جنات چمٹ جانے کا احادیث میں ثبوت

موجودہ دور میں اتنی سائنسی ترقی ہونے کے باوجود بھی انسانوں کو مختلف بیماریوں کے نام پر جنات کس طرح پریشان کر رہے ہیں؟ یہ واقعات جب عبقری میگزین میں شائع کیے گئے تو کچھ لوگوں نے انہیں نفسیاتی الجھن یا وہم کا نام دے کر پس پشت ڈال دیا اور اُلٹا عبقری کے متعلق کہا کہ یہ میگزین دیو مالائی قصے کہانیوں سے بھرا ہوتا ہے۔ قارئین ! آئیں دیکھتےہیں کہ ان حیرت انگیز واقعات کا احادیث مبارکہ میں کیا ثبوت ہے؟ حضور سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے ہر کام کے وقت حتی کہ کھانے کے وقت بھی شیطان تم میں سے ہر ایک کے ساتھ رہتا ہے۔ لہذا کھانا کھاتے وقت جب کسی کے ہاتھ سے لقمہ گر جائے تو اسے چاہیے کہ اس کو صاف کر کے کھالے اور اسے شیطان کے لیے مت چھوڑے (صحیح مسلم ) بقیۃ السلف حضرت مولانا محمد یونس پالنپوری مدظلہ اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں : شیاطین اور فرشتے اللہ کی وہ مخلوق ہیں جو یقیناً ہر وقت ہمارے ساتھ رہتے ہیں لیکن ہم ان کو نہیں دیکھ سکتے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں جو کچھ بتایا ہے، اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ علم سے بتایا ہے اور بالکل حق بتایا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی کبھار ان کا اس طرح مشاہدہ بھی ہوتا تھا جس طرح ہم مادی چیزوں کو دیکھتے ہیں۔ اس لیے ایسی حدیثوں کو جن میں شیطانوں ( یعنی جنات ) کا ذکر ہے ، تو ان حدیثوں کو مجاز پر محمول کرنے کی بالکل ضرورت نہیں بلکہ یہ ایک سچی حقیقت ہے. (بحوالہ کتاب: بکھرے موتی ص479، ناشر بلسم پبلی کیشنز، اردو بازارلا ہور ) پیٹ سے جن کا نکلنا: مسند دارمی کی حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ ایک عورت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے بیٹے کو لے کر آئی اور عرض کرنے لگی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے بیٹے کو جنون عارض ہوجاتا ہے اور یہ ہم کو بہت تنگ کرتا ہے ۔ آپ صلی یا کہ تم نے اس کے سینہ پر ہاتھ پھیرا اور دعا فرمائی۔ اسی وقت اس لڑکے نے قے کی تو اس کے پیٹ سے سیاہ کتے کے پلے کی طرح کوئی چیز نکلی. (مسند دارمی ، ج 1 ص 24 بحوالہ کتاب: قوم جنات اور امیراہلسنت، ناشر: مکتبہ المدینہ کراچی)

خواتین کے مخصوص امراض کی اصل وجہ

علامہ شیخ ابو المنذر خلیل بن ابراہیم مدظلہ لکھتے ہیں کہ : پاگل پن ، ڈپریشن، اینگزائٹی ، ٹینشن اور مرگی جیسے تمام امراض کو قرآن پاک نے ” وسواس الخناس” کا نام دیا ہے۔ جب ہم ” وسواس الخناس ” کا میڈیکل سائنس میں ترجمہ کریں تو اسے (whispers of shaytan) یعنی شیطان کی طرف سے کی جانے والی ذہن سازی کہا جائے گا۔ خواتین میں جنات کی وجہ سے بانجھ پن، ماہانہ بے قاعدگی اور انفیکشن جیسے امراض سامنے آتے ہیں۔ خاص طور پہ بانجھ پن ایک ایسا مسئلہ ہے، جس کی بظاہر کوئی طبی وجہ سامنے نہیں آتی۔ اکثر اوقات میاں بیوی دونوں بالکل تندرست ہوتے ہیں، اس کے باوجود اولاد سے محروم رہتے ہیں۔ میرا ایک دوست جو مسلسل 4 سال تک ماہر ڈاکٹر کے زیر علاج رہا، اس کو ڈاکٹر نے کہا: میں آپ کے کیس میں حیران ہوں کہ آپ دونوں میاں بیوی 100 فیصد تندرست ہیں، اس کے باوجود آپ کے ہاں اولاد نہیں ہو رہی۔ دراصل اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ عورت کے رحم میں شریر جنات قیام کر لیتے ہیں اور مردانہ سپرم کو یا عورت کے EGGS کو ضائع کر دیتے ہیں (بحوالہ کتاب:The Jinn and Human Sickness صفحه 53 ناشر: مکتبہ دارالسلام، نیو یارک) محترم قارئین ! اب معلوم ہوا کہ ماہنامہ عبقری میں جنات کے پیدائشی دوست کا سلسلہ وار کالم ایسے ہی بلاوجہ نہیں دیا گیا بلکہ ان مختصر سے دو صفحات کو پڑھنے کی بدولت بے شمار حضرات سمجھ میں نہ آنے والی بیماریوں سے شفاء پاچکے ہیں اولاد کی خوشیاں حاصل کر چکے ہیں اور غیر محسوس طریقے سے تسبیح اور مصلے کے ساتھ رشتہ جوڑ چکے ہیں۔ یعنی کچھ کم علم لوگ جس بات کو قصے کہانیاں“ کہہ کر کے رد کر دیتے ہیں وہی چیز مخلوق خدا کے مسائل کو حل کرنے میں ایسا لاثانی کردار ادا کر رہی ہے جس کی مثال صدیوں میں بھی نہیں ملتی۔

ایک غیبی آواز نے گھر چھوڑنے پر مجبور کر دیا

امام ابن قیم علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: شیخ ہاشم بن قاسم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میرے گھر میں ایک پتھر پھینکا گیا اور آواز آئی: اے ابونضر ! ہماری جگہ سے دور چلے جاؤ ۔ یہ سن کر میں بہت پریشان ہوا کہ یہ گھر چھوڑ کر میں کہاں جاؤں گا؟ چنانچہ میں نے کوفہ میں شیخ ابو ادریس المحار بی رحمۃ اللہ علیہ کو خط لکھ کر اپنے مسئلے سے آگاہ کیا۔ انہوں نے جواب میں فرمایا: مدینہ منورہ کے قریب ایک ایسا کنواں تھا جو خشک ہو جایا کرتا تھا، کچھ مسافروں نے اس کے قریب خیمے لگائے تو وہاں کے رہائشیوں نے اس کنویں کی شکایت کی تو مسافروں نے کہا: ہمیں ایک بالٹی پانی لادو۔ پھر اس پانی پر انہوں نے چند کلمات پڑھ کر دم کیا اور اس کنویں میں پانی ڈال دیا۔ یکدم کنویں سے آگ نکلی ، جو کنارے پر پہنچ کر بجھ گئی۔ اس کے بعد سے کنواں ٹھیک ہو گیا۔ پس تم بھی انہی کلمات کا دم کر کے گھر میں پانی چھڑ کو ۔ چنانچہ جب میں نے ایسا کیا تو مجھے آواز آئی: اے ابو نضر ! تم نے تو ہمیں جلا دیا، لو ہم ابھی جاتے ہیں. ( بحوالہ کتاب: الوابل الصيب، صفحہ 223 ناشر: مکتبہ سلفیہ، شیش محل روڈ لاہور ) محترم قارئین! یہ کتاب آج سے کم و بیش چار صدیاں پہلے لکھی گئی تھی۔ اس وقت عبقری میگزین کا وجود نہیں تھا، لیکن امام ابن قیم علیہ الرحمہ جیسے محدث، مفسر اور علامہ بھی اس بات کا یقین رکھتے تھے کہ گھر یلو الجھنوں اور کاروباری پریشانیوں میں جنات بہت بڑا کردار ادا کرتے ہیں، اسی لیے انہوں نے ایسے ماوراء العقل واقعات تحریر فرما کر اپنے معاشرے کو جناتی حملوں سے آگاہ کیا۔ آج کے دور میں ماہنامہ عبقری بھی اکابرین امت کی طرح یہی خدمت سر انجام دے رہا ہے تا کہ چودہ صدیاں پرانا دین ہر دور میں اپنی اصلی حالت میں قائم رہتے ہوئے مخلوق خدا کی ہر موڑ پر رہنمائی کا سامان فراہم کرتا رہے۔

جادوئی پتلے نے بول کر سب راز اُگل دیے

محترم قارئین! روحانی عملیات میں دسترس حاصل کرنا، لوگوں کو وظائف اور تعویذات کے ذریعے مسائل مشکلات سے نکلنے کی ترغیب دینا اور اعمال سے پلنے ، اعمال سے بننے اور اعمال سے بچنے کے پیغام کو عام کرنا ہر دور کے اکابرین امت کے ہاں رواج پذیر تھا۔ اہل علم حضرات اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ بر صغیر کی عظیم درسگاہ دارالعلوم میں جہاں قرآن و حدیث، فقہ و تفسیر ، صرف ونحو علم کلام، علم منطق وغیرہ کی تعلیم دی جاتی تھی، و ہیں با قاعدہ طور پر علم طب اور علم روحانیت کا بھی مکمل انتظام تھا، تا کہ وہاں سے فراغت پانے والا ہر عالم دین معاشرے پر بوجھ بنے کی بجائے مخلوق خدا کیلئے خیر و برکت کا ذریعہ بن جائے ۔ آج مدارس میں تعلیم کتاب و سنت تو عام ہے، مناظرے کا فن بھی سکھایا جاتا ہے لیکن روحانیت اور طب و حکمت کا سبق نا پید ہو چکا ہے۔ اکابر و اسلاف کی اسی ترتیب کو باقی رکھنے کیلئے ماہنامہ عبقری اپنی بساط کے مطابق طب اور روحانیت کو پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ہمارے اکابر کو روحانی علوم میں کیسا کمال حاصل تھا؟ آئیے دیکھتے ہیں۔ مولانا محمد انوربن اختر مدظلہ لکھتے ہیں کہ: شاہ عبد القادر صاحب رائے پوری رحمتہ اللہ علیہ کے مرشد حضرت شاہ عبد الرحیم صاحب رائے پوری رحمتہ اللہ علیہ کو اپنے ایک شاگرد مولانا فراغت علی صاحب سے خاص تعلق تھا۔ وہ انہیں ” میرے چاند” کہہ کر پکارتے تھے۔ ایک رات فضا میں ایک روشن دان جار با تھا۔ حضرت نے فرمایا: میرے چاند ! اگر تم چاہو تو میں اس روشن دان کو نیچے اتار دوں ؟ مولانا فراغت علی صاحب نے دلچسپی ظاہر کی تو حضرت نے روشن دان کو حکم دیا ، وہ نیچے اتر آیا۔ اس میں ایک پتلا تھا ، جس میں سوئیاں چبھی ہوئی تھیں۔ حضرت رائے پوری رحمتہ اللہ علیہ نے پوچھا: تم کون؟ پہلے میں سے آواز آئی کہ میں جادو ہوں۔ حضرت نے فرمایا: میری بات مانو گے یا اپنے جادو گر کی؟ کہنے لگا: حضرت میں تو آپ کی بات مانوں گا۔ فرمایا: میرے رائے ہے کہ جہاں سے آئے ہو، وہیں واپس لوٹ جاؤ۔ چنانچہ وہ لوٹ گیا اور بعد میں سنا گیا کہ وہ جادو گر مر گیا ہے۔ حضرت شاہ عبد الرحیم صاحب رائے پوری رحمۃ اللہ علیہ فرمانے لگے : اس بد بخت نے اس طرح نہ جانے کتنے لوگوں کو ہلاک کیا ہو گا! (حوالہ کتاب: اکابر کے ایمان افروز واقعات صفحہ 138 ناشر: شعبه تحقیق و تصنیف، ادار و اشاعت اسلام، کراچی)

حضور سرور کونین صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے قاصد جنات

محترم قارئین ! جیسا کہ پہلے بھی ایسی کئی احادیث اور روایات پیش کی جاچکی ہیں، جن میں حضور سرور کونین صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نبوت کا اعلان انسانوں کے علاوہ جنات نے بھی کیا۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ جنات صرف کالے جادو گروں کے تابع نہیں ہوتے، بلکہ نیک جنات نیک بزرگوں کے غلام بن جاتے ہیں۔ انہیں نظر آتے ہیں اور ان سے ملاقات بھی کرتے ہیں۔ آج کے دور میں اس کی زندہ مثال حضرت علامہ لاہوتی پراسراری صاحب دامت برکاتہم العالیہ ہیں، مولانا محمد اویس بن سرور لکھتے ہیں : ایک دن حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ تشریف فرما تھے کہ ان کے سامنے سے ایک آدمی گزرا کسی نے پوچھا: امیر المومنین ! کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ شخص حضرت سواد بن قارب ہیں۔ جنہیں ان کے جن ” نے حضور کا ایم کی بعثت کی خبر دی تھی۔ چنانچہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنے پاس بلا کر پورا واقعہ سنانے کی فرمائش کی: حضرت سواد بن قارب نے فرمایا: ایک رات میں لیٹا ہوا تھا تو میرا جن میرے پاس آکر کہنے لگا : اگر تیر سے اندر عقل ہے تو غور سے سن لے کہ قریش میں اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے ہیں، جو صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتے ہیں۔ جنات حق کی تلاش میں سفید اونٹوں پر کجاوے باندھ کر مکہ کی طرف سفر کر رہے ہیں۔ لہذا تم بھی سفر کر کے اسی برگزیدہ ہستی کے پاس جاؤ ، کیونکہ ہدایت حاصل کرنے میں پہل کرنے والا بعد میں آنے والے سے افضل ہوگا۔ یہ باتیں سن کر میں نے اپنے جن سے کہا: مجھے بہت نیند آرہی ہے ، مجھے سونے دو لیکن وہ دوسری اور تیسری رات بھی ایسے ہی میرے پاس آیا اور انہی الفاظ میں مجھے دعوت دی۔ بالآخر میں نے سوچا کہ جن کی بات درست معلوم ہوتی ہے۔ چنانچہ میں اونٹنی پر سوار ہو کر چل پڑا۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا تو آقا سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ تشریف فرما تھے۔ میں نے عرض کی: اے روئے زمین پر چلنے والوں میں سب سے اچھے انسان ! میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور صلی اللہ علیہ وسلم غیب کی ہر بات کے متعلق قابل اعتماد ہستی ہیں۔ لہذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ان تمام اعمال کا حکم فرمائیں ، جو آپ کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے آرہے ہیں۔ ہم ان اعمال کی پابندی کریں گے، اگر چہ اس پر محنت کرتے ہوئے ہمارے بال سفید ہو جائیں۔ براہ کرم آپ اس دن کیلئے میرے سفارشی بن جائیں، جس دن کسی اور کی سفارش میرے کام نہیں آسکے گی۔ میری یہ باتیں سن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام صحابہ مسکرا دیے اور ان کے چہرے سے خوشی واضح ہونے لگی. ( بحوالہ کتاب: عشرہ مبشرہ کے دلچسپ واقعات صفحه 94 ناشر: مکتبہ بیت العلوم، انار کلی لاہور )

خاوند کی بجائے جن سے حاملہ ہونے والی خاتون کا سچا واقعہ

محترم قارئین ! جیسا کہ اکابر پر اعتماد کی قسط نمبر 279 میں شیخ الحدیث والتفسیر مولانا مفتی محمد زرولی خان صاحب کے ایک بیان سے حوالہ دیا گیا تھا کہ انسانوں اور جنات کا آپس میں نکاح کرنا بھی ممکن ہے اور بعض اوقات جنات نکاح کیے بغیر ز بر دستی انسانوں سے میاں بیوی والے تعلقات قائم کر لیتے ہیں، جوکہ ایک غیر شرعی فعل ہے۔ بہر حال انسانوں پر جنات کے اس طریقے سے اثر انداز ہونے پر ہمارے اکابر و اسلاف کی درج ذیل معتبر کتب میں مستند واقعات موجو دہیں: (۱) لقط المرجان فی احکام الجان ، از : امام جلال الدین سیوطی (۲) مجموعۃ الفتاویٰ ،از : امام ابن تیمیه (۳) نزهة المذاکره ، از : امام زہری (۴) نوادر الاصول، از : امام ترمذی (۵) کمالات شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی ، از : مولانا محمد یعقوب دہلوی ۔۔۔۔ ان مشہور کتب کے علاوہ بھی درجنوں کتابیں ایسے حیرت انگیز واقعات سے بھری ہوئی ہیں۔ آئیں آج موجودہ دور کے ایک چونکادینے والے سچے واقعے کی طرف بڑھتے ہیں اور اپنے اور اپنی نسلوں کیلئے ایسی آزمائش سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں۔ یہ کم و بیش 1990ء کی بات ہے کہ میرے ایک دوست جو ریٹائرڈ کرنل ہیں، ان کی والدہ نے میری اہلیہ کو اپنا ذاتی واقعہ سنایا کہ ایک رات میں اپنے کمرے (وہاڑی کے قریب گاؤں) میں لیٹی ہوئی تھی ، میرا خاوند باہر صحن میں تھا۔ اتنے میں کوئی شخص اندر آیا اور آکر لالٹین کی بتی دھیمی کر کے میرے ساتھ چار پائی پر لیٹ گیا۔ میں سمجھی کہ یہ میرا خاوند ہی ہے۔ پھر کچھ دیر بعد اس نے میرے ساتھ میاں بیوی والے تعلقات قائم کیے لیکن اس دوران مجھے محسوس ہوا کہ یہ میرا خاوند نہیں کوئی اور ہے۔ میں نے چیخنے چلانے کی بہت کوشش کی مگر میری آواز نہیں نکل رہی تھی۔ بعد میں جب وہ چلا گیا تو میں نے اپنے خاوند کو بتایا، مگر بدنامی سے بچنے کیلئے ہم نے یہ بات کسی اور کے سامنے نہ کھولی کیونکہ ہمیں پتہ ہی نہیں تھا کہ وہ شخص کہاں سے آیا اور کہاں غائب ہو گیا۔ کچھ ہی دنوں میں مجھے حمل ہو گیا۔ ابھی تین ماہ گزرے تھے کہ میرا پیٹ 9 ماہ والے حمل سے زیادہ باہر آچکا تھا۔ ہمارا تعلق چونکہ آرمی سے تھا، اس لیے سی ایم ایچ ہسپتال راولپنڈی میں جا کر چیک اپ کروایا تو وہاں کی ڈاکٹرز حیران رہ گئیں ۔ انہوں نے الٹرا ساؤنڈ کر کے بتایا کہ پیٹ میں کوئی غیر معمولی چیز ہے، جو دن بدن بڑی تیزی سے بڑھتی جارہی ہے۔ فی الحال یہ میڈیسن کھائیں اور تین دن بعد آکر آپریشن کروادیں ، ورنہ آپ کی جان خطرے میں ہے ۔ ہم واپس گھر آگئے تو ان تین دنوں میں میرا پیٹ پہلے سے دو گنا بڑھ گیا۔ بالآخر جب آپریشن کروایا تو اندر سے تقریباً45 کلو گرام کی ایسی مخلوق نکلی ، جس کا نہ سر تھا، نہ پاؤں ۔ ہم نے جان بچ جانے پر شکر ادا کیا، ورنہ پتہ نہیں کیا ہو جاتا۔ یاد رہے یہ اس وقت کا واقعہ ہے، جب میری عمر چالیس سال تھی اور میں چار بچوں کی ماں تھی. ( سیدط – ن – شاہ ملتان )

جنات کو ماننا، ایمان کی شرط ہے

محترم قارئین! کچھ لوگ اپنی کم علمی کی بناء پر کہتے ہیں کہ کیا جنات کو ماننا ایمان کی شرائط میں شامل ہے؟ عبقری میگزین بار بار جنات کے واقعات بیان کر کے چاہتا کیا ہے؟ قرآن اور حدیث میں تو جنات کو اتنا بیان نہیں کیا گیا، جتنا عبقری بیان کرتا ہے۔ حالانکہ عبقری میگزین کے ہر قاری کو یہ بات بخوبی معلوم ہے کہ جنات سے وابستہ مستند واقعات بیان کرنے کا مقصد لوگوں میں احساس اور روحانی شعور کو بیدار کرنا ہے،کہ ہم اپنی اور اپنی نسلوں کی حفاظت کےلئے مسنون اعمال کرنے لگ جائیں۔ ورنہ یہ نہ ہو کہ بے خبری میں ہم کسی انہونی آزمائش اور مصیبت میں مبتلا ہو جائیں ۔ کیونکہ جنات ایسی ان دیکھی مخلوق ہے ، جس کی ایذاء رسانی کے متعلق اکابر پر اعتماد کی گزشتہ قسطوں میں صحیح احادیث میں حضور خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں کے درجنوں سچے واقعات گزر چکے ہیں : مثلاً حضرت ام ابان کے دادا کے پیٹ میں ہر وقت تکلیف رہنا، پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دم کی برکت سے پیٹ میں سے کتے کا پلہ نما چیز نکلنا، حضرت عمار بن یاسر کو کنویں سے پانی لینے پر جنات کا روکنا اور کشتی لڑنا، حضرت زید بن ثابت کے باغ سے روزانہ کھجوروں کا چوری ہونا حضرت ابو ہریرہ کے غلے سے رات کے وقت جنات کی چوری وغیرہ وغیرہجب ہم کائنات کی سب سے سچی ترین کتاب ”قرآن مجید میں غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مختلف 44 آیات میں جنات کا تذکرہ فرمایا ہے ۔ جس کی تفصیل یہ ہے۔ سورة نجم 2 آیاتسورۃ الانعام 4 آیاتسورة صافات 1 آیتسورۃ الاعراف 2 آیاتسورة فصلت 2 آیاتسورة تحريم 1 آیتسورة هود 1 آیتسورة حجر 1 آیتسورة اسراء 1آیتسورۃ احقاف 2 آیاتسورة الحاقه1 آیتسورة ذاریات 1 آیتسورة المعارج 1 آیتسورة رحمن 5 آیاتسورة الفجر 1 آیتسورۃ کہف 1 آیتسورة جن 6 آیاتسورۃ الناس1 آیتسورۃ زخرف 3 آیاتسورة نمل 1 آیتسورۃ شوری 1 آیتسورة سجده 1 آیتسورة سبا 3 آیاتسورة محمد صلى اللہ علیہ وسلم 1 آیت ٹوٹل آیات 44

جنات کبھی بھی آپ پر حملہ کر سکتے ہیں ! تیار رہیں!

عبقری میں ذکر کردہ جناتی حملوں کی ساتویں دلیل جنات کی کارستانیوں کے مستند واقعات کے سلسلہ کی چھٹی دلیل میں آپ نے پڑھا کہ جب بھی آپ گھر جاتے اور کھانا کھاتے ہیں اس وقت بھی جنات آپ پر حملہ آور ہوتے ہیں آج ساتویں قسط میں آپ پڑھیں گے کہ جنات کس طرح ہر وقت ہماری طاق میں رہتے ہیں ۔ ماہنامہ عبقری میں علامہ لا ہوتی صاحب کے ذکر کردہ اس دعوی کی دلیل صحیح مسلم کی وہ روایت ہے جو کہ سہل بن ابو صالح” سے مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے بنو حارثہ کی طرف بھیجا اور میرے ساتھ ہمارا غلام یا دوست تھا تو باغ سے اسے اس کے نام سے آواز دی گئی تو جو میرے ساتھ تھا اس نے دیوار کے اوپر سے جھانکا تو کچھ بھی نظر نہ آیا۔ تو میں نے اس کا اپنے والد سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ اگر مجھے اس کا پتہ ہوتا کہ تیرے ساتھ یہ معاملہ پیش آئے گا تو میں تجھے نہ بھیجتا لیکن جب آواز سنو تو نماز کی اذان دو کیونکہ میں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ (جب نماز کے لئے آذان دی جائے تو شیطان منہ پھیر کر بھاگتا ہے اور اسکی ہوا خارج ہو رہی ہوتی ہے) عبقری میں ذکر کردہ جناتوں کے انسانوں پر حملوں کے مستند حوالہ جات اکابر پر اعتماد کے دوست انگلی قسط میں ملاحظہ فرمائیں۔ AkabirParAitmad

پچیس سال پرانا خوفناک جن مفتی اعظم ہند کی عدالت میں

اس دور میں علامہ لاہوتی صاحب جنات کے حوالے سے بہت مشہور ہو گئے ہیں ۔۔۔! ہمارے اکابر میں سے بھی بہت سے بزرگ جنات کے ساتھ ملاقاتیں کیا کرتے رہے ذیل میں مفتی اعظم ہند کا جنات کی دنیا میں رعب اور دبدبہ کا ایک واقعہ پیش خدمت ہے جو علامہ صاحب کی جنات سے ملاقاتوں کی تصدیق کرتا ہے۔۔۔! مفتی اعظم ہند مفتی محمود حسن گنگوہی صاحب فرماتے ہیں کہ ایک صاحب کی اہلیہ پر 25 سال سے جن کا اثر تھا میں نے ایک تعویذ بھیجا اور کہا کہ مریضہ کو وضو کرا کر یہ تعویذ اس کے ہاتھ میں رکھ کر مٹھی بند کر دو اس پر وہ جن بولا کہ میں 25 سال سے یہاں پر ہوں میرا نام ختم المرسلین ہے مجھے کچھ نہ کہنا ۔۔! میں نے تین تعویذ اور بھجوا دیئے کہ ایک سر میں ، ایک بازو پر اور ایک گلے میں ڈال دو تو وہ جن کہنے لگا ہرگز ہر گز نہیں ۔۔۔! یہ تعویذ مت باندھنا، میں نہیں جاؤں گا۔ جب وہ تعویذ باندھ دیئے گئے تو وہ جن بہت چلایا اور مریضہ بالکل مردہ کی طرح ہوگئی، اس میں جان ہی نہیں رہی ، مجھ سے کہا یہ تو مرگئی ۔ میں نے کہا کہ ابھی زندہ ہو جائے گی ، پانی دم کر کے اس پر ڈالا تو بیٹھ گئی اور کہنے لگی کہ 25 سال سے میرے کندھے بھاری تھے آج ہلکے ہو گئے ہیں ایک سال تک اس جن کا کوئی اثر نہیں ہوا ایک سال بعد وہ جن دوبارہ حاضر ہوا اور اپنا تعارف کرایا تو ان میں سے ایک صاحب نے کہا کہ ابھی حضرت مفتی صاحب کو خط کے ذریعے اطلاع دیتا ہوں تو اتنا سنتے ہی وہ جن وہاں سے چلا گیا اور پھر کبھی نہیں آیا ( ملفوظات فقیہہ الامت قسط 2 / 101 ، بحوالہ : اکابر کے واقعات و کرامات ، مصنف : حافظ مومن خان عثمانی ، ناشر : المیز ان لاہور ) محترم قارئین! اس واقعہ سے یہ بات پتہ چلتی ہے کہ جس طرح آج علامہ لا ہوتی صاحب دامت برکاتہم کا جنات کی دنیا میں احترام کیا جاتا ہے اس طرح ہمارے اکابر کا بھی جنات کی دنیا میں احترام کیا جاتا تھا۔

موتی مسجد میں برکات ۔۔۔ تعلیمات اکابر کی روشنی میں

( مولانا محمد عمر فاروق صاحب، فاضل : جامعہ مدرسہ احیاء العلوم بجکر )  تسبیح خانہ لاہور ، موتی مسجد ( شاہی قلعہ، لاہور ) ، روحانی منزل (مری) اور گوشہ درود وسلام ( کراچی ) میں برکات، انوارات اور قبولیت دعا واقعی ایک سچی حقیقت ہے اور کیوں نہ ہو۔۔۔؟ جس جگہ کروڑوں اربوں مرتبہ اللہ تبارک و تعالی کا ذکر اور درود پاک کی محافل ہوں اللہ والوں کی کی نشست و برخاست ہو تو  ایسی جگہ قبولیت نہیں ہوگی تو اور کہاں ہوگی۔۔۔ !ہمارے بڑوں کی زندگی میں ایسی بہت سی مثالیں ملتی ہیں جہاں وہ کسی خاص جگہ سے تبرک اور برکت حاصل کیا کرتے تھے ۔ (1) ۔ حضرت شاہ نفیس الحسینی شاہ صاحب نے فرمایا : حضرت مولانا عبد القادر رائے پوری کا انتقال شملہ پہاڑی کے قریب حاجی عبد المتین صاحب کی کوٹھی میں ہوا میں حضرت کے وصال کے بعد وہاں گیا تو وہی روحانیت محسوس ہوتی تھی اب بھی جی چاہتا ہے کہ وہ جگہ جا کر دیکھوں کچھ وقت وہاں گزاروں وہاں انوارات محسوس ہوتے ہیں۔ ایک اور موقع پر فرمایا کہ بزرگوں کے انوارات قائم رہتے ہیں ختم نہیں ہوتے، چنانچہ دہلی میں ایک جگہ گوالوں کا ڈیرہ ہے وہاں گوہ موت ( پاخانہ وغیرہ) سے جگہ بھری ہوئی ہے کچھ اللہ والے وہاں گئے تو انہیں وہاں انوارات محسوس ہوئے وہ حیران تھے کہ ایسی جگہ میں انوارات۔۔۔؟ تحقیق کی تو پتہ چلا کہ یہاں حضرت شاہ عبدالحق محدث دہلوی درس حدیث دیا کرتے تھے۔ (کتاب: بیا به مجلس نفیس ، صفحہ 170 ، حضرت مولانا نعیم الدین صاحب مدظلہم، ناشر : صفہ ٹرسٹ لاہور ) امام شافعی فرماتے ہیں حضرت امام موسی کاظم کی قبرتریاق مجرب ہے۔ ابن حجر کی کئی قلائد میں امام شافعی سے نقل کیا کہ میں امام ابوحنیفہ کی قبر سے برکت حاصل کرتا ہوں اور جب مجھے کوئی ضرورت پیش آتی ہے تو امام ابوحنیفہ کی قبر پر دو رکعت نماز ادا کر کے اللہ سے دعا کرتا ہوں تو میری حاجت پوری ہو جاتی ہے۔ واقدی نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہ صلى الله عليه وآله وسلم سے روایت کیا ہے کہ میں شہداء احد کی قبروں پر جا کر دعا کرتی ہوں۔ ( کتاب : المہند اور اعتراضات کا علمی جائزہ، صفحہ 66 تالیف : مولانا محمد الیاس گھمن ، ناشر : دارالایمان ) سید الطائفہ حاجی امداد اللہ مہاجر کی فرماتے ہیں کہ جس جگہ اولیائے کرام رہتے ہیں اس جگہ ایک خاص برکت ہوتی ہے۔ حضرت مولانا شیخ محمد تھانوی فرماتے ہیں کہ جب حضرت حاجی صاحب حج پر تشریف لے گئے تو میں ان کی جگہ بیٹھ کر ذکر کرتابہت انوارات محسوس ہوتے یہ بات دوسری جگہ نصیب نہ ہوتی یہ میرا مشاہدہ ہے۔ ( الا فازات الیومیہ، حصہ 1 ص 110 بحوالہ میر کارواں ص 184 ناشر : تالیفات اشرفیہ ) محترم قارئین ! ان چند مثالوں سے تسبیح خانہ اور اس کی شاخوں میں برکات کا فلسفہ آپ کو سمجھ میں آ گیا ہوگا۔ اللہ کریم اکابر کی برکات ہم سب کو ساری زندگی کیلئے عطا فرمائے۔ اور یہ اس وقت مل سکتی ہیں جب ہمیں اکابر پر اعتماد ہوگا۔۔۔!

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026