کو ہاٹ کے پہاڑوں پر بسنے والے مکینک جنات

محترم قارئین! جو لوگ عبقری میگزین میں آنے والے جنات کے واقعات کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ سب قصے کہانیاں ہیں ۔ حضرت علامہ لاہوتی پر اسراری دامت برکاتہم العالیہ کا کوئی وجود نہیں، اگر وجود ہے تو ان کی بیان کردہ سب باتیں غلط ہیں، وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ آیئے دیکھتے ہیں کہ ہمارے اکابر و اسلاف کے ہاں جنات سے متعلق ماوراء العقل واقعات کس نوعیت کے تھے مولانا عبد القیوم حقانی صاحب ( جامعہ ابوہریرہ، نوشہرہ) لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ مرد قلند ر حافظ الحدیث حضرت مولانا عبد اللہ درخواستی صاحب رحمۃ اللہ علیہ سرگودھا سے کو ہاٹ تشریف لا رہے تھے۔ قاضی عبد القادر صاحب نے مجھے کہا کہ دو پہر کے وقت کالا چٹا پہاڑ پہ سفر کرنا خطرے کا باعث بن سکتا ہے کیونکہ گاڑی بہت گرم ہو جاتی ہے مگر حضرت درخواستی” کے حکم پر میں چل پڑا۔ جب پہاڑ کی چوٹی پر پہنچا تو اچانک گاڑی کا ٹائر پھٹ گیا۔ میں چونکہ نیا نیا ڈرائیور تھا، اور مجھے ٹائر بدلنا نہیں آتا تھا، اس لیے کافی پریشان ہو گیا۔ اسی دوران اچانک ایک سائیکل سوار ہمارے قریب آیا تو مرد قلندر حضرت درخواستی نے فرمایا : گاڑی کا سارا کام یہ شخص کرے گا۔ پس اسی آدمی نے آکر میری مدد کی اور گاڑی کا ٹائر بدل دیا۔ جب ہم دوبارہ چل پڑے تو میں نے عرض کی : حضرت! یہ جن تھا یا انسان ؟ اتنی شدید گرمی میں کوئی شخص سائیکل پر سوار ہو کر پہاڑ کی چوٹی پر تو نہیں آسکتا ! حضرت درخواستی ” نے فرمایا: آپ خاموشی سے گاڑی چلاتے رہیں ۔ میں نے پھر پوچھا : حضرت کہیں سے ٹائر مرمت کروالوں ؟ فرمایا: نہیں ! اللہ مدد فرمائے گا ، کو ہاٹ پہنچ کر مرمت کروالینا۔ لہذا جب کو ہاٹ پہنچ کر دیکھا تو ٹائر ٹکڑے ٹکڑے ہوا پڑا تھا لیکن اس کے باوجود گاڑی صحیح سلامت چلتی رہی. (بحوالہ کتاب: مرد قلندر صفحه 232 ناشر: القاسم اکیڈمی، جامعہ ابو ہریرہ خالق آباد، نوشہرہ)
عبقری میں ذکر کردہ جناتی حملوں کی پہلی دلیل

ماہنامہ عبقری کے ہر شمارے میں جنات کے انسانی زندگی پر اثرات اور ان کی وجہ سے ہونے والی مشکلات کا تذکرہ ہوتا ہے اس قسم کے واقعات کو سطحی علم رکھنے والے لوگ اپنی عقل کی ترازو میں تولنے کی کوشش کرتے ہوئے جھوٹے افسانے قرار دیتے ہیں جبکہ قرآن و سنت میں جابجا ان کی اس کارستانی کا تذکرہ ہے۔ احادیث مبارکہ کے چند واقعات پڑھیے اور اپنی عقل پر ماتم کیجئے۔ بچے کی پیدائش کے وقت جنات کا حملہ: انسانی دشمنی جنات کے رگ و ریشے میں اس طرح پیوست ہو چکی ہے کہ وہ ہر انسان پر اس کی پیدائش کے وقت بھی حملہ آور ہو جاتا ہے جو کہ ابھی بولنے چلنے پھرنے سے بھی قاصر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو شیطان اس کے دونوں پہلوؤں پر اپنی دونوں انگلیاں چھوتا ہے سوائے حضرت عیسیٰ بن مریم کے وہ ان کو چھونے کیلئے آیا مگر (اللہ تعالیٰ نے آگے پردہ کر دیا اس لیے) انگلیاں پردے میں چھبیں (بخاری) اور دوسری روایت میں ہے کہ شیطان کے انگلی چھونے کی وجہ سے بچہ چیخ مارتا ہے۔ (فتح الباری) ہم جب پیدا ہوتے ہیں تو جنات ہمارے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔ یہ وہ کیسے برداشت کر سکتے ہیں کہ ہم زندگی کے بابرکت لمحات اور خوشگوار زندگی گزاریں یا سکھ کا سانس لیں۔ اسی لیے عبقری کا مشن یہ ہے زیادہ سے زیادہ ان کی کارستانیوں کو بیان کیا جائے اور ان سے بچنے کیلئے اللہ کے نام کا سہارا لیا جائے۔
جی ہاں ! جنات آپ کے خون میں بھی شامل ہوجاتے ہیں ۔۔۔!

آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ شیطان انسان کے جسم میں خون کی طرح گردش کرتا ہے ۔ اور مجھے یہ اندیشہ ہےکہ وہ ان کے دلوں میں کوئی چیز نہ ڈال دے ۔ ماہنامہ عبقری کا دعویٰ صرف یہی نہیں کہ وہ انسان کی رگوں میں گردش کرتا ہے بلکہ وہ جنات تو قدم قدم پر انسان کو بہکانے ، ایمان سے پھسلانے ، کیلئے زندگی کے ہر شعبہ میں کو شش کرتے رہتے ہیں آئندہ اقساط میں عبقری کے اس دعویٰ کو دلائل کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں ۔۔۔! جنات کی کارستانیوں کےمستند واقعات’’اکابر پر اعتماد‘‘ کے دوستوں کیلئےدوسری دلیل میں آپ نے پڑھا کہ جنات انسانی دل پر بھی قبضہ کرلیتا ہے صرف یہی نہیں بلکہ یہ خبیث جنات تو آپ کے خون کےساتھ پورے جسم میں گردش کرتا رہتا ہے ’’مسند احمد ، بخاری شریف اور ابن ماجہ کی روایات عبقری میں ذکر کردہ اس جناتی حملے کاماخذ اور بنیاد ہیں : آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ شیطان انسان کے جسم میں خون کی طرح گردش کرتا ہے ۔ اور مجھے یہ اندیشہ ہےکہ وہ ان کے دلوں میں کوئی چیز نہ ڈال دے ۔ ماہنامہ عبقری کا دعویٰ صرف یہی نہیں کہ وہ انسان کی رگوں میں گردش کرتا ہے بلکہ وہ جنات تو قدم قدم پر انسان کو بہکانے ، ایمان سے پھسلانے ، کیلئے زندگی کے ہر شعبہ میں کو شش کرتے رہتے ہیں آئندہ اقساط میں عبقری کے اس دعویٰ کو دلائل کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں ۔۔۔!
مدرسہ کبیر والا میں علامہ لاہوتی صاحب کی طرح جنات کا دوست

علامہ لاہوتی صاحب سے’’ جنات ‘‘کی ملاقاتوں کی کہانی کوئی نئی نہیں بلکہ ہر دور میں بیش بہاایسی شخصیات گزری ہیں جن کا اوڑ نا بچھونا جنات کے ساتھ تھا آئیے ایک ایسے ہی’’ جنات‘‘ کے پیدائشی دوست سےسفیر ختم نبوت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی صاحب کی زبانی ملتے ہیں وہ مولانا محمدیوسف بہاولپوری صاحب ؒ کےبارے میں لکھتےہیں کہ مولانا موصوف دارالعلوم کبیر والا کے فاضل اور ہمارے استا دجی حضرت مولانا عبد المجید لدھیانوی نور اللہ مرقدہ کےچہیتے شاگردوں میں سے تھے۔ دارالعلوم کبیر والا کےزمانہ طالب علمی میں ’’یوسف جن ‘‘ کےنا سےمشہور تھے۔ گرمیوں کا موسم تھا کرتا اتار کرسونے کاپروگرام بنارہے تھےکہ کسی طالب علم نے دیکھ کر کہا کہ’’ جنوں‘‘ سے دوستی ہے اوربنیا ن پھٹی پڑی ہوئی ہے ۔ چند منٹوں کے بعد گلے میں نئی بنیان تھی۔ دارالعلوم کبیر والا کے بانی مولانا عبدالخالق ؒ (جو امام العصر حضرت علامہ انور شاہ کشمیری ؒ کےمایہ ناز شاگردوں میں سے تھے )انھوں نے مولانا محمد یوسف ؒ کو طلب فرمایا ، کچھ پڑھ کردم کیاتو’’ جن‘‘ حاضر ہوگیا ۔ آپ نے فرمایا کہ یہ بنیان کہاں سےلائےہو؟تو وہ جن کہنے لگاکہ ملتان چوک گھنٹہ گھر سے ۔ آپ نے فرمایا کہ اس کے پیسےبھی دیئے یا چوری کرکےلائے ہو؟ تو ’’جن ‘‘کہنے لگاکہ پیسے نہیں دیئے ۔ حضرت والا نے’’ جن ‘‘کو ڈانٹااور فرمایا کہ بنیان واپس رکھ کر آو، چنانچہ بنیان واپس چلی گئی ۔ (ہفت روزہ ختم نبوۃج38، 15 تا22محرم الحرام ھ مطابق16 تا22 ستمبر2019ء ،شمارہ )
خبردار! جنات آپ کی گھا ت میں ہیں ۔۔۔!

جنات کی کارستانیوں کےمستند واقعات’’اکابر پر اعتماد‘‘ کے دوستوںکیلئےتیسری دلیل میں آپ نے پڑھا کہ خبیث جنات تو انسان کے خون کےساتھ پورے جسم میں گردش کرتا رہتا ہےآج آپ پڑھیں گے کہ جنات کی بھر پور کوشش یہ ہے کہ وہ آپ کو مومنین کی جماعت سے علیحدہ کردے۔ ماہنامہ عبقری میں ذکرکردہ اس جناتی حملے کی دلیل سنن ترمذی اور مسند احمد کی وہ دلیل ہے جس میں حضرت اسامۃ بن شریک فرماتےہیں کہ انہوں نے حضور ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے سنا ہے کہ (1)’’اللہ تعالیٰ کا ہاتھ جماعت (مومنین )کےساتھ ہے ۔ جب کوئی شخص ان میں سے اکیلا نکلتا ہے تو شیاطین اسے اسی طرح اچک لیتے ہیں جس طرح بھڑیا ریوڑ کی بکری کو اچک لیتا ہے ۔ امیر المومنین سیدنا عمر بن الخطا ب ؓ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایاجو شخص جنت کے درمیان میں گھر چاہتا ہے وہ جماعت کو لاز م پکڑے رکھے کیونکہ شیطان اکیلے آدمی کے ساتھ ہوتا اور وہ دو آدمیوں سے بہت دور ہوتا ہے عبقری میں ذکر کردہ جنات کے انسانوں پرحملوں کے یہ تو بھی چند حوالہ جات ہیں ’’اکابر پر اعتماد ‘‘کے دوستوں کے استفادہ کیلئے ابھی حیرت انگیز مستند حوالہ جات آئندہ اقساط میں ملاحظہ فرمائیں ۔۔۔۔!
جنات کے نظر آنے میں دار العلوم کا فتویٰ

پروفیسر ڈاکٹر سید وقار احمد رضوی لکھتے ہیں کہ : دارالعلوم کے اول شیخ الحدیث حضرت مولانا سید احمد حسن امروہوی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس ایک طالب علم جنات سے متعلق پائے جانے والے شکوک و شبہات لے کر حاضر ہوا تو آپ نے میرے سوالوں کے جواب میں فرمایا کہ: نامور فقیہ شیخ احمد بن موسیٰ رحمۃ اللہ علیہ کے پاس ان کے شاگر د علامہ جندی ” پڑھنے کیلئے مسجد پہنچے تو دیکھا کہ استاد محترم کچھ لوگوں کے ساتھ بات چیت کرنے میں مصروف ہیں ۔ لہذا وہ خاموشی سے ایک طرف رک گئے ۔ فرمانے لگے کہ جب مجھے باتوں کی آواز آنا ختم ہو گئی تو میں ذرا سا کھانسا ، تا کہ استاد محترم متوجہ ہو جائیں ۔ شیخ احمد بن موسیٰ رحمۃ اللہ علیہ نے کھانسنے کی آواز سن کر پوچھا: کون ؟ تو میں نے عرض کی کہ میں ہوں۔ آپ نے اندر آنے کی اجازت عنایت فرمائی لیکن میں نے اندر جا کر دیکھا تو وہاں کوئی نہیں تھا۔ میں نے عرض کی: حضور ! ابھی ابھی تو میں آپ کے پاس کئی لوگوں کی آواز میں سن رہا تھا مگر اب یہاں کوئی بھی موجود نہیں ؟ شیخ احمد بن موسیٰ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: وہ ہمارے جن بھائی تھے جو مجھ سے مختلف مسائل دریافت کرنے کیلئے آئے ہوئے تھے. (بحوالہ کتاب: دار العلوم کے اول شیخ الحدیث کے احوال و آثار صفحہ ۱۵۵ مصنف: پروفیسر ڈاکٹر سید وقار احمد رضوی، ناشر: مکتبہ رشید یہ کراچی) دینی مدارس میں عمران سیریز کی جھوٹی کہانیوں کا رواج محترم قارئین ! درج بالا واقعے میں عبقری میگزین میں بیان کردہ حضرت علامہ لاہوتی پر اسراری دامت برکاتہم العالیہ کے جناتی واقعات جیسی ہی باتیں ہیں کہ سب کی موجودگی میں صرف ایک شخص کو جنات نظر آئیں مگر ان کے علاوہ کسی کو نظر نہ آئیں ۔ کیا اب عقل پرست لوگ اس واقعے کو بھی دیو مالائی کہانی یا من گھڑت قصے کہیں گے؟ حالانکہ دار العلوم کے شیخ الحدیث کی علمی عظمت اور وقار سب کے سامنے ہے۔ کیا وہ بھی دارالعلوم جیسے عظیم مدرسے میں بیٹھ کر عمران سیریز کی خود ساختہ کہانیاں بیان کرتے تھے؟
جنات کا استاد بننے پر مولانا محمد قاسم نانوتوی کی طرف سےمبارکباد

قارئین ! عبقری میگزین میں جنات کے واقعات شائع ہونے پر کچھ لوگوں کی طبیعت میں گرانی محسوس ہونا شروع ہو جاتی ہے، جبکہ ہمارے اکابر واسلاف کا یہ مزاج تھا کہ جنات سے تعلقات کو مبارک خیال کیا کرتے تھے۔ جیسا کہ دارالعلوم کے اولین شیخ الحدیث سید احمد حسن امروہوی رحمتہ اللہ علیہ کے متعلق ان کے پوتے مولانا پروفیسر ڈاکٹر سید وقار احمد رضوی لکھتے ہیں : میرے دادا حضرت مولانا سید احمد حسن امروہوی رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق امروہہ شہر میں یہ بات عام طور پر مشہور تھی کہ جب وہ درس حدیث ارشاد فرماتے تو اس میں جنات بھی شریک ہوتے تھے۔ اس بات کی تصدیق میرے والد مولانا حافظ سید محمد رضوی اور خود میرے دادا مولانا سید احمد حسن رحمہما اللہ کی ہے۔ چنانچہ جب میرے دادا نے اپنے استاد قاسم العلوم والخیرات مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمتہ اللہ علیہ سے اس بات کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا: مبارک ہو میر احمد حسن ! تمہارے درس میں جنات شریک ہوتے ہیں۔ لہذا علمائے دیوبند میں میرے دادا کو یہ فضیلت حاصل تھی کہ ان کے درس حدیث میں جنات بھی شریک ہوتے تھے. (بحوالہ کتاب: شیخ الحدیث اول دار العلوم ، سید العلماء حضرت مولانا احمد حسن محدث امروہوی رحمۃ اللہ علیہ کے احوال و آثار ، صفحہ 386 ناشر : مکتبہ رشید یه نزد مقدس مسجد اردو بازار، کراچی) قارئین ! درج بالا واقعے پر غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ جنات سے ملاقاتیں اور تعلقات ایسی لازوال حقیقت ہے ، جس کا تذکرہ سامنے آتے ہی بڑے بڑے اکابر علماء سر تسلیم خم کر دیتے تھے مگر افسوس ! آج ہم قرآن و سنت اور اپنے اکابر کی ترتیب سے اتنا دور ہو گئے کہ خود صراط مستقیم پر چلنے والوں ہی کو شک کی نگاہ سے دیکھنے لگے۔
عرب میں وہ کون سا آدمی ہے جو جادو کے ذریعے لوگوں کو غلام بنا لیتا تھا؟

دار العلوم رانڈیا کے استاذ الحدیث حضرت مولانا قمر عثمانی صاحب لکھتے ہیں : عرب کے شہر تریم میں ایک پردیسی عامل آیا جو جنات سے کام لیا کرتا تھا۔ جو لوگ اس کی باتون کو اہمیت نہ دیتے وہ انہیں اپنے جنات کے ذریعے تکلیف پہنچایا کرتا۔ اس لیے دنیا دار لوگ اس کے ہاں آنے جانے لگے۔ مدینہ منورہ میں حضرت سید علوی رحمتہ اللہ علیہ نامی ایک بزرگ تھے جن کی شہرت کا چرچہ کالے جادو گر تک پہنچا تو اس نے انہیں اپنے ہاں طلب کرنے کے سو جتن کیے مگر ناکام رہا۔ ایک دن اس نے کئی لوگوں کی موجودگی میں حضرت شیخ کو برا بھلا کہا ، تو اس مجلس میں موجود ایک شخص عیسی بن حرم نے اٹھ کر اس جادوگر کے منہ پر تھپڑ دے مارا اور کہا: ہم جن کے سامنے بولنے کی جرات نہیں کر سکتے ، تجھ جیسا خبیث آدمی ان کو گالی دیتا ہے؟ چنانچہ بعد میں عیسی بن حرم کو خوف محسوس ہوا کہ میں نے جو کالے جادوگر کو تھپڑ مارا ہے، کہیں اس کا بدلہ وہ جنات کے ذریعے نہ لے۔ لہذا وہ حضرت شیخ سید علوی کی خدمت میں مدینہ منورہ جا پہنچا، جو اس وقت مسجد نبوی شریف میں نوافل ادا کر رہے تھے۔ اس نے ساری بات ان کے گوش گزار کی تو انہوں نے فرمایا: ان شاء اللہ وہ جادو گر تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ تم آزادی سے زندگی بسر کرو لیکن عیسی بن حرم کا دل مطمئن نہ ہوا تو اس کے دل کا خوف بھانپتے ہوئے شیخ علوی اٹھے اور ایک دروازے کی طرف گئے ۔ اسے ہلایا تو وہاں سے پرندے جیسی ا ایک آواز آئی۔ پھر دوسرے دروازے کی طرف گئے، وہاں سے بھی یہی آواز آئی۔ واپس آکر فرمانے لگے : وہ جادو گر اپنے دو جنات کے ذریعے لوگوں کو تکلیف پہنچاتا تھا، میں نے انہیں قتل کر دیا ہے۔ لہذا اب مطمئن ہو جاؤ۔ یہ سن کر عیسی بن عمر کا دل خوش ہو گیا اور اس نے باقی لوگوں کو بھی جا کر یہ واقعہ سنایا۔ کالے جادوگر کو جب اپنے جنات کی ہلاکت کا پتہ چلا تو وہ شہر چھوڑ کر ہی بھاگ گیا. ( بحوالہ کتاب : مبارک تذکرے ، صفحہ 170 ناشر محبوب بک ڈپو، یوپی انڈیا )
حضرت بہلوی اپنے مہمان کو جنات کے ذریعے بلواتے

قارئین ! عبقری میں شائع ہونے والے جنات کے واقعات اگر خود ساختہ اور من گھڑت کہانیاں ہیں تو پھر ہمارے اکابر و اسلاف کے ساتھ رونما ہونے والے واقعات کیا تھے؟ حضرت مفتی حسین احمد بہلوی مدظله ( خانقاہ پہلو یہ نقشبندیہ مجددیہ ، شجاع آباد) فرماتے ہیں کہ حضرت مولانا عبد اللہ بہلوی رحمۃ اللہ علیہ جب بستی بہلی شریف میں موجود تھے، اس وقت وہاں زیادہ سواریاں نہیں ہوا کرتی تھیں۔ لوگ زیادہ تر پیدل ہی آیا جایا کرتے تھے۔ ایک رات حضرت کے عقیدت مند ایک اللہ والے آندھی اور بارش کے باوجود پیدل سفر کرتے ہوئے خانقاہ کی طرف جارہے تھے۔ راستہ بھی کچا تھا۔ اچانک ایک مخلوق (جنات) سامنے آگئی تو وہ ڈر گئے اس مخلوق نے کہا: ڈرو نہیں ! ہم حضرت بہلوی کے خادم ہیں اور آپ کو لینے آئے ہیں ، آئیں ہمارے ساتھ چلیں ( قارئین ! غور فرمائیں! یہ کیفیت بالکل وہی کی وہی ہے جو عبقری کے ہر دلعزیز کالم ” جنات کا پیدائشی دوست” میں بیان کی جاتی ہے ) وہ صاحب بعد میں بتانے لگے کہ جب میں ان کے ساتھ جارہا تھا تو مجھ پر بارش اور آندھی کا کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا ۔ جب خانقاہ میں پہنچا تو حضرت بہلوی رحمۃ اللہ علیہ مسجد کے صحن میں موجود تھے اور اپنے ہاتھ مبارک میں گڑ لیے ہوئے تھے۔ مجھے دیکھتے ہی فرمانے لگے: سردی ہے یہ کھالو، میرے فقیروں نے تمہیں تنگ تو نہیں کیا ؟ پھر حکم فرمایا کہ جا کر سو جاؤ اور خود نماز تہجد میں مشغول ہو گئے۔ بندہ (مفتی حسین احمد بہلوی ) نے یہ واقعہ مسجد نبوی شریف میں ایک بزرگ سے سنا اور حضرت والد ماجد مدظلہ سے بھی یہی واقعہ کئی مرتبہ سن چکا ہوں (منجانب: شعبہ نشر و اشاعت خانقاه بہلو یہ نقشبندیہ مجددیہ، شجاع آباد )
حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہ کے ہاتھ پر اسلام قبول کرنے والے 7 خوش نصیب جنات

عبقری میں شائع ہونے والے جنات کے متعلق واقعات کا ہمارے اکابر کی زندگی میں کیا ثبوت ہے، آئیے اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے آج ایک اور واقعہ قارئین کے پیش خدمت ہے۔ حضرت مولانا قمر عثمانی صاحب (سابق مدرس دار العلوم ، انڈیا) لکھتے ہیں کہ شیخ ابوالفضل جو ہری رحمتہ اللہ علیہ مصر کے بہت بڑے ولی اللہ تھے۔ ایک شخص ان کی شہرت کا چرچہ سن کر ان کی خدمت میں حاضر ہو تو ان کی شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ دیکھ کر دل ہی دل میں سوچنے لگا: دنیاوی شان وشوکت رکھنے والا شخص اللہ کا ولی کیسے ہوسکتا ہے؟ اور مایوس ہوکر واپس چل پڑا۔ راستے میں ایک عورت کو روتے ہوئے دیکھا تو ازراہِ ہمدردی اس سے رونے کی وجہ پوچھی۔ کہنے لگی : بیٹا میں ایک بیوہ عورت ہوں اور میری ایک ہی بیٹی ہے ، جس کی دو دن کے بعد شادی ہے، مگر اس پر کوئی ظالم جن مسلط ہو گیا ہے۔ سوچتی ہوں کہ بیٹی کو اس سے نجات کیسے ملے گی؟ ( قارئین ! اب جو لوگ عبقری میگزین میں ایسے واقعات پڑھ کر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ بھلا انسانوں کو جنات کیسے چمٹ سکتے ہیں؟ ان کیلئے یہ واقعہ ایک روشن مثال ہے ) بہر حال وہ شخص کچھ دم درود جانتا تھا تو کہنے لگا: اماں جی ! آپ پریشان نہ ہوں ، میں آپ کی بیٹی کا علاج کروں گا۔ چنانچہ جب وہ اس عورت کے ساتھ گھر پہنچا تو اس کی بیٹی عجیب و غریب حرکتیں کر رہی تھی۔ اس شخص نے اس پر دم کیا تو جن حاضر ہو گیا اور کہنے لگا: میں ان 7 جنات میں سے ہوں جنہوں نے حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا تھا۔ آج ہم ساتوں جنات حضرت شیخ ابوالفضل” کے پیچھے نماز پڑھنے حاضر ہوئے ہیں، جن سے تم بدگمان ہو کر واپس جارہے ہو۔ ہم جب یہاں سے گزر رہے تھے تو اس لڑکی نے گندگی پھینکی جو مجھ پر گری اور میں گندگی میں لتھڑ گیا۔ میرے باقی 6 ساتھی تو نماز میں شریک ہونے چلے گئے مگر میں محروم رہ گیا، اس لیے مجھے اس پر غصہ آیا تو میں نے اسے پکڑ لیا۔ اب مجھے تم پر بھی غصہ ہے کہ تم اس ولی اللہ کے بارے بدگمانی کرتے ہو؟ جن کے پیچھے نماز پڑھنے کیلئے ہم اتنی دور سے آئے ہیں؟ وہ شخص کہنے لگا: میں تو بہ کرتا ہوں کہ آئندہ ان کے متعلق دل میں برا خیال نہیں لاؤں گا مگر تم بھی اس لڑکی پر شفقت کرتے ہوئے اسے معاف کردو۔ چنانچہ وہ جن چلا گیا اور لڑ کی صحت یاب ہوگئی ۔ پس جب وہ شخص حضرت ابوالفضل رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں واپس پہنچا تو انہوں نے دیکھتے ہی فرمایا: سبحان اللہ تمہیں جب تک ایک جن سے گواہی نہ مل گئی ، ہمارے متعلق یقین ہی نہ آیا؟ (بحوالہ کتاب: مبارک تذکرے ، صفحہ 178 ناشر: محبوب بک ڈپو، یوپی انڈیا)