مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ سہارن پور کے ایک مکان میں جنّات کا اتنا سخت اثر تھا، کہ وہاں رہنے والے لوگوں نے وہ مکان ہی چھوڑ دیا۔ ایک دن حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ سہارن پور تشریف لائے تو میزبان نے ان کو اسی مکان میں ٹھہرا دیا، کہ شاید حضرتؒ کی برکت سے جنات دفع ہو جائیں۔ رات کو حضرتؒ جب تہجد کیلئے اٹھے اور معمولات سے فارغ ہوئے تو ایک شخص ان کے سامنے آ کر مؤدب ہو کر بیٹھ گیا۔ حضرت حاجی صاحبؒ کو حیرت ہوئی کہ اندر سے تو کنڈی لگی ہوئی ہے، یہ کہاں سے آ گیا؟ پوچھا، تم کون ہو؟ کہنے لگا: حضرت! میں وہی جن ہوں، جس کی وجہ سے لوگ یہ مکان چھوڑ گئے ہیں۔ بہت عرصے سے آپ کی ملاقات کا شوق رکھتا تھا، اللہ تعالیٰ نے آج میری تمنا پوری کر دی۔ حضرت حاجی صاحبؒ نے فرمایا: ہمارے ساتھ محبت کا دعویٰ بھی کرتے ہو اور مخلوقِ خدا کو تنگ بھی کرتے ہو؟ توبہ کرو۔ لہذا حضرت حاجی صاحبؒ نے اسے توبہ کروائی۔ پھر فرمایا: سامنے کمرے میں حافظ ضامن صاحبؒ بھی تشریف رکھتے ہیں، ان سے بھی مل لو۔ جن کہنے لگا: نہیں حضرت! وہ بڑے صاحبِ جلال ہیں، مجھے ان سے ڈر لگتا ہے۔
(بحوالہ کتاب: عملیات و تعویذات کے شرعی احکام، صفحہ 52 مصنف: حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ، ناشر: ادارہ تالیفاتِ اشرفیہ، بوہڑ گیٹ ملتان)
قارئین! یہ کیا بات ہوئی کہ اگر مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ اپنے مرشد حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی جنات سے ملاقات ثابت کریں تو ہم انہیں ”حکیم الامت“ کہہ دیں۔ لیکن جب اسی طرح کا سچا واقعہ ”ماہنامہ عبقری“ یا علامہ لاہوتی صاحب دامت برکاتہم بیان کریں تو ہم اسے من گھڑت قصے کہانیاں کہہ کر رَد کر دیں۔ دعا ہے کہ ایسی دوہرے معیار والی سوچ سے اللہ تعالیٰ ہم سب کو نجات عطا فرمائے۔ آمین
