ضعیف احادیث کی اہمیت

(تحریر مولانا محمد اجمل قادری دامت برکاتہم، فاضل جامعہ امدادیہ، فیصل آباد)

مولانا صاحب! میں آپ کا پیج "اکابر پر اعتماد” کو مسلسل دیکھ رہا ہوں اور دل سے دعائیں دیتا ہوں کہ آج کے اس گئے گزرے دور میں بھی آپ مخلوقِ خدا کو اکابر کے دامن سے وابستہ کرنے کی بھرپور محنت کر رہے ہیں۔ اللہ آپ کو ثابت قدم رکھے آمین۔ آج سوشل میڈیا کے دور میں بہت سے لوگ مسائل اور فضائل میں احادیثِ مبارکہ کو ایک ہی پیمانے سے پرکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک عام سا شخص بھی محدثین کبار کی طرح احادیث پر جرح کرتا نظر آتا ہے۔ حالانکہ اس سلسلے میں بہت زیادہ احتیاط کرنے کی ضرورت ہے۔ لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ائمہ محدثین کے ہاں کسی نیک کام کی ترغیب دینے، گناہ کے کام سے روکنے اور وعظ و نصیحت کے واقعات بیان کرنے کیلئے ضعیف روایات میں اس درجہ کی احتیاط نہیں کی جاتی جس درجے کی حلال و حرام کے معاملے میں کی جاتی ہے۔

(1) شیخ صالح بن عبدالعزیز آلِ شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: فضائل اعمال میں ضعیف حدیث سے دلیل پکڑنا جائز ہے

(2) شیخ محمود طحان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ضعیف احادیث کو بیان کرنا ان کی اسناد میں نرمی والا پہلو اختیار کرنا اور انکے ضعف کو بیان نہ کرنا محدثین کرام کے ہاں جائز ہے

(3) مولانا عبدالحی لکھنویؒ فرماتے ہیں: کہ تمام محدثین فضائل اعمال میں ضعیف حدیث کو معتبر جانتے ہیں

(4) ملا علی قاریؒ فرماتے ہیں کہ محدثین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ فضائل اعمال میں ضعیف حدیث پر عمل کرنا جائز ہے۔ دوسری جگہ آپؒ فرماتے ہیں کہ پکی بات ہے، فضائل اعمال میں ضعیف حدیث پر بھی عمل کیا جائے گا

(5) علامہ ابن حجر ہیتمیؒ فرماتے ہیں کہ محدثین کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ فضائل اعمال میں ضعیف حدیث پر عمل کرنا جائز ہے

(6) مشہور محقق علامہ جلال الدینؒ فرماتے ہیں: محدثین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ فضائل میں احادیثِ ضعیفہ پر عمل کرنا جائز بلکہ مستحب ہے.

پوسٹ کو شیئر کریں

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026