علامہ لاہوتی صاحب کے جنات کے خواہشمند حضرات ضرور پڑھیں

عبقری میں علامہ لاہوتی صاحب جنات اور انسانوں کی جس طرح خدمت کر رہے ہیں اللہ پاک ہی انھیں جزائے خیر عطا فرمائے تبلیغی جماعت میں جنات کی آمد و رفت بہت ہی زیادہ ہے اور وہاں کے بزرگ علامہ لا ہوتی صاحب کی طرح ان کی تربیت بھی فرماتے رہتے ہیں ان بزرگوں کے واقعات سے چند پیش خدمت ہیں جنہوں نے جنات کو دیکھا ان کو ڈانٹا اور ان کی تربیت بھی فرمائی۔ اجتماع بیتا ( منعقدہ ۷ ارجب ۱۳۸۷ ھ ۲۲ اکتوبر ۱۹۶۷ء) میں جنات کی آمد بہت بڑی تعداد میں ہوئی اور وہ جماعتوں میں بھی نکلے۔ چنانچہ حضرت مولانا حضرت انعام الحسن صاحب شیخ الحدیث کو لکھتے ہیں کہ جنات 700 کی تعداد میں شریک جلسہ ہوئے ۔ جس میں سے 216 جنات تو تین چلوں کیلئے ، ایک 109 جنات ایک سال کیلئے اور 110 جنات چلہ کی جماعت میں گئے ہیں ۔ ( بحوالہ دعوت و تبلیغ کے حضرت جی ثالث حضرت انعام الحسن ج 3 ص 231) اجتماع سنبھل ضلع مراد آباد ( منعقده ۴ ذی قعدہ ۱۳۸۷ ) کے موقع پر بھی جنات کی آمد ورفت کثیر تعداد ہوئی اور وہ بیعت بھی ہوئے 40 جنات جماعت میں تین چلہ کیلئے گئے ، ایک جن بدر الدجی نامی نے بندہ مولانا انعام الحسن صاحب ) سے بیعت ہونے کا اصرار کیا تو بندہ نے اس جو جناب والا ( شیخ الحدیث مولانا محمد ذکریا) کا حوالہ دے دیا کہ ہمارے سب سے کے بزرگ یہ ہیں ۔ لیکن وہ جن کہنے لگا کہ میں مرکز آؤں گا اور دو دن وہاں رہوں گا۔ (بحوالہ : اکابر کے واقعات و کرامات ، مصنف: حافظ مومن خان عثمانی ، ناشر: المیزان لاہور ) محترم قارئین! آئیں عبقری کی سچائی کو سارے عالم میں پھیلانے کا عزم کریں۔
درختوں کو چیر دینے والےصحابی جن سے صحابہ کرام کی ملاقات

( محمد صہیب رومی قادری) علامہ لا ہوتی صاحب کے واقعات میں افریقہ کے پر اسرارہ ہیبت ناک جنگلات میں خوفناک جنات کا تذکرہ ملتا ہے، یہ کوئی افسانوی کہانی نہیں بلکہ ایک زندہ جاوید حقیقت ہے تاریخ کے مستند جھر کوں سے ایک واقعہ اکابر پر اعتماد کے دوستوں کیلئے پیش خدمت ہے: حضرت ابی بن کعب فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ مسلمانوں کی ایک جماعت مکہ معظمہ جانے کی نیت سے نکلی اور اتفاقاً راستہ بھول گئی ، اس لق و دق میدان میں زندگی کا کوئی سہارا نہ تھا ، موت کیلئے تیار ہو کر کفن پہن لیے اور لیٹ گئے ، اسی دوران ایک جن درختوں کو چیرتا ہوا سامنے آیا اور کہا میں ان لوگوں میں سے ہوں جنہوں نے رسول اللہ صلی ا کی یتیم سے احادیث سنی ہیں، میں نے خود آنحضرت صلی ا یہ تم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”من كان يعمل بالله واليوم الآخر فليحب المسلمين ما يحب لنفسه ويكره للمسلمين ما يكره لنفسه” ترجمه: ”جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اس کو چاہیے کہ سب مسلمانوں کیلئے وہ چیز پسند کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے اور اس چیز کو نا پسند کرے جسے اپنے لیے نا پسند کرتا ہے“ یہ حدیث سنا کر اس جن نے قافلے والوں کو راستے کی راہنمائی بھی کی اور پانی کا پتا بھی بتا دیا۔۔۔! ( بحوالہ ثمرات الا واراق ص 249 بحوالہ آکام المرجان فی احکام الجان) محترم قارئین ! علامہ لا ہوتی صاحب کی زندگی کا ہر ہر گوشہ ا کا بڑ“ کے واقعات میں موجود ہےضرورت اس بات کی ہے ہم اپنے اکابر کے دامن سے اپنا رابطہ مضبوط کریں۔۔۔!
علامہ لاہوتی صاحب کے خوشی غم میں شریک ہونے والے جنات کی حقیقت

موجودہ صدی میں جہاں انسانی دماغ ترقی کرتا جارہا ہے اسی رفتار سے ہماری روح بھی تنزل کی طرف جاتی جارہی ہے، آج ہم آنکھ سے نظر نہ آنے والی ہر چیز کو سائنسی ریسرچ اور تحقیق کہہ کر تو قبول کر لیتے ہیں۔۔۔ لیکن اللہ معاف کرے قرآن و حدیث اور بزرگانِ دین کے واقعات کو اپنی عقل کے ترازو پر تولتے رہتے ہیں۔۔۔ علامہ لاہوتی صاحب کی ” جنات سے ملاقاتیں ، ان کے ساتھ خوشی غمی میں شریک ہونا کوئی ایسی ناممکن بات نہیں تاریخ میں ہمیں ایسی بہت سی مثالیں ملتی جو کہ علامہ صاحب کے ہر ہر واقعہ کی تصدیق کرتی ہیں۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا انظر شاہ صاحب کشمیریؒ ( جنہوں نے حضرت شیخ الوظائف دامت برکاتہم کو سلسلہ عالیہ نقشبندیہ اور دیگر سلاسل میں خلافت عطا فرمائی ۔ تفصیل کیلئے دیکھیں ماہنامہ الحسن لاہور، بمطابق اگست 2009 ) اپنے والد محترم حضرت علامہ انورشاہ کا شمیری کے انتقال پر ملال پر جنات کے غم کا اظہار کچھ اس طرح فرماتے ہیں: عصر اور مغرب کے درمیان بیائی کی شدت بڑھتی رہی بلکہ مغرب کے بعد سے نزع کی کیفیات طاری ہو گئیں ہوش و حواس کی سلامتی جاتی رہی ، وقت گزرنے کے ساتھ آپ کی بے چینی بڑھتی جاتی ہشتگی کا یہ عالم تھا کہ چند سیکنڈ کے وقفہ سے پانی کی ضرورت محسوس کرتے پانی پینے کے ساتھ حسبنا اللہ پڑھتے اور لیٹ جاتے خالہ زاد بھائی محمد سعید کی والدہ کا بیان ہے میں نے جلتے ہوئے چراغ کو پست کیا تو گھر کا پورا صحن سفید پوش لوگوں سے جن کے سروں پر عربی عمامے تھے لبریز ہو گیا، مجھے بھی اپنی آنکھوں پر شبہ ہوتا اور کبھی اس منظر پر حیرت ہوتی کیا یہ دار العلوم کے طلبہ ہیں؟ لیکن آج تو اندر آنے کی کسی کو اجازت نہیں، کیا یہ بلند پایہ علماء کا گروہ ہے؟ جنہیں ان کی خصوصیت کی بناء پر آنے کی اجازت ملی ہے۔ وہ مقدس ہجوم (فرشتوں و جنات ) جس نے گھر کے ماحول کو لبریز کر رکھا تھا کلمہ طیبہ کے ورد کے ساتھ کوئی چیز ہاتھ میں لے کر گھر سے باہر جارہا تھا۔ میں نے جب شاہ صاحب کی طرف دیکھا تو وہ اس وقت ساکت وصامت لیٹے ہوئے تھے علم وکمال جنات کی پر درد آواز : ” ایک بھیانک پر درد آوازسنی گئی لو گوتم سور ہے ہو امام الحدیث کی وفات ہوگئی یہ ایسی سوز گوار اور درد بھری آواز تھی کہ دار العلوم میں سوئے ہوئے سب طالبعلم جاگ گئے ۔ تیسری جانب حضرت مدنی کے خادم ان کے سر کی مالش کر کے ابھی جا کر لیٹے ہی تھے فلک شگاف نعرہ کانوں میں گونج میں گھبرا کر اٹھا دیکھا کہ حضرت مدنی باہر تشریف لے آئے فرمایا یہ بلند اور آہنگ آواز جنات کی تھی جو کہ حضرت شاہ صاحب کی وفات پر ماتم کناں ہیں کچھ طلبہ نے جنات کے گروہ کو بھی جاگتی آنکھوں سے دیکھا ، جہاں سے یہ درد والم اور یہ خوفناک آواز میں نکل رہی تھیں“۔ (بحوالہ کتاب حیات محدث کشمیری ، مصنف حضرت مولانا محمد انظر شاہ مسعودی ص58 ) محترم قارئین ! کیا ہم اس واقعہ کو بھی من گھڑت ، خود ساختہ، یاد یو مالائی کہانی کہ کر ھلادیں گے نہیں ہرگز نہیں ۔۔۔ انہیں اکابر پر اعتماد تھا۔۔ ہے۔۔ اور انشاء اللہ رہے گا۔9 (ناشر: اداره تالیفات اشرفیه )
حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب کی جن سے پر اسرار ملاقات

علامہ لاہوتی صاحب کی ” جنات سے ملاقات کو کہانی اور افسانہ کہنے والے لوگ دراصل تعلیمات اکابر سے نا آشنا ہیں انھیں چاہیے کہ وہ اپنے اکابر کی زندگی کو پڑھنے کیلئے کچھ نہ کچھ وقت ضرور فارغ کریں۔۔۔! ذیل میں تاریخ کی ایک بہت بڑی علمی ہستی کی ” جن سے ملاقات کا حیرت انگیز واقعہ پیش خدمت ہے۔ حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میری ایک ”جن“ سے قندھاریہ میں ملاقات ہوئی ، وہاں کسی شخص کے اوپر جن کا اثر تا اور وہ شخص ان پڑھ ہونے کے باوجود قرآن شریف پڑھتا اور مسائل وعلوم معارف بیان کرتا، اور جب جن کا ارختم ہو جاتا تو وہ شخص اسی طرح جاہل ہو جا تا تھا۔ ایک مرتبہ جب میں صبح کی نماز کے بعد اس شخص سے ملا تو اسکی ایسی حرکات تمھیں جو ہوش والے انسان کی نہیں ہوتیں جیسے مدہوش ہو، جب و شخص بیٹھا تو اس کی آنکھیں اوپر کی جانب چڑھ گئیں، پتلیاں بالکل غائب ہو کر سفیدی رہ گئی ، اس کی آنکھیں دیکھ کر ڈر محسوس ہوتا تھا، کچھ دیر میں اس کا سانس چلا اور وہ وہیں بے ہوش ہو کر گر گیا، جب وہ اٹھا تو اس کا سانس ٹھکانے نہیں تھا، پھر وہ بولنا شروع ہوا، اس کی آواز میں ایک ڈراؤ نا پن تھا، اس جن نے مجھے سلام کیا، میں نے وعلیکم السلام کہا۔ اس ” جن“ نے معانقہ کرنا چاہا میں نے کہا اناللہ وانا الیہ راجعون ، میں جن سے کیا معانقہ کروں؟ لیکن نہ چاہتے ہوئے بھی میں نے اس’ جن سے معانقہ کیا، وہ جن بیٹھ گیا۔ اس جن کا نام پوچھا تو اس نے عباس سے ملتا جلتا کوئی نام بتایا۔ میں نے کہا آپ کہاں رہتے ہو؟ تو اس ” جن نے بمبئی کے قریب ایک جزیرہ کا نام بتایا۔ میں نے کہا آپ اس شخص کو کیوں ستاتے ہو؟ وہ جن“ کہنے لگا اس شخص کو مجھ سے اور مجھے اس سے تعلق ہے جب میں اس کے پاس نہیں آتا تو یہ مجھے ڈھونڈتا ہے۔ میں نے ” جن سے کہا آپ ہمیں کیا نفع پہنچا سکتے ہو؟ کہ ہم نے آپ ” جنات کو بہت نفع پہنچایا ہے ۔ وہ جن کہنے لگا : وہ کس طرح؟ میں نے اس ” جن“ سے کہا : آپ لوگ ہمارے شاگرد ہو، دار العلوم میں ہمارے بزرگوں سے ”جنات“ نے علم حاصل کیا ہے، اور مولانا یعقوب صاحب کے زمانے میں ” جنات ظاہر بھی ہوئے تھے، آپ ” جنات“ ہمارے استاذ اور شاگر د بھی ہیں شاگرد اس طرح کہ دار العلوم میں پڑھا ہے اور استاذ اس طرح کہ شاہ ولی اللہ ” نے ” حدیث الجن“ کونے قاضی جنات سے نقل کیا ہے ۔ پھر میں نے اس ” جن سے کہا تم دار العلوم کو کیا فائدہ پہنچا سکتے ہو؟ وہ جن خاموش رہا ہوکر بیٹھ گیا۔ لوگوں نے اس ” جن سے پوچھا کہ تو خاموش کیوں ہو گیا تھا۔ وہ ”جن“ کہنے لگا: مجھے اس وقت کوئی بات سمجھ نہیں آ رہی تھی ۔ ( خطبات حکیم الاسلام ج 7 ص 258 حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحب ناشر: مکتبہ امدادیہ ملتان ) محترم قارئین! ایک بات یاد رکھیں اکابر کی زندگی علم اور عقل سے نہیں ادب سے سمجھ میں آتی ہے جو چیز ہماری سمجھ میں نہ آئے ہم اس پر اعتراض کرنا شروع کر دیتے ہیں علامہ لاہوتی صاحب کی ” جنات سے ملاقاتوں کا انکار کر کے نشانہ تو سارا کا سارا ہمارے اکا بر پرہی پڑتا ہے۔۔۔!
علامہ لا ہوتی صاحب کی طرح در بار رسالت صلى الله عليه وسلم سے فیض پانے والے اولیائے کرام

( مولانا قاری حافظ عطاء اللہ صاحب، جامعہ اشرفیہ، لاہور ) اکابر پر اعتماد آپ سلام کی حدیث مبارکہ ہے جس نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے مجھے حقیقت میں دیکھا وہ آنکھیں کتنی خوش نصیب ہیں جنہیں زندگی میں ایک مرتبہ خواب میں زیارت النبی صلى الله عليه وآله وسلم نصیب ہو جائے ۔۔۔! اور وہ وجود کتنے ہی سعادت مند ہوں گے جنہیں حالت بیداری میں زیارت با سعادت بار ہا نصیب ہوتی ہے ایسی سعادت مند ہستیوں میں آج کے دور میں علامہ لاہوتی پراسراری صاحب بھی ہیں، تاریخ کے اوراق سے چند واقعات اکابر پر اعتماد کے دوستوں کیلئے پیش خدمت ہیں: حضرت عبد اللہ بن موسیٰ فرماتے ہیں کہ حضرت علی بن صالح ” کے انتقال کے بعد میں ان کے بھائی شیخ حسن بن صالح ” کے پاس تعزیت کیلئے آیا تو مجھے وہاں رونا آ گیا وہ کہنے لگے کہ رونے سے پہلے ان کے انتقال کی کیفیت سن لو، کیسے لطف کی بات ہے کہ جب ان پر نزع کی تکلیف شروع ہوئی مجھ سے پانی مانگا جیسے ہی میں پانی لے کر آیا تو فرمانے لگے میں نے تو پانی پی لیا میں نے دریافت کیا کہ کس نے پلایا ؟ تو فرمانے لگے حضرت محمد صلى الله عليه وآله وسلم فرشتوں کی بہت سی صفوں کے ساتھ تشریف لائے تھے ، انہوں نے مجھے پانی پلا دیا۔ مجھے خیال ہوا کہ کہیں غفلت میں نہ کہ رہے ہوں اس لئے پوچھا کہ فرشتوں کی صفیں کس طرح تھیں؟ بولے اس طرح اوپر نیچے تھیں اور ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ کے اوپر کر کے بتایا۔ (فضائل صدقات حصہ 2 ص 128 ، مصنف شیخ الحدیث مولانا محمد ذکریا، کتب خانہ فیضی)۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے بالمشافہ حالت بیداری میں اور خواب میں آپ سالی یا ایلیم سے بہت سی احادیث سنیں اور بعض کی اصلاح بھی فرمائی جنہیں آپ نے ایک کتاب در ثمین“ کے نام سے شائع کیا۔ (ماہنامہ الفرقان ولی اللہ نمبر ) شیخ محمد بن ابی الحمائل کثرت سے بیداری میں حضور این بینم کی زیارت سے مشرف ہوا کرتے تھے یہاں تک کہ جب کسی چیز کے بارے میں پوچھا جاتا تو فرماتے کہ میں اسے حضور می یا یتیم کی خدمت میں پیش کرلوں اس کے بعد اپنا سر گریبان میں لے جاتے اور پھر فرماتے کہ حضور صلی شیا کی تم نے اس بارے میں یہ فرمایا ہے پھر ویسا ہی ہوتا جیسا فر ماتے بھی اس کے خلاف نہ ہوتا تھا۔ (سعادت دارین حصہ 2 ص 438) محترم قارئین ! بطور برکت یہ چند واقعات لکھے گئے جس سے آپ کو علامہ صاحب کے کمالات کا یقین ہو گیا ہوگا، اللہ کریم ہم سب کو زیادہ سے زیادہ عبقری کے فیض کو بانٹنے والا بنائے اور ا کا بر پر اعتماد نصیب فرمائے۔
جنات کو تعلیم دینے اور مشورہ کرنے والے تبلیغی علامہ لاہوتی پراسراری

اکابر پر اعتماد پیج دیکھ کرادارہ عبقری کیلئے بڑی دعائیں نکلتی ہیں کیونکہ موجودہ دور میں علمی اور فکری گمراہیوں سے بچنے کیلئے عبقری کی خدمات نہایت قابل تحسین ہیں اس دور میں اسلاف پر بے اعتمادی ۔۔۔۔ ہزار گمراہیوں کی ایک گمراہی ہے۔ تبلیغی جماعت کے بڑے بزرگ جو کہ اپنے وقت کے علامہ لاہوتی صاحب ہی تھے ان کی جناتوں سے ملاقاتوں کے واقعات بہت کثرت سے ملتے ہیں ان میں سے چند آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں. (1) مفتی محمد شاکر خان قاسمی صاحب لکھتے ہیں کہ تبلیغی جماعت کے بزرگ حضرت مولانا محمد یونس صاحب ( جو کہ پونہ کے رہائشی اور علامہ لا ہوتی صاحب کی طرح جنات سے ملاقات کرنے اور ان کو تعلیم دینے والے باکمال بزرگ تھے ) ان کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ سلیم تالاب صاحب نے کہا کہ مولانا یونس صاحب آخری سفر سے پہلے جامعہ انعام الحسن کونڈ وا تشریف لائے اور فرمانے لگے کہ بھئی مجھے جلدی واپس جانا ہے کیونکہ میرا جنات کے ساتھ مشورہ ہے۔ (2) ایک مرتبہ اجتماع میں خدمت کے ساتھی کہنے لگے کہ ہم نے مجمع کے لحاظ سے خوب کھانا پکا یا لیکن کھانے کے وقت آدھا مجمع بھی نہیں آیا اورکھانا بہت بیچ گیا ہم مولانا یونس صاحب کے پاس گئے اورساری صورتحال عرض کر دی ۔ مولا نا فرمانے لگے کے مجمع میں بیٹھے لوگ جنات تھے جو بیان میں زیادہ نظر آرہے تھے وہ تمہارا کھانا نہیں کھاتے بلکہ ان کا الگ انتظام ہے اس لیے وہ وہاں سے چلے گئے۔ (3) مولانا یونس صاحب فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ رات کو میرا دروازہ کسی نے کھٹکھٹایا میں ہڑ بڑا کر اٹھا، دروازہ کھولا تو چھوٹے چھوٹے ڈھیر سارے بچے ہاتھوں میں قرآن ، قاعدے اور بقول حافظ محبوب صاحب اپنے قد کے برابر بخاری و مسلم شریف) لیئے کھڑے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ہم کو قرآن پڑھائیے میں نے کہا اتنی رات ( تین بجے ) کو پڑھنے آئے ہو تم کون ہوتو وہ کہنے لگے ہمجنات کے بچے ہیں۔ (4) مولانا یونس صاحب کے کمرے میں جنات بہت تھے اور یہ بات بہت مشہور تھی کہ آپ کے کمرے میں جو کوئی سوتا ہے جنات اسے سونے نہیں دیتے اور وہاں سے اٹھا دیتے ہیں ، مولانا فاروق صاحب بھی کہتے ہیں کہ ان کے کمرے میں جنات صرف انہی کو سونے دیتے تھے آپ کے علاوہ کسی کو نہیں سونے دیتے تھے۔ (5) حافظ محبوب صاحب انگلینڈ والے فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ مولانا کے ساتھ سفر میں مد بہال پہنچا تو آپ سے عرض کی کہ یہاں جنات بھی آئے ہیں تو مولانا نے فرمایا کہ یہاں جنات کی پوری بستی آباد ہے۔ ( بحوالہ سوانح مولانا محمد یونس (پونہ) ص 212 ، مصنف : مفتی محمد شاکر خان قاسمی ، ناشر: فرید بک ڈپو، دہلی) محترم قارئین ! عبقری کے ایک ایک واقعہ اورتحریر کی سند کا بڑکی کتابوں میں بکھری پڑی ہے اگر ہم اس پیج کو خود پڑھیں اور زیادہ سے زیادہ دوستوں تک پہنچا ئیں یہ ہماری دنیا اور آخرت میں بہت بڑی خیر کا ذریعہ ہے۔
قاسم العلوم کی حضرت صابر کلیری کے مزار پربا ادب حاضری اور فیض کا حصول

علامہ لا ہوتی صاحب اور شیخ الخائف دامت برکاتہم کے واقعات میں مزارات کی حاضری کا کر بار بار ملتا ہے اس سفر کو تعلیمات اکابر کی روشنی تلاش کیا جائے تو کتابوں کی کتابیں ان واقعات سے بھری پڑی ہیں۔ ذیل میں اکابری پر اعتماد کے دوستوں کیلئے جمہ الاسلام کی مزارات پر با ادب حاضری کا ایک واقعہ عرض کرتا ہوں جس سے آپ کو بخوبی اندازہ ہو جائے گا کہ عبقری کا کوئی ایک عمل بھی قرآن وسنت و تعلیمات اکا بڑ سے ہٹ کر نہیں۔ حضرت مولانا قاسم نانوتوی صاحب بانی دار العلوم اکثر سال میں کلیر شریف حاضر ہوتے اور اس انداز سے کہ میرے خیال میں آج بھی کوئی بزرگوں کا معتقد شاید (مزارات پر ) اس انداز سے نہ جاتا ہو، رڑ کی ( جگہ کا نام) سے چھ میل کے فاصلے پر حضرت صابر کلیری کا مزار ہے اور نہر کے کنارے کنارے راستہ جاتا ہے ۔ تو آپ نہر کے کنارے پٹری پر پہنچ کر جوتے اتار لیتے تھے۔ چھ میل ننگے پیر طے کرتے وہاں پہنچ کر عشاء کی نماز کے بعد روضہ میں داخل ہوتے ۔ پوری رات مزار پر گزارتے تھے اس میں ریاضتیں ، مجاہدہ ، استفاضہ اور فیض حاصل کرتے اور صبح کی نماز کیلئے وہاں سے نکلتے ۔ حضرت حکیم الاسلام مولانا قاری محمد طیب صاحب فرماتے ہیں کہ اگر وہ مزارات پر جانے کو نا جائز سمجھتے تو خود ننگے پیراد با مزارات کیلئے کیوں پیدل جاتے ۔ شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی ” بھی ہندوستان میں جس قدر سلسلے کے اکابر ہیں سفر کر کے ان کے مزارات پر حاضر ہوئے ۔ حضرت شاہ محب اللہ صاحب الہ آبادی کا مزار الہ آباد میں ہے تو وہاں گئے ، حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری اور حضرت خواجہ صابر کلیری کے مزار پر بھی آپ نے حاضری دی۔ امام اعظم ابو حنیفہ نے اپنی مسند میں روایت نقل کی ہے کہ آداب زیارت میں سے ہے کہ قبلہ کی طرف پشت اور میت کی طرف چہرہ ہو اس لیے کہ وہ (مردہ) تمہاری بات سنے گا اور تمہیں دیکھتا ہے جب یہ تفصیل موجود ہے تو اولیاء اور صلحاء کے مزارات پر بے ادبی اور گستاخی کسی طرح سے جائز نہیں اور اولیاء اللہ ” تو بڑی چیز ہیں صلحا مومنین کی قبروں کے ساتھ بھی گستاخی جائز نہیں ہے۔ قبر کو تکیہ لگانا ، پھلانگ کر جانا قبر کی بے حرمتی ہے۔ جس شریعت نے اولیاء اللہ کی اتنی تو قیر کی ہو کہ ان کی زندگی میں بھی تہذیب سے پیش آؤ ان کی وفات کے بعد بھی ان کی قبروں سے تو قیر و بھی ان کی قبروا تعظیم کا معاملہ کرو تو کون ہے جو ان کی قبروں کی بے ادبی کو جائز رکھے گا۔ (بحوالہ : خطبات حکیم الاسلام، ج 7 ص 10, 16- ترتیب: مولانا نعیم احمد، مدرس جامعہ خیر المدارس ملتان، ناشر مکتبہ امدادیہ ملتان) محترم قارئین ! پرفتن دور میں ایمان کی سلامتی کا راستہ یہی ہے کہ اسلاف اور ا کا بڑ کے ساتھ اپنے دامن کو جوڑ لیا جائے۔۔! اللہ کے فضل سے ساری دنیا میں عبقری اور تسی خانہ کی کوشش یہی کرے ہے کہ مرتے دم تم ہمارا دامن اپنے اکابر سے جدا نہ ہو۔ آمین
حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی اورعلامہ لا ہوتی صاحب تابعی کیسے بنے؟

مفتی محمد فرقان محمود مخص : جامعہ بنوریہ کراچی جب سے اکابر پر اعتماد کی پوسٹیں پڑھ رہا ہوں دل سے آپ حضرات کیلئے دعائیں نکلتی ہیں کہ اس پرفتن دور میں آپ اپنے اکابر کا دفاع کر رہے اور سچ بات یہی ہے کہ ہم اپنے آپ کو عقل کل نہ سمجھیں بلکہ ہر وقت ہر جگہ ا کا بڑا کے طرز عمل کو تلاش کریں اسی میں ہمارے لیے عافیت اور ایمان کی سلامتی ہے۔ دوستوں کیلئے حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی کا تابعی بنے کا واقعہ پیش خدمت ہے جس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ علامہ لا ہوتی دامت برکاتہم بھی اس دور کے تابعی ہیں جنہوں نے صحابی جن کی باہ با زیارت کی۔ حضرت مولانا گنگوہی فرماتے ہیں کہ یہ واقعہ حضرت مولانا شاہ ولی اللہ کا ہے کہ ایک رات وہ مطالعہ میں مصروف تھے، ایک کتاب اٹھائی تو دیکھا کہ اُس کے نیچے سانپ ہے، آپ نے لاٹھی اُٹھائی اور اُس کو مارا وہ مر گیا، اتنے میں وہ کیا دیکھتے ہیں کہ کسی نے ان کو اُٹھا لیا ، اُٹھانے والی چیز نظر نہیں آرہی تھی ۔ وہ انھیں گھر سے باہر لائے اور جنگل میں لے گئے ۔ وہاں لے جا کر ایک جگہ سے پتھر ہٹایا اور نیچے تہہ خانہ کی طرح راستہ تھا اُدھر لے گئے۔ میں نے دیکھا کہ نیچے تو ایک پورا جہان آباد تھا، ایک زبر دست شاہی محل کی طرح اور تمام انتظامات تھے- مجھے وہ ایک دربار میں لے گئے ، وہاں ایک تخت موجود تھا، ان کے بادشاہ سلامت بیٹھے ہوئے تھے، مجلس لگی ہوئی تھی۔ ایک صاحب نے اپنی زبان میں ایک درخواست بادشاہ کو پیش کی ، پھر وہ حضرت شاہ ولی اللہ سے مخاطب ہوئے اور کہا کیا تم نے ان کے بھائی کو قتل کیا ہے؟ آپ نے فرمایا نہیں ۔ پھر انہوں نے سوال کیا کیا تم نے کسی سانپ کو مارا ہے؟ آپ نے فرمایا جی ہاں! پھر وہ جنات آپس میں باتیں کرنے لگے۔ اتنے میں ایک عمر رسیدہ بزرگ جن جو کہ صحابی تھے انہوں نے پڑھنا شروع کیا کہ "سَمِعْتُ النَّبِي صَلى الله | عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ تَزَيَّا بِزِقَ غَيْرِهِ فَقُتِلَ فَدَ مُهُ هَدَر “ ترجمہ: ”جو اپنی موجودہ شکل کے علاوہ میں اور دوسری کوئی شکل اختیار کرے اور اُس میں اُسے قتل کیا جائے، تو اسکا خون معاف ہے اور اُس کا نہ قصاص ہے،نہ دیت ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں کہ پہلے میں بہت خوفزدہ تھا، پھر سمجھ گیا کہ یہ جنات کی دُنیا ہے۔ میں نے أن ( صحابی جن) سے پوچھا کہ کیا آپ نے خود آپ مالی یا ہی تم سے یہ حدیث سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”ہاں“۔ آپ فرماتے ہیں اس کے بعد میرا سارا خوف خوشی میں بدل گیا کہ آج میں تابعی بن گیا۔ کیوں کہ میں نے صحابی جن سے براہ راست حدیث مبارکہ ان کی زبان مبارک سے سنی۔ (بحوالہ : کرامات و کمالات اولیاء ، ج 1 ص 45، مجموعه ارشادات: حضرت شیخ الحدیث مولانا یوسف متالا مد ظله، ناشر: از ہر اکیڈمی لندن)
حضرت علامہ شعرانیؒ اپنے وقت کے بہت بڑے علامہ لاہوتی پراسراری

تحریر محمد سجاد بہاولنگر، درجہ خامسہ، جامعہ حمدیہ ماہنامہ عبقری میں چھپنے والے ہر دلعزیز کالم ” جنات کے پیدائشی دوست“ کے عنوان سے لکھنے والے علامہ لاہوتی پراسراری دامت برکاتہم کی جتنی بھی باتیں اور واقعات ہیں وہ تمام کے تمام ہمارے اکا برگی کتابوں میں موجود ہیں اگر علامہ نیہانی کی کتاب ” جامع کرامات ہی دیکھ لی جائے تو وہ بھی اس موضوع بہت ہی جامع کتاب ہے ذیل میں علامہ شعرانی ” کے لاہوتی واقعات کی ایک جھلک سے آپ علامہ لا ہوتی صاحب کے واقعات کو بخوبی سمجھ جائیں گے۔ حضرت علامہ شعرانی فرماتے ہیں کہ میں نے جب حضرت شیخ امین الدین عمری کے پیچھے نماز مغرب ادا کی تو میرے دل کے تمام حجاب دور ہو گئے اور میں اللہ جل شانہ کی تمام مخلوق کی تسبیح سنتا تھا کہ کس کس طرح چرند، پرند، مچھلیاں اور دوسری تمام مخلوق اللہ جل شانہ کی تسبیح کرتی ہے۔ اللہ جل شانہ نے ان سب کی زبان سمجھنے کی مجھے طاقت اور قدت عطا فرمادی تھی۔ اسی طرح جناتوں سے بھی آپ کی ملاقاتیں ہونے لگیں ۔ آپ ان کی زبانیں مجھے اور وہ آپ سے اپنے مسائل پوچھتے اور اپنی ضرورتیں بتاتے ۔ آپ کو جنات کیلئے مستقل ایک کتاب جس کا نام ” کشف القِنَاعِ وَالزَّانِ عَنْ وَجْهِ أَسْئِلَةِ الْجَان تصنیف کرنی پڑی۔ جس میں آپ نے جنات کے پچھتر (75) سوالات کا ذکر کیا ہے ، جس میں جنات نے پچھتر (75) چیزیں پوچھیں اور آپ نے ایک ایک چیز کا تفصیلاً جواب لکھا ہے اور وہ پوری ایک کتاب کئی اجزاء پر مشتمل ہے اُن کو لکھ کر دی۔ یہ صرف ایک نماز اللہ والے کے پیچھے پڑھنے سے ملا۔ (بحوالہ : کرامات و کمالات اولیاء، ج 1، ص 39 مجموعه ارشادات: حضرت شیخ الحدیث مولانا یوسف متالا مدظلہ، ناشر: از ہر اکیڈمی لندن ) محترم قارئین! جنات پیدائشی دوست میں ذکر کی جانے والی محیر العقول باتیں کوئی دیو مالائی کہانیاں نہیں بلکہ روز روشن کی طرح واضح ہیں جس کی تصدیق اکا بڑ کے ہزاروں واقعات کر رہے ہیں۔ اللہ پاک ہماری زندگی سے اسلاف بیزاری ختم فرما ئیں اور کا بڑ کی زندگی پر اعتماد کی تو فیق عطا فرمائیں۔
علامہ لا ہوتی صاحب کی طرح جنات کو تعلیم دینے والی علمی ہستی

علامہ لا ہوتی صاحب کی طرح جنات کو تعلیم دینے والی علمی ہستی علامہ لا ہوتی صاحب دامت برکاتہم کے شب روز جس طرح جنات کے ساتھ گزر رہے ہیں تاریخ کا مطالعہ کرنے والے حضرات اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ جنات سے ملاقاتوں کے یہ واقعات صرف علامہ صاحب ہی کے ساتھ خاص نہیں بلکہ ہزاروں سے زائد علماء اور مشائخ کی زندگی میں ان ملاقاتوں کا تذکرہ ملتا ہے۔ ذیل میں حدیث کنز العمال جیسی کتاب لکھنے والی علمی ہستی کی جنات سے نشست و برخاست کا واقعہ اکابر پر اعتماد کے دوستوں کیلئے پیش خدمت ہے جس سے علامہ لا ہوتی صاحب کے واقعات کی حقانیت ہمارے سامنے روز روشن کی طرح واضح ہو جائے گی۔ علامہ شیخ علی متقی بہت زاہد و تقی عالم تھے۔ آپ کے وصال سے دو ماہ قبل جناتوں کے دو گروہ آپ کی خدمت میں آنے جانے لگے۔ ایک گروہ اعتقاد ومحبت ، ارادت و الفت میں آپ کی خدمت میں حاضری دیتا تھا جبکہ دوسرا گروہ وہ تھا جو آپ سے بغض و عداوت رکھتا تھا ، یہ گروہ کبھی عیسائیوں ، فاسقوں اور کبھی بدکار لوگوں کی شکل میں آتے تھے اور گفتگو نہیں کرتے تھے ۔ بلکہ پیر و مرشدان کے نام خط لکھ کر دے دیا کرتے تھے۔ شیخ عبدالوہاب فرماتے ہیں کہ جنات کے ان خطوط میں سے دو خط اس فقیر کے پاس بھی موجود ہیں۔ (بحوالہ مشائخ احمد آبادص ، مصنف مولا نا محمد یوسف متالا صاحب 376 ناشر: کتب خانه انورشاہ ) محترم قارئین! عبقری میں ذکر کردہ جنات کا پیدائشی دوست اپنی علمی مصروفیات کے ساتھ سالہا سال سے پڑھنے کا معمول ہے یقین جانیے! علامہ صاحب کیلئے دل سے دعا نکلتی ہے کہ ان کی ہر بات اور ہر واقعہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے بچھڑے بندوں کو رب سے ملانے کا ذریعہ بنتا ہے اللہ ان کو اپنی شان کے مطابق جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین ( مولا نادانش رضا فاضل جامعہ رحمانیہ کراچی)