بیوی کو اپنے خاوند سے نفرت کیوں ہوتی ہے؟

محترم قارئین! جنات کا انسانوں کو مختلف قسم کے روگ میں مبتلا کرنا اور ماہنامہ عبقری کا ان واقعات کو بیان کرنا کوئی نئی بات نہیں، بلکہ یہ ایسا نکتہ ہے جس پر شیعہ، دیوبندی، بریلوی اور اہلِ حدیث علماء کا اتفاق ہے۔وہ تو بھلا ہو جنات کے پیدائشی دوست حضرت علامہ لاہوتی پراسراری صاحب دامت برکاتہم کا، جنہوں نے ایسے واقعات نہ صرف واضح کر کے لوگوں کو بتائے، بلکہ ان کا سدِّ باب بھی کیا۔ یعنی انسانوں کو جنات کی شرارتوں سے بچنے کے ایسے نایاب وظائف عطا کیے جو آج تک سینہ بہ سینہ چلے آ رہے تھے، مگر علامہ لاہوتی صاحب دامت برکاتہم نے ان صدری رازوں کو عام انسانوں کی خیر و فلاح کے لیے ماہنامہ عبقری کے ذریعے گھر گھر تک پہنچا دیا۔ فجزاھم اللہ عنا وعن جمیع المؤمنین خیر الجزاء سید زوار حسین شاہ نے ایک دفعہ بتایا کہ ریاست بہاولپور کے ایک حکیم مولا بخش کے ہاں دو برقعہ پوش خواتین آ کر کہنے لگیں کہ: آپ پہلے دوسرے مریضوں کو دیکھ لیں، سب سے آخر میں ہماری بات سنیں۔ جب ان کی باری آئی تو انہوں نے اپنے چہرے کھول دیے اور بتایا کہ ہم قومِ جنات میں سے ہیں اور ہندوستان سے ہجرت کر کے یہاں آباد ہوئے ہیں۔ جس طرح انسانوں میں ہندو مسلم آبادی کا انتقال ہوا ہے، اسی طرح قومِ جنات میں بھی مسلمانوں اور کافروں کا انتقال ہوا تھا۔ ہم نے علاج نہیں کروانا، بس ہم یہاں سے گزر رہے تھے تو سوچا آپ سے ملتے ہوئے جائیں۔ (بحوالہ کتاب: مقاماتِ زواریہ، صفحہ 143، مصنف: محمد اعلیٰ قریشی، ناشر: ادارہ مجددیہ، ناظم آباد کراچی) بانی دعوتِ اسلامی مولانا محمد الیاس قادری مدظلہ (مکتبہ بریلویہ) لکھتے ہیں کہ: جنات انسانوں کو اغوا بھی کرتے ہیں، اور یہ بات انتہائی تشویش ناک ہے کہ ان سے حفاظت کے لیے دنیاوی اسلحہ بھی کام نہیں آتا، بلکہ اس کے لیے مدنی ہتھیار (یعنی ورد و وظیفے) درکار ہیں۔ (بحوالہ کتاب: فیضانِ سنت، صفحہ 161، ناشر: مکتبۃ المدینہ، کراچی) مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی دامت برکاتہم کے پیر بھائی مولانا احمد علی پنجگوری (مکتبہ دیوبند) لکھتے ہیں:بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی خبیث جن انسان کے بستر پر آ کر انسان کے کسی عضو پر بیٹھ جاتا ہے، جس سے کافی وزن محسوس ہوتا ہے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ وہ سینے پر بیٹھ کر منہ کو دبانا شروع کر دیتا ہے تاکہ سونے والا کچھ بول نہ سکے۔ (بحوالہ کتاب: خزینۃ الاسرار، صفحہ 604، ناشر: کتب خانہ مجیدیہ، بوہڑ گیٹ، ملتان) شیخ وحید عبدالسلام بالی حفظہ اللہ (مکتبہ اہلِ حدیث) لکھتے ہیں کہ: میاں بیوی کے درمیان نفرت اور دشمنی کی ایک وجہ جنات بھی ہیں۔ بیوی اپنے خاوند سے بددل ہو کر سخت نفرت کرنے لگتی ہے اور اسے اپنے خاوند کو دیکھنا بھی اچھا نہیں لگتا۔ وہ یوں سمجھنے لگتی ہے کہ میرے سامنے انسان نہیں، بھیڑیا کھڑا ہوا ہے۔ اس قسم کے جنات کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ میاں بیوی کے درمیان جدائی ڈال دیں۔ (بحوالہ کتاب: جادو کا علاج قرآن و سنت کی روشنی میں، صفحہ 74، ناشر: مکتبہ دار التقویٰ، کراچی)
ہوشیار!!! کہیں کوئی جن آپ کو اغوا نہ کر لے

جو لوگ اپنے مطالعے اور معلومات کی کمی کا شکار ہو کر یہ کہتے ہیں کہ "جنات کی اغوا کاریوں” کا ذکر ماہنامہ عبقری کے سوا کہیں نہیں ملتا، انہیں چاہیے کہ چاروں مکاتبِ فکر کے اکابر و اسلاف کی کتب کا مطالعہ کریں۔ یہ تمام واقعات صدیوں سے ہمارے اکابر و مشائخ کے ذریعے محفوظ چلے آ رہے ہیں۔ مثال کے طور پر: انصاری صحابی کا واقعہ مولانا محمد الیاس عطار قادری مدّظلّہ العالی (مکتبۃ المدینہ، بریلوی مکتب فکر) لکھتے ہیں: ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ، مغرب یا عشاء کی نماز کے لیے گھر سے نکلے، تو جنات نے انہیں اغوا کر لیا اور کئی سال تک وہ غائب رہے۔ بعد ازاں جب وہ مدینہ منورہ تشریف لائے تو امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ان سے تفصیل پوچھی۔ انہوں نے بتایا: "مجھے جنات پکڑ کر لے گئے اور میں ان کے پاس طویل عرصہ رہا۔ پھر مسلمان جنات نے ان کفار جنات کے خلاف جہاد کیا اور بہت سے افراد کے ساتھ مجھے بھی قید کر لیا۔ بعد ازاں مسلمان جنات نے مجھے اختیار دیا کہ میں ان کے ساتھ رہوں یا اپنے اہل و عیال کے پاس چلا جاؤں۔ چنانچہ میں مدینہ منورہ اپنے گھر واپس آ گیا۔” — (النہایہ، جلد 1، صفحہ 295، بحوالہ کتاب: فیضانِ سنت، صفحہ 158، ناشر: مکتبۃ المدینہ، کراچی) خاتون کا واقعہ – جامعہ سلفیہ اشرف جاوید صاحب (جامعہ سلفیہ، فیصل آباد – مکتبہ اہل حدیث) بیان کرتے ہیں: ہمارے گھر کے سامنے ایک تالاب تھا، جہاں عورتیں پانی بھرنے آتی تھیں۔ ایک دن ایک عورت کو کسی لڑکی نے آواز دی: "بھاگ بھری! میں تم سے ملنے آئی ہوں!” حالانکہ وہ لڑکی نظر نہیں آ رہی تھی۔ فوراً اس عورت کے سر کے بال آپس میں الجھ گئے اور اس کی حالت غیر ہو گئی۔ اہلِ خانہ اسے لے کر حضرت صوفی محمد عبداللہ رحمۃ اللہ علیہ (بانی: جامعہ تعلیم الاسلام، ماموں کانجن، ضلع فیصل آباد) کے پاس لے گئے۔ انہوں نے دم کیا، تب جا کر اس عورت کو آرام ملا۔ — (بحوالہ: تذکرہ صوفی محمد عبداللہ رحمہ اللہ، صفحہ 382، مصنف: مولانا محمد اسحاق بھٹی، ناشر: مکتبہ سلفیہ، شیش محل روڈ، لاہور) بغداد کا واقعہ – حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: بغداد کے ایک شخص نے حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: "حضور! میری بیٹی کو جنات اٹھا کر لے گئے ہیں، برائے کرم اس کی بازیابی کا کوئی بندوبست فرمائیں۔” آپ رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا: "فلاں جگہ جا کر اپنے گرد دائرہ کھینچ لو اور یہ الفاظ پڑھو: ‘بسم اللہ علی نیتہ عبدالقادر’۔”اس شخص نے ایسا ہی کیا، تو جنات کا بادشاہ اس کے سامنے حاضر ہوا اور پوچھا: "تیری کیا حاجت ہے؟”اس نے اپنی بیٹی کا ذکر کیا، تو بادشاہِ جنات نے فوراً اس کی بیٹی کو واپس لایا اور اغوا کرنے والے جن کا سر قلم کر دیا۔ — (بحوالہ کتاب: جمال الأولیاء، صفحہ 348، ناشر: ادارہ اسلامیات، کراچی) "عبقری” میں شائع ہونے والے مشہور کالم "جنات کا پیدائشی دوست” جیسے واقعات کو محض عقلی ترازو پر نہ پرکھا جائے۔ اولیاء اللہ کی کرامات کا دروازہ بند نہیں ہوا۔جو حضرات روحانی دنیا کے مسافر ہیں، ان کے لیے یہ سب ماورائے عقل واقعات روزمرہ کا معمول ہیں۔
وہ صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جن کے پیٹ میں جن داخل ہو گیا

کچھ لوگ ایک بے بنیاد اعتراض کرتے ہیں کہ ماہنامہ "عبقری” میں جتنی بھی جنات کی باتیں یا اُن سے ملاقاتیں بیان کی جاتی ہیں، یہ سب خود ساختہ کہانیاں ہیں۔ بھلا جنات ہمیں کیسے چمٹ سکتے ہیں؟ حالانکہ ایسے لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ جنات تو صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم جیسی عظیم ہستیوں پر بھی حملہ آور ہو جاتے تھے، تو ہم کس کھیت کی مولی ہیں؟ آئیے، احادیث سے اس بات کا ثبوت ملاحظہ کریں۔ حضور سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "تمہارے ہر کام کے وقت، حتیٰ کہ کھانے کے وقت بھی، شیطان تم میں سے ہر ایک کے ساتھ رہتا ہے۔ لہٰذا جب کسی کے ہاتھ سے لقمہ گر جائے تو اسے چاہیے کہ اس کو صاف کر کے کھالے اور شیطان کے لیے نہ چھوڑے۔”— (صحیح مسلم) حضرت مولانا محمد یونس پالنپوری دامت برکاتہم اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: "شیاطین اور فرشتے اللہ تعالیٰ کی وہ مخلوق ہیں جو یقیناً ہر وقت ہمارے ساتھ رہتی ہے، لیکن ہم انہیں نہیں دیکھ سکتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں جو کچھ بتایا، وہ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ علم کی بنیاد پر بتایا، اور وہ سراسر حق ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی کبھار ان کا مشاہدہ بھی ہوتا تھا، جس طرح ہم مادی چیزوں کو دیکھتے ہیں۔ اس لیے ایسی احادیث جن میں شیطانوں (یعنی جنات) کا ذکر ہے، انہیں مجاز پر محمول کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، بلکہ یہ ایک کھری حقیقت ہے۔” — (بحوالہ: کتاب بکھرے موتی، صفحہ 479، ناشر: بلسم پبلیکیشنز، اردو بازار، لاہور) مولانا محمد الیاس قادری مدّ ظلّہ العالی المعروف "بابا جی” دامت برکاتہم لکھتے ہیں: "ایک عورت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے بیٹے کو لے کر آئی اور عرض کرنے لگی: یا رسول اللہ! میرے بیٹے کو جنون کا دورہ پڑتا ہے، اور یہ ہمیں بہت تنگ کرتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سینے پر دستِ شفقت پھیرا اور دعا فرمائی۔ اس وقت اس لڑکے کو قے آئی، تو اس کے پیٹ سے سیاہ کتے کے پِلّے کی مانند کوئی چیز نکلی۔” — (مسند دارمی، جلد 1، صفحہ 24)— (بحوالہ: کتاب قومِ جنات اور امیرِ اہلِ سنت، ناشر: مکتبۃ المدینہ، کراچی) محترم قارئین!اب بھلا ایسی بدقسمتی اور گمراہی کس پر غالب ہوگی، جو حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث میں بیان کردہ ان حقائق کو خود ساختہ کہانیاں قرار دے کر رد کرتا پھرے؟
آپ کے کھانے میں شریک جنات

آج کی دکھیاری اور پریشان امت کو جنات کس کس طرح ستار ہے ہیں ایسے لوگوں کی بپتا کو جب ماہنامہ عبقری نے شائع کیا تو بہت سے لوگوں نے اسے نفسیایاتی الجھنیں کہہ کر پس پشت ڈالنے کی کوشش کی۔۔ آئیے اپنی بنیادوں میں اس کا حل تلاش کرتے ہیں۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ تمہارے ہر کام کے وقت یہاں تک کہ کھانے کے وقت بھی شیطان تم میں سے ہر ایک کے ساتھ رہتا ہے، لہذا جب کھانا کھاتے وقت کسی کے ہاتھ سے لقمہ گر جائے تو اسے چاہیے کہ اس کو صاف کر کے کھالےاور شیطان کے لیے نہ چھوڑے۔ ( صحیح مسلم) شیاطین اور فرشتے اللہ کی وہ مخلوق ہیں جو یقیناً اکثر اوقات میں ہمارے ساتھ رہتے ہیں لیکن ہم انکو نہیں دیکھ سکتے ، آپ صلى الله عليه وسلم نے اس بارے میں جو کچھ بتایا ہے اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ علم سے بتلایا ہے اور وہ بالکل حق ہے اور آپ صلى الله عليه وسلم کو کبھی کبھی ان کا اسطرح مشاہدہ بھی ہوتا تھا جس طرح ہم اس دنیا کی مادی چیزوں کو دیکھتے ہیں جیسا کہ بہت سی احادیث سے معلوم ہوتا ہے۔ اس لیے ایسی حدیثوں کو جن میں مثلاً کھانے کی وقت شیاطین کے ساتھ ہونے اور کھانے پر اللہ کا نام نہ لیا جائے تو اس میں جنات کے شریک ہو جانے ، یا گرے ہوئے لقمہ کا شیطان کا حصہ ہو جانے کا ذکر ہے، تو ان حدیثوں کو مجاز پر پر محمول کرنے کی بالکل ضرورت نہیں ۔ ( بلکہ یہ ایک سچی حقیقت ہے ) ( بحوالہ کتاب بکھرے موتی حصہ 5ص479، مصنف: حضرت مولانا محمد یونس پالنپوری حفظہ اللہ ، ناشر بلسم پبلی کیشنز، لاہور مکتبہ ) پیٹ سے جن کا نکلنا: ایک عورت آپ صلى الله عليه وسلم کے پاس اپنے بیٹے کو لے کر آئی اور عرض کرنے لگی یا رسول اللہ صلى الله عليه وسلم میرے بیٹے کو جنوں عارض ہو جاتا ہے اور یہ ہم کو بہت تنگ کرتا ہے، آپ صلى الله عليه وسلم نے اس کے سینہ پر ہاتھ پھیرا اور دعا کی۔اس لڑکے نے قے کی اور اس کے پیٹ سے سیاہ کتے کے پلے کی طرح کوئی چیز نکلی۔ (مسند دارمی، ج 1 ص 24 بحوالہ کتاب قوم جنات اور امیر اہلسنت ، پیش کش مجلس مدینہ العلمیہ ، ناشر: مکتبہ المدینہ کراچی، مکتبہ بریلوی)
اُڑن کھٹولے کے شہسوار

ماہنامہ عبقری میں سلسلہ وار کالمہ جنات کا پیدائشی دوست کے متعلق کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ مضمون صرف جھوٹ اور فریب ہے، بھلا ایک آدمی کسی کو نظر آئے بغیر پل بھر میں میلوں لمبا سفر کیسے کر سکتا ہے؟ آئیں دیکھتے ہیں کہ ہمارے اکابر و اسلاف رحمہم اللہ کی اس موضوع پر کیا تحقیق ہے؟ علامہ یوسف بن اسماعیل میہانی رحمۃ اللہ علیہ یہ لکھتے ہیں : ایک دن شیخ کمال الدین بن یونس کے مدرسے میں کچھ لوگ شیخ حسن قضیب رحمۃ اللہ علیہ کی غیبت کرنے لگے اور شیخ کمال الدین بھی اس میں شامل ہو گئے۔ اچانک شیخ حسن قضیب رحمۃ اللہ علیہ ان کے سامنے نمودار ہوئے اور شیخ کمال الدین کو اپنے ساتھ شہر کے دروازے پر لے آئے۔ پھر ان کے سامنے ایک باغ آیا، شیخ حسن قضیب رحمۃ اللہ علیہ نے وہاں کپڑے تبدیل کیے اور نماز میں مصروف ہو گئے۔ اتنے میں شیخ کمال الدین کی آنکھ لگ گئی اور جب صبح اٹھ کر دیکھا تو اپنے آپ کو ایک بے آب و گیاہ صحرا میں پاپا۔ قریب سے قافلہ گزرا تو پوچھنے لگے: بھائی میں اپنے شہر موصل میں جانا چاہتا ہوں۔ان میں سے ایک شخص کہنے لگا: اے مسافر ! کیا بات کرتے ہو؟ تم موصل سے 6 ماہ کی مسافت پر مغرب (افریقہ ) میں موجود ہو۔ یہ کہ کر قافلہ رواں ہو گیا۔ جب رات ہوئی تو شیخ حسن قضیب رحمۃ اللہ علیہ اس طرح نمودار ہوئے اور نماز پڑھنے کے بعد صبح کمال الدین کا کان مروڑ کر کہنے لگے: آئندہ میری غیبت نہ کرنا۔ مجھے اللہ کی طرف سے وہ علم دیا گیا ہے جس کو تم نہیں جانتے۔ اور اس راز کو افشاءکرنے سے بھی بچنا۔ پھر اسی لمحے انہیں واپس موصل میں پہنچا دیا۔ شیخ احمد بن محمد رحمۃ اللہ علیہ یہ بیان کرتے ہیں ک میں ایک دفعہ حج کے دوران شیخ ارسلان دمشقی رحمۃ اللہ علیہ سے عرفات میں ملا اور میں نے انہیں مشعر الحرام میں بھی دیکھا، پھر وہ کہیں روپوش ہو گئے۔ جب میں حج سے فارغ ہو کر واپس دمشق پہنچا تو دیکھا کہ شیخ ارسلان رحمۃ اللہ علیہ پر سفر حج کے کوئی آثار نہیں تھے۔ میں نے ان کے متعلق اہل دمشق سے پوچھا تو وہ کہنے لگے کہ خدا کی قسم : شیخ ارسلان رحمۃ اللہ علیہ تو کسی دن بھی یہاں سے غائب نہیں ہوئے۔ صرف 9 ذی الحجہ کو کچھ وقت کیلئے اور قربانی کے دن تھوڑی دیر نظر نہیں آئے باقی تو ہر وقت وہ یہیں پر تھے. ( بحوالہ کتاب: جامع کرامات الاولیاء صفحہ 155،77 تلخیص بنام جمال الاولیاء: حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ ناشر : ادارہ اسلامیات لاہور) محترم قارئین! اس موضوع کے متعلق اگر آپ کے پاس مزید حوالہ جات ہوں تو ہمیں ضرور بھیجیں تا کہ ایسے لوگوں کی اصلاح اور ہدایت کیلئے محنت اور دعا کی جاسکئے جو لوگ عبقری میں بیان کیے گئے حقائق کو ٹوپی ڈرامہ اور من گھڑت کہہ کر مخلوق خدا کے دل میں شک وشبہ پیدا کرتے ہیں۔
اسلاف کی ارواح سے ملاقاتیں

مولانا محمد اسحاق بھٹی رحمة الله علیہ لکھتے ہیں: قاضی محمد سلیمان منصور پوری رحمة الله علیہ جب کبھی لاہور تشریف لاتے تو مال روڈ پر حیات برادرز کے ہاں قیام فرمایا کرتے تھے۔ میاں فضل کریم بن حاجی حیات محمد کا بیان ہے کہ جس مکان پر آپ رحمة الله علیہ ٹھہرا کرتے تھے اس کے قریب ہی ایک خانقاہ تھی، جو اجڑی ہوئی تھی ۔ ایک دن آپ رحمة الله عليہ نے مجھ سے پوچھا : کیا یہاں کوئی قبر ہے ؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں! آپ رحمة الله عليہ نے فرمایا : آج رات خواب میں ہمیں وہ بزرگ ملے اور کہا کہ قاضی جی! آپ اتنی بار یہاں تشریف لائے مگر ہمیں ایک بار بھی نہیں ملے۔ پھر فرمایا : وہ بہت نیک اور صالح آدمی تھے فلاں جگہ کے رہنے والے تھے ادھر سے گزر رہے تھے کہ انتقال ہو گیا۔ میاں فضل کریم کہتے ہیں کہ اس کے بعد جب میں نے اس کی تحقیق کی تو وہ باتیں ویسی ہی ثابت ہوئیں، جو قاضی صاحب رحمة الله عليہ نے بیان فرمائی تھیں۔ یہاں تک کہ ان کا نام اور پتہ بھی قاضی صاحب رحمة الله عليہ نے بالکل صحیح بتادیا. ( بحوالہ کتاب: تذکرہ قاضی محمد سلیمان منصور پوری رحمة الله عليہ صفحه ۴۵۸ ، ناشر: مکتبہ قدوسیہ اردو بازار لاہور ) صوفی حبیب الرحمن رحمة الله عليہ کا بیان ہے کہ ۱۹۱۰ء میں جب حضرت ضیاء معصوم صاحب رحمة الله عليہ (مرشد امیر حبیب اللہ خان بادشاہ کابل ) پٹیالہ میں تشریف لائے تو انہوں نے سر ہند جانے کے لیے قاضی صاحب رحمة الله عليہ کو اپنے ساتھ لے لیا۔حضرت ضیاء معصوم رحمة الله عليہ جب حضرت مجدد الف ثانی رحمة الله عليہ کے مزار پر مراقبہ کے لیے بیٹھے تو قاضی صاحب رحمة الله عليہ نے سوچا کہ شاید ان بزرگوں نے آپس میں کوئی راز کی بات کہنی ہو لہذا ان سے الگ ہو جانا چاہیے۔ ابھی آپ اپنے جی میں یہ خیال لے کر اٹھے ہی تھے کہ حضرت مجدد الف ثانی رحمة الله عليہ نے آپ کو ہاتھ سے پکڑ کر فرمایا :سلیمان خیال لے کر بیٹھے رہو۔ ہم کوئی راز میں نہیں رکھنا چاہتے ۔ صوفی صاحب کا بیان ہے کہ قاضی صاحب نے بعض دوستوں سے اس بات کا ذکر کیا اور فرمایا کہ یہ واقعہ مراقبے یا مکاشفے کا نہیں، بلکہ بیداری کا ہے. (بحوالہ کتاب: سوانح عمری ص 90 ، مصنف : صوفی احمد الدین حنیف، ناشر: محمدی اکیڈیمی ناشران و تاجران کتب محلہ توحید گنج منڈی بہاؤالدین ) جو لوگ ماہنامہ عبقری کے ہر دلعزیز سلسلہ وار کالم ” جنات کے پیدائشی دوست کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ انوکھی باتیں صرف خود ساختہ کہانیاں ہیں انہیں ایک مرتبہ اپنے اکابر و اسلاف کی سوانح حیات پر نظر ڈالنی چاہئے اور اعتراض کرنے کی بجائے اعتراف کرنا چاہئے کہ اسلاف بزرگان دین میں ایسی کئی شخصیات ہر دور میں موجود رہی ہیں، جن پر کائنات کالا ہوتی اور ملکوتی نظام کھلا ہوا تھا۔
حضرت مولانا فضل علی قریشی رحمة الله علیہ کا بے مثال کشف

جو لوگ علامہ لاہوتی صاحب کے کالم ” جنات کا پیدائشی دوست میں کشف القبور کے ذریعے روحوں سے ملاقات کو دیو مالائی اور ماورائی کہانی کہہ کر رد کرنے کی کوشش کرتے ہیں، شاید ان کو پتہ نہیں کہ وہ اکابر کی کتنی روشن اور واضح زندگی سے پہلو تہی برت رہے ہیں، حتی کہ ایسی بے جا تنقید اور اعتراض کے ذریعے اکابر و اسلاف رحمہم اللہ کی ترتیب زندگی کو داغدار بنا رہے ہیں۔ علامہ لاہوتی صاحب دامت برکاتہم کے کشف القبور کے واقعات کی تائید میں ایک روشن واقعہ پیش خدمت ہے۔ حضرت مولانا عبد المالک صاحب صدیقی احمد پوری رحمة الله علیہ لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ قدوة السالكين، شيخ المشائخ حضرت خواجہ فضل علی قریشی نقشبندی رحمة الله علیہ ہندوستان کے سفر میں دارالعلوم کے قبرستان تشریف لے گئے اور مولانا محمد قاسم ، مفتی عزیز الرحمن اور شیخ الہند رحمہم اللہ کے مزارات کے قریب اپنی جماعت کے ہمراہ مراقبہ کیا۔ مراقبے میں خلاف عادت کافی دیر تاخیر ہوئی ۔ فراغت کے بعد مجھ سے مخاطب ہو کر فرمایا : کچھ احوال عرض کروں؟ میں نے عرض کیا : جی حضرت یہ جماعت علماء کی ہے بینا جماعت ہے یہاں کوئی خطرہ نہیں ہے۔ آپ رحمة الله علیہ نے فرمایا کہ میں نے آج مراقبے میں دیکھا کہ ایک سرسبز میدان میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ، شاہ عبد العزیز دہلوی ، شاہ رفیع الدین دہلوی مفتی عزیز الرحمن ، شیخ الہند مولانا محمود حسن صاحب ، حضرت مولانا انور شاہ صاحب کشمیری و غیر هم محد ثین رحمہم اللہ نے حضور صلى الله عليه وسلم سے مصافحہ کیا اور مجھے ( مولانا فضل علی قریشی رحمة الله عليه) کو بھی مصافحہ کا شرف حاصل ہوا۔ اس کے بعد آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: یہ تمام حضرات محی السنت ہیں ۔ جب شیخ الاسلام رحمة الله عليه کو یہ بات پتا چلی تو بہت مسرور ہوئے کہ ہمیں شیخ وقت رحمة الله علیہ کی زبانی دنیا کے عالم میں پتا چل گیا کہ ہمارے تمام اکابر و اسلاف بارگاہ رسالت صلى الله عليه وسلم میں مقبول تھے۔ بحوالہ کتاب : مقامات فضلیہ ص 70 ، مصنف : حضرت مولانا سید زوار حسین شاه رحمة الله عليہ ناشر: زوارا کیڈمی پبلی کیشنز کراچی
سلسلہ نقشبندیہ کے ساتھ جنات کا تعلق

علامہ یوسف بن اسماعیل نبھانی رحمة الله عليه لکھتے ہیں کہ حضرت تاج الدین بن زکریا سلطان نقشبندی رحمة الله عليه دوران سفر ایک شہر میں پہنچے اپنے ساتھیوں سمیت مراقبہ کیا، اسی دوران محفل میں ایک نا واقف شخص آگیا، قریب آکر اس نے حضرت رحمة الله عليه کا ہاتھ چوما اور کہا: میں یہاں رہنے والے جنات میں سے ایک جن ہوں، میں نے آپ کا طریقہ دیکھا تو مجھے پسند آیا لہذا میں بھی اس سلسلے کا حصول چاہتا ہوں ۔ آپ رحمة الله عليه نے اسے سلسلہ نقشبندیہ کے اشغال کی تلقین فرمائی ۔ اس کے بعد وہ آپ کے پاس اکثر آتا رہتا وہ صرف آپرحمة الله عليه کو نظر آتا کوئی اور اسے نہیں دیکھ سکتا تھا۔ اس نے آپ رحمة الله عليه سے عرض کیا کہ جب کبھی مجھے بلانا چاہیں تو میرا نام کاغذ پر لکھ کر اپنے پاؤں کے نیچے رکھ دیں، میں فوراً حاضر ہو جاؤں گا ۔ اسی طرح آپ رحمة الله عليه نے جب کشمیر کا سفر اختیار فرمایا تو وہاں بھی ایک جن آپ رحمة الله عليه کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے آپ رحمة الله عليه سے درس طریقت لیا۔ بحوالہ کتاب: جامع کرامات اولیا صفحہ 35 جمال الاولیاء تلخیص : حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی ترجمہ مفتی جمیل احمد تھانوی ، ناشر: ادارہ اسلامیات انار کلی لاہور قارئین ! اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ماہنامہ عبقری کے سلسلہ وار کالم ” جنات کا پیدائشی دوست میں بیان کیے جانے والے واقعات سو فیصد حق ہیں۔ اکابر و اسلاف میں آپ کو وہ ہستیاں تو کثرت سے ملیں گئی، جنہوں نے ایسی باتوں کو سچ جانا ، مگر کوئی ایک شخصیت بھی ایسی نہیں ملے گی جس نے ان باتوں کا انکار کیا ہو۔
حضرت حسن بصری رحمة الله عليه کے بند کمرے میں جنات کا درس

حضرت عبد الله رحمة الله علیہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نماز فجر کیلئے میں حضرت حسن بصری رحمة الله علیہ کی مسجد میں گیا تو اندر سے دروازہ بند تھا اور آپ رحمة الله عليه دعا میں مشغول تھے۔ کچھ لوگوں کے آمین کہنے کی آوازیں بھی آرہی تھیں ۔ چنانچہ میں نے سوچا کہ شاید آپ رحمة الله علیہ کے مریدین ہوں گے اس لیے باہر ہی ٹھہر گیا کچھ دیر بعد جب دروازہ کھلا اور میں نے اندر جاکر دیکھا تو حضرت حسن بصری رحمة الله علیہ وہاں اکیلے بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے ان سے صورت حال دریافت کی تو فرمایا : میرے یہاں جنات آتے ہیں اور میں ان کے سامنے وعظ کہہ کے دعا کراتا ہوں، جس پر وہ سب آمین کہتے ہیں۔ (بحوالہ کتاب : تذکرۃ الاولیاء صفحہ 30 مصنف : شیخ فرید الدین عطار رحمة الله علیہ ناشر: الحمد پبلی کیشنز پرانی انار کلی لاہور ) محترم قارئین ! ماہنامہ عبقری میں شائع ہونے والا کالم ” جنات کا پیدائشی دوست اکابر و اسلاف کی ترتیب کے عین مطابق شریعت کے اس پہلو کو بیان کر رہا ہے، جس کا وجود بڑے بڑے اولیاء کرام رحمہم اللہ کی زندگی میں واضح تھا، مگر فتنوں بھرے دور میں جب کامل روحانی پیشواؤں کی قلت ہوئی تو طلسماتی اور جناتی دنیا کا یہ باب بھی بند ہو گیا۔ الحمد للہ یہ سعادت بھی عبقری کے حصے میں آئی کہ مخلوق خدا کو جہاں تسبیح ذکر اور اعمال کی طرف واپس لوٹانے کی خدمت انجام دی وہاں اکابر و اسلاف جیسے درست عقائد بھی دیے کہ ہماری کائنات میں انسانوں کے علاوہ جنات بھی موجود ہیں، جو ہمارے ساتھ اسی زمین پر رہتے اور دوسری مخلوقات کی طرح ہم پر اثر انداز ہوتے ہیں.
گھر پر جنات کے وار سے بچنے کا راز

مولانا حاجی احمد علی صاحب پنجگوری ( سابق مدرس جامعہ اسلامیہ عربیہ احرار الاسلام لیاری کراچی ) نے اپنی کتاب ” خزینۃ الاسرار” میں اپنے شاگرد اور مؤکل جنات سے حاصل کیے ہوئے 400 سے زائد عملیات تعویذات اور وظائف لکھے ہیں ۔ فرماتے ہیں کہ مجھے مولانا عبد الرحمان جن نے کہا: روحانی عامل کو چاہئے کہ رات کو سونے سے پہلے ایک مرتبہ سورۃ الناس پڑھ کر گھر کے چاروں کونوں میں پھونک مار دیا کرے۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ کسی شخص کے جادو جنات کا علاج کرتے ہوئے وہ خبیث جنات واپس پلٹ کر اس عامل پر حملہ نہیں کر سکیں گے۔ (بحوالہ کتاب : خزينة الاسرار، صفحہ 490 ناشر: کتب خانہ مجید یہ بیرون بوہر گیٹ ملتان ) قارئین ! درج بالا عمل کی طرح علامہ لاہوتی پراسراری دامت برکاتہم بھی ماہنامہ عبقری کے ذریعے ہزاروں لوگوں تک ایسے بے شمار اعمال پہنچا رہے ہیں، جو انہیں نیک جنات کے ذریعے سے معلوم ہوئے ۔ بس فرق اتنا ہے کہ مولانا احمد علی صاحب پنجگوری نے انہی سے ملتے جلتے اعمال آج سے 27 سال پہلے اپنی کتاب میں بتا دیے تھے اور علامہ لاہوتی پراسراری دامت برکاتہم موجودہ دور میں بتارہے ہیں۔ ایسے واقعات کو نہ تو جھٹلایا جا سکتا ہے اور نہ ہی خلاف شریعت ہونے کا بہتان لگایا جا سکتا ہے کیونکہ جنات سے بات چیت کے واقعات ہمارے اکابر کی زندگی میں اتنی کثرت سے موجود ہیں کہ کم از کم ایک عقلمند انسان یہ تو کہ سکتا ہے کہ مجھے ابھی تک ان واقعات کی خبر نہیں تھی، مگر ان کا انکار نہیں کر سکتا۔