے کہا کہ مولانا یونس صاحب آخری سفر سے پہلے جامعہ انعام الحسن کونڈ وا تشریف لائے اورفرمانے لگے کہ بھئی مجھے جلدی واپس جانا ہے کیونکہ میرا جنات کے ساتھ مشورہ ہے۔ (2) ایک مرتبہ اجتماع میں خدمت کے ساتھی کہنے لگے کہ ہم نے مجمع کے لحاظ سے خوب کھانا پکا یا لیکن کھانے کے وقت آدھا مجمع بھی نہیں آیا اور کھانا بہت بچ گیا ہم مولانا یونس صاحب کے پاس گئے اور ساری صورتحال عرض کر دی ۔ مولا نا فرمانے لگے کے مجمع میں بیٹھے لوگ جنات تھے جو بیان میں زیادہ نظر آرہے تھے وہ تمہارا کھانا نہیں کھاتے بلکہ ان کا الگ انتظام ہے اس لیے وہ وہاں سےچلے گئے۔ (3) مولانا یونس صاحب فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ رات کو میرا دروازہ کسی نے کھٹکھٹایا میں ہڑ بڑا کر اٹھا، دروازہ کھولا تو چھوٹے چھوٹے ڈھیر سارے بچے ہاتھوں میں قرآن ، قاعدے اور ( بقول حافظ محبوب صاحب اپنے قد کے برابر بخاری و مسلم شریف) لیئے کھڑے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ہم کو قرآن پڑھائیے میں نے کہا اتنی رات ( تین بجے ) کو پڑھنے آئے ہو تم کون ہو تو وہ کہنے لگے ہم جنات کے بچے ہیں۔ (4) مولانا یونس صاحب کے کمرے میں جنات بہت تھے اور یہ بات بہت مشہور تھی کہ آپ کے کمرے میں جو کوئی سوتا ہے جنات اسے سونے نہیں دیتے اور وہاں سے اٹھا دیتے ہیں ، مولانا فاروق صاحب بھی کہتے ہیں کہ ان کے کمرے میں جنات صرف انہی کو سونے دیتے تھے آپ کے علاوہ کسی کو نہیں سونے دیتے تھے۔ (5) حافظ محبوب صاحب انگلینڈ والے فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ مولانا کے ساتھ سفر میں مڈبہال پہنچا تو آپ سے عرض کی کہ یہاں جنات بھی آئے ہیں تو مولانا نے فرمایا کہ یہاں جنات کی پوری بستی آباد ہے۔ ( بحوالہ سوانح مولانا محمد یونس (پونہ)، ص212، مصنف: مفتی محمد شاکر خان قاسمی ، ناشر: فرید بک ڈپو، دہلی ) محترم قارئین ! عبقری کے ایک ایک واقعہ اور تحریر کی سند کا اکابر کی کتابوں میں بکھری پڑی ہے اگر ہم اس پیج کو خود پڑھیں اور زیادہ سے زیادہ دوستوں تک پہنچا ئیں یہ ہماری دنیا اور آخرت میں بہت بڑی خیر کا ذریعہ ہے۔

قاسم العلوم کی حضرت صابر کلیری کے مزار پر با ادب حاضری اور فیض کا حصول

(مفتی محمد فرقان محمود، فاضل جامعہ بنوریہ) علامہ لاہوتی صاحب اور شیخ الوظائف دامت برکاتہم کے واقعات میں مزارات کی حاضری کا ذکر بار بار ملتا ہے اس سفر کو تعلیماتِ اکابرؒ کی روشنی میں تلاش کیا جائے تو کتابوں کی کتابیں ان واقعات سے بھری پڑی ہیں، ذیل میں اکابرؒ پر اعتماد کے دوستوں کیلئے حجة الاسلامؒ کی مزارات پر باادب حاضری کا ایک واقعہ عرض کرتا ہوں جس سے آپ کو بخوبی اندازہ ہو جائے گا کہ عبقری کا کوئی ایک عمل بھی قرآن وسنت وتعلیماتِ اکابرؒ سے ہٹ کر نہیں۔ حضرت مولانا قاسم نانوتوی صاحبؒ بانی دارالعلوم اکثر سال میں کلیر شریف حاضر ہوتے اور اس انداز سے کہ میرے خیال میں آج بھی کوئی بزرگوں کا معتقد شاید (مزارات پر) اس انداز سے نہ جاتا ہو، رُڑکی (جگہ کا نام) سے چھ میل کے فاصلے پر حضرت صابر کلیریؒ کا مزار ہے اور نہر کے کنارے کنارے راستہ جاتا ہے۔ تو آپ نہر کے کنارے پٹری پر پہنچ کر جوتے اتار لیتے تھے۔ چھ میل ننگے پیر طے کرتے وہاں پہنچ کر عشاء کی نماز کے بعد روضہ میں داخل ہوتے۔ پوری رات مزار پر گزارتے تھے اس میں ریاضتیں، مجاہدہ، استفاضہ اور فیض حاصل کرتے اور صبح کی نماز کیلئے وہاں سے نکلتے۔ حضرت حکیم الاسلام مولانا قاری محمد طیب صاحبؒ فرماتے ہیں کہ اگر وہ مزارات پر جانے کو ناجائز سمجھتے تو خود ننگے پیر ادب سے مزارات کیلئے کیوں پیدل جاتے۔ شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ بھی ہندوستان میں جس قدر سلسلے کے اکابرؒ ہیں سفر کر کے ان کے مزارات پر حاضر ہوئے۔ حضرت شاہ محب اللہ صاحب اللہ آبادیؒ کا مزار الہ آباد میں ہے تو وہاں گئے، حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ اور حضرت خواجہ صابر کلیریؒ کے مزار پر بھی آپ نے حاضری دی۔ امام اعظم ابوحنیفہؒ نے اپنی مسند میں روایت نقل کی ہے کہ آدابِ زیارت میں سے ہے کہ قبلہ کی طرف پشت اور میت کی طرف چہرہ ہو اس لیے کہ وہ (مردہ) تمہاری بات سنے گا اور تمہیں دیکھتا ہے جب یہ تفصیل موجود ہے تو اولیاء اور صلحاء کے مزارات پر بے ادبی اور گستاخی کسی طرح سے جائز نہیں اور اولیاء اللہؒ تو بڑی چیز ہیں صلحاء مومنین کی قبروں کے ساتھ بھی گستاخی جائز نہیں ہے۔ قبر کو تکیہ لگانا، پھلانگ کر جانا قبر کی بے حرمتی ہے۔ جس شریعت نے اولیاء اللہؒ کی اتنی توقیر کی ہو کہ ان کی زندگی میں بھی تہذیب سے پیش آؤ ان کی وفات کے بعد بھی ان کی قبروں سے توقیر و تعظیم کا معاملہ کرو تو کون ہے جو ان کی قبروں کی بے ادبی کو جائز رکھے گا۔ (بحوالہ: خطبات حکیم الاسلام، ج 7، ص 10، 16- ترتیب: مولانا نعیم احمد، مدرس جامعہ خیرالمدارس ملتان، ناشر مکتبہ امدادیہ ملتان) محترم قارئین! پرفتن دور میں ایمان کی سلامتی کا راستہ یہی ہے کہ اسلاف اور اکابرؒ کے ساتھ اپنے دامن کو جوڑ لیا جائے۔! اللہ کے فضل سے ساری دنیا میں عبقری اور تسبیح خانہ کی کوشش بھی ہے کہ مرتے دم تک ہمارا دامن اپنے اکابرؒ سے جدا نہ ہو۔ آمین

حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی اور علامہ لا ہوتی صاحب تابعی کیسے بنے؟

( مفتی محمد فرقان محمود متخصص جامعہ بنوریہ کراچی) جب سے اکابر پر اعتماد کی پوسٹیں پڑھ رہا ہوں دل سے آپ حضرات کیلئے دعائیں نکلتی ہیں کہ اس پرفتن دور میں آپ اپنے اکابر کا دفاع کر رہے اور سچ بات یہی ہے کہ ہم اپنے آپ کو عقل کل نہ سمجھیں بلکہ ہر وقت ہر جگہ ا کابر کے طرز عمل کو تلاش کریں اسی میں ہمارے لیے عافیت اور ایمان کی سلامتی ہے۔ دوستوں کیلئے حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی کا تابعی بننے کا واقعہ پیش خدمت ہے جس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ علامہ لاہوتی دامت برکاتہم بھی اس دور کے تابعی ہیں جنہوں نے صحابی جن کی بار بار زیارت کی۔ حضرت مولانا گنگوہی فرماتے ہیں کہ یہ واقعہ حضرت مولانا شاہ ولی اللہ کا ہے کہ ایک رات وہ مطالعہ میں مصروف تھے، ایک کتاب اُٹھائی تو دیکھا کہ اُس کے نیچے سانپ ہے، آپ نے لاٹھی اُٹھائی اور اُس کو مارا وہ مرگیا ، اتنے میں وہ کیا دیکھتے ہیں کہ کسی نے ان کو اُٹھا لیا ، اُٹھانے والی چیز نظر نہیں آرہی تھی ۔ وہ انھیں گھر سے باہر لائے اور جنگل میں لے گئے ۔ وہاں لے جا کر ایک جگہ سے پتھر ہٹایا اور نیچے تہ خانہ کی طرح راستہ تھا ادھر لے گئے ۔ میں نے دیکھا کہ نیچے تو ایک پورا جہان آباد تھا، ایک زبر دست شاہی محل کی طرح اور تمام انتظامات تھے۔ مجھے وہ ایک دربار میں لے گئے، وہاں ایک تخت موجود تھا، ان کے بادشاہ سلامت بیٹھے ہوئے تھے مجلس لگی ہوئی تھی۔ ایک صاحب نے اپنی زبان میں ایک درخواست بادشاہ کو پیش کی ، پھر وہ حضرت شاہ ولی اللہ سے مخاطب ہوئے اور کہا کیا تم نے ان کے بھائی کو قتل کیا ہے؟ آپ نے فرمایا نہیں ۔ پھر انہوں نے سوال کیا کیا تم نے کسی سانپ کو مارا ہے؟ آپ نے فرمایا جی ہاں! پھر وہ جنات آپس میں باتیں کرنے لگے۔ اتنے میں ایک عمر رسیدہ بزرگ جن جو کہ صحابی تھے انہوں نے پڑھنا شروع کیا کہ سَمِعْتُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَنْ تَزَيَّا بِزِقَ غَيْرِهِ فَقُتِلَ فَدَ مُهُ هَدَر “ ترجمہ: ”جو اپنی موجودہ شکل کے علاوہ میں اور دوسری کوئی شکل اختیار کرے اور اُس میں اُسے قتل کیا جائے ، تو اُسکا خون معاف ہے اور اُس کا نہ قصاص ہے، نہ دیت ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں کہ پہلے میں بہت خوفزدہ تھا، پھر سمجھ گیا کہ یہ جنات کی دُنیا ہے۔ میں نے اُن( صحابی جن) سے پوچھا کہ کیا آپ نے خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم سےیہ حدیث سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”ہاں“۔ آپ فرماتے ہیں اس کے بعد میرا سارا خوف خوشی میں بدل گیا کہ آج میں تابعی بن گیا۔ کیوں کہ میں نے صحابی جن سے براہ راست حدیث مبارکہ ان کی زبان مبارک سے سنی۔ ( بحوالہ : کرامات و کمالات اولیاء، ج 1، ص 45، مجموعه ارشادات: حضرت شیخ الحدیث مولانا یوسف متالا مدظلہ، ناشر: از ہراکیڈ می لندن )

حضرت علامہ شعرانی اپنے وقت کے بہت بڑے علامہ لاہوتی پراسراری

ماہنامہ عبقری میں چھپنے والے ہر دلعزیز کالم ” جنات کے پیدائشی دوست“ کے عنوان سے لکھنے والے علامہ لاہوتی پراسراری دامت برکاتہم کی جتنی بھی باتیں اور واقعات ہیں وہ تمام کے تمام ہمارے اکابرکی کتابوں میں موجود ہیں اگر علامہ نبہانی کی کتاب جامع کرامات ہی دیکھ لی جائے تو وہ بھی اس موضوع پر بہت ہی جامع کتاب ہے ذیل میں علامہ شعرانی کے لاہوتی واقعات کی ایک جھلک سے آپ علامہ لا ہوتی صاحب کے واقعات کو بخوبی سمجھ جائیں گے۔ حضرت علامہ شعرانی فرماتے ہیں کہ میں نے جب حضرت شیخ امین الدین عمری کے پیچھے نماز مغرب ادا کی تو میرے دل کے تمام حجاب دور ہو گئے اور میں اللہ جل شانہ کی تمام مخلوق کی تسبیح سنتا تھا کہ کس کس طرح چرند، پرند، مچھلیاں اور دوسری تمام مخلوق اللہ جل شانہ کی تسبیح کرتی ہے۔ اللہ جل شانہ نے ان سب کی زبان سمجھنے کی مجھے طاقت اور قدت عطافرمادی تھی۔ اسی طرح جناتوں سے بھی آپ کی ملاقاتیں ہونے لگیں ۔ آپ ان کی زبانیں سمجھتے اور وہ آپ سے اپنے مسائل پوچھتے اور اپنی ضرورتیں بتاتے۔ آپ کو جنات کیلئے مستقل ایک کتاب جس کا نام ”کشف القناع وَالزَّانِ عَنْ وَجْهِ أَسْئِلَةِ الْجَان تصنیف کرنی پڑی۔ جس میں آپ نے جنات کے پچھتر (75) سوالات کا ذکر کیا ہے، جس میں جنات نے پچھتر (75) چیزیں پوچھیں اور آپ نے ایک ایک چیز کا تفصیلاً جواب لکھا ہے اور وہ پوری ایک کتاب کئی اجزاء پر مشتمل ہے اُن کو لکھ کر دی۔ یہ صرف ایک نماز اللہ والے کے پیچھے پڑھنے سے ملا۔ ( بحوالہ : کرامات و کمالات اولیاء، ج 1، ص 39، مجموعہ ارشادات: حضرت شیخ الحدیث مولانا یوسف متالا مدظلہ، ناشر : از ہر اکیڈمی لندن) محترم قارئین ! جنات پیدائشی دوست میں ذکر کی جانے والی محیر العقول باتیں کوئی دیو مالائی کہانیاں نہیں بلکہ روز روشن کی طرح واضح ہیں جس کی تصدیق اکا بر کے ہزاروں واقعات کر رہے ہیں۔ اللہ پاک ہماری زندگی سے اسلاف بیزاری ختم تحریرفرمائیںاور اکا بر کی زندگی پر اعتماد کی تو فیق عطا فرمائیں تحریر محمد سجاد بہاولنگر، درجہ خامسہ، جامعہ محمدیہ

علامہ لا ہوتی صاحب کی طرح جنات کو تعلیم دینے والی علمی ہستی

علامہ لاہوتی صاحب دامت برکاتہم کے شب روز جس طرح جنات کے ساتھ گزر رہے ہیں تاریخ کا مطالعہ کرنے والے حضرات اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ جنات سے ملاقاتوں کے یہ واقعات صرف علامہ صاحب ہی کے ساتھ خاص نہیں بلکہ ہزاروں سے زائد علماء اور مشائخ کی زندگی میں ان ملاقاتوں کا تذکرہ ملتا ہے۔ ذیل میں حدیث کنز العمال جیسی کتاب لکھنے والی علمی ہستی کی جنات سے نشست و برخاست کا واقعہ اکابر پر اعتماد کے دوستوں کیلئے پیش خدمت ہے جس سے علامہ لاہوتی صاحب کے واقعات کی حقانیت ہمارے سامنے روز روشن کی طرح واضح ہو جائے گی۔ علامہ شیخ علی متقی بہت زاہد ومتقی عالم تھے۔ آپ کے وصال سے دو ماہ قبل جناتوں کے دو گروہ آپ کی خدمت میں آنے جانے لگے ۔ ایک گروہ اعتقاد و محبت ، ارادت و الفت میں آپ کی خدمت میں حاضری دیتا تھا جبکہ دوسرا گروہ وہ تھا جو آپ سے بغض و عداوت رکھتا تھا ، یہ گروہ کبھی عیسائیوں ، فاسقوں اور کبھی بدکار لوگوں کی شکل میں آتے تھے اور گفتگو نہیں کرتے تھے ۔ بلکہ پیرو مرشد ان کے نام خط لکھ کر دے دیا کرتے تھے۔ شیخ عبدالوہاب فرماتے ہیں کہ جنات کے ان خطوط میں سے دو خط اس فقیر کے پاس بھی موجود ہیں ۔ ( بحوالہ مشائخ احمد آبادص ،مصنف مولا نا محمد یوسف متالا صاحب 376 ناشر: کتب خانه انورشاہ) محترم قارئین! عبقری میں ذکر کردہ جنات کا پیدائشی دوست اپنی علمی مصروفیات کے ساتھ سالہا سال سے پڑھنے کا معمول ہے یقین جانیے! علامہ صاحب کیلئے دل سے دعا نکلتی ہے کہ ان کی ہر بات اور ہر واقعہ اللہ تبارک و تعالی کے بچھڑے بندوں کو رب سے ملانے کا ذریعہ بنتا ہے اللہ ان کو اپنی شان کے مطابق جزائے خیر عطافرمائے ۔ آمین ( مولانا دانش رضا فاضل جامعہ رحمانیہ کراچی)

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026