امام ابن اثیر رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا ارشادِ مبارک ہے کہ تم لوگ گھاس والی جگہ پر قضائے حاجت نہ کیا کرو، کیونکہ یہ جنّات کے نماز پڑھنے کی جگہ ہے۔
(بحوالہ کتاب: النہایہ لابن الاثیر ناشر: دارالمعرفہ بیروت، لبنان)
نوٹ: یاد رہے کہ جنات کے نماز پڑھنے کا اصل مقام تو مساجد ہی ہیں، مگر اس حدیث میں گھاس والی جگہ اس لیے بیان فرمائی گئی ہے تاکہ انسان بے خبری میں وہاں پیشاب کر کے نیک جنّات کو ایذاء نہ پہنچائے۔
محترم قارئین! جو لوگ عبقری پر اعتراض کرتے ہیں کہ اس میں صرف جنّات ہی سے ڈرایا جاتا ہے، انہیں چاہئے کہ ایک مرتبہ دقّتِ نظر کے ساتھ احادیث کا مطالعہ کریں، ان شاء اللہ جگہ جگہ جنّات کا ذکر بھی ملے گا، ان کی ترتیبِ زندگی سے شناسائی بھی حاصل ہوگی، ان کے نقصان پہنچانے کا طریقہ بھی پتہ چلے گا اور ان سے بچاؤ کی تدابیر بھی ملیں گی۔
