ارے ! تم سب کے سروں پر مٹی پڑی ہوئی ہے

ہمارے اکابر و اسلاف کا یہ معمول تھا کہ وہ قرآن وحدیث سے مسائل کا استنباط کر کے مخلوق خدا کی خیر خواہی کے لیے وظائف اخذ کرتے تھے۔ مثلاً قرآن مجید کی سورۃ مریم میں حضرت زکریا علیہ السلام کا واقعہ موجود ہے کہ جس وقت انہوں نے حضرت مریم علیہ السلام کے پاس بے موسم پھل دیکھے تو اسی وقت استنباط کرتے ہوئے سوچا کہ جو رب اس با عصمت خاتون کو بے موسم پھل دے سکتا ہے، کیا وہ مجھے بڑھاپے میں اولاد نہیں دے سکتا ؟ لہذا اسی وقت دعا مانگنے پر حضرت یحییٰ علیہ السلام کی صورت میں صالح بیٹا مل گیا۔ ماہنامہ عبقری میں حضرت علامہ لاہوتی پراسراری صاحب دامت برکاتہم العالیہ کے مضمون میں اکثر ایسے واقعات ملتے ہیں، جن میں وہ لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ رہ کر دور دراز کا سفر فرماتے ہیں۔ اس پر کچھ لوگ اپنے اکابر واسلاف کی ترتیب زندگی سے غفلت کی بناء پر کہتے ہیں کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ علامہ لاہوتی صاحب دامت برکاتہم دنیا میں رہتے ہوئے بھی کسی کو نظر ہی نہ آئیں؟ حالانکہ جب ہم صحیح احادیث کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہجرت مدینہ کا واقعہ سامنے آتا ہے کہ جب حضور سرور کونین صلی السلام نے ہجرت کا ارادہ فرمایا تو آپ صلی الہ السلام کے گھر کے باہر مشرکین کا پہرہ لگا ہوا تھا۔ لیکن آپ صلى الله عليه وسلم سورہ یاسین اور خاص طور پر یہ آیت ( وَجَعَلْنَا مِن بَين أَيْدِيهِم سَدًّا وَمِن خَلْفِهِم سَدًّا فَأَعْشَينُهُم فَهُم لَا يُبْصِرُونَ) پڑھتے ہوئے پہرہ دینے والے مشرکین کے سروں پر خاک ڈال کر تشریف لے گئے اور کسی کو نظر بھی نہ آئے ۔ بعد میں کسی نے کہا کہ حضرت محمد صلى الله عليه وسلم تو ابھی ابھی تمہارے سروں پر مٹی ڈال کر یہاں سے رخصت ہوئے ہیں۔ جب انہوں نے دیکھا تو واقعی ان سب کے سر خاک آلود تھے۔ اسی واقعے سے استنباط کرتے ہوئے ہمارے اکابر نے خطرے کی حالت میں حجاب الابصار کا عمل اپنے معمولات میں شامل رکھا اور انہی اکابر واسلاف کے طریقے پر عمل کرتے ہوئے حضرت علامہ لاہوتی پراسراری دامت برکاتہم بوقت ضرورت اس عمل کو مخصوص تعداد اور مخصوص طریقے کے ذریعے اپنے استعمال میں لے آتے ہیں۔

بات ابھی دل میں ہی تھی کہ درویش چل پڑا

محترم قارئین ! ماہنامہ عبقری میں شائع ہونے والے ہر دلعزیز کالم ” جنات کا پیدائشی دوست” کے متعلق کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس میں حضرت علامہ لاہوتی پراسراری دامت برکاتہم کی کشفی کیفیات سمجھ سے بالا تر ہیں۔ حالانکہ ایسے لوگوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ کائنات صرف ہماری محدود عقل کے مطابق نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ نے بعض کو بعض پر فضیلت بخشی ہوئی ہے۔ آیئے دیکھتے ہیں کہ اکابر واسلاف ” میں حضرت علامہ لا ہوتی صاحب دامت برکاتہم جیسا کشف کس کس کو حاصل تھا؟ شیخ الحدیث مولانا محمد موسیٰ روحانی بازی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں کہ : مشہور عارف باللہ شیخ عبد اللہ دینوری نے فرمایا: ایک دن میرے پاس ایک خستہ حال درویش آکر بیٹھ گیا۔ میں نے دل ہی دل میں ارادہ کیا کہ اپنے جوتے کسی کے پاس رہن رکھ کر اس درویش کے کھانے کی کوئی چیز لے آؤں، لیکن پھر دل میں خیال آیا کہ ننگے پاؤں رہ کر صفائی کس طرح برقرار رکھ سکو گے؟ پھر سوچا کہ اپنی چادر گروی رکھ دوں، لیکن خیال آیا کہ پھر ننگے سر رہ جاؤ گے۔ ابھی اسی تردد میں تھا کہ وہ درویش اٹھ کر چل پڑا اور کہنے لگا: اسے کم ہمت ! اپنی چادر اپنے پاس ہی رکھ! میں جارہا ہوں ۔ مولانا محمد موسیٰ خان روحانی بازی مزید لکھتے ہیں : معلوم ہوتا ہے کہ وہ درویش صاحب کشف و الہام تھے ، اسی لیے انہیں شیخ عبداللہ دینوری کے قلبی ارادوں کا کشف ہو گیا ( بحوالہ کتاب: رزق اولیاء کے غیبی اسباب ، صفحہ 134 ناشر : ادارہ تصنیف وادب ، جامعہ محمد موسیٰ روحانی البازی ، نزداجتماع گاہ ، رائے ونڈ لاہور ) مولا نا حکیم محمد عبد اللہ صاحب ( بانی ادارہ مطبوعات سلیمانی ) فرماتے ہیں کہ ایک دن میرے دل میں کسی شخص (بزرگ) سے ملنے کا خیال پیدا ہوا اور میں نے چاہا کہ ان کے پاس جا کر کچھ دن قیام کر کے فیض حاصل کروں۔ ابھی یہ بات میرے جی میں ہی تھی کہ میرے والد مولانا صوفی محمد سلیمان صاحب فرمانے لگے : ذرا سوچ سمجھ کر جانا، آج کل اللہ والے کم ہیں اور دکاندار یاں بہت زیادہ ہیں۔ چنانچہ کچھ عرصہ بعد معلوم ہوا کہ وہ شخص واقعی دکاندار تھے (بحوالہ کتاب: بسوانح عمری، صفحہ 73 مصنف : مولانا احمد الدین حنیف، ناشر: محمدی اکیڈمی، محلہ تو حید گنج، منڈی بہاؤالدین) قارئین ! اگر آپ کے پاس اس جیسے مزید حوالہ جات ہوں، تو ہمیں ضرور بھیجیں۔ تا کہ جولوگ مخلوق خدا کے عقائد میں وساوس پیدا کر رہے ہیں، ان کی اصلاح کیلئے محنت اور دعا کی جاسکے۔

اولیاء کو علم لد نی کیسے حاصل ہوتا ہے؟

محترم قارئین ! بعض خاص الخاص اولیائے کرام کے دلوں پر انوارات الہیہ کا نزول ہر وقت ہوتا رہتا ہے، جس کی برکت سے ان پر کائنات کے ایسے علوم کھلتے ہیں ، جن تک عام انسان کی رسائی نہیں ہوتی۔ ماضی میں ایسے علوم کی حامل کئی ہستیاں گزری ہیں مثلا شیخ اکبر علامہ محی الدین ابن عربی ، حضرت پیر علی ہجویری ، شیخ عبد القادر جیلانی ، شاه نعمت الله المعروف شاہ مینا لکھنوی، حضرت سلطان باہو، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ، شاہ اسماعیل شہید اور حضرت خواجہ سید محمد عبد اللہ مجذوب وغیرہ۔ ہم ان ہستیوں کی کتابوں میں ابھی تک کائنات کے سربستہ راز اور غیبی علوم بکھرے ہوئے ہیں۔ موجودہ دور میں انہی لدنی اور وہبی علوم و اسرار کی حامل جلیل القدر ہستی حضرت علامہ لاہوتی پر اسراری دامت برکاتہم العالیہ ہیں۔ جن کا سلسلہ وار مضمون ” جنات کا پیدائشی دوست” کے عنوان سے ماہنامہ عبقری میں شائع ہوتا ہے ۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ ہمارے اکابر واسلاف کے ہاں ان غیبی علوم کی کیا حقیقت تھی ؟ حجتہ الاسلام حضرت شاہ محمد اسماعیل شہید رحمة اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ : انسان کے علمی ذرائع تین ہیں محسوسات سے معلومات کا اخذ کرنا، یہ پہلا طریقہ ہے۔ دوسرا طریقہ وہ ہے جس میں ان چیزوں کا علم ان معلومات سے حاصل کیا جاتا ہے، جو مجہول اور نا معلوم ہیں۔ اور تیسرا طریقہ وہ ہے جسے علم بالغیب کہتے ہیں، یعنی غیب سے یہ علم پایا جاتا ہے۔ غیب سے علم پانے کا جو طریقہ ہے، اس کے ذیل میں وحی تحدیث، تفهیم، ذوق ، معرفت ، علم لدنی ، مشاہدہ ، وجدان ، تجلیات ، کشف ، عالم مثال کے ساتھ اتصال وربط صوری تجلیات جیسی چیزیں داخل ہیں ۔ ذوق سے جو چیزیں حاصل ہوتی ہیں، انہی کی تفصیل کا نام حکمت ہے اور معرفت کی راہ سے حاصل شدہ امور کی تفصیل کا نام فن حقائق ہے۔ جن اصطلاحات کا تذکرہ غیبی علوم کے سلسلے میں کیا گیا ہے ان کے معانی اور مطالب کا تذکرہ عنقریب آئندہ کیا جائے گا، ابھی اس کا انتظار کرو بعض دفعہ وحی کے سوا سارے علوم جو غیب سے حاصل کیے جاتے ہیں ، ان سب کی تعبیر کشف اور الہام سے لوگ کرتے ہیں۔ معصوم کے خبر دینے سے جو علم حاصل ہوتا ہے۔ یعنی عموماً جسے علوم نقلیہ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے، دراصل علم کی یہ قسم نظریات ہی کے سلسلے میں داخل ہے۔ کیونکہ معلومات جو معصوم کے ذریعے سے حاصل ہوتے ہیں، ان پر اعتماد کرنے اور ان کو ماننے کی وجہ بھی یہی ہوتی ہے کہ آدمی کی عقل اپنے اندر مقدمات کو گویا اس طریقے سے مرتب کرتی ہے۔ یعنی یوں فیصلہ کیا جاتا ہے کہ یہ ایسی بات ہے، جس کی خبر معصوم نے دی ہے. ( بحوالہ کتاب: العبقات صفحہ 7 ناشر: ادارہ اسلامیات، انارکلی، لاہور )

ایک دن میں دس کتابیں پڑھنا اور سینکڑوں صفحات لکھنا کیسے ممکن ہے؟

ماہنامہ عبقری کے سر پرست حضرت علامہ لاہوتی پراسراری صاحب دامت برکاتہم کے کالم جنات کا پیدائشی دوست” میں یہ بات عام طور پر ملتی ہے کہ وہ کم وقت میں زیادہ کام کر لیتے ہیں، یا چندلمحات میں لمبا فاصلہ طے کر لیتے ہیں۔ ان کے متعلق جولوگ ایسی باتوں کو صرف عقل کے معیار پر تولتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟ انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ اولیاء اللہ کی کرامات برحق ہیں ۔ اور کرامت تو کہتے ہی اُسے ہیں ، جو عام انسان کے بس سے باہر اور عقل سے ماوراء ہو ۔ جیسا کہ: امام ابن قیم علیہ الرحمہ لکھتے ہیں کہ میں نے خود شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ( مکتبہ اہل حدیث ) کے کاموں میں عجیب و غریب برکت دیکھی ۔ آپ صرف ایک دن میں اتنی زیادہ تحریر کر لیتے تھے، جتنی ایک کا تب پورے ہفتے میں بھی نہیں کر سکتا۔ صرف تحریر و تصنیف میں ہی نہیں ، بلکہ آپ میدان جنگ میں بھی کامل تھے۔ چنانچہ تاتاریوں کے خلاف جہاد میں آپ نے وہ کمالات دکھائے ، کہ بڑے بڑے بہادروں کے منہ کھلے رہ جاتے ہیں ( بحوالہ کتاب: ذکر الہی صفحہ 203 ناشر : دار السلفیہ، حفیظ الدین روڈ بمبئی نمبر 8) حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں کہ امام غزائی کی لکھی ہوئی کتابوں کو اگر ان کی پوری زندگی پر تقسیم کیا جائے ، تو روزانہ سولہ جز کی تصنیف بنتی ہے، جو کسی طرح سمجھ نہیں آتی ۔ اسی طرح امام عبدالوہاب شعرانی نے اپنی کتاب” الیواقیت والجواہر” کے متعلق فرمایا ہے کہ اس کتب کے 300 باب ہیں اور یہ مکمل کتاب کئی ہزار صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کے ہر باب کو لکھنے سے پہلے میں نے شیخ اکبر علامہ محی الدین ابن عربی کی کتاب ” فتوحات مکیہ” کا مکمل مطالعہ کیا ہے ۔ یعنی 300 باب لکھنے سے پہلے 300 مرتبہ فتوحات مکیہ کا مطالعہ کیا۔ پھر سب سے حیرت انگیز بات دیکھی کہ میں نے یہ کتاب صرف 30 دن کے اندر لکھی ہے۔ لہذا روزانہ فتوحات مکیہ کا مطالعہ بھی دس دفعہ بنتا ہے اور کتاب کے لکھے جانے والے باب بھی روزانہ دس بنتے ہیں. (بحوالہ کتاب: حضرت تھانوئی کے پسندیدہ واقعات، صفحہ 204 مرتب: مولانا ابوالسن اعظمی ، ناشر: مکتب مدنی، اردو بازار لاہور ) مولانا سید محمد ذاکر شاہ چشتی سیالوی ( مکتبہ بریلویہ ) لکھتے ہیں کہ حضرت شیخ بن علی ایک دفعہ محرقہ نامی جگہ میں اپنے شاگرد عبد اللہ بن محمد کے ساتھ تھے۔ شاگرد نے کہا کہ ہم یہاں مغرب کی نماز ادا کر لیتے ہیں، پھر سفر پر روانہ ہو جائیں گے۔ یہ سن کر آپ نے فرمایا کہ ہم تو مغرب کی نماز تریم میں جا کر پڑھیں گے۔ حالانکہ محرقہ اور تریم کا فاصلہ 3 کوس کا تھا اور سورج غروب ہونے سے پہلے وہاں پہنچنا ناممکن تھا۔ چنانچہ آپ کے شاگرد نے کہا: ایسا ہونا تو بہت مشکل ہے۔ آپ نے فرمایا: ذرا اپنی آنکھیں بند کرو۔ اس نے آنکھیں بند کیں تو فرمایا: اب کھول لو۔ جب دیکھا تو وہ تریم میں کھڑے تھے اور سورج ابھی ویسے کا ویسا تھا۔ (بحوالہ کتاب: جامع کرامات الاولیاء، صفحہ 235 ناشر : ضیاء القرآن پبلی کیشنز، لاہور )

جس کو شک ہے ، آئے ! میں اسے جنات کے نام رقعہ لکھ کر دیتا ہوں

محترم قارئین ! ماہنامہ عبقری کے کالم ” جنات کا پیدائشی دوست ” میں بیان کیے جانے والے تمام حقائق ہمارے اکابر و اسلاف کی کتب میں صدیوں سے چلے آ رہے ہیں۔ جس شخص کا مطالعہ اس موضوع پر نہیں ہوتا وہ اپنی معلومات کے خلاف ہر بات کو خلاف شریعت کہہ کر رد کر دیتا ہے۔ حالانکہ دین عقل کا نام نہیں نقل کا نام ہے۔ یعنی اکابر سے جو روایات سینه در سینه نقل ہوتی چلی آرہی ہوں اور لاکھوں لوگوں کے مشاہدات بھی موجود ہوں تو ان کا انکار کرنا ایسے ہی ہے ، جیسے کوئی نا بینا شخص روشن دن کو بھی تاریک رات کہہ دے ۔ درج ذیل مثالیں ملاحظہ فرمائیں : مولانا محمد الیاس قادری ( مکتبہ بریلویہ ) لکھتے ہیں کہ حضرت ابو میسر ہ حرانی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: ایک دن قاضی محمد بن علا ثہ رحمتہ اللہ علیہ کے پاس مدینہ منورہ کے جنات اور انسان ایک کنویں کا جھگڑالے کر آئے۔ میں نے ان کی گفتگوسنی ۔ قاضی صاحب نے انسانوں کیلئے فیصلہ کیا کہ وہ طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک اس کنویں سے پانی بھر لیا کریں اور جنات کیلئے یہ فیصلہ کیا کہ وہ غروب آفتاب سے لے کر طلوع فجر تک پانی لے لیا کریں۔ چنانچہ اس فیصلے کے بعد اگر کوئی انسان غروب آفتاب کے بعد کنویں سے پانی لیتا تو اسے پتھر مارا جاتا ( بحوالہ کتاب: قوم جنات اور امیر اہل سنت صفحہ 82 ناشر : مکتبۃ المدینہ کراچی) مولانا حکیم محمد ا در یس فاروقی ( مکتبہ اہل حدیث ) لکھتے ہیں کہ ایک دن مولانا عبد المجید سوہدروی نے منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا کہ جنات بھی انسانوں کی طرح ہے، جن میں اچھے اور برے دونوں پائے جاتے ہیں۔ ایک تعلیم یافتہ شخص نے اسی وقت جنات کے وجود پر تذبذب کا اظہار کیا تو آپ نے فرمایا : جب قرآن وحدیث میں جنات کا تذکرہ موجود ہے تو انکار کرنے کی کیا گنجائش ہے؟ اگر آپ اپنی آنکھوں سے جنات کا مشاہدہ کرنا چاہتے ہیں تو میں آپ کو ایک رقعہ دے کر فلاں جگہ بھیجتا ہوں، وہاں پانچ ہزار اہل حدیث جنات موجود ہیں ، جو آپ کو کھانا بھی کھلائیں گے۔ پھر آپ کو ان کے متعلق کسی قسم کا شبہ نہیں رہے گا ( بحوالہ کتاب: کرامات اہل حدیث صفحہ 131 ناشر: مسلم پبلی کیشنز سو بارہ) امام جلال الدین سیوطی ( مکتبہ حنفیہ ) لکھتے ہیں کہ شیخ ابو نصر شعرانی نے حماد بن شعیب سے روایت بیان کی کہ وہ ایک ایسے شخص سے ملے جو جنات سے کلام کیا کرتے تھے۔ جنات نے انہیں بتایا کہ انسانوں میں جو شخص سنت نبوی سالی اسلم پر زیادہ کار بند ہو، وہ قوم جنات پر زیادہ بھاری ہوتا ہے۔ (بحوالہ کتاب: لقط المرجان فی احکام الجان، صفحہ 144 ناشر : مکتبہ برکات المدینہ، بہادر آباد کراچی ) ملامحسن فیض کاشانی ( مکتبہ اثنا عشریہ ) لکھتے ہیں : حضرت سعید بن عباس رازی سے روایت ہے کہ یمن کے چند لوگ امام مالک کی خدمت میں گئے اور کہا : ہمارے ہاں ایک جن ہماری لڑکی کو نکاح کا پیغام بھیجتا ہے اور کہتا ہے کہ میں حلال کا خواہش مند ہوں ۔ امام مالک نے فرمایا کہ میں اس کے متعلق دین میں کوئی حرج نہیں سمجھتا لیکن اس بات کو پسند بھی نہیں کرتا۔ (بحوالہ کتاب: المحجة البيضاء صفحہ 123 ناشر : مكتبه الصدوق تہران )

جنات ، عامل کی بات مانتے ہیں یا اولیاء کی؟

محترم قارئین ! جس طرح جنات کے پیدائشی دوست حضرت علامہ لاہوتی پراسراری دامت برکاتہم کے شب و روز مسلسل جنات کی ہمراہی میں گزر رہے ہیں، اسی طرح ہمارے اکابر و اسلاف میں کئی جلیل القدر ہستیاں اپنے اپنے زمانے میں جنات کی مخدوم تھیں۔ جن لوگوں کا مطالعہ ایسی باتوں کی طرف نہیں ہوتا ،وہ ماہنامہ عبقری کے اس کالم پر بے بنیاد اعتراض کرتے ہیں۔ لیکن اہل علم حضرات جانتے ہیں کہ جنات سے دوستی ہو جانا ، یا ان کا مخدوم بن جانا ، کوئی ایسی چیز نہیں، جونا ممکنات میں ۔ آئیے قارین عبقری سے بھیجی گئی چند مزید مستند معتبر اور باحوالہ مثالیں ملاحظہ فرمائیں۔ مفتی محمد فیض احمد اویسی رحمۃ اللہ علیہ (مقتبہ بریلوی) لکھتے ہیں کہ:حضرت غوث اعظم شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے جنات غلام تھے۔ ایک مرتبہ اصفہان کا رہائشی ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اورعرض کی: اے غریب نواز ! میری بیوی کو آسیب کا مسئلہ ہے اور اسے بہت کثرت سے دورے پڑ تے ہیں۔ تمام عامل اس کے علاج سے عاجز آ گے ہیں حضرت غوث اعظم نےفرمایا یہ سراندیپ کے بیابان کا جن ہے، جس کا نام خانس ہے ۔ اب جس وقت تمہاری بیوی کو اس کی شکایت ہو تو کہنا: اے خانس ! بغداد کے عبد القادر کہتے ہیں سرکشی نہ کر ! اگر آج کے بعد تو نے ایسا کیا تو ہلاک کر دیا جائے گا۔ چنانچہ اس کے بعد اس کی بیوی کو کبھی شکایت نہ ہوئی ( دیکھیں کتاب : بہجۃ الاسرار صفحہ 72 ، تحفہ قادریہ صفحہ 68، بحوالہ کتاب: جن ہی جن صفحہ 154 ناشر : سیرانی کتب خانه، نز دسیرانی مسجد بہاولپور ) علامہ مولانا محمد یوسف خان کلکتوی ر حمتہ اللہ علیہ(مکتبہ اہل حدیث ) کی خطابت میں ایسا جادو تھا کہ کوئی شخص بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔ مدرسہ غزنویہ میں کچھ جنات آپ کے باقاعدہ طور پر شاگرد بن چکے تھے۔ ایک دن جنات نے آپ سے گزارش کی کہ آپ ہمارے قبیلے میں تشریف لے چلیں اور وہاں دین کی تبلیغ فرمائیں۔ آپ کی تبلیغ سے ہمارے بہت سے بھائی راہ راست پہ آجائیں گے۔ چنانچہ جنات علامہ صاحب کو اٹھا کر اپنی بستی میں لے گئے اور پورا ایک ہفتہ آپ سے وعظ و نصیحت سنتے رہے۔ علامہ صاحب کے گھر والوں اور مدرسے کے ناظمین کو کوئی خبر نہ تھی کہ آپ کہاں ہیں ۔ بالآخر ایک ہفتے بعد اچانک خود تشریف لائے اور آکر سارا واقعہ سنایا؛ یہ بھی فرمایا کہ جنات نے مجھے ایک خاص وظیفہ دیا ہے کہ مجھے جب کبھی ان کی ضرورت پڑے ، تو میں انہیں اسی وقت حاضر کر لیا کروں. ( بحوالہ کتاب: سوانح علامہ یوسف خان کلکتوی صفحه 162 ترتیب: مولانا شفیق الرحمان فرخ حفظه الله، ناشر: هدی اکیڈمی ، گلریپ کالونی، ہمن آباد لاہور ) حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ خواجہ محمد غوث گوالیاری نے ایک مرتبہ اپنے خادم جنات کو بھیجا کہ جا کر شیخ عبد القدوس گنگوہی کو یہاں لے آئیں۔ جنات ان کی مسجد میں پہنچے، مگر شیخ کے پاس جانے کی ہمت نہ ہوئی۔ شیخ عبد القدوس گنگوہی نے خود ہی محسوس کیا تو فرمایا: کدھر آئے ہو؟ جنات نے جواب دیا کہ خواجہ حمد غوث آپ کی زیارت کرنا چاہتے ہیں، اگر آپ کا حکم ہو تو ہم آپ کو ایسے طریقے سے لے جائیں گے کہ آپ کو تکلیف نہ ہوگی ۔ شیخ عبدالقدوس نے فرمایا: میں حکم دیتا ہوں کہ محمد غوث کو میرے پاس لے آؤ۔ یہ سنتے ہی جنات واپس گئے اور خواجہ محمد غوث کو اٹھا لیا۔ انہوں نے پوچھا: بھئی تم تو میرے مطیع تھے ، اب مجھے ہی کیوں اٹھانے لگے؟ جنات نے کہا: جناب ! ہم آپ کی بات ہر کسی کے مقابلے میں مان سکتے ہیں لیکن شیخ عبد القدوس گنگوہی کے مقابلے میں نہیں مان سکتے ۔ چنانچہ خواہ محمد غوث گوالیاری، شیخ عبد القدس گنگوہی کی خدمت میں پہنچے، معافی مانگی اور ان کی بیعت میں شامل ہو گئے۔ (بحوالہ کتاب: قصص الا کا بر صفحہ 24 ناشر: اداره تالیفات اشرفیہ، فوارہ چوک، ملتان ) الحاج مولانا روشن علی نجفی ( مکتبہ اثناء عشریہ ) لکھتے ہیں کہ امام موسی کاظم کی مجلس میں ہر وقت تیس ہزار جنات حاضر رہتے تھے، جو اپنے اپنے قبائل کے سردار تھے۔ ایک دن امام موسی کاظم کو بخار کی شکایت ہوئی تو ان کے خدام جنات میں سے عبدالوارث نامی جن اپنے قبیلے کا ماہر حکیم بلا کر لایا ، جس کے خاندان میں گزشتہ پانچ ہزار سالوں سے طب و حکمت چلی آرہی تھی۔ اس حکیم جن نے امام موسی کاظم کے پاس رہتے ہوئے متواتر تین دن تک علاج کیا، جس سے آپ رو بصحت ہو گئے. (بحوالہ کتاب: آل رسول کے مستند واقعات ، صفحہ 67 ناشر : مطبع خاک نجف، حسین علی روڈ، بنارس)

بیدار آنکھوں سے حضور کیلئےصَلَّى ٱللَّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کی زیارت کیسے ہوتی ہے؟

ماہنامہ عبقری میں جب علامہ لاہوتی پراسراری دامت برکاتہم کے ایسے واقعات شائع ہوتے ہیں ، جن میں جاگتی آنکھوں سے حضور سرور کونین ﷺ کی یا بعض دیگر انبیاء و صلحاء کی زیارت کا ذکر ہوتا ہے تو کچھ لوگ سوال کرتے ہیں کہ یہ کیسے ممکن ہے؟ آئیے اس کا جواب اپنے اکابر کی زندگی میں تلاش کرتے ہیں۔ علامہ وحید الزمان حیدر آبادی رحمہ اللہ ( مکتبہ اہل حدیث ) لکھتے ہیں : اب بھی بعض خدا کے بندے ایسے موجود ہیں جو آنکھ بند کرتے ہی آپ صَلَّى ٱللَّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں اور انہیں حالت بیداری میں آپ صَلَّى ٱللَّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. کا جمال مبارک نظر آجاتا ہے۔ یہ دولت اس کو ملتی ہے جو کثرت سے درود وسلام پڑھنے والا ہوتا ہے. (بحوالہ کتاب: لغات الحدیث، ج 2 ص 223 ناشر : نعمانی کتب خانہ، اردو بازار لاہور ) مولانا جلال الدین احمد امجدی رحمہ اللہ ( مکتبہ بریلویہ ) لکھتے ہیں : حضرت سید کبیر احمد رفاعی رحمہ اللہ جب 555 ھ میں حج سے فارغ ہو کر مدینہ منورہ تشریف لے گئے تو وہاں پر آپ نے محبت بھرے چند اشعار پڑھے ، جس کے بعد روضہ اقدس صَلَّى ٱللَّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. سے دست مبارک ظاہر ہوا اور آپ نے اس کو بوسہ دیا۔ اس وقت کئی ہزار لوگوں کا مجمع موجود تھا اور اس میں پیران پیر شیخ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ بھی موجود تھے۔ ( بحوالہ کتاب بزرگوں کے عقیدے ص 330 ناشر : اکبر بک سیلرز لاہور ) مرکز اہلسنت کے ابتدائی بزرگ حضرت حاجی محمد عابد قدس سرہ نے حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ سے فرمایا کہ ایک بات کہتا ہوں جسے میری زندگی میں ظاہر نہ کرنا۔ میں نے حالت بیداری میں حرم مکہ میں بعض انبیاء علیہم السلام کی زیارت کی ہے، یہ جو میری موجودہ حالت دیکھتے ہو، یہ انہی انبیاء علیہم السلام کی نظر کا اثر ہے ( بحوالہ کتاب : عاشقان رسول صَلَّى ٱللَّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. کو خواب میں زیارت نبی سایت صفحہ 222 ناشر: مکتبہ عمر فاروق ، شاہ فیصل کالونی کراچی ) آیة الله سید عبد الحسین دستغیب شیرازی ( مکتبہ اثناء عشریہ ) لکھتے ہیں : امام جعفر صادق علیہ السلام کو کئی مرتبہ جاگتی آنکھوں سے سرکار دو عالم صَلَّى ٱللَّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. کی زیارت کا شرف حاصل ہوا۔ (بحوالہ کتاب: عالم برزخ صفحہ 233 ناشر: اے بی سی آفسٹ پریس دہلی ۔ سن اشاعت: 1993ء) محترم قارئین ! اب اگر علامہ لاہوتی صاحب کے کالم میں بیداری کی حالت میں زیارت کے واقعات سامنے آئیں تو اس میں کیا قباحت ہے؟ مولانا سید محمد داؤد غزنوی (صدر جمعیت اہل حدیث پاکستان) فرمایا کرتے تھے: اگر کوئی شخص اتنا نیک ہو جائے کہ اسے کشف ہونے لگے تو تمہیں کیا اعتراض ہے؟ (دیکھیں کتاب : نقوش عظمت رفتہ مصنف : مولانا محمد اسحاق بھٹی ، ناشر: مکتبہ قدوسیہ، اردو بازار لاہور )

اندھیروں میں اللہ تعالی سے دل لگانے کا فائدہ

حضرت جنید بغدادی فرماتے ہیں کہ میں نے شیخ سری سقطی کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں ایک دن سفر پر نکلا تو ایک پہاڑ کے دامن میں اندھیری رات نے گھیر لیا۔ وہاں میرا کوئی جاننے والا نہ تھا۔ اچانک کسی نے آواز دی کہ: اندھیروں میں دل نہیں پگھلنے چاہئیں بلکہ محبوب ( اللہ تعالیٰ) کے حاصل نہ ہونے کے خوف سے نفوس کو پگھلنا چاہیے یہ سن کر میں گھبرا گیا۔ اسی وقت آواز آئی کہ ہم اللہ پر ایمان رکھنے والے مومن جنات ہیں۔ یہاں اور بھی بہت مومن جنات موجود ہیں اور ان جنات کے پاس مجھ سے بھی زیادہ ایمان ہے۔ دوسرے جن نے مجھے نصیحت کی : خدا کا غیر اس وقت نہیں نکلتا جب تک کہ دائمی طور پر بے گھر نہ رہا جائے۔ تیسرے جن نے مجھے کہا: جو اندھیروں میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ مانوس رہتا ہے، اس کو کسی قسم کا فکر نہیں ہوتا ۔ شیخ فرماتے ہیں: میں نے ان جنات سے کہا : مجھے کوئی نصیحت کرو۔ وہ تمام جنات کہنے لگے : اللہ تعالیٰ تقویٰ اختیار کرنے والے دلوں کو ہی جلا بخشتا ہے، جو غیر خدا کی طمع کرے گا اس نے ایسی جگہ کی لالچ کی جو لالچ کے قابل نہ تھی۔ اس کے بعد انہوں نے مجھے الوداع کیا اور چلے گئے۔ میں اس کلام کی برکت ہمیشہ اپنے دل میں محسوس کرتا ہو. صفة الصفوة ابن جوزی بحوالہ کتاب لقط المرجان فی احکام الجان ترجمہ مولانا امداد اللہ انور، ص 305 ناشر : دار المعارف عنایت پور تحصیل جلالپور پیر والا ، ملتان محترم قارئین! ہمارے اکابر کی جنات سے ملاقاتوں کی طرح جنات کے پیدائشی دوست حضرت علامہ لاہوتی صاحب دامت برکاتہم کے واقعات بھی سو فیصد حقیقت پر مبنی ہیں۔ اب جو لوگ ماہنامہ عبقری میں بیان کردہ ایسی باتوں کو صرف عقل کی ترازو میں تولتے ہیں، وہ اپنے اکابر کے واقعات کو کیا کہیں گے۔۔۔!

زمین کے بل میں پیشاب کرنا کیوں منع ہے؟ تمام مکاتب فکر کے علماء کا متفق فیصلہ

جب سے ماہنامہ عبقری کے معروف کالم جنات کا پیدائشی دوست میں حضرت علامہ لاہوتی پراسراری دامت برکاتہم العالیہ نے جنات کی دنیا سے پردہ کشائی فرمائی ہے، کچھ لوگ ان کے کالم میں بیان کردہ باتوں کو صرف افسانہ سمجھ کر رد کر دیتے ہیں۔ حالانکہ تمام مکاتب فکر کے علماء و مجتہدین، اور اکابر واسلاف کا متفقہ فیصلہ ہے کہ احادیث کی روشنی میں درج ذیل جگہوں پر جنات کا رہنا ثابت ہے۔ اسی لیے بل کے اندر پیشاب کرنے سے منع فرمایا گیا ہے، تاکہ جنات کو تکلیف نہ پہنچے، ورنہ وہ انسان کو مختلف حادثات میں مبتلا کر کے اپنا انتقام لیتے ہیں۔ بیان کردہ مقامات جہاں جنات کا قیام احادیث سے ثابت ہے: بیابان، جنگل، وادیاں، گھاٹیاں وغیرہ کوڑا کرکٹ اور لید وغیرہ پھینکنے کی جگہیں، اور وہ مقامات جہاں انہیں اپنا مخصوص کھانا (ہڈی، گوبر، کوئلہ) میسر ہوغسل خانے اور بیت الخلا. زمین کی دراڑیں، بل، غاریں، سرنگیں اور متروکہ مکانات. انسانوں کے ساتھ ان کے گھروں میں (ایسے جنوں کو عامر کہا جاتا ہے)اونٹوں کے باڑےکھنڈرات اور پرانی عمارتیںقبرستانبازارمزید مطالعہ کے لیے کتابیں: جناتی اور شیطانی چالوں کا توڑ، مصنف: شیخ عبد اللہ محمد بن احمد الطیار، شیخ سامی بن سلمان المبارک، نظر ثانی: شیخ حافظ صلاح الدین یوسف، ابو الحسن مبشر احمد ربانی، ناشر: دار البلاغ، لاہور (مکتبہ اہل حدیث) جن ہی جن، مصنف: حضرت علامہ مفتی محمد فیض احمد اویسی قادری، ناشر: سیرانی کتب خانہ، نزد سیرانی مسجد، بہاولپور (مکتبہ بریلویہ) تاریخ جنات و شیاطین، مترجم: حضرت مولانا امداد اللہ انور، ناشر: دار المعارف، عنایت پور، تحصیل جلالپور پیروالا، ملتان

اکابر کے پاس جنات کیسے تعلیم حاصل کرتے تھے؟

موجودہ دور میں جس طرح ماہنامہ عبقری میں جنات کی رہائش، غذا اور تعلیم کا تذکرہ کیا جاتا ہے، اسی طرح ہمارے اکابر واسلاف کے ہاں بھی یہی تذکرے ہوا کرتے تھے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ بھلا جنات کسی کو کیسے نظر آ سکتے ہیں اور علامہ لاہوتی پراسراری دامت برکاتہم کی جنات تک رسائی کیسے ممکن ہے؟ انہی سوالوں کے جواب پانے کیلئے اکابر کی زندگی میں سے درج ذیل چند مثالوں پر غور کریں۔ مولانا حضور بخش چشتی صاحب (مکتبہ بریلویہ) لکھتے ہیں: حضرت ابوالحسن بن کیسان نے فرمایا کہ میں ایک رات سبق یاد کرنے کیلئے جاگتا رہا، پھر سو گیا تو خواب میں جنات کی ایک جماعت دیکھی، جو فقہ، حدیث، حساب، نحو اور شعر و شاعری میں مذاکرہ کر رہی تھی۔ میں نے پوچھا: کیا تم میں بھی علماء ہوتے ہیں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! ہم میں بھی علماء ہوتے ہیں۔ میں نے پوچھا: پھر تم فقہ کے مسائل میں کن علماء کے پاس جاتے ہو؟ انہوں نے کہا: امام سیبویہ کے پاس۔ (تاریخ بغدادی، بحوالہ کتاب: جنوں کی دنیا، ناشر: مکتبہ حنفیہ، گنج بخش روڈ، لاہور) مؤرخ اہل حدیث ملک عبدالرشید عراقی صاحب لکھتے ہیں کہ حضرت مولانا غلام نبی الربانی سوہدروی کا حلقہ درس بہت وسیع تھا۔ دور دراز سے لوگ آپ کے پاس آ کر اپنی علمی پیاس بجھاتے۔ ایک دفعہ آپ نے اپنے شاگردوں سے فرمایا کہ مسجد کیلئے فلاں جگہ سے شہتیر اٹھا کر لاؤ۔ اگلی صبح دیکھا تو شہتیر مسجد میں پڑا تھا، مگر سبھی شاگردوں نے اس سے لاعلمی کا اظہار کیا۔ البتہ ایک شاگرد نے ادب سے کہا: کہ اس شہتیر کو میں اکیلا ہی اٹھا لایا ہوں۔ حضرت صاحب سمجھ گئے کہ یہ قوم جنات میں سے ہے۔ اسے علیحدگی میں لے جا کر فرمایا کہ اپنی قوم میں جا کر تبلیغ دین کرنا، مگر کبھی کسی کو تنگ نہ کرنا۔ (بحوالہ کتاب: تذکرہ بزرگان علوی سوہدرہ، صفحہ 142، ناشر: مسلم پبلی کیشنز، سوہدرہ) حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی کے شاگردوں نے کتب خانے کا دروازہ کھولنے کی کوشش کی تو وہ اندر سے بند تھا۔ بہت کوشش کی، مگر دروازہ نہ کھل سکا۔ حضرت شیخ الحدیث کو بتایا گیا تو مسکرا دیے۔ پھر خود دروازے کے پاس جا کر فرمایا: ابے کھول۔ اسی وقت دروازہ کھل گیا۔ اس کے بعد حضرت نے فرمایا: میرے کچھ خدام جنات یہاں کتب خانے میں بھی رہتے ہیں۔ (بحوالہ کتاب: سوانح قطب الاقطاب مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی، صفحہ 213، مصنف: مولانا محمد یوسف متالا، ناشر: دار العلوم العربیہ الاسلامیہ، انگلینڈ)

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026