آپ کے کھانے میں شریک جنات

آج کی دکھیاری اور پریشان امت کو جنات کس کس طرح ستا رہے ہیں ایسے لوگوں کی بپتا کو جب ماہنامہ عبقری نے شائع کیا تو بہت سے لوگوں نے اسے نفسیاتی الجھنیں کہہ کر پسِ پشت ڈالنے کی کوشش کی۔۔ آئیے اپنی بنیادوں میں اس کا حل تلاش کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تمہارے ہر کام کے وقت یہاں تک کہ کھانے کے وقت بھی شیطان تم میں سے ہر ایک کے ساتھ رہتا ہے، لہٰذا جب کھانا کھاتے وقت کسی کے ہاتھ سے لقمہ گر جائے تو اسے چاہیے کہ اس کو صاف کر کے کھا لے اور شیطان کے لیے نہ چھوڑے۔ (صحیح مسلم)

شیاطین اور فرشتے اللہ کی وہ مخلوق ہیں جو یقیناً اکثر اوقات میں ہمارے ساتھ رہتے ہیں لیکن ہم انکو نہیں دیکھ سکتے، آپ ﷺ نے اس بارے میں جو کچھ بتایا ہے اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ علم سے بتایا ہے اور وہ بالکل حق ہے اور آپ ﷺ کو کبھی کبھی ان کا اسطرح مشاہدہ بھی ہوتا تھا جس طرح ہم اس دنیا کی مادی چیزوں کو دیکھتے ہیں جیسا کہ بہت سی احادیث سے معلوم ہوتا ہے۔ اس لیے ایسی حدیثوں کو جن میں مثلاً کھانے کی وقت شیاطین کے ساتھ ہونے اور کھانے پر اللہ کا نام نہ لیا جائے تو اس میں جنات کے شریک ہو جانے، یا گرے ہوئے لقمے کا شیطان کا حصہ ہو جانے کا ذکر ہے، تو ان حدیثوں کو مجاز پر محمول کرنے کی بالکل ضرورت نہیں۔ (بلکہ یہ ایک سچی حقیقت ہے)

پیٹ سے جن کا نکلنا: ایک عورت آپ ﷺ کے پاس اپنے بیٹے کو لے کر آئی اور عرض کرنے لگی یا رسول اللہ ﷺ میرے بیٹے کو جنوں عارض ہو جاتا ہے اور یہ ہم کو بہت تنگ کرتا ہے، آپ ﷺ نے اس کے سینہ پر ہاتھ پھیرا اور دعا کی۔۔ اس لڑکے نے قے کی اور اس کے پیٹ سے سیاہ کتے کے پلے کی طرح کوئی چیز نکلی۔

پوسٹ کو شیئر کریں

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026