اُڑن کھٹولے کے شہسوار

ماہنامہ عبقری میں سلسلہ وار کالم ”جنات کا پیدائشی دوست“ کے متعلق کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ مضمون صرف جھوٹ اور فریب ہے؛ بھلا ایک آدمی کسی کو نظر آئے بغیر پل بھر میں میلوں لمبا سفر کیسے کر سکتا ہے؟ آئیں دیکھتے ہیں کہ ہمارے اکابر و اسلاف رحمہم اللہ کی اس موضوع پر کیا تحقیق ہے؟

علامہ یوسف بن اسماعیل نبہانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ایک دن شیخ کمال الدین بن یونس کے مدرسے میں کچھ لوگ شیخ حسن قضیب رحمۃ اللہ علیہ کی غیبت کرنے لگے اور شیخ کمال الدین بھی اس میں شامل ہو گئے۔ اچانک شیخ حسن قضیب رحمۃ اللہ علیہ ان کے سامنے نمودار ہوئے اور شیخ کمال الدین کو اپنے ساتھ شہر کے دروازے سے پر لے آئے۔ پھر ان کے سامنے ایک باغ آیا، شیخ حسن قضیب رحمۃ اللہ علیہ نے وہاں کپڑے تبدیل کیے اور نماز میں مصروف ہو گئے۔ اتنے میں شیخ کمال الدین کی آنکھ لگ گئی اور جب صبح اٹھ کر دیکھا تو اپنے آپ کو ایک بے آب و گیاہ صحرا میں پایا۔ قریب سے قافلہ گزرا تو پوچھنے لگے: بھائی میں اپنے شہر موصل میں جانا چاہتا ہوں۔ ان میں سے ایک شخص کہنے لگا: اے مسافر! کیا بات کرتے ہو؟ تم موصل سے 6 ماہ کی مسافت پر مغرب (افریقہ) میں موجود ہو۔ یہ کہہ کر قافلہ رواں ہو گیا۔ جب رات ہوئی تو شیخ حسن قضیب رحمۃ اللہ علیہ اسی طرح نمودار ہوئے اور نماز پڑھنے کے بعد شیخ کمال الدین کا کان مروڑ کر کہنے لگے: آئندہ میری غیبت نہ کرنا۔ مجھے اللہ کی طرف سے وہ علم دیا گیا ہے، جس کو تم نہیں جانتے۔ اور اس راز کو افشاء کرنے سے بھی بچنا۔ پھر اسی لمحے انہیں واپس موصل میں پہنچا دیا۔

شیخ احمد بن محمد رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک دفعہ حج کے دوران شیخ ارسلان دمشقی رحمۃ اللہ علیہ سے عرفات میں ملا اور میں نے انہیں مشعرالحرام میں بھی دیکھا، پھر وہ کہیں روپوش ہو گئے۔ جب میں حج سے فارغ ہو کر واپس دمشق پہنچا تو دیکھا کہ شیخ ارسلان رحمۃ اللہ علیہ پر سفرِ حج کے کوئی آثار نہیں تھے۔ میں نے ان کے متعلق اہل دمشق سے پوچھا تو وہ کہنے لگے کہ خدا کی قسم: شیخ ارسلان رحمۃ اللہ علیہ تو کسی دن بھی یہاں سے غائب نہیں ہوئے۔ صرف 9 ذی الحجہ کو کچھ وقت کیلئے اور قربانی کے دن تھوڑی دیر نظر نہیں آئے، باقی تو ہر وقت وہیں پر تھے

محترم قارئین! اس موضوع کے متعلق اگر آپ کے پاس مزید حوالہ جات ہوں تو ہمیں ضرور بھیجیں تاکہ ایسے لوگوں کی اصلاح اور ہدایت کیلئے محنت اور دعا کی جا سکے، جو لوگ عبقری میں بیان کیے گئے حقائق کو ٹوپی ڈرامہ اور من گھڑت کہہ کر مخلوقِ خدا کے دل میں شک و شبہ پیدا کرتے ہیں۔

پوسٹ کو شیئر کریں

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026