مزارات سے فیض کی انوکھی کہانی۔۔۔ مولانا نعیم الدین صاحب دامت برکاتہم کی زبانی

( قاری محمد عاصم صاحب ، مسجد تقوی بابو صابو )  شیخ الوظائف دامت برکاتہم اکثر پاکستان اور دیگر ممالک کے مزارات پر اتباع ا کا بڑ میں حاضری دیتے رہتے ہیں یہ حاضری ہمارے تمام مکاتب فکر کے بڑوں کا طریقہ رہی ہے مولانا نعیم الدین صاحب دامت برکاتہم (جامعہ مدنیہ قدیم لاہور کے شیخ الحدیث اور مکتبہ قاسمیہ اردو بازار کے مالک ) اہل اللہ کے مزار سے ملنے والی اس رہنمائی اور فیض کو کچھ یوں بیان کرتے ہیں: عزیزم عابد سلمہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم حضرت مولانا عبد الجلیل صاحب کی خدمت میں حاضر تھے میں نے مولا نا عبد الکریم کشفی کے بارے میں استفسار کیا تو آپ نے فرمایا: ‘یہ پیدائشی کشفی تھے ان کا تعلق تخت ہزارہ سے تھا۔ یہ یہاں لاہور آئے اور حضرت محمد اسماعیل المعروف میاں وڈ ا صاحب کی قبر مبارک پر مراقبہ کیا، حضرت اسماعیل صاحب سے پوچھا کہ میں مدرسہ میں پڑھنا چاہتا ہوں۔ کیا داخلہ ہو جائے گا ؟ انہوں نے جواب دیا کہ انشاء اللہ داخلہ ہو جائے گا، یہ مراقبہ سے فارغ ہو کر باہر آئے اور ایک مدرسہ میں جا کر داخلہ کا پتہ کیا تو اس مدرسہ میں اسی وقت داخلہ ہو گیا۔ مدرسہ والوں نے کہا کہ داخلہ تو ہو گیا ہے پڑھائی بھی ہوگی لیکن کھانا وغیرہ کچھ بھی مدرسہ سے نہ ملے گا۔ یہ پھر حضرت میاں وڈا کے مزار پر آئے مراقب ہوئے اور کہا کہ حضرت مدرسہ میں داخلہ تو ہو گیا لیکن روٹی کا بندوبست نہیں ہوا۔ حضرت نے فرمایا کھانے کے انتظام بھی ہو جائے گا۔ یہ مراقبہ سے فارغ ہوئے تو ایک صاحب ملے انہوں نے پوچھا کہ آپ کیا کرتے ہیں؟ انہوں نے بتادیا کہ مدرسہ میں پڑھتا ہوں۔ انہوں نے پوچھا کہ کھانا کہاں سے کھاتے ہو؟ انہوں نے کہا کا فی الحال کوئی معقول بندوبست نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج سے آپ کا کھانا ہماری طرف سے ہوگا۔ یہ مطمئن ہو گئے۔ پڑھتے رہے ایک دن خیال آیا کہ میں کسی سے بیعت بھی ہو جاؤں فکر ہوئی کہ کس سے بیعت ہوں؟ پھر آگئے حضرت میاں وڈا صاحب کے مزار پر اور مراقب ہو کر پوچھا کہ حضرت میرا پیر کون ہوگا؟ حضرت نے ایک طرف اشارہ کیا کہ وہ دیکھو وہ صاحب تمہارے شیخ و مرشد ہیں۔ انہوں نے جب اُدھر نگاہ اٹھا کر دیکھا تو ایک صاحب کر یہ شلوار میں ملبوس پاؤں میں چپل پہنے کھڑے ہیں۔ انہیں دیکھ کر اطمینان ہوا۔ پھر پوچھا کہ کہاں رہتے ہیں؟ بتا دیا کہ سہارنپور، پھر انہوں نے کہا کہ میرے پاس تو وہاں تک جانے کی رقم نہیں ہے، حضرت نے فرمایا کہ انتظام ہو جائے گا۔ مراقبہ سے فارغ ہوئے تو ایک صاحب ملے انہوں نے ہاتھ پر اتنی رقم رکھ دی کہ اس میں لاہور سے سہارنپور کے ٹکٹ کا انتظام ہو جائے۔ یہ ٹکٹ لے کر سیدھے سہارنپور پہنچے۔ وہاں مولانا صاحب کا معلوم کیا۔ پتہ چلا کہ وہ مسجد میں ہیں۔ یہ مسجد پہنچ گئے تو باہر ان کی جوتی رکھی ہوئی تھی یہ دیکھتے ہی پہچان گئے کہ یہ تو وہی جوتی ہے جو مزار پر مراقبہ اور کشف میں دیکھی تھی ۔ اندر مسجد میں گئے تو وہاں شاہ عبد الرحیم سہارنپوری تشریف فرما تھے دیکھتے ہی پہچان گئے کہ یہ وہی بزرگ ہیں۔ ادھر انہوں نے پہچانا اُدھر مولانا عبدالرحیم سہارنپوری صاحب نے فرمایا کہ آپ صحیح جگہ پر آگئے ہیں اور انہیں فوراً بیعت فرمالیا۔c (کتاب : بیا به مجلس نفیس ، صفحہ 310، حضرت مولانا نعیم الدین صاحب مدظلہم ، ناشر : صفہ ٹرسٹ لاہور ) محترم قارئین انبیح خانہ کا ہرعمل قرآن وسنت اور تعلیمات اکا بڑہی کا آئنہ دار ہے اللہ کریم میں بڑوں کا ادب عطا فرمائے ۔ آمین

نماز میں تقدیم و تاخیر اور شیخ الاسلام دامت برکاتہم کی سہولت

(مولانا خلیل الرحمن صاحب، جامعہ امدادیہ فیصل آباد )  بے دینی ، فحاشی، عریانی اور فتنوں کے اس دور میں آج جس قدر لوگ دین سے دور ہوتے جارہے ہیں وہ ہم سب کے سامنے ہے لوگ آج اللہ رسول سل یا پیلم کے دیئے گئے فرائض سے کوسوں دور چلے گئے آج ضرورت حکمت اور بصیرت کے ذریعے انہیں قریب کرنے کی ہے اس سلسلے میں شرعی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے جس قدر قرآن وسنت کی آسانیاں اور خوشخبریاں ہیں لوگوں کو دینی چاہیں۔ اللہ پاک جزائے خیر عطا فرمائے شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم جیسی بے پناہ صفات کی حامل ہستی کو جوحتی الامکان شرعی احتیاطوں کے ساتھ لوگوں کو سہولت دیتے ہیں ابھی حال ہی میں آپ یورپ کے دورے پر تشریف لے گئے آپ کے ہمسفر شاگرد مولانا شاکر صدیق جکھو را صاحب نے ماہنامہ البلاغ میں آپ کی سفری شرعی رعایت کو اس طرح لکھا ہے: (1) پہلی منزل دینی کے راستے سے برمنگھم تھی، دین پہنچے تو برمنگھم کی پرواز میں صرف ڈیڑھ گھنٹہ تھا۔ حضرت والا دامت برکاتہم نے بتایا کہ آپ ایک پچھلے موقع پر دبئی کے ہوائی اڈے پر نماز جمعہ کی امامت فرما چکے ہیں لیکن اس مرتبہ وقت کی تنگی کی بنا پر اس کا موقع نہیں۔ چنانچہ ایک مصلیٰ میں نماز ظہر ادا کر کے اور بزنس کلاس لاؤنج سے حسب موقع کچھ ظہرانہ لے کر فورا انگلی پرواز پر سوار ہو گئے۔ (2) جائے قیام پر پہنچ کر مغرب اور ساتھ ہی عشاء کی نماز حضرت والا کی اقتداء میں تقریباً پونے نو بجے ادا کی جب کہ ابھی سورج غروب ہی ہوا تھا۔ حضرت والا نے بتایا کہ ان دنوں میں یہاں شفق احمد بھی غروب نہیں ہوتی ، اس لیے آپ کا معمول یہ ہے کہ ان ایام میں سفر کی حالت میں مغرب اور عشاء کے درمیان جمع حقیقی بھی فرمالیتے ہیں۔ اور پھر نصف الہیل کا انتظار کر کے اس وقت فجر کی نماز ادا کر کے پھر آرام فرماتے ہیں۔ (3) چونکہ صبح کے چھ بجے مالٹا کی پرواز تھی ، اس لیے آج رات نصف اللیل کا انتظار فرمانے کے بجائے ہم نے نماز فجر حضرت شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب) کی اقتداء میں بیدار ہو کر ادا کی ، اور تقریبا چار بجے ہوائی اڈے کیلئے روانہ ہوئے۔ (4) ( وضاحت نامه از مولانا شاکر صدیق جکھو را صاحب شاگرد خاص شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمان صاحب) مقیمین کیلئے قریب تر معتدل علاقہ، یا اسی علاقہ کے قریب تر معتدل دن کے وقت پر عمل کرنے کا حکم ہے، یا پھر غروب اور نصف اللیل کے درمیانی وقت کو مغرب اور عشاء کے درمیان آدھا آدھا تقسیم کیا جائے تا ہم مسافر اور مریض ایسی صورت حال میں مغرب اور عشاء کو ایک ساتھ بھی ادا کر سکتے ہیں۔ ( لیر اجمع فیض الباری ۲: ۵۴۰،۵۳۹) ( بحوالہ : ماہنامہ البلاغ، نومبر 2019ء ، ربیع الاول 1441 ه ص 53)

شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب نے دیا کشدہ چیز کو پانے کا مثالی عمل

( مولانا خلیل الرحمن صاحب، جامعہ امدادیہ فیصل آباد ) شیخ الاسلام مفتی محمدتقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم بروز ہفتہ 20 جولائی 1963 کو حج سے واپسی پر نہایت ہی پریشان کن آزمائش پیش آئی جس کامل ہونا بظاہر ممکن تھا اور اگر وہ حل نہ ہوتی تو آپ کو بہت زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا۔۔۔ ایہ پریشانی کیسے اعمال کے ذریعے حل ہوئی اور آپ نے ایک قرآن مقدس کی آیت پڑھی اور رب کریم نے آپ کیلئے غیبی وسیلہ بنادیا خودشیخ الاسلام کی زبانی پڑھیئے اور تبیح خانہ کو دعا کیجئے جو آج ہمارا بھولا ہوا سبق اعمال سے بچنے کے یقین کو اللہ کریم کی توفیق سے سارے عالم میں پھیلا رہا ہے ۔۔۔! مفتی صاحب فرماتے ہیں کہ حجاز سے واپسی پر جہاز عدن میں رکا وہا کچھ دیر ساحل پڑ گزارنے کے بعد حضرت شیخ احمد عراقی کے مزار پر سلام عرض کرنے کے بعد پھر ٹیکسی پر اپنے احباب کے ساتھ کر پیڑ بازار روانہ ہوئے بازار چھوٹی چھوٹی پیچ در پیچ گلیوں میں پھیلا ہوا تھا، اپنا پاسپورٹ ٹکٹ اور ساری کرنسی ایک چھوٹے تھیلے میں رکھی ہوئی تھی جو کہ گلے میں لٹکائی ہوئی تھی ، جب ہم نے جہاز پر واپس آنے کیلئے دوبارہ ٹیکسی بک کروائی اور منزل پر اتر کر کرایہ دینے لگے تو ھیلی پر ہاتھ ڈال کر تھیلی ہمارے اس موجود نہیں تھیں، اور ہاں جہاز پراعلان ہو چکا تھاکہ مسافروں کو واپس جہاز پر سوار کرنے والی سیڑھی رات بارہ بجے ہٹائی جائے گی اور ہم اسی غریب الوطنی میں رہ جائیں گے اور ٹیکسی والا سر پر کھڑا پیسے لیکر واپس جانے کیلئے اصرار کر رہا تھا۔ ٹیکسی میں جس قدر ممکن تھا تلاش مگر جب نہ ملاتو پاؤں تلے زمین نکل گئی۔ بے بسی کا وہ عالم ابھی تک یاد آتا ہے تو جھر جھری آجاتی ہے۔ اس بے بسی کے عالم میں انسان کا واحد سہارا اللہ تعالیٰ سے دعا کے سوا کچھ نہیں ہوتا ، دعا مانگنے سے دل سے وہ دعا نکل رہی تھی کہ یا اللہ ہمیں اس آزمائش سے نکال دے اتنے میں ایک اور ٹیکسی آکر ر کی جس سے جہاز کے عملے کے کچھ دمہ دار حضرات اترے ان میں سے کچھ ہمارے واقف کا ربھی تھے ان کی مدد سے ٹیکسی والے کو کرایہ دیا اور جہاز تک پہنچے کے کچھ پیسے ہم کو ادھار ملے اور ان ساتھیوں سے کہا کہ آپ جہاز کے کپتان سے عرض کریں کہ ہماری اس مشکل گھڑی میں کیا مدد کریں گے کپتان نے جہاز کی روانگی یعنی صبح دس بجے تک سیڑھی نہ ہٹانے کا وعدہ کیا، ہم یہاں سے دوبارہ اپنی تھیلی کی تلاش میں کر بیٹر بازار روانہ ہو گئے، راستے بھر سوچتے رہنے سے بھی یاد نہیں آرہا تھا کہ تھیلا کہاں رہ گیا ہے، دن بھر اتنی مختلف جگہوں پر گئے تھے کہ ان میں سے کسی کا انتخاب ممکن نہیں تھا ، بس انا للہ وانا الیہ راجعون“ اور قرآن کریم کی اس آیت کا ورد کرتے رہے جس کے بارے میں بزرگوں سے سن رکھا تھا کہ گمشدہ چیز کی تلاش کیلئے کیلئے اس کی تلاوت بہت مفید ہوتی ہے آیت ہے: يُبتى إِنَّهَا إِنْ تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ فَتَكُنْ فِي صَخْرَةٍ أَوْ فِي السَّمَوتِ أوْ فِي الْأَرْضِ يَأْتِ بِهَا اللهُ إِنَّ اللهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ (لقمان) اس آیت کا ورد کرتے ہوئے ہم کر یٹر بازار میں پہنچے تو وہاں دکانیں بن ہو رہی تھیں، پیچ در پیچ گلیوں میں ہمیں یہ بھی یاد نہیں رہا تھا کہ ہم کہاں کہاں گئے تھے، جس بند ہوتی دکان کے پاس جاتے ، وہ صاف انکار کر دیتا، یہاں تک کہ ایک ایک کر کے ساری دکانیں بند ہوگئیں اور سناٹا چھانے لگا۔ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کریں دن بھر تھکن سے بدن چور تھا ، اس لئے سوچا کہ رات یہاں گزار صبح کو تلاش پھر شروع کریں گے ۔ وہاں ایک چھوٹا سا ہوٹل نظر آیا جب اس کا کرایہ معلوم کیا تو ہمارے پاس موجود پیسوں سے زیادہ تھا قریب کی مسجد میں گئے تو معلوم ہوا کہ وہاں عشا کے بعد تالا لگ جاتا ہے بے بسی کے عالم میں اس آیت کا ورد کرتے ہوئے گلی کے سامنے سے گزرے تو ہاں چھوٹی سے دکان پر ٹمٹماتا ہوا بلب نظر آیا، دوکاندار دن بھر کی کمائی گن رہا تھا، ایسے میں دو اجنبیوں کو دیکھ کر اس کا موڈ خراب ہو گیا اس نے دوکان بند ہونے کا سخت لہجہ میں اعلان کیا ہم نے اسے عاجزی کہ لہجہ میں ساری داستان سنائی اس نے سن کر کہا یہاں کوئی ایسا تھیلا نہیں ہے۔ اس آخری امید کے کاتمے سے ہمارے چہروں پر کچھ ایسی بے چارگی چھا گئی کہ اس کو کچھ رحم آگیا اس نے پوچھا وہ تھیلا کیسا تھا؟ ہم نے فورا پوری تفصیل سنائی بن کر وہ اوپر والی منزل پر گیا اور تھوڑی دیر میں واپس آیا اس کے ہاتھ میں تھیلا دیکھ کر ہمیں ایسا محسوس ہوا کہ جیسے ہمیں نئی زندگی مل گئی ہو اور اس نے وہ تھیلا ہمارے حوالے کر دیا۔ اور ہم تھیلا لے کر سرا پا شکر بن واپس ہوئے۔ محترم قارئین یہ کرامات سورہ لقمان کی آیت نمبر 16 کی تھی جو شیخ الاسلام اس کرب و بے چینی میں تلاوت کر رہے تھے اور آج یہی پیغام تسبیح خانہ کا بھی ہے کہ اعمال سے بچنے کا یقین ہمارے زندگی میں آجائے۔ اے بندگان خدا۔ تو ہو کسی بھی حال میں مولا سے لولگائے جا

میں وظیفے بناتا نہیں بتاتا ہوں

محترم قارئین: اللہ پاک جل شانہ کا بے انتہاء شکر ہے جو عبقری تسبیح خانے سے اس دور میں دین کی تجدید کاوہ عظیم کام لے رہا ہے جس کی مثال کہیں اور نہیں ملتی۔ زندگی کو آسان بنانے کیلئے تسبیح ، ذکر، وظائف اور اعمال کا سہارا لینا در اصل انبیاء صحابہ ، اہل بیت، فقہاء، محدثین اور اولیاء و صالحین کا شیوہ ہے۔ اسی طریقے کو زندہ رکھنے کیلئے عبقری تسبیح خانہ جب لوگوں کو اعمال کی ترغیب دیتا ہے تو کچھ لوگ لاعلمی کی بناء پر کہتے ہیں کہ یہ کیسا خواب ناک جہان ہے؟ جہاں ہر مسئلے کا حل دیا جاتا ہے۔ کیا یہ وظائف بنانے والی فیکٹری ہے؟ آج انہیں جن وظیفوں کا پتہ چل گیا ہے تمام اکابر و اسلاف اس سے بے خبر تھے؟ حالانکہ ان سب باتوں کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ عبقری تسبیح خانہ وظیفے بناتا نہیں ، صرف بتاتا ہے۔ جیسا کہ چند سال پہلے لاعلاج امراض سے شفاء، جادو جنات کے توڑ اور بندشوں کے خاتمے کیلئے سورۃ المومنون کی آخری چار آیات پڑھ کر کانوں میں دم کرنے کا عمل بتایا گیا۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ اکابر کی مستند کتابوں اور صحیح احادیث میں اس عمل کی کیا دلیل ہے! مولانا بارون معاویہ صاحب لکھتے ہیں کہ : افحسبتم سے لے کر سورت کے آخر تک چاروں آیات بڑی فضیلت رکھتی ہیں۔ ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد کیلئے ایک سریہ (چھوٹا لشکر) روانہ فرمایا تو حکم دیا کہ صبح و شام یہ آیات افحسبتم انما خلقنكم سے وانت خير الراحمین تک پڑھا کریں۔ صحابہ کرام فرماتے ہیں کہ ہم نے یہ آیات پڑھیں تو ہم صحیح سلامت فتح پا کر اور مال غنیمت لے کر واپس لوٹے (اخرجہ ابن السنی، و ابن منده ، وابو نعیم بند حسن ) حضرت عبد اللہ بن مسعود کا ایک مصیبت زدہ شخص پر گزر ہوا، جس کے کان میں تکلیف تھی۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے افحسبتم والی چار آیات پڑھ کے اس کے کان میں دم کیا تو وہ اچھا ہوگیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس کا پتہ چلا تو فرمایا قسم ہے اس ذات پاک کی جس کے قبضے میں میری جان ہے، اگر یقین والا شخص ان آیات کو پہاڑ پہ پڑھ دے تو وہ بھی اپنی جگہ سے ہٹ جائے گا( اخرجہ الترمذی ، وابن منذر وابو نعیم فی حلیة الاولیاء ) بحوالہ : تفسیر روحانی المعانی صفحہ 65 جلد 18 بحوالہ کتاب: کتابوں کی لائبریری میں صفحہ 322 ناشر: مکتبہ بیت العلوم پرانی انار کلی لاہور

جنات کو بھگانے میں لکڑی کی جوتی کا کمال

محترم قارئین ! قسط نمبر 279 میں شیخ الحدیث والتفسیر مفتی زرولی خان صاحب کی زبانی کو بیان کیا گیا تھا کہ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ ان علماء میں سے تھے، جو جنات کے بھی مفتی اعظم اور استاذ ہوتے ہیں ۔ یعنی اس سے ثابت ہوا کہ ایسے اور بھی کئی اکابرگزرے ہیں جو جنات کے پیدائشی دوست حضرت علامہ لاہوتی پراسراری صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی طرح جنات کے پیر و مرشد تھے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کا جنات کی دنیا میں کیا مقام تھا۔ مولا نا محمد انور بن اختر لکھتے ہیں ایک مرتبہ حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کے پاس اس وقت کے حاکم خلیفہ متوکل کی طرف سے ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: امیر المومنین کے گھر میں ایک بچی آسیب کا شکار ہو گئی ہے۔ انہوں نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے کہ آپ اس کیلئے عافیت کی دعا کریں۔ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے لکڑی کے جوتے اسے دیے اور فرمایا: گھر جا کر اس لڑکی کے سرہانے بیٹھ کر کہو : احمد بن حنبل نے کہا ہے کہ تمہیں دو باتوں میں سے کون سی بات پسند ہے؟ لڑکی کا پیچھا چھوڑو گے یا ستر جوتے کھاؤ گے؟ وہ شخص جوتے لے کر چلا گیا اور جن کو یہی پیغام سنا دیا۔ جن کہنے لگا : اگر وہ ہمیں یہاں کی بجائے عراق سے نکلنے کا حکم دیں گے تو ہم عراق سے بھی نکل جائیں گے، کیونکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی، اور جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے، ہر چیز اس کی اطاعت کرتی ہے۔ چنانچہ وہ لڑکی کے جسم سے نکل گیا اور لڑکی ٹھیک ہو گئی۔ کافی عرصے بعد جب امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ کا انتقال ہوا تو وہی جن اس لڑکی پر دوبارہ سوار ہو گیا۔ خلیفہ متوکل نے امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کے کسی شاگرد کو طلب کیا تو ایک شاگردان کا وہی جوتا لے کر چلے گئے اور جا کر کہا: لڑکی کے جسم سے نکل جا، ورنہ تیری پٹائی ہوگی ۔ یہ سن کر جن بولا : نہ میں تمہاری بات مانوں گا ، نہ ہی اس لڑکی کے جسم سے نکلوں گا، کیونکہ امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ تو اطاعت گزار بندے تھے، اس لیے ہم نے بھی انہی کی اطاعت کی ۔ (بحوالہ کتاب: اکابر کے واقعات ، صفحہ 202 ناشر : ادارہ اشاعت اسلام، اردو بازار کراچی ) محترم قارئین! یہاں دو باتیں سمجھنے کی ہیں (۱) امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ کا اس لڑکی کیلئے دعا اور دم وغیرہ کرنے کی بجائے جوتا بھجنے میں یہ مقصد تھا کہ اسے پتہ چلے کہ جن اللہ والوں کے جوتوں کی برکت سے اتنے بڑے مصائب دور ہو جاتے ہیں ، ان کی دعا سے کائنات کی کیا کیا نعمتیں حاصل ہوتی ہوں گی؟ (۲) اگر چہ شاگرد عالم دین نے بھی جن بھگانے کا وہی طریقہ اختیار کیا لیکن یہاں یہ سبق دینا مقصود تھا کہ ہر عالم دین جنات کے ہاں قابل تعظیم نہیں ہوتا، بلکہ صرف و صرف با عمل متقی اور صالح عالم دین ہی اس قابل ہے، جس کی بات مانی جائے اور جس کی جوتیوں سے بھی حیاء کی جائے ۔ ورنہ ہر شخص جنات کا پیدائشی دوست علامہ لاہوتی پراسراری حفظہ اللہ تعالی بن جاتا۔ مگر یہ ازلی حقیقت ہے کہ صدیوں بعد ایسا لعل و گوہر پیدا ہوتا ہے، جسے اللہ پاک جل شانہ کے ہاں اتنی محبوبیت اور مخلوق خدا میں اتنی مقبولیت حاصل ہوتی ہے کہ انسان تو انسان ، بھٹکے ہوئے شریر جنات بھی اس کی برکت سے ہدایت پا جاتے ہیں۔

مفتی زرولی خان صاحب کی زبانی انسانوں اور جنات کے نکاح کا ثبوت

محترم قارئین! آج اپنے اکابر و اسلاف کی تاریخ سے لا علم چند لوگ کہتے ہیں کہ عبقری میگزین میں بیان کردہ جناتی واقعات جھوٹ کا پلندہ ہیں ۔ خاص طور پر جہاں انسانوں اور جنات کی شادی کاذکر ملتا ہے، وہ تو سراسر من گھڑت کہانی ہے۔ بھلا یہ کیسے ممکن ہے؟ آئیے دیکھتے ہیں کہ شیخ الحدیث و التفسیر مفتی زرولی خان صاحب ( الجامعة العربيه احسن العلوم کراچی ) نے انسانوں اور جنات کے نکاح کو کن الفاظ میں بیان کیا ہے۔ حضرت مفتی صاحب فرماتے ہیں کہ : حضرت آدم علیہ السلام سے ہزاروں سال پہلے زمین پر جنات موجود تھے، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ ہم نے انہیں آگ کے بھڑکتے ہوئے شعلے سے پیدا کیا۔ جنات کو جب انزال ہوتا ہے تو انسانوں کی طرح پانی نہیں نکلتا بلکہ شعلہ نکلتا ہے۔ اس لیے امام اعظم ابوحنیفہ کے ہاں انسانوں اور جنات کے نکاح کا جواز نہیں ملتا لیکن اس کے باوجود ہمیں انسانوں اور جنات کے آپس میں نکاح ہونے کے کچھ واقعات ملتے ہیں ۔ کافی عرصہ پہلے میں ایک بزرگ سے ملنے گیا تو انہوں نے مجھے پوچھا: کتنے ساتھی ہو؟ میں نے عرض کی ہم چھے ساتھی ہیں۔ انہوں نے اپنے بیٹوں کو پشتو میں کچھ فرمایا تو سامنے سے سب غائب ہو گئے ۔ مجھے فرمانے لگے : میری بیوی جلتی ہے، جس نے دس بچے دیے ہیں۔ جن میں سے پانچ مجھ پر گئے ہیں جو نظر آتے ہیں، جبکہ پانچ اپنی ماں ( جننی ) پر گئے ہیں جو نظر نہیں آتے ۔ یہ سن کر میں نے پوچھا: کیا یہ بات صحیح ہے کہ انزال کے وقت ان سے شعلہ نکلتا ہے؟ فرمایا: ہاں یہ سچ ہے اور ان کے انزال کے وقت انسان کو تکلیف بھی محسوس ہوتی ہے لیکن مجھ پر بھی جوانی کا غلبہ تھا، اس لیے اس نے مجھے نہیں چھوڑا۔ علامہ قاضی بدرالدین شبلی رحمۃ اللہ علیہ آٹھویں صدی کے ایک حنفی محدث گزرے ہیں (انسانوں اور جنات کے آپس میں نکاح کے موضوع پر ) مزید تفصیلات ان کی کتاب ” آکام المرجان فی غرائب الاخبار و احکام الجان میں موجود ہیں ۔ یہ کتاب معتمد ( معتبر ) ہے کیونکہ امام العصر حضرت مولانا انور شاہ کاشمیری رحمۃ اللہ علیہ نے بھی درس حدیث میں لیلۃ الجن والے باب میں اسی کا حوالہ دیا ہے ۔ اسی طرح حضرت امام جلال الدین سیوطی رحمتہ اللہ علیہ نے بھی اخبار الجان“ کے عنوان سے جنات پر ایک کتاب لکھی ہے کیونکہ جنات کی ایک مستقل کائنات ہے۔ یہ کام (یعنی جنات سے نکاح ) مشکل ہے ، اس لیے علماء نے اس سے منع فرمایا ہے کیونکہ انسان میں سے انزال کے وقت قرآنی آیت من منی یمنی کے مطابق منی کا پانی نکلتا ہے لیکن جنات کی تخلیق آگ سے ہے، اس لیے ان میں سے آگ کا شعہ نکلتا ہے۔ لہذا اس امت کے جرنیل امام اعظم ابو حنیفہ نے اسے ناجائز قرار دیا تا کہ کہیں جنات اسے جائز سمجھتے ہوئے انسانوں کو تکلیف میں مبتلاء نہ کریں ) ایک طالب علم کا جنات میں نکاح طے ہو گیا تو ایک جننی روزانہ اس کے پاس آنے لگی ۔ استاذ گرامی مفتی اعظم پاکستان مولانا مفتی ولی حسن ٹونکی رحمۃ اللہ علیہ نے اسے سختی سے منع فرمادیا لیکن ایک دن دو پہر کے وقت دیکھا تو دار الافتاء کے سب اساتذہ سور ہے تھے اور ان کے پیٹ پر مٹھائی کا ایک ایک ٹو کرا رکھا ہوا تھا۔ جو جنات کہیں سے چوری کر کے لائے ہوئے تھے۔ اس موضوع پر بہت عجیب و غریب واقعات ملتے ہیں۔ بہر حال جنات کے متعلق جو شخص تفصیل جاننا چاہتا ہے وہ حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمہ اللہ علیہ کی تفسیر فتح العزیز کا مطالعہ کرے۔ کیونکہ شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ بھی ان علماء میں سے تھے جو جنات کے مفتی اعظم اور استاذ ہوتے ہیں۔ (بحوالہ : شیخ الحدیث و التفسیر مفتی زرولی خان صاحب کا یہ بیان انٹرنیٹ یوٹیوب کے درج ذیل لنک پر موجود ہے ) www.youtube.com/watch?v=uoMr1yR90cg

جنات کو بھگانے کیلئے تعویذ کی بجائے خط استعمال کریں

مولانا محمد عمر سلیمان الاشقر لکھتے ہیں کہ : تھانہ بھون میں ایک جن تھا ، جس کا نام ” شہامت تھا اور وہ کئی لوگوں کو تکلیف دیتا پھرتا تھا۔ حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کے نام ایک پر چہ لکھ دیا، جس میں اسے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا۔ پرچہ دیکھ کر وہ کہنے لگا کہ یہ کوئی تعویذ تو ہے نہیں ، جس سے جن بھاگ جائے، مگر یہ ایسے شخص کا خط نہیں ہے، جس کی پرواہ نہ کی جائے۔ اچھا اب ہم جاتے ہیں، آئندہ کسی کو تکلیف نہیں پہنچائیں گے ( بحوالہ کتاب: جنات و شیاطین کی دنیا ، باب : اکابرین اور جنات کی تابعداری ، صفحہ 139 مکتبہ الحفیظ ، قرآن محل مارکیٹ ، اردو بازار لاہور ) محترم قارئین ! یہ تو تیره صدیاں بعد آنے والے ایک امتی حضرت حکیم الامت کے خط کا مقام ہے۔ ذرا سوچئے ، وہ خط جو خود حضور سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ کو جنات کے نام لکھوایا تھا، بھلا اس کی کیا عظمت اور جنات کی نظر میں کیا قدردانی ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت شیخ الوظائف دامت برکاتہم العالیہ سالہا سال سے حضرت ابودجانہ والاخط ” تہدیدی نامہ مبارک کے نام سے مخلوق خدا کو عنایت فرما رہے ہیں، جس کی برکت سے ہزاروں لوگ جادو، جنات کے مسائل سے بری ہو چکے ہیں۔ الحمد للہ عبقری تسبیح خانے کے ہر عمل اور ہر وظیفے کے پیچھے مضبوط شرعی دلیل ہے۔

یہ مر گیا تو بندر اور خنزیر کی حکومت آجائے گی

قارئین ! تسبیح خانے میں ہونے والے شب جمعہ کے درس میں بیان کیے جانے والے نہ صرف وظائف اور جنات کے واقعات ، بلکہ حضرت شیخ الوظائف دامت برکاتہم العالیہ کی ہر بات کے پیچھے قرآن و سنت اور اکابرین امت کی دلیل موجود ہے۔ حضرت شیخ الوظائف دامت برکاتہم العالیہ فی الحقیقت امن کے داعی اور روحانیت کے مبلغ ہیں۔ اپنے بیانات میں ایک بات اکثر فرمایا کرتے ہیں کہ لوگو! سب سے بدترین مشغلہ حکمرانوں کو گالیاں دینا ہے۔ ان پر تنقید کرنے کی بجائے اپنے اعمال کی اصلاح کرلو، عرش سے تمہارے لیے مہنگائی کے ختم ہونے اور نعمتوں کے عام ملنے کے فیصلے کر دیے جائیں گئے. آئیے دیکھتے ہیں کہ ان کے اس فرمان کے پیچھے کیا دلیل مولانا ہارون معاویہ صاحب لکھتے ہیں کہ ایک شخص حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ کی موجودگی میں وقت کے ظالم حکمران حجاج بن یوسف کو بد دعا دینے لگا۔ حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرمانے لگے: اللہ تجھ پہ رحم کرے، ایسا نہ کر ، حجاج بن یوسف تمہارے کرتوتوں کی وجہ سے ہی تم پر مسلط کیا گیا ہے۔ میں تو ڈرتا ہوں کہ اگر وہ معزول ہو گیا ، یا مر گیا تو اس کے بعد تم پر بندر اور خنزیر تمہارے حکمران بنا دیے جائیں گے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: حکمران تمہارے اعمال کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ جیسے تمہارے اعمال ہوں گے، ویسے ہی تم پر حکمران آئیں گے۔ پھر فرمایا: مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ ایک شخص نے کسی بزرگ کو خط لکھ کر اپنے حاکم کے مظالم کی شکایت کی تو وہ فرمانے لگے : جو شخص گناہوں کا مرتکب ہو، اسے سزا کی شکایت نہیں کرنی چاہئے ۔ آپ پر جو ظلم کیے جارہے ہیں، یہ در حقیقت آپ ہی کے گناہ کی سزا ہے۔ پھر مزید فرمایا کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ خطبہ جمعہ میں کہا : اے لوگو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میں ہی اللہ ہوں ، میرے سوا کوئی الہ ( خالق، مالک، رازق ) نہیں۔ میں بادشاہوں کا بادشاہ ہوں اور سارے بادشاہوں کے دل میری مٹھی میں ہیں ۔ جب لوگ میری اطاعت کرتے ہیں تو میں حکمرانوں کو ان کیلئے رحمت بنا دیتا ہوں ۔ لہذا تم لوگ انہیں گالی مت دو، بلکہ اپنے گناہوں سے توبہ کرلو، میں انہیں تم پر مہربان بنادوں گا۔ (بحوالہ کتاب: کتابوں کی لائبریری میں صفحہ 206 ناشر : بیت العلوم، نابھہ روڈ، انار کلی بازار لاہور )

عبقری کے وظیفے کس حدیث سے ثابت ہیں؟

قرب قیامت کے اس فتنوں بھرے دور میں کچھ لوگ اپنے اکابر واسلاف ( صحابہ و تابعین ، فقهاء ومحدثین ، اولیاء و صالحین ) کی ترتیب سے اتنا دور ہو چکے ہیں، کہ ان کے سامنے جونہی کوئی فائدہ مند بات آتی ہے، فوراً کہتے ہیں : ہم ایسی من گھڑت باتوں کو نہیں مانتے اور خاص طور پہ ماہنامہ عبقری میں آنے والے وظائف پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ یہ کس حدیث سے ثابت ہیں؟ حالانکہ عبقری کے جتنے بھی وظائف ہیں ، سب کے پیچھے قرآن وسنت اور اکابرین امت کی دلیل موجود ہے۔ اگر ہمارا اپنادینی مطالعہ ختم ہو چکا ہے اور اگر ہم خود شریعت سے نا آشنا ہو چکے ہیں تو اس میں عبقری کا کیا قصور ! رہی بات ہر وظیفے کے فوائد پر حدیث کے ثبوت کی ، تو ایک بات ذہن نشین رکھیے کہ قرآن وسنت سے ماخوذ یا ماثورہ دعا ئیں اور وظائف جب کسی شخص کے تجربے میں آتے ہیں اور زبان پر اس وظیفے کی کثرت ہوتی ہے تو اللہ پاک اس وظیفے اور اس دعا کے بے شمار فائدے عطا کرتا ہے۔ پھر انہی تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے بندہ اپنے دوستوں رشتہ داروں سے کہتا ہے کہ بھئی : میرا مسئلہ تو فلاں وظیفے کی برکت سے حل ہو گیا، تم بھی اسے ضرور آزماؤ اور اس کے فائدے پاؤ۔ جیسا کہ ماہنامہ القاسم میں استاذ العلماء مولانا مفتی خالد محمود صاحب لکھتے ہیں کہ : جس شخص کی یہ خواہش ہو کہ اس کا مال بڑھ جائے ، اسے چاہئے کہ وہ یہ والا درود شریف پڑھا کرے (اللهم صل علیٰ محمد عبدك ورسولك وصل على المومنين والمومنات والمسلمين والمسلمات) جو شخص صبح شام سات مرتبہ یہ درود شریف پڑھے گا ، تو اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کی اولاد کو باعزت رکھے گا ( اللهم صل على سيد العالمين حبيبك محمد و آله صلوة انت لها اهل وبارك وسلم كذالك ) بحوالہ: ماہنامہ القاسم دسمبر 2018ء صفحہ 16 ناشر : جامعہ قاسمیہ دارالافتاء ڈیرہ غازی خان محترم قارئین ! ماہنامہ القاسم میں شائع شدہ درود شریف کے ان کمالات کو دیکھ کر کوئی شخص کہے : بھلا کس حدیث سے ثابت ہیں تو اسے کہا جائے گا: بھئی جا کر اپنی عقل کا علاج کرواؤ جو علمائے دین یا اولیاء اللہ مجھے وظائف بتارہے ہیں، وہ قرآن وحدیث کے معاملے میں تم سے زیادہ محتاط ہیں اور دین کو تم سے زیادہ سمجھتے ہیں، اسی لیے اللہ پاک نے انہیں اپناذ کر عام کرنے کیلئے چنا ہوا ہے اور تم لوگوں کو وظائف اور اذکار سے الٹا دور کرنے کی محنت میں لگے ہوئے ہو ۔ کیا ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ تم بھی اللہ تعالیٰ سے ڈر جاؤ اور مخلوق خدا کو خدا تعالیٰ سے دور کرنے کی بجائے اسی کے ذکر پر لگا نا شروع کردو؟

آسانی پیدا کرو اور سختی نہ کرو۔۔۔!

(مولانا محمد عمران، جامعہ اشرفیہ ) (1) آپ صَلَّى ٱللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا: لوگوں میں آسانی پیدا کرو اور سختی نہ کرو، اُن کو خوش خبری دو اور اُن میں نفرت نہ پھیلاؤ۔ (بخاری، رقم 69)۔ (2) حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ ایک بدو نے مسجد میں پیشاب کر دیا تو لوگ بھڑک کر اُس کی طرف اٹھے تاکہ اُسے ماریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اسے چھوڑ دو اور جہاں اُس نے پیشاب کیا ہے وہاں پانی کا ایک ڈول بہا دو ۔ تم آسانی کرنے والے بنا کر بھیجے گئے ہو تنگی کرنے والے نہیں ۔ ( بخاری، رقم 6128) (3) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دو کاموں میں سے ایک کو اختیار کرنے کی اجازت ملی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آسان کو اختیار فرمایا، جبکہ اس میں گناہ نہ ہو۔ ( صحیح بخاری، 1287/3، رقم : 3387) (4) حضرت انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بھی کسی صحابی کو گورنر، مفتی ، قاضی یا سپہ سالار بنا کر دوسرے علاقوں کی طرف روانہ کرتے تو فرماتے : آسانی پیدا کر و مشکل میں نہ پھنسا ؤ۔ خوش رکھو اور متنفر نہ کرو۔ ( صحیح بخاری، 38/1، رقم / 69) دور حاضر میں شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب دامت بر کاتہم دنیا کی 500 با اثر ترین شخصیات میں سے ایک ہیں جدید مسائل میں قابلیت کے حوالے سے دنیا بھر میں آپ کا ایک نمایاں نام ہے ۔ آپ کی ایک بڑی خصوصیت یہ بھی ہے کہ آپ يَشرُ وا وَلَا تُعَيّرُ وا وَبَيَّرُ وا وَلَا تُنظرُوا کے مفاہیم کو سمجھتے ہیں ….! فَإِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُيَتِيرِينَ وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَثِيرِينَ کے تقاضوں سے پوری طرح واقف ہیں ۔۔۔۔! يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسر جیسی نص پر پوری طرح عامل ہیں۔۔۔! یہی وجہ ہے ڈیجکل تصویر کے ذریعے آج پوری دنیا آپ کی علمی تحقیق سے استفادہ کر رہی ، اسلامی بینکاری کے ذریعے امت کو معاشی استحکام کی طرف رہبری مل رہی ہے، ابھی حال ہی میں آپ یورپ کے غیر معتدلہ شہر کے دورے پر تشریف لے گئے اپنی جائے قیام پر پہنچ کر مغرب اور ساتھ ہی عشاء کی نماز اکھٹی با جماعت پونے نو بجے ادا کی جب کہ ابھی سورج غروب ہوا ہی تھا، حضرت والا دامت برکاتہم نے فرمایا کہ ان دنوں میں یہاں شفق احمد بھی غروب نہیں ہوتی اس لیے میرا معمول ہے کہ ان ایام میں سفر کی حالت میں مغرب اور عشاء کے درمیان جمع حقیقی کر لیتا ہوں اور پھر نصف اللیل کا انتظار کر کے فجر پڑھ کر آرام کرتا ہوں ( بحوالہ ماہنامہ البلاغ نومبر 2019 بمطابق ، ربیع الاول ۱۴۴۱ھ )

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025