نقشبندی درویش کے سامنے شاہ جنات کی عاجزی

سرتاج الاولیاء قطب الاقطاب حضرت مولانا محمد عبد اللہ صاحب بہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے جانشین اور میرے والد گرامی حضرت خواجہ عزیز احمد بہلوی نقشبندی مدظلہ العالی بیان فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت بہلوی رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں ڈیرہ غازی خان سے ایک مریض لایا گیا، جس پر جن قابض تھا۔ حضرت شیخ بہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے حکم فرمایا کہ اسکو چھوڑ دو لیکن جن نے حکم کرتے ہوئے صاف انکار کر دیا۔ حضرت شیخ بہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے مریض کے ساتھ آنے والے شخص کو ایک رقعہ دے کر فرمایا: فورآجاؤ اور کوہ سلیمان (جوڈی جی خان کے قریب واقع ہے) پہاڑی کے دامن میں جا کر آواز لگانا: "محمد محمد ( یہ دراصل ایک جن کا نام تھا) جب وہ تمہارے سامنے آجائے تو یہ خط اس کو دے دینا۔ پھر جب تک جواب نہ ملے اسی جگہ انتظار کرتے رہنا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اس شخص نے جا کر آواز لگائی تو محمد نامی جن آگیا ۔ جب حضرت شیخ بہلوی رحمۃ اللہ علیہ کا خط اس کے سامنے پیش کیا تو جن ( محمد ) نے کہا: سردار نے آپ کو بھی ساتھ ہی بلایا ہے۔ لہذاوہ خط لے کر جب شاہ جنات کے پاس پہنچا تو وہ سردار کھڑے ہو گئے۔ خط میں لکھا تھا: کیا آپ اپنے جنات کو ادب نہیں سکھلاتے ؟ یہ پڑھتے ہی سردار کو غصہ آگیا۔ جس جن نے اس شخص کے مریض پر قبضہ کیا ہوا تھا، شاہ جنات نے اسی وقت اس جن کو بلا کر اس کا سر قلم کر دیا۔ پھر بڑے ادب سے کہا : حضرت شیخ بہلوی سے عرض کرنا: اپنے جن کی گستاخی پر میں نہایت شرمندہ ہوں اور اس کی طرف سے میں خود حاضر ہوں۔ میری سزا آپ تجویز فرمادیں۔ یہ تھا جنات کی نظر میں ایک صاحب کمال درویش کا مقام! تحریر مفتی حسین احمد مدنی بہلوی مدظلہ خانقاہ پہلو یہ نقشبندیہ شجاع آباد مؤرخہ 14 ستمبر 2019
انسان کے بداخلاق ہونے میں جنات کا کردار

مولانا شبیر حسن چشتی نظامی رحمۃ اللہ علیہ فاضل دارالعلوم ) لکھتے ہیں کہ تفسیر فتح العزیز میں حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے جنات کے 4 فرقے بیان فرمائے ہیں۔ پہلا فرقہ کافر جنات کا ہے جو اپنے کفر کو پوشیدہ نہیں رکھتے بلکہ جہاں تک ممکن ہو سکئے، کھلم کھل طور پر انسانوں کو بہکانے میں لگے رہتے ہیں۔ وہ لوگوں کو ترغیب دیتے ہیں کہ ہم سے غیب کی خبریں پوچھا کر و مصیبت کے وقت ہم سے مدد مانگا کرو ہم تمہاری حاجت روائی اور مشکل کشائی کیا کریں گے ۔ ایسے جنات لوگوں سے کفر و شرک کرواتے ہیں اور انہیں اسلام قبول کرنے سے روکے رکھتے ہیں۔ دوسرا فرقہ منافق جنات کا ہے جو خود کو مسلمان ظاہر کرتے ہوئے اپنے پوشیدہ مکر و فریب سے انسانوں کا نقصان کرنے کے درپے رہتے ہیں۔ تیسرا افرقہ فاسق جنات کا ہے جو انسانوں کو ہر طرح سے مناتے ہیں ۔ اپنے لیے نذرونیاز مٹھائی شربت وغیرہ سب کچھ قبول کر لیتے ہیں۔ چوتھا فرقہ ان جنات کا ہے جو چوروں کی طرح بعض لوگوں کی روح کو بد اخلاقی ، تکبر کینے اور حسد وغیرہ کی آلودگی کی طرف کھینچ کر لے جاتے ہیں اور انہیں اپنے رنگ میں رنگ لیتے ہیں. ( بحوالہ کتاب: جنات کے پر اسرار حالات، صفحہ 157 ناشر : آستانہ بکڈ پودہلی) محترم قارئین ! حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے اس فرمان کی روشنی میں ثابت ہوتا ہے کہ آج کل عبقری میگزین میں حضرت علامہ لاہوتی پراسراری صاحب دامت برکاتہم العالیہ اپنے کالم جنات کا پیدائشی دوست میں جو انسانوں کو مختلف طریقوں سے جنات کے ستانے کے واقعات بیان فرماتے ہیں، یہ حقائق کوئی اس صدی کی پیداوار نہیں، بلکہ گزشتہ تمام اولیائے کرام نے مخلوق خدا کی خیر خواہی چاہتے ہوئے اسی طرح سے خبر دار کیا اور جنات کی شرارتوں سے بچنے کیلئے بے شمار وظائف عطا فرمائے۔ کیونکہ مخلوق خدا کو ایمان اعمال والی راہوں پر لانے کا کام ہر دور میں جاری رہا ہے۔ کام کبھی نہیں رکتا، بس چہرے بدل جاتے ہیں۔ پس آج کے دور میں اس عظیم منصب پر فائز حضرت علامہ لاہوتی پراسراری صاحب دامت برکاتہم العالیہ کا جتنا بھی شکریہ ادا کیا جائے کم ہے اور ان کیلئے جتنی بھی دعائیں کی جائیں، حق بنتا ہے۔
انسانی زندگی پر اثر انداز ہونے کیلئے جنات کی مختلف ڈیوٹیاں

حضرت علامہ کمال الدین دمیری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ شیطان نے اپنی اولا د کو بعض مخصوص کاموں پر مامور کیا ہوا ہے۔ چنانچہ حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہ کے فرمان کے مطابق ان جنات کے نام اور کام یہ ہیں۔ لاقیسں ، ولہان : یہ دونوں جنات وضو اور نماز پر مامور ہیں اور لوگوں کے دلوں میں جلدی کرنے کے وسوسے ڈالتے ہیں۔ ھفاف: یہ جن صحرا پر مامور ہے اور صحراؤں میں شیطانیت پھیلا کر لوگوں کو گناہوں پر اکساتا ہے۔ زلنبور: یہ جن بازاروں پر مامور ہے اور لوگوں کو جھوٹی قسم کھانے اور جھوٹی تعریف کرنے پر اکساتا ہے۔ بژ : یہ جن مصیبت زدہ لوگوں کو ماتم کرنے نوحہ کرنے گریبان چاک کرنے اور چہرہ نوچنے کی ترغیب دیتا ہے۔ ابیض: یہ جن انبیاء علیہم السلام کے دلوں میں وسوسے ڈالنے پر مامور ہے۔ اعور: یہ جن زنا کروانے پر مامور ہے اور زنا کے وقت مرد و عورت کی شرمگاہ پر سوار رہتا ہے۔ واسم : اس جن کی ڈیوٹی یہ ہے کہ جب کوئی شخص اپنے گھر میں داخل ہوتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لینا بھول جائے تو یہ گھر والوں میں فساد کروانے کا سبب بنتا ہے۔ مطوس یہ جن غلط قسم کی بے بنیاد افواہیں پھیلانے پر مامور ہے۔ (بحوالہ کتاب: جنات کے پر اسرار حالات صفحہ 75 ناشر: آستانہ بک ڈپو دہلی)
دار العلوم میں اپنی آنکھوں سے جنات کو دیکھنے والے عالم دین

مولانا شبیر حسن چشتی نظانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ مجھے بعض اساتذہ کی زبانی معلوم ہوا کہ دار العلوم میں جنات بھی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ چنانچہ دار العلوم کے مہتمم حضرت مولانا حبیب الرحمن صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ایک رات بارہ بجے گشت کے دوران دیکھا کہ ایک بند کمرے میں دوسانپ آپس میں کھیل کو د کر رہے ہیں، جبکہ ان کے سامنے کتابیں کھلی ہوئی موجود ہیں۔ حضرت مہتمم صاحب نے انہیں ڈانٹتے ہوئے فرمایا: یہ وقت کھیلنے کودنے کا ہے یا مطالعہ کرنے کا؟ یہ سنتے ہی دونوں سانپ انسانی شکل میں آگئے اور ان سے معذرت کرنے لگے کہ آئندہ آپ کو شکایت کا موقع نہیں دیں گے۔ اسی طرح طالب علمی کے زمانے میں حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب مونگیری رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ میرے خصوصی تعلقات تھے۔ ایک دن میں نے ان سے کہا کہ شاہ صاحب ! میرا دل چاہتا ہے اپنی آنکھوں سے جنات کو دیکھوں۔ فرمانے لگے: اچھا ٹھیک ہے اس شب جمعہ میں تمہیں دکھا دیں گے۔ چنانچہ جمعے کی رات مجھے تقریباً ایک بجے اٹھا کر فرمایا: جاؤ، فلاں مقام پر تمہیں اس ہیئت کے دو شخص ملیں گے ان سے کوئی بات نہ کرنا۔ مجھے جنات کو دیکھنے کا اتنا شوق تھا کہ ننگے پاؤں ہی چل پڑا اور ان کے قریب پہنچ کر ساتھ ساتھ چلنے لگا۔ دارالعلوم کی مسجد تک تو میرا اور ان کا ساتھ رہا لیکن مسجد میں داخل ہوتے ہی وہاں مجھے کوئی نظر نہ آیا۔ وہ دونوں جنات دراز قد اور سفید پوش تھے۔ آپس میں باتیں کر رہے تھے مگر میں نہ سمجھ سکا کہ وہ کس زبان میں گفتگو کر رہے ہیں ( بحوالہ کتاب: جنات کے پر اسرار حالات، صفحہ 162 ناشر : آستانہ بک ڈپو دہلی)
جنات اور انسانوں کی شادی ہونے کا ثبوت

محترم قارئین ! عبقری میگزین میں انسانوں اور جنات کی شادی کے متعلق جب مضمون شائع ہوا تو کچھ لوگوں نے لاعلمی کی بنیاد پر سوال اٹھایا کہ یہ کیسے قصے کہانیاں ہیں؟ جن کا شریعت سے کوئی ثبوت ہی نہیں ملتا ۔ آیئے دیکھتے ہیں کہ ہمارے اکابر” کا اس معاملے میں کیا فرمان ہے؟ مولانا شبیر حسن چشتی نظانی رحمۃ اللہ لکھتے ہیں کہ حضرت خواجہ حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ سے کسی شخص نے سوال پوچھا: کیا جن عورت سے مسلمان مرد کا نکاح جائز ہے ؟ فرمایا: ہاں جائز ہے بشرطیکہ دو گواہوں کے سامنے ایجاب وقبول کیا جائے ۔ اسی طرح فتاوی سراجیہ میں بھی جنات اور انسانوں کے نکاح کو جائز فرمایا گیا ہے۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ بعثت نبوی صلی اللہ وسلم سے پہلے دیگر انبیاء کے زمانے میں جنات اور انسانوں کی شادی ہوا کرتی تھی۔ چنانچہ حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : حضرت سلیمان علیہ السلام کی زوجہ ملکہ بلقیس کے ماں باپ میں سے ایک جن تھا۔ علامہ کمال الدین دمیری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ مجھ سے ایک صالح شخص نے بیان کیا کہ میں نے 4 جن عورتوں سے نکاح کیا ہوا ہے۔ مجھے اس کی بات کا یقین نہ آیا اور میں نے کہا : یہ کس طرح ممکن ہے کہ لطیف اور کثیف جسم یکجا ہو سکیں ؟ لیکن کچھ عرصے بعد وہی شخص دوبارہ نظر آیا تو اس کے سر پہ پٹیاں بندھی ہوئی تھیں۔ دریافت کرنے پر اس نے بتایا کہ میرا اپنی ایک جن بیوی سے جھگڑا ہو گیا تھا اس نے میرا سر پھاڑ دیا ہے۔ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے حالات میں لکھا ہے کہ ان کے ایک طالب علم کا نکاح جن عورت سے ہو گیا۔ پھر جب اس عورت نے اپنے انسان خاوند کے پاس ضرورت سے زیادہ ہی آنا شروع کر دیا تو اس نے تنگ آکر حضرت شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ سے شکایت کی۔انہوں نے اسے ایک تعویذ عطا فرمایا، جس کے بعد اس جن عورت کی آمد ورفت بند ہوگئی ( بحوالہ کتاب: جنات کے پر اسرار حالات، صفحہ 152 ناشر : آستانہ بک ڈپو دہلی )
اپنے بچوں کے کان میں اذان دے کر جنات کو بھگائیں۔۔۔!عبقری میں ذکر کردہ جناتی حملوں کی آٹھویں دلیل

جنات کی کارستانیوں کے مستند واقعات کے سلسلہ کی ساتویں دلیل میں آپ نے پڑھا کہ جنات کس طرح ہر وقت ہماری طاق میں رہتے ہیں۔۔۔ آج آٹھویں دلیل میں آپ پڑھیں گے کہ نوزائیدہ بچوں کے کان میں اذان دینا بھی اس وجہ سے ہے کہ تا کہ یہ بچہ جنات سے دور رہ سکے۔۔۔! "ماہنامہ عبقری میں علامہ لا ہوتی صاحب کے ذکر کردہ اس جناتی حملے کی دلیل سنن ابوداؤد اور سنن ترمذی کی وہ روایت ہے جس میں ذکر ہے کہ اذان سے شیطان بھاگتا ہے اس لئے مسلمان کو چاہئے کہ بچے کی ولادت کے وقت نومولود کے کان میں اذان دے۔ حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ جب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہما نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو جنم دیا تو رسول اللہ ﷺ ہم نے ان کے کان میں اذان کہی” (امام ترمذی نے اس حدیث کو حسن صحیح کہا ہے ) عبقری میں ذکر کردہ جناتوں کے انسانوں پر حملوں کے مستند حوالہ جات اکابر پر اعتماد کے دوست اگلی قسط میں ملاحظہ فرمائیں۔
گھر جانے سے پہلے دیکھ لیں جنات تو آپ کے ساتھ نہیں چمٹ گئے ۔۔۔!

عبقری میں ذکر کردہ جناتی حملوں کی چھٹی دلیل جنات کی کارستانیوں کے مستند واقعات کے سلسلہ کی پانچویں دلیل میں آپ نے پڑھا کہ جنات خوابوں کے ذریعے بھی انسانوں پر حملہ کرتے اور گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ آج آپ پڑھیں گے کہ جب بھی آپ گھر جاتے اور کھانا کھاتے ہیں اس وقت بھی جنات آپ پر حملہ آور ہوتے ہیں ماہنامہ عبقری میں علامہ لا ہوتی صاحب کے ذکر کردہ اس دعویٰ کی دلیل صحیح مسلم کی وہ روایت ہے جو کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی گئی ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول صلى الله عليه وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جب آدمی اپنے گھر میں داخل ہوتے وقت اور کھاتے وقت اللہ کا نام لیتا ہے تو شیطان (جنات ساتھی جناتوں سے ) کہتا ہے کہ تمہارے لئے یہاں شب بسر کرنے کی جگہ نہیں ہے اور نہ کھانا ہے اور جب گھر میں داخل ہوتے وقت آدمی اللہ کا نام نہیں لیتا تو شیطان (جن اپنے ساتھی جناتوں سے ) کہتا ہے کہ تم نے شب بسر کرنے کی جگہ پالی, اور جب کھانا کھاتے ہوئے بھی اللہ کا نام نہیں لیتا ہے تو شیطان ( جن ) کہتا ہے کہ تم نے شب بسر کرنے اور کھانا کھانے کی جگہ پالی۔ عبقری میں ذکر کر وہ جناتوں کے انسانوں پر حملوں کے مستند حوالہ جات کا بر پر اعتماد کے دوست اگلی ملاحظہ فرمائیں۔
خبر دار جنات کے خوابوں سے ہوشیار رہیں ۔۔۔!

عبقری میں ذکر کردہ جناتی حملوں کی پانچویں دلیل جنات کی کارستانیوں کے مستند واقعات کے سلسلہ کی چوتھی دلیل میں آپ نے پڑھا کہ جماعت سے ٹوٹنا بھی جنات کی وجہ سے ہوتا ہے آج آپ پڑھیں گے کہ جنات خوابوں کے ذریعے بھی انسانوں پر حملہ کرتے اور گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں ”ماہنامہ عبقری میں ذکر کردہ اس دعوی کی دلیل حضرت انس ، حضرت ابوبکر ، حضرت ام العلاء ، حضرت ابن عمرؓ، حضرت عائشہ ، حضرت ابوموسی ، حضرت جابر ، حضرت ابو سعید خدری ، حضرت ابن عباس اور حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم سے منقول روایات ہیں ان میں سے ایک روایت پیش خدمت ہے: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” خواب تین قسم کے ہوتے ہیں، ایک خواب وہ ہے جو سچا ہوتا ہے، ایک خواب وہ ہے کہ آدمی جو کچھ سوچتا رہتا ہے، اسی کو خواب میں دیکھتا ہے، اور ایک خواب ایسا ہے جو شیطان (جنات) کی طرف سے ہوتا ہے اور غم وصدمہ کا سبب ہوتا ہے، لہذا جو شخص خواب میں کوئی نا پسندیدہ چیز دیکھے تو اسے چاہئے کہ وہ اٹھ کر نماز پڑھے ، آپ ﷺ فرمایا کرتے تھے: ” مجھے خواب میں بیڑی کا دیکھنا اچھا لگتا ہے اور طوق دیکھنے کو میں نا پسند کرتا ہوں، بیڑی کی تعبیر دین پر ثابت قدمی ( جمے رہنا) ہے ، آپ صلی ا یتم فرمایا کرتے تھے : ” جس نے خواب میں مجھے دیکھا تو وہ میں ہی ہوں، اس لیے کہ شیطان میری شکل نہیں اپنا سکتا ہے، آپ ﷺ فرمایا کرتے تھے : ” خواب کسی عالم یا خیر خواہ سے ہی بیان کیا جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ عبقری میں ذکر کردہ جناتوں کے انسانوں پر حملے کے مستند حوالہ جات اکابر پر اعتماد کے دوست آئندہ اقساط میں ملاحظہ فرمائیں-
گوجرانوالہ میں جنات کو شرعی مسائل بتانے والی ہستی

محترم قارئین ! جنات کے پیدائشی دوست میں علامہ لاہوتی پر اسراری دامت برکاتہم کی جنات سے ملاقاتوں اور ان سے بات چیت کون سی نئی چیز ہے، جو عقل انسانی میں نہ سما سکے ؟ ہر دور میں ایسی ہستیاں گزریں، جن کو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے ساتھ ساتھ جنوں کا بھی مخدوم بنایا۔ حضرت مولانا قاضی حمید اللہ خان صاحب سابق ایم این اے نے بتایا کہ ایک مرتبہ میں حضرت صوفی صاحب ( مولانا عبدالحمید سواتی ” بانی جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ) سے ملنے کے لیے آیا تو انھوں نے مجھ سے فقہ کا ایک سوال پوچھا کہ ایک جنس کی دوسری جنس سے شادی ہو سکتی ہے؟ یعنی انسان اور جن کی ؟ مجھے یہ جزئیہ یاد نہ تھا ، میں نے کہا کہ دیکھوں گا۔ جا کر میں نے فتاوی کی کتابیں چھان ماریں کہیں یہ جزئیہ نہ ملا۔ البتہ حضرت تھانوی کے مواعظ میں ایک جگہ یہ بات ملی کہ ایسا نکاح احناف کے نزدیک جائز نہیں ہے۔ میں فوراً صوفی صاحب کے پاس حاضر ہوا اور بتایا کہ فقہ وفتاوی میں تو ایسی کوئی صراحت نہیں ملی البتہ حضرت تھانوی کے مواعظ میں یہ بات ملی ہے کہ جائز نہیں ۔ اس وقت حضرت صوفی صاحب مدرسہ میں نیم کے درخت کے نیچے تشریف فرما تھے تو آپ نے نیم کی طرف منہ کر کے تین دفعہ فرمایا کہ "مسئلہ یہی ٹھیک ہے ۔ قاضی صاحب فرماتے ہیں کہ مجھے بڑی حیرانی ہوئی کہ نیم کی طرف منہ کر کے آپ فرما رہے ہیں ۔ بعد میں مجھے خیال آیا کہ یقیناً جنات نے ان سے ایسا مسئلہ پوچھا ہوگا ، یا ان کو نکاح کی پیش کش کی ہوگی۔ بحوالہ : ماہنامہ نصرۃ العلوم مفسر قرآن نمبر ۳۰۴ بحوالہ کتاب: اکابرین دیوبند کے واقعات و کرامات صفحه ۶۴۵ ، مصنف : حافظ مومن خان عثمانی ، ناشر: مکتبہ المیزان، اردو بازار لاہور محترم قارئین ! جنات سے ملاقاتیں گفتگو کرنا، ان سے وظائف پو چھنا یا بتانا یا ان سے احادیث کی روایات لینا ہمارے اکابرین میں تواتر سے چلا آرہا ہے، ضروری نہیں جو بات ہمیں معلوم نہ ہو تو ہم اس کا انکار ہی کر دیں ۔۔۔۔!
کوئی جن بھی آپ پر قابو نہ پا سکے۔۔۔۔!

علامہ لاہوتی صاحب کی جنات سے ملاقات کا انکار کرنے والے حضرات کیلئے یہ واقعہ سند کی حیثیت نہیں رکھتا۔۔۔! (قسط نمبر 424) امام حاکمؒ نے اپنی تاریخ میں اور امام دیلمیؒ نے (مسند الفردوس) میں اور امام ابن عساکرؒ نے حضرت ہشام بن عروہؒ سے روایت کیا وہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے خلیفہ بننے سے قبل میرے والد عروہ بن زبیرؒ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا میں نے گزشتہ شب ایک عجیب واقعہ دیکھا ہے میں اپنے گھر کی چھت پر بستر پر لیٹا ہوا تھا کہ میں نے راستہ میں ایک شور سنا، میں نے جھانک کر دیکھا تو شیطان اتر رہے تھے یہاں تک کہ وہ میرے گھر کے پیچھے ایک ویران جگہ میں جمع ہو گئے پھر ابلیس آیا اور بلند آواز سے چلایا کہ میرے پاس عروہ بن زبیرؒ کو کون پیش کرے گا؟ تو ان میں سے ایک جماعت نے کہا ہم پیش کریں گے چنانچہ وہ گئے اور واپس آئے اور کہا ہم ان پر بالکل قابو نہ پا سکے۔ تو وہ دوسری مرتبہ پہلے سے بھی بلند آواز میں چیخا کہ عروہ بن زبیرؒ کو کون میرے پاس لائے گا؟ تو ایک دوسری جماعت نے کہا ہم پیش کریں گے تو وہ جماعت گئی اور کافی دیر گزرنے کے بعد واپس آئی اور کہا ہم بھی اس پر قابو نہ پا سکے۔ پھر وہ (ابلیس) تیسری مرتبہ چلایا میں نے گمان کیا کہ شاید زمین پھٹ گئی ہے کون عروہ بن زبیرؒ کو میرے سامنے پیش کرے گا؟ تو جنوں کی ایک تیسری جماعت اٹھی اور چلی گئی بہت دیر کے بعد لوٹی اور کہا ہم بھی اس پر قابو نہ پا سکے۔ تو ابلیس غصہ میں گیا اور یہ جن بھی اس کے پیچھے پیچھے گئے تو حضرت عروہؒ نے حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ سے فرمایا مجھ سے میرے والد حضرت زبیر بن العوامؓ نے بیان فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے جو شخص رات اور دن کے ابتداء میں یہ دعا پڑھ لے گا اللہ تعالیٰ اس کو ابلیس اور اس کے لشکر سے محفوظ رکھے گا: ”بِسْمِ اللہِ ذِی الشَّانِ عَظِیْمِ الْبُرْھَانِ شَدِیْدِ السُّلطَانِ مَا شَاءَ اللہُ کَانَ اَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ“ ترجمہ: ”یعنی شان والے اللہ کے نام سے جو عظیم البرھان شدید السلطان (تمام بادشاہوں کا بڑا) ہے جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے۔ میں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں شیطان مردود سے“۔ حوالہ کتب: جنوں کی دنیا۔ صفحہ نمبر 272 تصنیف امام جلال الدین سیوطی الشافعی رحمۃ اللہ علیہ۔ ناشر مکتبہ برکات المدینہ کراچی پتا چلا عبقری میں شائع ہونے والے جنات کے پیدائشی دوست میں جنات سے ملاقاتیں کوئی نئی نہیں بلکہ تاریخ میں بکھرے ہزاروں واقعات اس کے شاہد ہیں۔