وہ صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جن کے پیٹ میں جن داخل ہو گیا

کچھ لوگ ایک بے بنیاد اعتراض کرتے ہیں کہ "ماہنامہ عبقری” میں جتنی بھی جنات کی باتیں، یا ان سے ملاقاتیں بیان کی جاتی ہیں، یہ سب خود ساختہ کہانیاں ہیں۔ بھلا جنات ہمیں کیسے چمٹ سکتے ہیں؟ حالانکہ ایسے لوگوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ جنات تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جیسی عظیم ہستیوں پر بھی حملہ آور ہو جاتے تھے، تو ہم کس کھیت کی مولی ہیں؟ آئیے احادیث میں اس بات کا ثبوت ملاحظہ کرتے ہیں۔

حضور سرورِ کونین ﷺ نے فرمایا: تمہارے ہر کام کے وقت، حتیٰ کہ کھانے کے وقت بھی شیطان تم میں سے ہر ایک کے ساتھ رہتا ہے۔ لہٰذا کھانا کھاتے وقت جب کسی کے ہاتھ سے لقمہ گر جائے تو اسے چاہئے کہ اس کو صاف کر کے کھا لے اور اسے شیطان کے لیے مت چھوڑے (صحیح مسلم)

حضرت مولانا محمد یونس پالنپوری دامت برکاتہم اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: شیاطین اور فرشتے اللہ کی وہ مخلوق ہیں جو یقیناً ہر وقت ہمارے ساتھ رہتے ہیں لیکن ہم ان کو نہیں دیکھ سکتے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس بارے میں جو کچھ بتایا ہے، اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ علم سے بتایا ہے اور بالکل حق بتایا ہے۔ آپ ﷺ کو بھی کبھار ان کا اس طرح مشاہدہ بھی ہوتا تھا جس طرح ہم مادی چیزوں کو دیکھتے ہیں۔ اس لیے ایسی حدیثوں کو جن میں شیطانوں (یعنی جنات) کا ذکر ہے، تو ان حدیثوں کو مجاز پر محمول کرنے کی بالکل ضرورت نہیں (بلکہ یہ ایک سچی حقیقت ہے)

مولانا محمد الیاس قادری مدظلہٗ المعروف "باپا جی” دامت برکاتہم لکھتے ہیں کہ: ایک عورت حضور ﷺ کے پاس اپنے بیٹے کو لے کر آئی اور عرض کرنے لگی: یا رسول اللہ ﷺ میرے بیٹے کو جنون عارض ہو جاتا ہے اور یہ ہم کو بہت تنگ کرتا ہے۔ آپ ﷺ نے اس کے سینہ پر ہاتھ پھیرا اور دعا فرمائی۔ اسی وقت اس لڑکے نے قے کی تو اس کے پیٹ سے سیاہ کتے کے پلے کی طرح کوئی چیز نکلی۔

محترم قارئین! بھلا ایسی بدقسمتی کس پر غالب ہو گی جو حضور سرورِ کونین ﷺ کی احادیث میں بیان کردہ ان حقائق کو خود ساختہ کہانیاں کہہ کر رَد کرتا پھرے۔

پوسٹ کو شیئر کریں

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026