اگر گمراہی سے بچنا چاہتے ہیں تو یہ ضرور پڑھیں ۔۔۔!

( زیر سر پرستی : مفتی سعید احمد صاحب دامت برکاتہم خلیفہ مجاز حضرت مولانا محمد یحیمی صاحب) کیا ہزاروں کی تعداد میں جنات سے اکا بڑ کی ملاقاتوں کا انکار اور لاکھوں کی تعداد میں اکابر سے منقول وظائف کا انکارا کا بر” پر عدم اعتمادی نہیں ۔۔۔! جدید دور جو بہت سے مسائل و خطرات لے کر آیا ہے ان میں سب سے بڑا خطرہ اور فتنہ اکابرپر عدم اعتماد ہے۔ اکابر سے عدم اعتماد ظاہر میں تو ایک معمولی چیز لگتی ہے لیکن اس میں غور کیا جائے تو یہی چیز دین کی بنیاد کو کمزور کر دیتی ہے۔ دین اصل میں نام اکابر پر اعتماد کا ہے۔ آج تک کا تجربہ یہی ہے کہ جن لوگوں نے اکابر پر ہے اعتمادی کی وہ کسی نہ کسی گمراہی میں مبتلا ہوئے۔ اکابر پر اعتماد در اصل اپنے عجز کا اظہار ہے جو تحقیق انہوں نے محنت سے کی اور اپنی زندگیاں جس میں صرف کیں اس کو حق سمجھنا اور ان پر بھروسہ کرنا ہے۔ بخلاف اکابر پر ہے اعتمادی کہ اس میں اپنی بڑائی کا اظہار اپنے آپ کو خیر کل اور اپنی سوچ کو صیح سمجھنا ہے۔ امت میں جتنے فتنے ہیں اگر غور کیا جائے تو سب میں سلف بیزاری ہے۔ آج تک جتنے بھی فتنے برپا ہوئے سب میں یہی چیز قدر مشترک ہے۔ بعض لوگ صحابہ سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں۔ بعض صحابہ کے فیصلوں کو تنقیدی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ یہاں تک کہ حضرت عمر کے بعض فیصلوں کو عمر کا مارشل لاء کہہ دیتے ہیں۔ بعض لوگ نئی نئی چیزوں کو دین میں لا کر سمجھتے ہیں کہ ہم صحابہ سے بھی محبت میں بڑھے ہوئے ہیں۔ ان سب میں قدر مشترک سلف سے بیزاری اور اکابر پر عدم اعتماد کا اظہار ہے۔ اس لیے قرآن نے بھی ایسے لوگوں کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے { ویتبع غیر سبیل المؤمنین نوله ما تولی ونصلہ جھنم وساءت مصیر } ” جو مؤمنوں کا راستہ چھوڑ کر ( یعنی سلف صالحین کی راہ چھوڑ کر کوئی اور راستہ اختیار کر لے گا ہم اس کو اسی کے حوالے کریں گے اور اس کو جہنم میں داخل کریں گے اور وہ برا ٹھکانہ ہے۔ اللہ ہمیں اس گمراہی سے محفوظ فرمائے اور سلف پر اعتماد عطا فرمائے کہ ان پر اعتماد میں ہی نجات اور ہر گمراہی سے حفاظت ہے۔ آج ہر فارغ التحصیل ہونے والا نوجوان اپنی سوچ کو زیادہ اہمیت دیتا ہے بنسبت اکابر کے فہم اور سوچ کے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم طرح طرح کے مصائب میں گھرتے چلے جاتے ہیں۔ ہمیں نکلنے کی کوئی راہ بھی نہیں ملتی ۔ ہماری ایسی سوچیں لوگوں کے لیے دین سے بیزاری کا بھی ذریعہ بن رہی ہیں۔ اللہ ہم سب کو سلف کی راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور مرتے دم تک اس پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ۔ ( انتخاب : طالبعلم محمد سجاد، درجہ خامسہ ) محترم قارئین! یہی آواز شیخ الوظائف دامت برکاتہم کی ہے تسبیح خانہ کی ہے ، اور ماہنامہ عبقری کی ہے ۔ ۔ ۔ اللہ کریم ہمیشہ کبھی بھی ہمیں اکابر پر بے اعتمادی نہ دے آمین۔
کائنات کے عجیب راز کس صحابی پر کھلے؟

عبقری میگزین میں بعض اوقات حضرت علامہ لاہوتی پراسراری صاحب دامت برکاتہم العالیہ ایسی عمارتوں کا ذکر فرماتے ہیں جو عام انسان کی رسائی سے دور ہوتی ہیں ، صرف خواص اولیائے کرام یا جنات ہی ان عمارتوں تک پہنچ پاتے ہیں۔ جیسے شاہی قلعہ لاہور میں موجود سفید محل، اہرام مصر میں چھپے کا ئناتی اسرار وغیرہ وغیرہ ۔۔ بعض لوگ ایسے واقعات پڑھ کر کچھ سوچے سمجھے بغیر فوراً بے یقینی میں مبتلاء ہو جاتے ہیں کہ بھلا ایسا کس طرح ممکن؟علامہ لاہوتی صاحب سے پہلے تو کسی شخص نے ایسے دعوے نہیں کیے۔ حالانکہ اگر ہم مطالعے کا ذوق بڑھا ئیں اور اپنے اکابر واسلاف کے واقعات پڑھیں تو ایسے بے کاذوق بڑھائیں تو ایسے بے شمار حقائق ہماری معلومات میں اضافہ کرتے نظر آتے ہیں۔ مثلاً مولانا ارسلان بن اختر میمن لکھتے ہیں : حضرت عبداللہ بن قلا بہ رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ اپنے اونٹ کو تلاش کرتے کرتے یمن کے علاقے عدن کے جنگل میں پہنچ گئے۔ وہاں انہوں نے ایک عالی شان قلعہ دیکھا، جس کا دروازہ بہت بڑا تھا اور اس پرقیمتی پتھروں سے بینا کاری کی گئی تھی۔ اس عظیم الشان دروازے کو دیکھ کر وہ خوف زدہ ہو گئے کہ کہیں یہ شداد کی وہی جنت تو نہیں ، جس کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی۔ پھر ذرا ہمت کر کے اندر داخل ہو گئے تو دیکھا کہ وہاں تمام محلات ، نہریں اور درخت ایسی خوبصورتی سے بنائے گئے ہیں کہ دنیا میں ان کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ واقعی کسی نے اپنے لیے جنت بنوانے کی پوری محنت کی ہوئی تھی ۔ ہر چیز اپنے کمال کو پہنچی ہوئی تھی لیکن حیرت کی بات یہ کہ وہاں کوئی ذی روح بسنے والا نہیں تھا۔ لہٰذا انہوں نے وہاں سے کچھ یا قوت اور زعفرانی مٹی لی اور اپنے علاقے میں واپس پہنچ کر وہاں کے لوگوں کو اس عجیب سفر کی روداد سنائی۔ یہ قصہ یمن سے شام میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ تک پہنچا تو انہوں نے خط لکھ کر ان صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس بلوالیا۔ پھر ان سے اس واقعے کی تفصیل پوچھتے ہوئے فرمایا: کیا یہ سب کچھ آپ نے خواب کی حالت میں دیکھا تھا ؟ حضرت عبداللہ بن قلابہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے نہیں! اور پھر انہوں نے وہاں کے یا قوت اور زعفرانی مٹی ان کے سامنے پیش کر دی۔ یہ دیکھنے کے بعد حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت کعب الاحبار رضی اللہ عنہ کو بلایا اور پوچھا: کیا دنیا میں سونے چاندی کی کوئی عمارت موجود ہے؟ وہ فرمانے لگے : ہاں ! وہ محلات جو شداد نے اپنے لیے جنت کے طور پر 300 سال میں بنوائے تھے اور پھر انہیں پوشیدہ کر دیا گیا تھا۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا انہیں کوئی شخص دیکھ سکتا ہے؟ حضرت کعب الاحبار رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: ہاں بالکل ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا کہ میری امت کا ایک شخص اپنے اونٹ کو ڈھونڈتے ہوئے اس کو دیکھے گا، جس کا قد چھوٹا ، رنگ سرخ اور گردن اور ابر و پر تل ہوگا ۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے یہ تمام نشانیاں حضرت عبد اللہ بن قلا بہ رضی اللہ عنہ میں دیکھ کر فرمایا : خدا کی قسم ! یہی وہ شخص ہے جس کی پیشین گوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی (بحوالہ کتاب: واقعات کا خزانہ صفحہ نمبر 90 ناشر: مکتبہ ارسلان کراچی)
دار العلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے بانی کی خدمت میں تہجد کے وقت جنات کی حاضری

حضرت مولانا محمد ظفر الحق حقانی صاحب لکھتے ہیں کہ : ایک متعلم کا شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالحق رحمتہ اللہ علیہ کے ساتھ پانچ سال تک خادمانہ تعلق رہا۔ وہ خادم کہتے ہیں کہ اسلام آباد میں ایک رات آپ تہجد کے لئے اٹھے لیکن مجھے نہ جگایا، میں خود ہی جاگ گیا اور عرض کی : شیخ آپ نے مجھے کیوں نہ جگایا؟ فرمایا: بیٹا آپ سمجھے نہیں ہمارے کمرے میں بے شمار جنات آگئے تھے۔ کمرہ بھرا ہوا تھا، اس لئے آپ کو میرے جگانے کا پتہ نہیں چل سکا (بحوالہ : ماہنامہ الحق خصوصی اشاعت شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد الحق رحمتہ اللہ علیہ بانی دار العلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک، ایڈیٹر : حضرت مولانا سمیع الحق شہید )
انڈیا کا ایسا علاقہ جہاں کسی شریر جن کو داخل ہونے کی اجازت نہیں

حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ ایک مرتبہ اپنے مریدوں کے ساتھ کسی علاقے میں گئے اور مریدوں سے کہا رات گزارنے کے لیے کوئی کرائے کا مکان تلاش کرو۔ کافی تلاش بسیار کے باوجود بھی مکان نہ مل سکا۔ البتہ ایک ایسا مکان ملا جس پر عرصہ دراز سے جنات کا قبضہ تھا اور یہ بات مشہور تھی کہ جو شخص اس میں رات گزارتا ہے، وفات پا جاتا ہے۔ حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے وہی مکان کرائے پہ لے لیا۔ تمام مریدوں اور علاقے کے لوگوں نے بہت منع کیا لیکن حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ اپنی رائے پہ قائم رہے۔ بالآ خرتن تنہا سونے کے لیے اس مکان میں تشریف لے گئے۔ تمام لوگوں نے اس انداز سے انہیں رخصت کیا جیسے انہیں حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی وفات کا یقین ہو گیا ہو۔ بہر حال حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اس گھر میں جاتے ہی عشاء کی نماز پڑھی اور اپنے معمول کے ذکر واذکار کرتے ہوئے لیٹ گئے ۔ کچھ دیر بعد یوں محسوس ہوا جیسے کوئی ان کے پاؤں دبا رہا ہے تو انہوں نے فرمایا: مجھے اپنے پاؤں دبوانے کی کوئی ضرورت نہیں، اگر تم میری رضا چاہتے ہو تو یہ مقبوضہ علاقہ فوراً خالی کر دو۔ یہ سن کر وہ جن اپنے بورے کنبے سمیت وہ گھر چھوڑ کر وہاں سے چلا گیا اور یہ وصیت کر گیا کہ آئندہ کوئی بھی جن یہاں نہ آئے ۔ چنانچہ آج تک اس علاقے میں کوئی شریر جن نظر نہیں آیا۔ بعد میں وہ علاقہ کے نام سے مشہور ہوا، جہاں آج تک دارالعلوم دیو بند قائم ہے. ( بحوالہ کتاب: نا قابل فراموش سچے واقعات ، صفحہ نمبر : 193 ، مؤلف: محمد انور بن اختر ، ناشر: مکتبہ ارسلان، کراچی )
دار العلوم میں جن موجود تھا لیکن نظر کسی کو نہ آیا

محترم قارئین ! عبقری کا ہر دل عزیز کالم جنات کا پیدائشی دوست میں جنات کے واقعات یا شاہی قلعے میں موجود موتی مسجد میں جنات کا موجود ہونا بعض لوگ اسے بے یقینی کی آنکھ سے دیکھتے ہیں۔ حالانکہ ہمارے اکابر و اسلاف کی جنات سے دوستی یا انکی خدمت میں جنات کا شاگرد بننا، وقت گزارنا اور صرف انہی کو اپنے اس شاگرد جن کا پتہ ہونا اور ان کے علاوہ کسی کو جنات کے وجود کا وہم و گمان نہ گزرنا ، جیسے واقعات بکثرت ملتے ہیں ۔ جیسا کہ درج ذیل واقعے میں لاکھوں علماء کے محسن محبوب حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمتہ اللہ سے بھی ثبوت مل رہا ہے۔ حضرت مولانا محمد فاروق بجنوری صاحب فرماتے ہیں کہ دار العلوم میں میرے کمرے میں عمر مونگیری نامی ایک طالب علم ساتھ رہتا تھا اس کے جن ہونے کا انکشاف اس طرح ہوا کہ ایک دن میں اسے طاق میں رکھی ہوئی ماچس اٹھانے کا کہا : تو اس نے وہیں بیٹھے بیٹھے ہاتھ لمبا کر کے اٹھادی جس سے میں ڈر گیا اور بھاگ کر حضرت شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی رحمتہ اللہ کی خدمت میں حاضر ہو کر سارا ماجرا عرض کیا حضرت رحمتہ اللہ نے فرمایا کہ : اچھا آج اس نے خود کو ظاہر کر دیا خیر گھبرانے کی بات نہیں وہ بھی تم جیسا طالب علم ہی ہے اس کے بعد میں کمرے میں واپس آیا تو وہ موجود نہ تھا اور پھر اس کے بعد کبھی بھی نظر نہ آیا. ( بحوالہ کتاب: اکیسویں اور بیسویں صدی کے ناقابل فراموش سچے واقعات ، صفحہ نمبر : 192 ، ناشر: مکتبہ الارسلان، کراچی )
ایسی آیت جو جنات کو جلا کر مالدار بنادے

مولانا مفتی محمد عاصم عبد اللہ صاحب لکھتے ہیں کہ ایک بار کچھ لوگ کشتی پر سوار ہو کر بحری سفر لئے روانہ ہوئے ۔ ان کی نظر پانی کی ایک سطح پر ایک شخص پر پڑی اور وہ یہ کہ کہتا تھا کہ میرے پاس ایک کلمہ ہے جس کو میں ہزار درہم کے عوض بیچتا ہوں : ان میں سے ایک شخص نے کہا اچھا! لو یہ ہزار درہم ہیں اس پر وہ بولا دریا میں پھینک دو چنانچہ اس نے ہزار درہم دریا میں پھینک دیے۔ اس وقت اس نے کہا اچھا پڑھو ومن يتق الله يجعل له مخرجاً و من حيث لا يحتسب “ جب اس نے پڑھا تو وہ بولا اسے خوب یاد کر لو اس کا یاد کرنا تھا کہ ادھر جہاز ٹوٹ گیا اور وہ شخص جس نے یہ آیت یاد کی تھی ایک تختہ پر رہ گیا اور وہ برابر اس آیت کی تلاوت کیے جاتا تھا۔ اسی ثناء میں ایک موج نے اس کو کسی جزیرہ میں میں جا پھینکا ، جہاں اس کو ایک نہایت خوبصورت عورت ملی۔ اس سے اس کے حالات دریافت کیے تو اس نے بیان دیا کہ میں فلاں شہر کی رہنے والی ہوں ۔ روزانہ سمندر سے ایک جن نکلتا ہے اور وہ مجھے پھسلایا کرتا ہے لیکن خدا کا کرنا ایسا ہوتا ہے کہ میں اس سے بچ جاتی ہوں ۔ اس شخص نے کہا اچھا! تو مجھے ایسی جگہ بتلا دے جہاں سے میں اسے دیکھ لوں اور وہ مجھے نہ دیکھ سکے ۔ اس نے ایسا ہی کیا۔ جب وہ سمندر سے نکلا تو اس شخص نے یہ آیت پڑھنا شروع کر دی اور وہ جن اس آیت کے پڑھنے سے جل کر مر گیا۔ اس کے بعد اس شخص نے اس عورت کو باحفاظت اس کے ہیرے، جواہرات سمیت اسے اس کے گھر پہنچا دیا اس کہ بعد اس عورت کے والد نے اس عورت کا نکاح اسی شخص سے کر دیا. ( بحوالہ کتاب سنہری حکایات ، صفحہ نمبر : 121 ، ناشر: مکتبہ حمادیہ، شاہ فیصل کالونی کراچی )
عبقری میں شائع کردہ جنات کے واقعات کا انکار کرنے والے اس حدیث کے متعلق کیا کہیں گے؟

حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت حجاج سلمی رضی اللہ عنہ کے مسلمان ہونے کی صورت یہ ہوئی کہ وہ اپنی قوم کے کچھ سواروں کے ساتھ مکہ کے ارادے سے نکلے۔ رات کو یہ لوگ ایک وحشت ناک وادی میں پہنچے تو گھبرا گئے ۔ ان کے ساتھیوں نے کہا: اٹھو اور اپنے لیے اور ہمارے لیے اس وادی کے سردار جن سے امن مانگو۔ حضرت حجاج رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر یہ الفاظ پڑھے : میں اپنے آپ کو اور اپنے ساتھیوں کو ہر اُس جن سے پناہ دیتا ہوں ، جو اس پہاڑی رستے میں موجود ہے، تاکہ میں اور میرے ساتھی صحیح سالم اپنے گھر واپس پہنچ جائیں۔ یہ کہتے ہی انہوں نے کسی نظر نہ آنے والے ( جن ) کو سورۃ رحمن کی آیات پڑھتے ہوئے سنا۔ کی پس جب یہ لوگ مکہ مکرمہ پہنچے تو انہوں نے قریش کی ایک مجلس میں یہ بات سنائی تو قریش بولے : اے حجاج آپ نے ٹھیک کہا: یہ کلام بھی اسی کلام میں سے ہے جس کے متعلق حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ان پر یہ کلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ اتنے میں عاص بن وائل آیا تو کہنے لگا ؛ جس جن نے ان لوگوں کو یہ کلام سنایا ہے ، وہی جن تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر یہ کلام جاری کرتا ہے۔ حضرت حجاج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عاص کی یہ بات سن کر میرے بعض ساتھی اسلام لانے سے رک گئے مگر میری بصیرت میں مزید اضافہ ہو گیا۔ پھر میں اونٹنی پر سوار ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے حق بات سنی ہے، اللہ کی قسم ! یہ اسی کلام میں سے ہے جو میرے رب نے مجھ پر نازل کیا ہے۔ لہذا میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ مجھے اسلام سکھا دیجئے ۔ بحوالہ: ابن ابی الدنیافی ھواتف الجان، بحوالہ کتاب: صحابہ کے 313 واقعات صفحہ 145 مصنف: محمد اسحاق ملتانی صاحب، مدیر ماہنامه محاسن اسلام، ناشر : اداره تالیفات اشرفیہ فوارہ چوک ملتان
دار العلوم میں پہلی تین صفیں خالی کیوں رہتی تھیں؟

قارئین ! جو لوگ کہتے ہیں کہ صرف علامہ لاہوتی پراسراری صاحب دامت برکاتہم العالیہ ہی کو جنات کیوں نظر آتے ہیں؟ اگر واقعی جنات کا وجود ہے تو علامہ صاحب کے اس پاس موجود دوسرے لوگوں کی نظر سے جنات کیسے اوجھل رہ سکتے ہیں؟ آئیں دیکھتے ہیں کہ کیا حضرت علامہ صاحب سے پہلے بھی کسی ہستی پر جنات کا اظہار ہوا تھا ؟ مولانا عماد الدین محمود صاحب ( خطیب جامع مسجد زکریا چودہوان ) لکھتے ہیں کہ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق ان کے تذکرہ نگاروں نے لکھا ہے کہ درس حدیث کے دوران طلباء کو آزادی ہوتی کہ وہ اپنے شبہات و اعتراضات اپنی اپنی پرچیوں پر لکھ کر پیش کر دیا کریں۔ آپ ہر پرچی کو کشادہ دلی سے پڑھتے اور جواب عنایت فرما کر طلباء کو مطمئن کر دیتے ۔ ایک مرتبہ جب حضرت مدنی دارالعلوم کے دارالحدیث میں صحیح بخاری شریف پڑھانے کیلئے تشریف فرما ہوئے تو سامنے کی تین صفوں کے طلباء کو پچھلی صفوں میں بیٹھنے کا حکم دے دیا۔ جب وہ پچھلی صفوں میں چلے گئے تو حضرت مدنی نے حدیث پڑھانا شروع کردی طلباء نے سوالیہ پر چیاں بھیجنا شروع کر دیں اور اعتراض کیا کہ ہمیں پچھلی صفوں میں کیوں بٹھایا گیا۔ بار بار یہی سوال آتا اور حضرت مدنی اونچی آواز میں پڑھ کر خاموش ہو جاتے ۔ جب طلباء کا اصرار بڑھ گیا تو حضرت مدنی نے ارشاد فرمایا: آج قاہرہ مصر سے تین سو جنات طالب علم بن کر یہاں دارالعلوم پہنچے ہیں اور مجھ سے حدیث پڑھنے کی نسبت قائم کر کے اجازت طلب کر رہے ہیں۔ اس لیے میں نے ان کا اکرام کرتے ہوئے پہلی تین صفیں خالی کروادی ہیں. ( بحوالہ کتاب: حقانی کے دیس میں صفحہ 80 ناشر : القاسم اکیڈمی جامعہ ابوہریرہ خالق آباد نو شہرہ )
گھروں سے سانپ نکلنے کے پیچھے چھپا انوکھا راز

محترم قارئین ! بعض اوقات عبقری میگزین میں ایسے واقعات شائع ہوتے ہیں، جن میں سانپوں کی صورت میں جنات کا ظاہر ہونا ثابت ہوتا ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس جدید سائنسی دور میں بھلا ان تو ہمات کا کیا تعلق ؟ آئیے دیکھتے ہیں کہ ہمارے اکابر کے ہاں ان ماوراء العقل واقعات کی کیا حیثیت تھی ؟ حضرت مولانا محمد عبد المعبود صاحب لکھتے ہیں : طالب علمی کے زمانے میں ہمشیرہ خورشید کے گھر ڈھوک شاہو میں ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ میں انہیں ملنے گیا۔ نماز مغرب کے بعد ہمشیرہ نے بتایا کہ ہماری گلی کی جانب سے روزانہ اس وقت ایک سانپ نکل کر ہمارے مکان میں چلا جاتا ہے۔ جب سانپ نکلتا ہے تو کتا اس پر بھونکتا ہے۔ میں نے پوچھا کوئی ڈنڈا ہے؟ تو ہمشیرہ جلدی سے ایک ڈنڈا پکڑ لائی۔ ابھی یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ کتے نے بھونکنا شروع کر دیا۔ ہمشیرہ کہنے لگیں : شاید سانپ نکل آیا ہے۔ دیکھا تو سانپ ان کے کمرے کی طرف جا رہا تھا۔ میں ڈنڈے کی طرف بڑھا تو وہ خود بخود ٹوٹا ہوا تھا۔ ہمشیرہ لالٹین لے کر آئیں تو وہ بھی اپنے آپ بجھ گئی۔ مجھے سانپ تو نظر نہ آیا، ویسے ہی ڈنڈے کا وار کر دیا۔ جب ڈنڈا زمین پر لگا تو سانپ کھڑا ہو گیا اور واضح نظر آنے لگا۔ میں گھبرا کر پیچھے ہٹا تو سانپ کمرے میں چلا گیا۔ فی الفور مجھے خیال آیا کہ در حقیقت یہ سانپ کی صورت میں ایک جن ہے، لہذا میں نے سورۃ یاسین اور چند دیگر سورتیں پڑھ کر پانی پر دم کیا اور تمام کمروں میں چھڑک دیا۔ الحمد للہ اس دن کے بعد کبھی وہ سانپ نظر نہ آیا. ( بحوالہ کتاب: نقوش زندگی ، صفحہ 100 ناشر : القاسم اکیڈمی جامعہ ابوہریرہ ، خالق آباد نوشہرہ)
جنات کا انکار کرنے والے اس حقیقت کو کیا کہیں گے

مولانا مفتی عاصم عبد اللہ صاحب لکھتے ہیں کہ : اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے آدم! میں آپ کو چند باتوں کا حکم دیتا ہوں۔ ایک بات میرے لئے ، ایک تیرے لئے ، ایک تیرے میرے درمیان اور ایک تیرے اور لوگوں کے درمیان ہے۔ جو میرے لئے وہ یہ کہ میری عبادت کرنا میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا ۔ جو بات تیرے لیے وہ یہ کہ جو عمل تم کروگے میں اس کا پورا پورا اجر دوں گا۔ جو تیرے اور میرے درمیان وہ یہ کہ دعاتم کرو گے قبول میں کروں گا۔ اور جو تیرے اور لوگوں کے درمیان وہ یہ کہ جو چیز اپنے لئے پسند کرو وہی ان کے لئے پسند کرو۔ حضرت آدم نے عرض کیا آپ کا ہر جنات کا انکار کرنے والے اس حقیقت کو کیا کہیں گے. مولانا مفتی عاصم عبد اللہ صاحب لکھتے ہیں کہ : اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے آدم! میں آپ کو چند باتوں کا حکم دیتا ہوں۔ ایک بات میرے لئے ، ایک تیرے لئے ، ایک تیرے میرے درمیان اور ایک تیرے اور لوگوں کے درمیان ہے۔ جو میرے لئے وہ یہ کہ میری عبادت کرنا میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا ۔ جو بات تیرے لیے وہ یہ کہ جو عمل تم کروگے میں اس کا پورا پورا اجر دوں گا۔ جو تیرے اور میرے درمیان وہ یہ کہ دعاتم کرو گے قبول میں کروں گا۔ اور جو تیرے اور لوگوں کے درمیان وہ یہ کہ جو چیز اپنے لئے پسند کرو وہی ان کے لئے پسند کرو۔ حضرت آدم نے عرض کیا آپ کا ہر فیصلہ عدل ہے۔ میں نے اپنے آپ پر زیادتی کی ہے مجھے آپ اپنے ہاں ٹھکانہ نہ دیں۔ آپ مجھے قبول فرمالیں، اللہ نے فرمایا : اے آدم ! میں نے قبول کیا۔ پھر حضرت جبرائیل نے ان دونوں کو جمع کر دیا تو حضرت آدم نے فرمایا : اے حوا مجھے بھوک لگی ہے۔ حضرت حوا نے کیا یہاں کھانا کہاں ہے کھانا تو جنت میں ہے پھر دیکھا کہ جنات روٹیاں پکا رہے ہیں اور کھا رہے ہیں۔ حضرت حوا نے ایسا ہی کیا جیسا کہ جنات نے کیا چنانچہ دونوں حضرات نے کھانا کھایا اور پانی پیا پھر ان کے پیٹ میں مرور ہوا تو بول براز کیا ۔ اللہ تعالی نے حضرت آدم سے فرمایا اے آدم! میں چاہتا ہوں کہ تیری نسل سے اپنے شہروں کو آباد کروں تب حضرت آدم حضرت حوا کے پاس صبح کے وقت جاتے تھے اور حضرت حوا شام کو دو جڑواں بچے جنتی تھیں. ( بحوالہ کتاب: سنہرے اوراق، صفحہ نمبر 20، ناشر: مکتبہ حمادیہ شاہ فیصل کالونی، کراچی)