کیا آپ کو ستانے پر جنات کی ڈیوٹی تو نہیں لگی؟

محترم قارئین! حضرت علامہ لاہوتی پراسراری صاحب دامت برکاتہم العالیہ عبقری میگزین میں جب انسانوں پر جنات کے قابض ہونے کے واقعات بیان کرتے ہیں تو ماڈرن طبقہ تو ر ہا ایک طرف کچھ دین دار با شرع لوگ بھی اس شعبے کے متعلق وہم کا شکار ہو کر کہتے ہیں کہ جنات صرف ایک مخلوق ہے جس کا جہان الگ ہے اور اس مخلوق کا انسانوں سے کوئی رابطہ نہیں ہوسکتا ۔ نہ ہی ان سے فائدہ مل سکتا ہے اور نہ کسی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ جبکہ قرآن وسنت کی تعلیمات اور ہمارے اکابر کے تجربات یہ ہیں کہ انسانوں پر جنات قابض بھی ہوتے ہیں اور شرعی وظائف پڑھنے یا روحانی عملیات کرنے سے چھوڑ بھی جاتے ہیں۔ جیسا کہ مولانا ابواحمد طه مدنی صاحب لکھتے ہیں کہ جنات کا شکار ہونے والے کچھ ایسے لوگ ہوتے ہیں، جن کے ہاتھوں جنات کو غیر شعوری طور پر نقصان پہنچ جاتا ہے اور اس شخص کو اس چیز کی خبر بھی نہیں ہوتی۔ لیکن جنات انتقامی کارروائی پر اتر آتے ہیں اور مختلف طریقوں سے تنگ کرتے ہیں۔ جنات کا شکار ہونے والے لوگوں کی ایک قسم میں عامل حضرات غیر شرعی تعویذات یا کالے عملیات کے ذریعے کسی کو نقصان پہنچانے کی خاطر جنات کی ڈیوٹیاں لگا دیتے ہیں تو جنات اس شخص کو مسلسل پریشان کرتے ہیں اور آسانی سے پیچھا نہیں چھوڑتے۔ آخری قسم کی نوعیت ذرا مختلف ہے، جس کی زیادہ تر شکار صرف خواتین ہوتی ہیں۔ عام طور پر جنات کسی خوبصورت عورت پر اس کے حسن کی بدولت مسلط ہو جاتے ہیں۔ (بحوالہ کتاب: پرتاثیر واقعات صفحہ 147 ناشر: مکتبہ یادگار شیخ ، اردو بازارلاہور )
شاندار زندگی پر کی گئی بندشوں کا توڑ

مولانا ابوطه مدنی صاحب اپنی کتاب میں کسی روحانی عامل کا واقعہ لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ میرا ایک ہم جماعت مجھے ملنے آیا۔ اسے یہ علم نہیں تھا کہ میں عملیات میں بھی مہارت حاصل کر چکا ہوں۔ ہم دونوں کسی کام کے سلسلے میں جارہے تھے کہ راستے میں پہلوانوں کے اکھاڑے کے پاس سے گزر ہوا۔ ہم بھی ان کی کشتی دیکھنے کیلئے رک گئے۔ میرا دوست کہنے لگا: ان میں سے جو زیادہ طاقتور پہلوان ہے وہ کشتی جیت جائے گا۔ میں نے کہا: اگر اس کی بجائے کمزور پہلوان جیت جائے تو کیا خیال ہے؟ وہ کہنے لگا: مجھے آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں لگتی۔ عاملوں کے پاس جب کچھ ہوتا ہے تو انہیں ۔ غصہ بہت جلد آتا ہے فطری سی بات تھی کہ مجھے بھی غصہ آ گیا۔ میں نے اپنے ایک مؤکل کی ڈیوٹی لگائی کہ کمزور پہلوان کے ساتھ تعاون کرو اور طاقتور پہلوان کا برا حشر کر دو۔ دیکھتے ہی دیکھتے طاقتور پہلوان نے قلابازیاں کھانی شروع کر دیں اور کمزور پہلوان نے اسے مار مار کے منٹوں میں ہرا دیا۔ میرے دوست کو مؤکل کے بارے کچھ پتہ نہیں تھا۔ چنانچہ کمزور پہلوان جیت کر بہت خوش ہو رہا تھا اور میرا دوست بھی حیران تھا کہ یہ کیسے جیت گیا؟ لیکن میں سوچ رہا تھا کہ آج تو یہ پہلوان مؤکل کی وجہ سے جیت گیا، لیکن کل کلاں کسی مقابلے میں ان دونوں کا سامنا ہو گیا تو یہ بے چارہ کیا کرے گا؟ (ماخوذ : جنات اور جادو گر کے سربستہ راز مصنف : عبید اللہ طارق ڈار بحوالہ کتاب: پرتاثیر واقعات ،صفحہ 153 ناشر: مکتبہ یادگار شیخ ، اردو بازارلاہور ) قارئین ! ذرا غور کریں کہ ان پہلوانوں میں سے نہ تو مارنے والے کو پتہ چلا کہ میں کیوں ماررہا ہوں ؟ اور نہ ہی مارکھانے والے کو سمجھ آئی کہ یہ کمزور شخص مجھ پر کیسے غالب آگیا ؟ یہی کی یہی صورت حال گھریلو لڑائی جھگڑوں میں ہوتی ہے کہ میاں بیوی یا اولاد اور ماں باپ یا بہن بھائیوں میں کسی کو سمجھ نہیں آتی کہ چھوٹی سی بات پہ دلوں میں نفرتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟ مگر جن کی باطنی نگاہیں اللہ پاک نے اپنے علوم روحانی کی برکت سے کھول دی ہوں وہ فوراً سمجھ جاتے ہیں کہ گھروں کے اجڑنے کی اصل وجہ خاوند کی کم آمدنی یا بیوی کا بے ذائقہ کھانا نہیں، بلکہ کسی خبیث دجال نے اپنا رنگ دکھایا ہوا ہے۔ لہذا اللہ پاک جزائے خیر عطافرمائے، حضرت علامہ لاہوتی پراسراری صاحب دامت برکاتہم العالیہ کو جنہوں نے عبقری میگزین میں جنات کا پیدائشی دوست کالم کے کے ذریعے مخلوق خدا میں یہ شعور اجاگر کیا کہ تمہارے اصل دشمن یہ شریر جنات میں ان سے بچنے کیلئے اعمال نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور وظائف اولیاء کی طرف لوٹ آؤ تا کہ تمہارا خوشحال اور شاندار زندگی گزارنے کا خواب پورا ہو سکے ۔
یہ تیل ناک میں ڈالیں اور جنات سے نجات پائیں

امام ابن جوزی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک طالب علم سفر کر رہا تھا، راستے میں ایک شخص بھی اس کا ہم سفر بن گیا۔ جب شہر کے قریب پہنچا تو طالب علم سے کہنے لگا: میں ایک جن ہوں، مجھے تم سے ایک کام ہے۔ طالب علم پوچھنے لگا: وہ کیا؟ کہنے لگا: جب تم فلاں گھر میں جاؤ گے تو ان کی مرغیوں کے درمیان ایک سفید مرغ کو پاؤ گئے تم اس مرغ کو اس کے مالک سے خرید لینا اور اسی وقت ذبح کر دینا۔ طالب علم نے کہا: ٹھیک ہے مگر مجھے بھی تم سے ایک کام ہے: جب شیطان سرکش ہو جائے اور اس میں جھاڑ پھونک دم وغیرہ کام نہ آئے تو اس کا علاج کیا کرنا چاہئے؟ جن کہنے لگا: آسیب زدہ آدمی کے ہاتھوں کے دونوں انگوٹھوں کو مضبوطی سے باندھ لیا جائے ۔ پھر سداب بیری کا تیل نکال کر مریض کے دائیں نتھنے میں چار مرتبہ اور بائیں نتھنے میں تین مرتبہ ٹپکایا جائے، تو اس کا جن مرجائے گا اور بعد میں کوئی دوسرا جن بھی اس پر قابض نہ ہو سکے گا چنانچہ وہ طالب علم جب مطلوبہ مکان میں داخل ہوا تو معلوم ہوا کہ بڑھیا کا ایک سفید مرغ ہے جسے وہ فروخت کرنے سے انکار کرتی ہے۔ اس نے اسے اصل قیمت سے کئی گنا زیادہ رقم دے کر بیچنے پہ راضی کر لیا۔ جب اس نے مرغ کو ذبح کر دیا تو اسی وقت بڑھیا کے گھر والے اسے مارنے لگے۔ وہ کہتے تھے کہ جب سے تم نے مرغ کو ذبح کیا ہے کسی جن نے ہماری لڑکی یہ حملہ کر دیا ہے۔ طالب علم نے کہا : تم کہیں سے سداب بری کا تیل لے آؤ۔ لہذا جب اس نے جن کی بتائی ہوئی ترتیب کے مطابق لڑکی کے ناک میں تیل ٹپکایا تو وہ جن چیخ پڑا اور کہنے لگا: کیا میں نے تمہیں یہ عمل اپنے ہی خلاف کرنے کا کہا تھا ؟ پھر اسی وقت وہ جن مر گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس لڑکی کو شفاء بخش دی اور اس کے بعد کوئی شیطان جن اس پر قابض نہ ہو سکا۔ ( بحوالہ کتاب: پرتاثیر واقعات، صفحہ 150 ناشر: مکتبہ یادگار شیخ اردو بازار لاہور)
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کانوں میں سانپ کی سرگوشی

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے ۔ آرام کی غرض سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک کھجور کے سائے میں بیٹھے تو اچانک ایک کالا سانپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ کر اپنا منہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کان کے قریب لے گیا۔ کچھ دیر بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سانپ کے کان کے قریب اپنا منہ مبارک لے جا کر کچھ فرمایا اس کے بعد وہ سانپ ایسے غائب ہوا جیسے اس کو زمین نگل گئی ہو۔ ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہم اس سانپ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب دیکھ کر ڈر گئے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ جانور نہیں، بلکہ جن تھا۔ فلاں سورت کی چند آیات بھول گیا تھا، انہی آیات کی تحقیق کیلئے جنات نے اسے بھیجا تھا۔ تم لوگ موجود تھے، اس لیے وہ سانپ کی شکل میں آیا۔ اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک گاؤں میں پہنچے تو وہاں کے لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس گاؤں کی ایک خوبصورت عورت پر ایک جن عاشق ہو گیا ہے۔ اس نے اسے اتنا پریشان کر رکھا ہے کہ وہ نہ کھاتی ہے نہ پیتی ہے بس مرنے کے قریب ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس عورت کو میں نے بھی دیکھا وہ ایسی تھی جیسے چاند کا ٹکڑا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پکار کر فرمایا : اے جن! کیا تجھے معلوم ہے کہ میں اللہ کا رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوں؟ تو اس عورت کو چھوڑ کر یہاں سے چلا جا۔ یہ سنتے ہی وہ عورت صحت یاب ہو گئی اور ہوش میں آنے پر اپنا منہ ہم سب سے چھپانے لگی. ( بحوالہ کتاب : پرتاثیر واقعات صفحہ 95 مصنف: مولانا ابواحمد طه مدنی، ناشر: مکتبہ یادگار شیخ اردو بازار لاہور )
حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ نے جنات سے کیا سیکھا

حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے مرشد حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ کوفرماتے ہوئے سنا کہ میں ایک دن سفر پہ نکلا اور ایک پہاڑ کے دامن میں پہنچ کر رات ہو گئی۔ وہاں میرا کوئی ہم سفر نہ تھا۔ اچانک مجھے وہاں سے کسی کی آواز آئی کہ : اندھیروں میں دل نہیں پگھلنے چاہئیں بلکہ محبوب رب کریم کے حاصل نہ ہونے کا خوف دلوں کے پگھلنے کا باعث بننا چاہئے۔ یہ سن کر میں حیران ہو گیا اور پوچھا: یہ آواز کسی جن کی ہے یا انسان کی؟ جواب ملا۔۔۔ یہ آواز اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے والے مومن جن کی ہے اور میرے ساتھ میرے بھائی مومن جنات بھی ہیں ۔ میں نے پوچھا: کیا ان کے پاس بھی وہ معرفت الہی ہے جو تمہارے پاس ہے؟ کہنے لگا : جی ہاں ! بلکہ ان کے پاس مجھ سے زیادہ معرفت ہے۔ اتنے میں دوسرے جن کی آواز آئی : بدن سے اس وقت تک خدا کا غیر نہیں نکلتا جب تک کہ دائمی طور پر بے گھر نہ رہا جائے۔ پھر تیسرے جن کی آواز آئی: جو اندھیروں میں اللہ تعالی کے ساتھ مانوس رہتا ہے اسے کسی قسم کا فکر نہیں ہوتا۔ یہ سن کر میری چیخ نکل گئی اور میں بے ہوش ہو گیا۔ کسی نے مجھے پھول سونگھا یا تو مجھے ہوش آئی۔ وہ پھول میرے سینے پر موجود تھا۔ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے مجھے کوئی وصیت کرو۔ کہنے لگے : اللہ تعالیٰ تقویٰ اختیار کرنے والے شخص کے دل کو ہی جلا بخشتا ہے، جو شخص غیر اللہ کی طمع کرتا ہے اس نے ایسی لایعنی جگہ پر طمع کی جو اس لائق ہی نہ تھی اور جو مریض ہمیشہ معالج کے پاس چکر لگائے اسے کبھی شفاء نہیں ملتی۔ اس کے بعد انہوں نے مجھے الوداع کیا اور چلے گئے۔ میں ان جنات کے کلام کی برکت ہمیشہ اپنے دل میں محسوس کرتا رہتا ہوں. (بحوالہ : تاریخ جنات و شیاطین، بحوالہ کتاب: پرتاثیر واقعات، صفحہ 160 مؤلف: مولانا ابواحمد طہٰ مدنی، ناشر: مکتبہ یادگار شیخ ، اردو بازار لاہور )
انسانوں اور جنات کی شادی کا اکابر سے ثبوت

محترم قارئین! عبقری کے ہر دلعزیز میگزین ”جنات کا پیدائشی دوست“ میں حضرت علامہ لاہوتی پراسراری صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے ہارون آباد (ضلع بہاولنگر) کے ایک رہائشی شخص کی جننی خاتون سے شادی ہونے کا تذکرہ فرمایا تھا۔ جسے پڑھ کر کئی لوگوں نے شک و شبہے کا اظہار کیا کہ انسانوں اور جنات کی شادی کا بھلا کیا جواز ہے؟ اس سلسلے میں اگرچہ ہم پہلے بھی ”اکابر پر اعتماد“ کی کئی اقساط میں ثبوت فراہم کر چکے ہیں، آئیے دیکھتے ہیں کہ آج کی قسط میں مولانا ابواحمد طٰہٰ مدنی صاحب مدظلہ نے اپنی کتاب میں کیا لکھا ہے! حضرت ابو یوسف سروجی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ قومِ جنات میں سے ایک جن عورت مدینہ منورہ میں ایک شخص کے پاس آئی اور کہا کہ ہم تمہارے گھروں کے پاس اترے ہوئے ہیں، تم مجھ سے نکاح کر لو۔ لہذا ان کا آپس میں نکاح ہو گیا۔ جب رات ہوتی تو وہ عورت انسانی شکل میں اس شخص کے پاس آ جاتی۔ وقت یونہی گزرتا گیا۔ ایک مرتبہ وہی عورت آ کر کہنے لگی: ہم نے اب چلے جانا ہے، تم مجھے طلاق دے دو۔ چنانچہ اس شخص نے اسے فارغ کر دیا۔ ایک دفعہ وہ مدینہ منورہ کے کسی راستے میں جا رہا تھا کہ اچانک اپنی سابقہ بیوی (جننی) کو دیکھا جو راستے میں سے دانے چن رہی تھی۔ اس نے کہا: کیا تم وہی جن عورت ہو؟ جس کی مجھ سے شادی ہوئی تھی؟ یہ سن کر اس خاتون نے غصے سے کہا: تم نے مجھے کس آنکھ سے دیکھا ہے؟ وہ شخص بولا: اس آنکھ سے۔۔۔ اس عورت نے دور سے ہی اپنی انگلی سے اشارہ کیا تو بیچارے آدمی کی آنکھ بہہ پڑی۔ (بحوالہ کتاب: پرتاثیر واقعات، صفحہ 51 ناشر: مکتبہ یادگار شیخ ، غزنی اسٹریٹ)
جنات کو راکھ کر دینے والا چھوٹا سا کلمہ

محترم قارئین ! بعض لوگ پوچھتے ہیں کہ عبقری کے وظائف کس حدیث سے ثابت ہیں؟’ا کا بر پر اعتماد گروپ کے ممبرز کو پچھلی تین سواقساط میں معلوم ہو گیا ہوگا کہ عبقری کا ہر وظیفہ ہمارے اکابر واسلاف کے ذریعے شریعت سے ثابت ہے جیسا کہ مولانا ابو احمد طه مدنی صاحب لکھتے ہیں کہ ایک شخص کسری (ایران) کے سفر پہ گیا، اس کی عدم موجودگی میں ایک شیطان جن نے اسی کی صورت میں آکر اس کی بیوی کے ساتھ تعلقات قائم کر لیے حتی کہ اس جن نے آواز بھی اسی آدمی کی اختیار کر رکھی تھی، اس لیے اس عورت کو بھی کوئی شبہ پیدا نہ ہوا۔ جب وہ شخص سفر سے واپس آیا تو اس کی بیوی نے پہلے کی طرح اس کا کوئی استقبال نہ کیا ، نہ ہی اس کی خاطر اپنے آپ کو آراستہ کیا۔ اس شخص نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے بیوی سے پوچھا تو وہ کہنے لگی : تم کہاں گئے تھے؟ تم تو روز یہیں پہ میرے پاس ہوتے ہو۔ چنانچہ جونہی رات ہوئی تو وہ جن آگیا اور کہنے لگا: مجھے تمہاری بیوی سے محبت ہو گئی ہے، میں تمہاری شکل میں روزانہ اس کے پاس آتا رہا۔ تم مجھ سے ناراض ہونے کی بجائے دو میں سے ایک شرط مان لو۔ یا تو مجھے دن میں اپنی بیوی کے پاس آنے کی اجازت دے دو یا رات کو ! اس شخص نے مجبوری میں دن اپنے لیے منتخب کر لیا۔ ایک رات وہ جن آکر کہنے لگا: میں کئی راتیں تمہاری بیوی کے پاس آتا رہا اب قوم جنات کی طرف سے میری ڈیوٹی لگ گئی ہے کہ آسمان کے قریب جا کر راز کی باتیں چرا کر لاؤں ۔ اگر تم میرے ساتھ آنا چاہو تو آ جاؤ۔ چنانچہ وہ ایک خنزیر کی صورت میں میرے سامنے نمودار ہوا اور کہنے لگا: میری پیٹھ کے بال مضبوطی سے پکڑ لو تم عجیب و غریب چیزیں دیکھو گئے، مگر مجھ سے جدا نہ ہونا، ورنہ ہلاک ہوجاؤ گے۔ پھر اس نے اوپر کی طرف پرواز کی حتی کہ آسمان کے ساتھ جاکر چمٹ گیا۔ وہاں میں نے ہاتف غیبی کا کلام سنا جو یہ تھا: لَا حَولَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِالله مَا شَاءَ اللهُ كَانَ وَمَالَمْ يَشَاءُ لَم يَكُن ۔ میں نے یہ کلمات یاد کر لیے۔ پھر وہ مجھے لے کر زمین پر اتر آیا۔ لہذا جب اگلی رات وہ میری بیوی کے پاس آیا تو میں نے یہی کلمات پڑھنا شروع کر دیے اس جن کی حالت خراب ہونے لگی۔ میں ان کلمات کو دہراتا گیا، حتی کہ وہ جن جل کر راکھ ہو گی. ( بحوالہ کتاب: پرتاثیر واقعات صفحه 156 ناشر: مکتبہ یادگار شیخ ، غزنی اسٹریٹ اردو بازار لاہور )
شیر خدا حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ جنات کی وادی میں پانی لینے پہنچ گئے

حضرت جی مولانا محمد یوسف کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ صحابی رسول حضرت عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ایک دفعہ میں حمص سے چلا تو راستے میں رات کے وقت ایک جگہ وہاں کے جنات میرے پاس آگئے۔ میں نے اسی وقت سورہ اعراف کی یہ آیت پڑھی ” إِنَّ رَبَّكُمُ اللهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ يُغْشِي اللَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِهِ أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ تَبَارَكَ اللهُ رَبُّ الْعَالَمِینَ۔ یہ سنتے ہی جنات نے ایک دوسرے سے کہا : اب تو صبح تک اس کا پہرہ دینا پڑے گا۔ چنانچہ انہوں نے ساری رات ( مجھے تنگ کرنے اور ڈرانے دھمکانے کی بجائے ) میرا پہرہ دیا۔ صبح کو میں سواری پر بیٹھا اور آگے چل پڑا۔ (اخرجہ الطبرانی بحوالہ کتاب: حیاۃ الصحابه صفحه ۴۵۹ حصہ سوم، ناشر: زمزم پبلشرز، کراچی) علامہ مفتی فیض احمد اویسی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ جب صلح حدیبیہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ معظمہ واپس لوٹے تو راستے میں مقام جحفہ پر قیام کیا اور فرمایا تم میں سے کون باہمت ہے جو فلاں کنویں سے پانی لے آئے ، میں اس کو جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔ ایک صحابی نے عرض کی کہ میں جاتا ہوں۔ حضرت سلمہ بن اکوع ” بھی ان کے ساتھ تھے۔ چنانچہ فرماتے ہیں کہ جب ہم کنویں کے قریب پہنچے تو وہاں کے درختوں سے عجیب وغریب آوازیں آرہی تھیں اور ان سے آگ کے شعلے بلند ہورہے تھے۔ ہم ڈر کے واپس آگئے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ جنات تھے، اگر تم میرے کہنے کے مطابق چلے جاتے تو وہ تمہیں کچھ نہ کہتے۔ پھر ایک اور جماعت بھیجی ، وہ بھی ڈر کر واپس لوٹ آئی۔ بالآخر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلا کر پانی لینے بھیجا۔ ان کے ساتھ بھی ایک جماعت تھی جو ایسا خوفناک منظر دیکھتے ہی ڈر گئی حتی کہ ان خوفناک درختوں سے کٹے ہوئے سر ظاہر ہونے لگے ۔ مگر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ڈرو نہیں ! یہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے اور ” اعوذ بالرحمان” پڑھتے ہوئے کنویں کے قریب پہنچ گئے۔ کنویں میں سے پانی نکالنا شروع کیا تو وہاں سے بھی قہقہوں کی خوفناک آوازیں آتی رہیں۔ مگر انہوں نے اطمینان سے پانی بھرا اور واپس آگئے۔ راستے میں ہاتف غیبی کی آواز آئی جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شان میں منقبت پڑھ رہا تھا۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ کر ماجرا سنایا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ با تف” عبد اللہ جن” تھا، جس نے بتوں کے شیطان مسعر کو کوہ صفا میں قتل کیا تھا۔ ( بحوالہ کتاب: جن ہی جن صفحہ ۱۱۸ ناشر: سیرانی کتب خانہ، نزدسیرانی مسجد بہاول پور ) محترم قارئین ! اس سے ثابت ہوا کہ عبقری میگزین میں شائع ہونے والے سلسلہ وار کالم ” جنات کا پیدائشی دوست“ میں ہر بات برحق ہے، جو صرف موجودہ زمانے میں ہی نہیں، بلکہ ہمارے اکابر و اسلاف کے مبارک زمانے سے چلی آرہی ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ اب بڑھتے ہوئے فتنوں کی وجہ سے ہمارے مطالعے میں کمی آگئی اور ہم نے حقائق کو بھی من گھڑت افسانہ کہنا شروع کر دیا۔ جبکہ بیسیوں کتابوں کے اوراق ایسے سچے واقعات سے بھرے پڑے ہیں کوئی انہیں پڑھے تو سہی ،،،!
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں جنات کا پیدائشی دوست“ کون تھا ؟

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوہ تبوک کیلئے جارہے تھے۔ صحرا کے دو درختوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جابر ! ان درختوں سے کہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قضائے حاجت کیلئے پردہ درکار ہے، لہذا اے درختو ! تم آپس میں مل جاؤ تا کہ تمہارے پردے کی آڑ کو استعمال کیا جا سکے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے درختوں کو یہ حکم سنایا تو انہوں نے فورا تعمیل کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت سے فارغ ہوئے تو میں پانی کا برتن لے کر حاضر ہوا ۔ میں نے دیکھا کہ زمین بالکل خشک تھی اور قضائے حاجت کا نشان تک نہ تھا۔ میری حیرانی کو دیکھتے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جابر ! زمین کو حکم ہے کہ وہ میرے فضلات کو جذب کرلیا کرے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد ابھی ہم کچھ دور گئے ہوں گے تو اچانک ایک بہت بڑا اژدها نمودار ہوا۔ جو اونٹ کی گردن کے برابر موٹا تھا۔ اسے دیکھتے ہی ہماری سواریاں بدک گئیں۔ وہ اژ دھا سیدھا حضور سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کنڈلی مار کر اپنی دُم پر کھڑا ہو گیا۔ پھر اس نے اپنا منہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کان مبارک کے قریب کر دیا۔ یہ سب دیکھتے ہوئے صحابہ کرام سخت پریشان تھے۔ کچھ دیر بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اژدھے کے کان میں کچھ فرمایا تو اژ دھا نظروں سے یوں غائب ہو گیا، جیسے اسی جگہ زمین میں سما گیا ہو۔ ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کیا بلا تھی ؟ فرمایا : یہ سانپ نہیں، بلکہ جنات کا قاصد تھا۔ میں نے جنات کے ایک گروہ کو مسلمان کر کے انہیں قرآن کی ایک سورت یاد کروائی تھی۔ اب انہیں چند آیات میں مشابہ لگ گیا تھا تو اس کی اصلاح کیلئے انہوں نے اس قاصد کو بھیجا جسے میں نے دوبارہ یاد کروادیا ہے. (بحوالہ کتاب: جامع المعجزات فی سیر خیر البریات صفحہ101 مصنف: شیخ محمد الواعظ الرھاوی ناشر: فرید بک سٹال اردو بازار لاہور ) محترم قارئین ! اس سے ثابت ہوا کہ ہر دور میں ایسی بزرگ ہستی موجود رہی ہے، جس کی غلامی اختیار کرنا جنات اپنے لیے سعادت سمجھتے تھے۔ ہاں البتہ یہ نکتہ یاد رکھنا چاہئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تو اللہ کے رسول تھے جن کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہو چکا ہے لیکن ان کا عنایت کردہ دین سیکھنے سکھانے کی محنت تو قیامت تک جاری رہنی ہے اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صحابہ کرام سے جنات نے دین سیکھا ان کے بعد تابعین سے پھر تبع تابعین سے پھر فقہاء ومحدثین سے اور پھر اولیاء وصالحین سے ۔۔۔ یہی سلسلہ چلتے چلتے دور حاضر میں حضرت علامہ لاہوتی پراسراری صاحب دامت برکاتہم العالیہ تک پہنچا جو عبقری میگزین میں ہر ماہ سلسلہ وار کالم کے ذریعے جنات کے ساتھ بیتے سیچی زندگی کے سچے واقعات بیان کرتے ہیں
مردہ خاتون کی قبر سے زندہ بچے کی پیدائش

محترم قارئین! ماہنامہ عبقری میں بیان کردہ جنات کے ماوراء العقل یا روحوں کے حیرت انگیز واقعات کے متعلق کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ سب جھوٹی کہانیاں ہیں ۔ دین تو قرآن وحدیث کا نام ہے قصے کہانیوں میں کیا رکھا ہوا ہے؟ حالانکہ جب ہم قرآنی اسلوب پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اللہ پاک جل شانہ نے بھی جہاں ضروری سمجھا وہاں پہلی امتوں کے قصے بیان فرما کر امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت و رہنمائی فرمائی۔ کیونکہ انسان ہمیشہ اپنے سے پہلے لوگوں کے واقعات سن کر عبرت حاصل کرتا اور اپنی دنیا آخرت کو بہتر بنانے کا سبق سیکھتا ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ امیر المومنین حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کی محفل میں کس طرح کے حیرت انگیز واقعات بیان کیے جاتے تھے۔ مولانا محمد ہارون معاویہ صاحب لکھتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ایک شخص اپنے بیٹے کو لے کر حاضر ہوا۔ دونوں میں اس قدر مشابہت تھی کہ امیر المومنین رضی اللہ عنہ حیران ہو گئے ۔ اس شخص نے کہا: اے امیر المومنین ! میرے اس بیٹے کی پیدائش کا قصہ بہت عجیب ہے۔ جب میری بیوی حاملہ ہوئی تو مجھے ایک جہادی معرکہ میں جانا پڑ گیا۔ بیوی کہنے لگی : آپ مجھے اس حالت میں چھوڑ کر جارہے ہیں؟ میں نے کہا: استودع الله ما في بطنك (تیرے پیٹ میں جو کچھ ہے میں اسے اللہ تعالیٰ کی سپر د کرتا ہوں ) یہ کہہ کر میں جہادی مہم پر چلا گیا۔ کافی عرصے بعد جب واپس آیا تو یہ درد ناک خبر ملی کہ میری بیوی کا انتقال ہوگیا ہے اور وہ جنت البقیع میں دفن ہے لیکن ساتھ ہی ایک حیرت انگیز بات بھی معلوم ہوئی کہ روزانہ رات کو اس کی قبر سے آگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں۔ میری بیوی پاک باز اور نیک عورت تھی۔ چنانچہ میں اس کی قبر پر گیا اور آنسو بہاتے ہوئے دعا کی۔۔۔ دیکھا تو وہاں قبر کھلی ہوئی تھی اور یہ بچہ بھی موجود تھا جو اس وقت بھوک کی وجہ سے بلبلا رہا تھا۔ میں اسے لینے کیلئے آگے بڑھا تو یہ آواز سنائی دی : اے اپنی امانت کو اللہ تعالیٰ کی سپرد کرنے والے ! اپنی امانت لے جاؤ۔ اگر تم اس کی ماں کو بھی اللہ کی سپر د کر جاتے تو آج وہ بھی تمہیں زندہ سلامت ملتی۔ لہذا میں نے اس بچے کو قبر سے اٹھایا تو قبر اپنی اصلی حالت میں واپس آگئی۔ اے امیر المومنین ! یہ وہی بچہ ہے. (کتاب الدعاء للطبرانی جلد 2 صفحہ 1183 بحوالہ کتاب : کتابوں کی لائبریری میں، صفحہ 130 ناشر : مکتبہ بیت السلام انار کلی بازارلاہور )