بعض اوقات عبقری میں کچھ انگوٹھی اور چھلے وغیرہ پر کچھ عبارت لکھنے کے عمل کا ذکر ہوتا ہے بہت سے دوست اکابر و اسلاف کی زندگی سے نا آشنائی کے سبب سے کہتے ہیں کہ یہ سب بیکار کی باتیں ہیں ایسے حضرات کیلئے بجائے اپنی طرف ف سے کچھ کہنے کے اکابر کا ایک فتویٰ لکھا جاتا ہے جس سے آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ عبقری میں ایک بھی چیز اپنی طرف سے نہیں بلکہ اکابر کی زندگی کا سو فیصد عکس پیش کیا جاتا ہے۔
(1) آپ ﷺ نے ایک انگوٹھی چاندی کی بنوائی اور اس پر محمد رسول اللہ نقش کروایا۔ (بحوالہ صحیح بخاری ص 873)۔ (2) حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی انگوٹھی پر الحمد للہ لکھا تھا۔ (3) حضرت مسروقؒ کی انگوٹھی پر بسم اللہ لکھی تھی۔ (4) حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کی انگوٹھی پر العزۃ للہ لکھا تھا۔ (5) ابراہیم نخعیؒ کی انگوٹھی پر باللہ لکھا ہوا تھا (فتح الباری ج 10 ص 328) (6) حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کی انگوٹھی پر نعم القادر اللہ لکھا تھا (شرح طحاوی ص 354) (7) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور قاسم بن محمدؒ کی انگوٹھی پر نعم القادر اللہ لکھا تھا۔ (8) امام ابن سیرینؒ فرماتے ہیں انگوٹھیوں پر حسبی اللہ لکھا ہونے میں کوئی حرج نہیں۔ (جمع الوسائل ص 184) (9) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی انگوٹھی پر کفی بالموت واعظاً لکھا تھا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی انگوٹھی پر لتصبرن او لتندمن لکھا تھا۔ (10) حضرت علی رضی اللہ عنہ کی انگوٹھی پر الملک للہ لکھا تھا۔ (11) حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی انگوٹھی پر قل الخیر و الا فاسکت لکھا تھا۔ (12) امام ابو یوسفؒ کی انگوٹھی پر من عمل برا بہ فقد ندم لکھا تھا۔ (13) امام محمدؒ کی انگوٹھی پر من صبر ظفر لکھا تھا۔ (14) حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی انگوٹھی پر من صبر ظفر لکھا تھا اور دوسری پر ازگروہِ اولیاء اشرف علی لکھا تھا۔
ملا علی قاریؒ نے لکھا ہے کہ انگوٹھی پر اللہ کے ناموں میں سے کوئی نام کندہ کرانا اور پہننا جائز ہے اس سے معلوم ہوا کہ انگوٹھیوں پر جو تعویذات لکھے ہوتے ہیں (مقطعاتِ قرآنیہ یا دیگر کلمات و دعائیں) ان کا پہننا درست ہے اور ان کو ممنوع قرار دینا مطلقاً درست نہیں نہ اس میں کوئی قباحت ہے البتہ بے ادبی سے بچانا لازم ہے۔
(شمائل کبریٰ ج 2 ص 152 بحوالہ کتاب بکھرے موتی حصہ 5 ص 479، مصنف: حضرت مولانا محمد یونس پالنپوری حفظہ اللہ، ناشر: بلسم پبلی کیشنز، لاہور)
