علامہ لاہوتی پراسراری صاحب کی طرف سے دعوت عام

قارئین! آج ہم آپ کو مولانا قمر عثمانی صاحب کی زبانی ایک ایسی ہستی کا واقعہ سناتے ہیں، جو اپنے وقت کے علامہ لاہوتی پراسراری تھے اور جنات کے ساتھ معاملات کیا کرتے تھے ۔ مولانا قمر عثمانی صاحب لکھتے ہیں کہ حضرت شیخ منادی رحمتہ اللہ علیہ اپنے پیر ومرشد شیخ ولی العراقی رحمتہ اللہ علیہ کی طرح جنات کو کھلے میدان میں پڑھایا کرتے تھے۔ وہ ایسی بارعب جگہ تھی ، جہاں کسی کو بھی جانے کی ہمت نہ پڑتی ۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے شادی بھی قوم جنات ہی میں کروائی ہوئی تھی۔ چنانچہ ہر سال میں ایک مرتبہ جب اپنی فصل کاٹتے تو قوم جنات کیلئے مہمان نوازی کا انتظام فرماتے ۔ جس میں جنات کی بہت بڑی تعداد شریک ہوتی۔ یہ سارا انتظام اسی کھلے میدان کے پاس موجود ایک بڑے گھر میں ہوتا لیکن صبح ہونے پر وہاں کسی قسم کی دعوت کا کوئی نام ونشان نہ ملتا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کے گھر والے قوم جنات کے ساتھ آپ کی گفتگو اور ان کے سوال و جواب سنتے ۔ اہل خانہ میں سبھی حضرات ان باتوں سے واقف تھے. (بحوالہ کتاب: مبارک تذکرے صفحہ 172 ناشر : محبوب بک ڈپو، اتر پردیش انڈیا )
جنات نے ایک بزرگ ہستی کی جان لے لی ۔۔۔۔!

دارالعلوم کے مایہ نازمدرس ، شیخ الہند کے شاگرد، حاجی امداد اللہ مہاجر مکی ؒ کے خلیفہ حضرت مولانا میاں اصغر حسین صاحب ، جوکہ علمی دنیامیں باکمال ہونے کے ساتھ ساتھ ’’تعویذات اور عملیات ‘‘میں بے مثال ہستی تھے ،ہندو ومسلم بلاامتیاز آپ کے ’’تعویذات‘‘ سے فیض یاب ہوتے ،جناب احسان دانش صاحب آپ کے جنات کے ساتھ وابستگی کے واقعات کو کچھ اس اندا ز سے بیان کرتے ہیں جسے پڑھ کر آپ کو ’’ماہنامہ عبقری میں علامہ لاہوتی صاحب ؒ کےبیان کردہ’’ جناتی‘‘ واقعات کی حقیقت واضح ہوجائےگی۔۔۔ جناب احسان دانش صاحب فرماتے ہیں کہ میں نے معتبر حضرات سے سنا ہےکہ زندگی کے آخری ایام میں ایک صاحب حضرت مولانا میاں اصغر حسین صاحب کو گجرات سے راندیر لے گئے ، جہاں ان کی حویلی میں جنات نے قبضہ کرلیا تھا۔ میاں صاحب جب وہاں پہنچےتوان کے پاس ایک’’ جن‘‘ بصورت انسان آیا جس کےہاتھ میں بہت بڑا پنجرا تھا جس میں سیکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں چھوٹے چھوٹے جانور تھے ، اس نےکہا میاں صاحب ؒ، اس حویلی میں ہم اتنے رہتے ہیں آپ ہمیں یہاں سے نہ نکالیں ، لیکن میاں صاحب پہلے اس حویلی کے مالک سے وعدہ کرچکےتھے اس لیے انہوں نے اس’’ جن‘‘ سے اپنی معذرت ظاہر کردی ۔ بعض حضرات کا خیال ہے کہ میاں صاحب کی موت کا سبب یہی ’’جنات‘‘ بنے تھے (گجرات جاتے وقت بعض قریبی دوستوں سے میاں صاحب ؒاپنی موت کی طرف اشارہ کرگئے تھے) واللہ اعلم ۔ (بحوالہ کتاب جہان دگر ، مصنف جناب احسان دانش صاحب ، ص 271، ناشر خزینہ علم وادب لاہور) یادر کھیں ! ’’ماہنامہ عبقری جنات ‘‘کےواقعات کو بناتا نہیں بلکہ بتا تا ہے ۔۔۔جوکہ ہمارےاکابر ؒ کی کتابوں میں ہزاروں کی تعد اد میں بکھر ے پڑے ہیں۔۔۔۔!
حضرت شیخ التفسیر کی ناراضگی پر جنات کا پورا قبیلہ معافی مانگنے آگیا

زمانے میں کہیں علوم و فنون کے ماہرین گزرے اور کہیں روحانیت و ولایت کے سرتاج لیکن ایک شخصیت ایسی بھی تھی جو بیک وقت علم و عرفان، رموز قرآن و حدیث سے آگاہی کے ساتھ علم وفضل ، اخلاق و اخلاص، تقوی و پرہیز گاری میں بھی بے مثال تھی۔ ان کا اسم گرامی سید العارفین، امام المفسرین حجتہ اللہ فی الارض الشیخ مولانامحمد عبد اللہ بہلوی مجددی رحمتہ اللہ علیہ تھا۔ آپ کے علم وفضل سے سے جہاں انسان سیراب ہوئے ، وہاں وہ مخلوق بھی بھر پور نفع اٹھاتی رہی جو عام انسانی نگاہوں سے اوجھل ہے اور اسے” جنات” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ حضرت عبداللہ بہلوی رحمتہ اللہ علیہ کی زندگی میں جنات سے متعلق بے شمار واقعات رونما ہوتے رہے، جن میں سے ایک یہ ہے کہ ایک مرتبہ بارشوں کے موسم میں بادلوں کی گہرائی نے آسمان کو گھٹا ٹوپ اندھیرے میں بدل دیا۔ پہلی شریف جو حضرت شیخ رحمتہ اللہ علیہ کا مسکن تھا ، وہاں کے لوگ ضرورت کی اشیاء خریدنے کیلئے قریبی قصبے غازی پور میں جاتے۔ اس وقت بھی انہیں دیا جلانے کیلئے تیل کی ضرورت تھی۔ موسم ناہموار، ہر طرف ویرانہ اور بادلوں کی کڑک ، رات کا وقت، پریشانی تھی کہ کس طرح تیل لا کر دیا جلایا جا سکے اور معمولات کا نقطل دور ہو۔ حضرت شیخ رحمتہ اللہ علیہ نے حکم دیا کہ کوئی ہمت کر کے قصبہ غازی پور جائے اور مٹی کا تیل لائے۔ یہ حکم فرما کر شیخ رحمہ اللہ علیہ تو گھر کی طرف چل پڑے لیکن ایک طالب علم اٹھا، لمحے بھر میں تیل کا پورا کنستر اٹھایا اور مدرسہ میں پہنچادیا۔ یہ طالب دراصل جناتی مخلوق میں سے تھا۔ جب اس بات کی اطلاع شیخ رحمتہ اللہ علیہ تک پہنچی توضیح ” اسی وقت جلالی تمتماہٹ سے تشریف لائے اور فرمایا : تم نے عہد دیا تھا کہ تم کوئی ایسا کام نہیں کرو گے جس سے تمھاری اصلیت افشاں ہو جائے اور دیگر طالبان علم و معرفت خوف زدہ ہوں۔ تم نے عہد توڑ دیا ہے، لہذا اب مدرسے میں رہنے کی اجازت نہیں ہے۔ وہ بے چارہ بہت منت سماجت کرتا رہا اور حضرت شیخ رحمتہ اللہ علیہ کے مسلسل انکار پر جنات کے پورے قبیلے اور سردار کو لے آیا۔ چنانچہ معافی ملنے کے بعد مدرسہ کا داخلہ تو مل گیا، مگر اسے دیگر طلباء سے اوجھل کر دیا گیا ۔جس کا قلق اس کو ہمیشہ رہا۔ اسکے قبیلے کے تمام جنات شیخ بہلوی رحمتہ اللہ علیہ کے ہاتھ پر بیعت ہوئے اور ہمیشہ کیلئے دیگر طلباء وسالکین سے اوجھل رہنا کا پکا عہد دیا۔ (منجانب مفتی حسین احمد بہلوی مدظله شعبہ نشر و اشاعت خانقاہ پہلو یہ نقشبندیہ مجددیہ شجاع آباد)
انسانوں سے زیادہ جنات کو بیعت کرنے والے بزرگ

محترم قارئین !عبقری میں’’ جنا ت‘‘ سے ملاقاتوں کا انکار کرنے والے ان اکابرؒ کی ملاقاتوں کے بارے میں کیا کہیں گے۔۔۔۔؟ استاذحدیث دارالعلوم حضرت مولانا سید اصغر حسین ؒجو کہ سید السادات تھے آپ کے مریدین کی تعداد تو ہزاروں میں ہے جبکہ آپ بہت کم مرید کرتے تھے ۔ لیکن یہ بات مشہور ہے کہ انسانوں سے زیا دہ آپ کے’’ جنا ت‘‘ مرید ہیں ، آپ بہت بڑے عامل بھی تھے ،’’ تعویز‘‘ لینے والوں اور دعا کے لیے آنے والوں کے لیے عصر کے بعد کا وقت مقرر تھا ۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگ دیو بند اورباہر سے آنے والے عصر کے بعد جمع ہو جا تے تھے۔ (دارالعلوم اور دیوبند کی تاریخی شخصیات ۱۷بحوالہ کتاب :اکابریندیوبند کے واقعات و کرامات ،مصنف :حافظ مومن خان عثمانی ،ناشر:المیزان ،ص۱۵۳) ’’ماہنامہ عبقری ‘‘میں علامہ لاہوتی صاحب کی ’’ جنا ت‘‘ سے ملاقاتوں کا انکار کرنے والے اکابر کی’’ جنا ت‘‘ سےملاقاتوں کے بارے میں کیا کہیں گے؟ یادرکھیں ! ’’علامہ لاہوتی صاحب ’’ جنا ت‘‘ سے ملاقات کے واقعات بناتے نہیں بلکہ بتاتے ہیں ۔۔۔!
دارالعلوم کے ایسے مفتی جن کا نام سنتے ہی جنات بھاگ جاتے تھے۔۔۔!

عبقری میں ذکر کردہ’’ دم اور تعویذ‘‘بھی ایک مستند علاج ہےجسکا ثبوت صحابہ کرامؓ ، اہل بیت عظام ؓاوراولیائے کرام ؒکےبارہا مشاہدات سے ثابت ہے ۔ مفتی اعظم ہند حضرت مولانا مفتی محمود حسن صاحب فرماتے ہیں کہ ایک صاحب کی اہلیہ پر’’ جن‘‘ کا اثر تھا اور تقریباًپچیس سال سے تھا ۔ میں نے جانچ کے لیے ایک ’’تعویذ‘‘ بھیجا اور کہا کہ مریضہ کو وضو کرا کر یہ’’ تعویذ‘‘ اس کے ہا تھ میں رکھ کر مٹھی بند کر دو۔ ایسا ہی کیا گیا ، اس پر وہ بولا کہ میں پچیس سال سے یہاں رہتا ہوں ،میرا نام ختم المرسلین ہے ،مجھے کچھ نہ کہنا ۔میں نے تین تعویذاور بھجوائے کہ ایک سر میں با ند ھ دو ،ایک بازو پر اورایک گلے میں ۔تو اس جن نے کہا کہ ہر گز نہیں ہرگز نہیں ،یہ’’ تعویذ‘‘ مت باندھنا میں نہیں جائو ںگا ۔مگر تعویز باندھ دیے گئے جس پر وہ’’ جن‘‘ بہت چلایا اورمریضہ بالکل مردہ کی طرح ہو گئ ،اس میں جان نہیں رہی ۔مجھ سے کہا گیاکہ وہ تو مر گئ ۔میں نے کہا کہ ابھی زندہ ہو جائے گی ۔ پانی دم کر کے بھیجا ،وہ اس پر ڈالا تو اٹھ کر بیٹھ گئ اور کہا کہ پچیس سال سے میرے پر کندھوں پر بھاری بوجھ رہتا تھا ،آج یہ ہلکے ہوئےہیں ۔ایک سال تک کوئی اثر نہیں ہوا ۔پورا ایک سال ہونے پر پھر آیا اور اپنا تعارف کرایا کہ میں وہی’’ جن‘‘ ہوں جو اب سے پہلے پچیس سال تک رہا تھا ۔ ان صاحب نے کہا کہ ابھی حضرت مفتی صاحب کو خط کے ذریعے مطلع کر رہا ہوں ۔بس اتنا سنتے ہی وہ ’’جن‘‘ چلا گیا ،پھر کبھی نہیں آیا ۔ (ملفوظات فقیہہ الامت قسط ۲/۱۰۱۔بحوالہ کتاب :اکابردیوبند کے واقعات و کرامات ،مصنف :حافظ مومن خان عثمانی ،ناشر:المیزان ،ص۴۴۳) ماہنامہ عبقری تو سو فیصد تعلیمات قرآن و حدیث کا ترجمان اور اکابرین امت کی سوچ کا علمبردار ہے ۔ اب آپ ہی بتائیے کہ جو لوگ تعویذات کو شرک کہتے ہیں وہ اس عمل کے بارے میں کیا کہیں گے ۔ فَاعْتَبِـرُوْا يَآ اُولِى الْاَبْصَارِ
خبردار جنات کے خوابوں سے ہوشیار رہیں ۔۔۔!

عبقری میں ذکر کردہ جناتی حملوں کی پانچویں دلیل جنات کی کارستانیوں کےمستند واقعات کے سلسلہ کی چوتھی دلیل میں آپ نے پڑھا کہ جماعت سے ٹوٹنا بھی جنات کی وجہ سےہوتا ہے آج آپ پڑھیں گے کہ جنات خوابوں کے ذریعے بھی انسانوں پر حملہ کرتے اور گمراہ کرنےکی کوشش کرتے ہیں ’’ماہنامہ عبقری‘‘ میں ذکر کردہ اس دعوی کی دلیل حضرت انسؓ، حضرت ابوبکرہؓ،حضرت ام العلاءؓ، حضرت ابن عمرؓ، حضرت عائشہؓ، حضرت ابوموسیٰؓ، حضرت جابرؓ، حضرت ابو سعید خدریؓ، حضرت ابن عباسؓ اورحضرت عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سےمنقول روایات ہیں ان میں سےایک روایت پیش خدمت ہے : حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ”خواب تین قسم کے ہوتے ہیں، ایک خواب وہ ہے جو سچا ہوتا ہے، ایک خواب وہ ہے کہ آدمی جو کچھ سوچتا رہتا ہے، اسی کو خواب میں دیکھتا ہے، اور ایک خواب ایسا ہے جو شیطان (جنات)کی طرف سے ہوتا ہے اور غم و صدمہ کا سبب ہوتا ہے، لہٰذا جو شخص خواب میں کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھے تو اسے چاہیئے کہ وہ اٹھ کر نماز پڑھے، آپﷺ فرمایا کرتے تھے: ”مجھے خواب میں بیڑی کا دیکھنا اچھا لگتا ہے اور طوق دیکھنے کو میں ناپسند کرتا ہوں، بیڑی کی تعبیر دین پر ثابت قدمی (جمے رہنا) ہے“، آپﷺ فرمایا کرتے تھے: ”جس نے خواب میں مجھے دیکھا تو وہ میں ہی ہوں، اس لیے کہ شیطان میری شکل نہیں اپنا سکتا ہے“، آپ ﷺفرمایا کرتے تھے: ”خواب کسی عالم یا خیرخواہ سے ہی بیان کیا جائے“۔امام ترمذی کہتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ عبقری میں ذکر کردہ جناتوں کے انسانوں پر حملے کےمستند حوالہ جات ’’اکابر پرا عتماد‘‘ کے دوست آئندہ اقساط میں ملاحظہ فرمائیں ۔
گھر جانے سے پہلے دیکھ لیں جنات تو آپ کےساتھ نہیں چمٹ گئے۔۔۔!

جنات کی کارستانیوں کےمستند واقعات کے سلسلہ کی پانچویں دلیل میں آپ نے پڑھا کہ جنات خوابوں کے ذریعے بھی انسانوں پر حملہ کرتے اور گمراہ کرنےکی کوشش کرتے ہیں کہ آج آپ پڑھیں گے کہ جب بھی آپ گھر جاتے اور کھانا کھاتے ہیں اس وقت بھی جنات آپ پر حملہ آور ہوتے ہیں ’’ماہنامہ عبقری میں علامہ لاہوتی صاحب کے ذکر کردہ اس دعویٰ کی دلیل صحیح مسلم کی وہ روایت ہے جو کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی گئی ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسولﷺکو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جب آدمی اپنے گھر میں داخل ہو تے وقت اور کھاتے وقت اللہ کا نا م لیتا ہے تو شیطان (جنات ساتھی جناتوں سے)کہتا ہے ,کہ تمہارے لئے یہاں شب بسر کرنے کی جگہ نہیں ہے اور نہ کھانا ہےاور جب گھر میں داخل ہوتے وقت آدمی اللہ کا نام نہیں لیتاتو شیطان (جن اپنے ساتھی جناتوں سے )کہتا ہے کہ تم نے شب بسر کرنےکی جگہ پالی , اور جب کھانا کھاتے ہوئے بھی اللہ کا نام نہیں لیتا ہے تو شیطان(جن) کہتا ہے کہ تم نے شب بسر کرنے اور کھانا کھانے کی جگہ پالی ۔ عبقری میں ذکر کردہ جناتوںکے انسانوں پر حملوں کےمستند حوالہ جات ’’اکابر پرا عتماد‘‘ کے دوست اگلی ملاحظہ فرمائیں ۔
اسکول پر جنات کا حملہ والدین محتاط ہوجائیں۔۔۔!

ماہنامہ عبقری میںذکر کردہ جناتی واقعات کو من گھڑت کہانیاں کہنے والے دور حاضر میں سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا کی زینت بننے والے ان واقعات کو کیا کہیں گے ۔۔۔! عمان(مانیٹرنگ ڈیسک) آپ نے جن بھوتوں اور چڑیلوں کے انسانوں پر حملوں کے قصے کہانیاں اور افسانے تو بہت پڑھ اور سن رکھے ہوں گے مگر اس کی حقیقت اردن کے ان طالب علموں سے پوچھی جائے جنہوں نے عملی طور پر نہ صرف جنوں کو دیکھا بلکہ ان کے حملے کا شکار ہو کر زخمی بھی ہوئے۔ اردن کے واقع لڑکیوں کے ایک اسکول میں اس وقت کہرام مچ گیا جب جنوں کے ایک شیطانی گروہ نے اچانک حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں 4 طالبات زخمی ہو گئیں۔ اس حملے کے بعد بعض مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اسکول پر شیطان جنوں کا قبضہ ہے کیونکہ اسکول کے ارد گرد آسیب زدہ درخت موجود ہیں اور عموماً ایسی عمارتیں بھی جنات اور شیاطین سے محفوظ نہیں رہ سکتیں۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بھی ایک دفعہ اردن ہی کے ایک اسکول میں جنوں نے حملہ کر دیا تھا جس میں ایک خاتون ٹیچر اور 17 طالبات نے بمشکل اپنی جان بچانے میں کامیاب ہوئیں تھیں۔ (ایکسپریس نیوز ہفتہ 8 نومبر 2014) اللہ کریم کے فضل و کرم سے عبقری کی کو شش یہی ہے کہ انسانیت زیادہ سے زیادہ جناتی حملوں سے مسنون اعمال کے ذریعے بچنے والی بن جائے ۔۔۔!
حضرت شیخ عبد القادر جیلانی” کو ڈرانے والا جن

حضرت مولانا قمر عثمانی صاحب مدظلہ لکھتے ہیں : رات کا پچھلا پہرتھا ، حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ مسجد میں مصروف عبادت تھے کہ اچانک انہیں مسجد کے ستون پر کوئی چیز رینگتی ہوئی محسوس ہوئی۔ اسی دوران ایک بڑا سانپ ان کے سامنے پھن لہرانے لگا۔ انہوں نے بلاکسی خوف کے سانپ کو ہاتھ سے ہٹا دیا اور سجدے میں چلے گئے۔ پھر جب التحیات میں بیٹھے تو سانپ ان کی ران سے ہوتا ہوا گردن سے لپٹ گیا۔ مگر جب انہوں نے سلام پھیرا تو سانپ وہاں موجود ہی نہ تھا۔ اگلے دن حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کو ایک اور انوکھا واقعہ پیش آیا۔ وہ مسجد کے ایک قریبی میدان سے گزر رہے تھے کہ انہیں ایسا شخص نظر آیا، جس کی آنکھیں بلی سے ملتی جلتی تھیں۔ البتہ غیر معمولی طور پر اس کا قد بہت لمبا تھا۔ انہیں یقین ہو گیا کہ یہ واقعی کوئی جن ہے۔ چنانچہ وہ شخص کہنے لگا: میں سچ سچ ایک جن ہوں، کل آپ نے مجھے سانپ کے روپ میں دیکھا تھا۔ میں نے آج تک متعدد بزرگ کو آزمایا مگر آپ کی طرح کوئی بھی ثابت قدم نہ نکلا۔ کچھ بزرگ تو مجھے دیکھ کر سخت گھبرا گئے اور بعض دلی طور پر خوف زدہ ہوئے ، مگر آپ واحد ہستی ہیں، جن کا ظاہر و باطن ایک جیسا رہا۔ اس کے بعد اس جن نے حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ علیہ سے درخواست کی کہ مجھے توبہ کرا دیں تو انہوں نے اس کی بات مانتے ہوئے توبہ کر ادی. (بحوالہ کتاب: حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ بحیثیت پیران پیر، صفحہ نمبر216 ناشر: محبوب بک ڈپو، اتر پردیش انڈیا )
ایسا پہلوان ، جس کے ہاتھ کتے جیسے تھے

محترم قارئین! آج کچھ لوگ جنات کے وجود میں شک اور انسانی زندگی پر جنات کے اثرات کا انکار کرنا شروع ہو گئے ہیں۔ حالانکہ ہمارے پیج ” اکابر پر اعتماد” میں ایسے درجنوں اکابرین امت سے ثبوت پیش کیا جا چکا ہے کہ انسانی زندگی میں جہاں دیگر مخلوقات بیکٹیریا، وائرس ، حشرات الارض ، ہوا، پانی ، موسم اور فرشتے وغیرہ) اثر انداز ہوتے ہیں، وہاں جنات کا بھی سو فیصد عمل دخل ہوتا ہے۔ ذیل میں ایک جلیل القدر محدث اور ایک عظیم صحابی رسول صلى الله عليه وسلم کا واقعہ ملاحظہ فرمائیں۔ مولا نا مفتی محمد صاحب میرٹھی نے لکھا ہے: حضرت یزید رقاشی فرماتے ہیں کہ حضرت صفوان مارز نی جب تہجد کیلئے کھڑے ہوتے تو ان کے ساتھ ان کے گھر میں رہنے والے جنات بھی کھڑے ہوتے تھے۔ وہ ان کے ساتھ نماز پڑھتے اور قرآن سنتے ۔ لوگوں نے سوال کیا کہ آپ کو کیسے خبر ہوئی ؟ کہنے لگے کہ ایک دن حضرت صفوان نے ایک شور سنا ، جس سے انہیں گھبراہٹ ہوئی ۔ پس ان کو آواز آئی کہ اے صفوان ! ڈ رو مت ، ہم تو تیرے جن بھائی ہیں۔ تیرے ساتھ اٹھ کر تہجد کی نماز پڑھتے ہیں۔ اس کے بعد اس حرکت سے وہ مانوسn ہو گئے اور ان کی گھبراہٹ جاتی رہی ( بحوالہ کتاب: جنات کے حالات و احکام) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی کسی جن کے ساتھ ملاقات ہوئی تو اس نے کہا: آپ مجھ سے کشتی لڑیں گے؟ چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ نے اسے کشتی میں پچھاڑ دیا اور فرمایا: کیا بات ہے کہ میں تمہیں بہت کمزور دیکھتا ہوں اور تمہارے ہاتھ کتے جیسے ہیں۔ کیا تم جنات میں سے ہو؟ جن بولا : ہاں۔۔ لیکن کیا آپ رضی اللہ عنہ آیۃ الکرسی پڑھتے ہیں؟ جو شخص بھی گھر میں داخل ہوتے وقت آیتہ الکرسی پڑھ لے تو شیطان وہاں سے گدھے کی طرح گوز مارتا ہوا بھاگ جاتا ہے. ( بحوالہ کتاب: مصائب الانسان من مكائد الشيطان صفحه 142 مصنف: شیخ ابن مفلح )