اکابر پر اعتماد نہیں تو کچھ نہیں ۔۔!

(محمد قاسم متین ایم فل، اسکالر، پنجاب یونیورسٹی) اس پرفتن دور میں ابنائے زمانہ کو حروف کی شناسائی حاصل ہونے لگے تو اپنے آپ کو نقل کل سمجھ کرمسلم اور طے شدہ مسائل پر طبع ) آزمائی کرنے لگتے ہیں اور خودی کے کے خول میں بند ہو کر اکابر “ پر بد گمانی کو جدید تحقیقات کا حصہ سمجھتے ہیں۔۔۔ ! خود میری ذات بھی اسی خول میں بند تھی ” کا بڑ” پر اعتماد پیج نے میرے اندر سے اس بے اعتمادی کے زنگ کو کھرچ کر ایسی بے حسی سے بچایا ہے جس کا احساس شاید مجھے آخری دم تک نہ ہوتا۔۔۔! اور میں اکابر کے فیوض و برکات سے مستفید نہ ہو سکتا۔ میں بطور ایم فل اسکالر کا بر پر اعتماد بیج کے ذریعے اکابر “ سے جڑنے کے بعد اپنے من میں اکابر “ کیلئے محبت کے جو چشمے پھوٹتے دیکھتا ہوں اس کو الفاظ کا پیرا ہن نہیں دے سکتا۔ اس پیج کو دیکھنے سے پہلے جو قول واقوال دل اثر نہیں کرتے تھے یعنی ضعیف معلوم ہوتے تھے اب وہ صرف جسم پر ہی نہیں بلکہ روح کو بھی ہر پل جھنجوڑ رہے ہیں اور آج مجھے آپ ) الی اسلام کے اس ارشاد پاک کی حقیقت سمجھ میں آئی . ”د که برکت تمہارے بڑوں کے ساتھ ہے” میرے مشاہدے کے مطابق آج ہماری زبوں حالی کی وجہ میرے جیسے غافل لوگ ہیں جو کہ اپنے اکابر “ سے بیزار ہیں ) ۔۔۔! ایسے دوستوں سے میں نہایت ہی اداب کے ساتھ عرض گزار ہوں کہ اکا بر اعتماد بیج کے ذریعے اپنے اندر سے بدگمانی ، شک جیسی بیماریوں کا علاج کریں۔ یہاں پر مجھے علامہ اقبال کا شعر یاد آتا ہے جو کہ انھوں سے شاید اسی کرب و الم سے لکھا ہے کہ اے مسلمان تیر بر بادی ، تیری ) ا غلامی کا نتیجہ اکابر “ سے ہٹنا، اور فرقوں میں بنٹنا ہے۔۔۔! ہم کون ہیں کیا ہیں با خدا یاد نہیں اپنے اسلاف کی کوئی ادا یا نہیں ہے اگر یاد تو کافر کے ترانے ہی بس ہے اگر نہیں یاد تو مسجد کی صدا یاد نہیں آخری بات : سوشل میڈیا پر موجود اپنے تمام دوستوں سے التماس کرتا ہوں کہ موجودہ زمانہ میں اپنے اکا بر” پر اعتماد کی ضرورت ہی نہیں بلکہ اشد ضرورت ہے وگر نہ قدم قدم پر گمراہی کے اڈے ہیں کسی بھی جگہ انسان پھسل سکتا ہے خود بھی اکابر ) پر اعتماد کا دامن تھامے رکھیں اور اپنے متعلقین کو بھی اس کی تلقین کرتے رہیں ۔ اکابر کی تحقیقات و تعلیمات سے کبھی ) انکار و انحراف نہ کریں اور نہ بھی ان کے دامن کو چھوڑیں کیونکہ ہمارے علم وفن، دیانت وامانت کی انتہا بھی ان کے علم وحکمت کی ابجد کو نہیں چھو سکتی ‘ اکابر ” پر اعتماد میں ہی ہماری نجات ہے اور اسی میں ہمارے لیے خیر و برکت ہے۔۔۔!
بغیر شملہ کے عمامہ ۔ ۔ ۔ تعلیمات اکابر کی روشنی میں ہے

(مفتی محمد فرقان محمود متخصص جامعہ بنوریہ، کراچی) میں نے شیخ الوظائف دامت برکاتہم کی زندگی کو بہت ہی قریب سے دیکھا ہے اللہ کے فضل و کرم سے آپ کی زندگی کا ایک ایک پہلو شریعت کے سانچے اور تعلیمات اکا بڑ کی طرز زندگی میں ڈھلا ہوا ہے ۔ میں نے جہاں تک دیکھا آپ کی زندگی میں کوئی ایک پہلو بھی اکا بڑ کی زندگی سے ہٹ کر نہیں پایا۔ عمامہ کے بارے میں موجودروایت پر تفصیلی نگاہ کرنے کے بعد علمائے کرام اور فقہائے عظام نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ عمامہ کا شملہ سن زوائد میں سے ہے یعنی شملہ کا رکھنا اور نہ رکھنا دونوں طرح ٹھیک اور جائز ہے ذیل کی تفصیل سے یہ بات آپ کو با آسانی سمجھ میں آجائے گی : علمائے کرام فرماتے ہیں کہ شملہ چھوڑنے کی کوئی پابندی نہیں ہے اور شملہ ضروری نہیں ہے ۔ (1) ۔ جامعہ بنوری ٹاؤن کا فتوی: دار الافتاء بنوری ٹاؤن کے مفتیان کرام فرماتے ہیں کہ شملہ چھوڑنے اور نہ چھوڑنے دونوں کے بارے میں کوئی پابندی نہیں ، دونوں ہی طرز درست ہیں۔ عمامے کے کپڑے کے بارے میں کسی قسم کی تعیین احادیث میں وارد نہیں ، جو کپڑا میسر ہو، عمامہ باندھا جا سکتا ہے۔ (فتوی نمبر : 143610200037) (2) ۔ امام نووی کا فتوی: طارح صحیح مسلم امام ابوز کر یا حی الدین نووی رحمہ اللہ اپنی کتاب "المجموع شرح المھذب میں عمامے کے شملے کے متعلق لکھتے ہیں کہ عمامہ شریف کا شملہ لٹکانا اور نہ لٹکانا دونوں برابر ہیں اور ان دونوں میں سے کسی ایک کو بھی اختیار کرنا مکروہ نہیں ہے (یعنی نہ عمامہ کا شملہ لڑکانے میں کوئی کراہت ہے اور نہ ہی ترک کرنے میں کوئی کراہت ہے ) ( المجموع شرح المهذب، ۴۵۷/۴) (3) ۔ دارالعلوم کا فتوی (انڈیا): آپ سنی یا یتیم سے عمامہ کے دو شملے چھوڑنا ، ایک شملہ چھوڑنا اور بغیر شملہ چھوڑے عمامہ باندھنا ہر طرح ثابت ہے، پس تینوں طریقوں پر عمامہ باندھنا مسنون ہوگا : وقد ثبت فى السير بروايات صحيحة أن النبي صلى اللہ علیہ وسلم كان يرخي علامته أحيانا بين كتفيه وأحيانا يلبس العمامة من غير علامة فعلم أن الإتيان بكل واحد من تلك الأمور سنة (مرقاة : ٨ / ۲۵۰ حوالہ فتوی نمبر 9848) (4) ۔ شیخ علامہ عبدالحق دہلوی کا فتوی: حضرت علامہ شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: شملہ لڑکا نامستحب اور سنن زوائدمیں سے ہے۔ اسے ترک کرنے میں کوئی گناہ نہیں۔ (کشف الالتباس فی استحباب اللباس، ذکر شملہ، ص ۳۹ ملخصا) (5) ۔ حضرت مولانا احمد رضا خان رحمہ اللہ کا فتویٰ: حضرت مولانا احمد رضا خان رحمتہ اللہ علیہ ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں: عمامہ کا شملہ رکھنا سنت عمامہ کی فرع اور سنت غیر مؤکدہ ہے۔ ( یعنی ضروری نہیں ہے اگر کوئی شملہ نہ رکھے تو گناہ گار نہیں ہوتا ) یہاں تک کہ مرقاۃ میں فرمایا : قد ثبت في السير برواياتٍ صَحِيحَةٍ أَنَّ النَّبي صَلَّى الله تَعَالَى عَلَيهِ وَسَلَّم كان يرى علامته احيانا بَينَ كَيْفَيهِ وَأحيانا يلبَسُ العِمَامَةَ مِن غَيرِ عَلامَةٍ فَعُلِم أَنَّ الإتيان بِكُلِّ وَاحِدٍ مِن تِلك الأمورِ سُنّة ( يعنى ) كتب سیر میں روایات صحیحہ سے ثابت ہے کہ مبی اکرم سنی ہی ہم بھی عمامہ کا شملہ دونوں کاندھوں کے درمیان چھوڑتے بھی بغیر شملہ کے باندھتے ۔ اس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ان امور میں سے ہرایک کو بجالا نا سنت ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح، کتاب اللباس، الفصل الثانی ۱۴۶/۸ تحت الحدیث : ۴۳۳۹) (6)۔ ادارہ منہاج القرآن کا فتوی: عمامہ کی لمبائی ضرورت کے مطابق رکھ سکتے ہیں کوئی شرعی قید نہیں ہے۔ آپ سلانا ہی تم نے عمامہ باندھنے کا کوئی طریقہ مختص نہیں فرمایا، لہذا جو مناسب ہو وہ طریقہ اپنا سکتے۔ (فتوی نمبر 4120) محترم قارئین ! ان گزارشات کے بعد یہ بات آپ بخوبی جان چکے ہوں گے شیخ الوظائف لباس تک کے معاملے میں اپنے اکا بڑ کی تعلیمات پر سو فیصد کار بند ہیں تو دوسری چیزوں میں کیسے ان کی تعلیمات کو فراموش کر سکتے ہیں۔ شملہ کے ساتھ یا بغیر شملہ کے عمامہ پہننا دونوں طرحسے جائز ہے اور تعلیمات شرعیت اور تعلیمات اکابر کے عین مطابق ہے-
ناخن کاٹیں مالدار بنیں اور بیماری بھگا میں۔۔۔!

( مولا نا ابوعون محمد غزالی ، جہلم ، فاضل جامعہ امدادیہ ) حضرت جابر سے مرفوعاً روایت ہے کہ آپ سلیم نے فرمایا کہ ناخن تراشو کہ ناخن اور اور گوشت کےدرمیان شیطان دوڑتا ہے۔ ( خطیب فی الجامع، اتحاف ج 2 ص 411، شمائل کبری ، سنت حبیب ملی ) امام غزالی احیاء العلوم میں لکھا ہے کہ بڑھے ہوئے ناخن پر شیطان بیٹھتا ہے- (احیاء العلوم الدین ج 2 ص 411) ملاعلی قاری نے لکھا ہے کہ ناخن نہ کاٹنا اور بڑھے ہوئے رکھنا تنگی رزق کا باعث ہے- (مرقات ج 4 ص 457 بحوالہ شمائل کبری ج 2 ص 404) حضرت مولانا عزیز الرحمن صاحب بن مفتی احمد الرحمن صاحب فرماتے ہیں کہ دوران درس مسلم شریف حضرت مفتی نظام الدین شامزئی ( شیخ الحدیث جامعہ بنوری ٹاؤن ) نے فرمایا کہ کہ امام نووی ” نے لکھا ہے کہ جمعرات کے دن ہاتھوں اور پیروں کے ناخن کاٹنے سے مالداری آتی ہے اور غربت وافلاس کا خاتمہ ہوتا ہے۔ حضرت مفتی نظام الدین شامزی صاحب کے اس فرمان کے بعد میں نے اس عمل کو بار با آزمایا میرے بعض دوستوں نے میرے بتانے پر اس پر عمل کر کے مجھے بتایا کہ جب سے اس نسخے پر عمل کیا ہے جیب کبھی بھی خالی نہیں ہوئی آپ بھی کریں انشاء اللہ آپ کو بھی فائدہ ہوگا۔ ( شفاء ورحمت ،ص325، مصنف مولانا صاحبزادہ عزیز الرحمن صاحب، ناشر: حاشر پبلشرز ) محترم قارئین ! عبقری اگر چھوٹے چھوٹے اعمال پر بڑے بڑے فائدوں کا ذکر کرتا ہے تو وہ فائدے اپنی طرف سے خود ساختہ نہیں ہوتے۔۔۔! بلکہ قرآن وسنت اور اکابر سے منقول ہوتے ہیں اور میں ایک بات جانتا ہوں کہ ہمارے اکابر ہم سے زیادہ سمجھ دار، ذی شعور اور باصلاحیت ہونے کے ساتھ ساتھ روحانی مشاہداتی زندگی میں بھی با کمال تھے۔
کٹے ناخن دفنائیں ۔۔ سنگین بیماریاں بھگائیں تعلیمات اکابر کی روشنی میں

(مفتی محمد فرقان محمود، خصص جامعہ بنوریہ کراچی) شیخ الوظائف اپنے اکثر دروس میں ناخن کاٹنے پر خوشحالی اور نہ کاٹنے پر بدحالی کا تذکرہ فرماتے ہیں اسی طرح کچھ عرصہ قبل عبقری کے فیس بک پیج پر ایک پوسٹ ناخن کاٹنے پر بیماریاں بھگانے کی ڈالی گئی جسے ایک کروڑ سے زیادہ لوگوں نے دیکھا پسند کیا اور فیض حاصل کیا تو میرے دل سے عبقری کیلئے بے ساختہ دعائیں نکلنا شروع ہو گئیں کتنی چھوٹی چھوٹی چیزوں کے ذریعے تسبیح خانہ اور عبقری ہمیں قرآن وسنت اور تعلیمات اکابر سے جوڑ رہا ہے آپ دوستوں کیلئے ناخنوں کے ذریعے خوشحالی اور بدحالی کے کی باتیں عرض کرتا ہوں جس سے آپ عبقری کے بارے میں یہ کہنے پر مجبور ہو جائیں گے اس پرفتن دور میں عبقری ہمارا بہت بڑا حسن ہے۔ (1) مسرج اشعریہ نے بیان کیا کہ ہمارے والد مسرج ” جو اصحاب نبی پاک سمایا کہ تم میں تھے انہوں نے ناخن کاٹا اور اس کے تراشہ کو جمع کر کے دفن کر دیا اور پھر کہا کہ میں نے اسی طرح ( آپ مالی می بینم کو ناخن کے تراشے کو دفن ) کرتے ہوئے دیکھا۔ (شعب الایمان ج 5 میں 232 بحوالہ شمائل کبری ج 2 ص 405) (2) حافظ ابن حجر عسقلانی نے لکھا ہے کہ ناخن کاٹنے کے بعد اسے دفن کر دینا چاہیے۔ (فتح الباری ج 10 ص 346) (3) حافظ ابن حجر عسقلانی نے علامہ زبیدی ، شارح احیاء نے اتحاف السادۃ میں اور علامہ شامی نے ردر المختار میں ناخن کاٹنے کی ایک خاص ترتیب پر آشوب چشم کا علاج لکھا ہے کہ یہ عمل مجرب ہے اس کی وجہ سے یہ بیماری دور ہو جائے گی۔ (فتح، اتحاف ج 2 ص 412 بحوالہ شمائل کبری ج 2 ص 405) (4) شیخ محمد صالح المنجد حفظہ اللہ کی نگرانی میں میں ایک فتویٰ شائع کیا گیا جس میں لکھا ہے کہ اگر ناخنوں کو دفن کر دیتے ہیں تو یہ اچھاعمل ہے- (5) امام بیہقی رحمہ اللہ شعب الایمان میں فرماتے ہیں کہ بالوں اور ناخنوں کو دفن کرنے کے بارے میں احادیث مختلف اسناد کے ساتھ موجود ہیں۔ ( بحوالہ نصب الرایۃ فی تخریج احادیث الہدایۃ ج 1ص189) (6) امام خلال رحمہ اللہ نے اپنی کتاب: "الترجل : صفحہ: 19 میں نقل کیا ہے کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بالوں اور ناخنوں کو دفن کیا جائے۔ (7) شیخ محمد بن صالح عثیمین رحمہ اللہ سے بالوں اور ناخنوں کو تراشنے کے بعد انہیں دفن کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نےجواب دیا: اہل علم نے بال اور ناخن دفن کرنے کو اچھا اور بہتر عمل قرار دیا ہے، اس بارے میں صحابہ کرام سے بھی کچھ آثار ملتے ہیں۔ (مجموع فتاوی شیخ ابن عثیمین” (11 / جواب نمبر : 60) (8) ناخنوں کو نجس ( ناپاک) جگہ ڈال دینا کراہت و گناہ کا ذریعہ ہے اور اس کو دفن کر دینا بہتر ہے۔ ( فتاوی ہندیہ ج 5 ص 358 بحوالہ فتاوی دار العلوم فتوی نمبر 35296) (9) انسانی ناخن اور بال دفن کر دینے چاہیں یا ایسی جگہ مٹی میں ڈال دیے جائیں جہاں گندگی اور نا پا کی نہ ہو- (جامعہ بنوری ٹاؤن ، فتوی نمبر 143605200009) (10) چار چیزوں کے بارے میں حکم یہ ہے کہ وہ دفن کر دی جائیں۔ بال ، ناخن حیض کا لتا، خون ۔اس لئے ناخن کاٹنے کے بعد اسے دفن کر دینا چاہئے۔ پاخانہ یا نسل خانہ میں انہیں ڈالنا مکروہ ہے کہ اس سے بیماری پیدا ہوتی ہے۔ (ماخوذ از اسلامی اخلاق و آداب، مصنفہ صدر الشریعہ علامہ امجد علی قادری ، ص: ۲۳۳ تا ۲۳۸) (11) فتاوی عالمگیری میں لکھا ہے کہ دانت سے ناخن کاٹنا مکر وہ اور اس سے کوڑھ کا مرض ہو جانے کا اندیشہ ہے۔ (فتاوی عالمگیری جلد 5 ، صفه 358) (12) کٹے ہوئے ناخن اور بال دفن کرنا چاہیے دفن نہ کرے تو کسی محفوظ جگہ پر ڈالدے یہ بھی جائز ہے مگر نجس گندی جگہ پر نہ ڈالے اس سے بیمارہو جانے کا اندیشہ ہے۔ ( بہشتی زیور : حصہ 11 ص 97) (13) جمعے کے دن ناخن تراشنے والا دس ( 10 ) دن تک اس کی برکتیں پاتا ہے۔ (مسنداحمد ، ج 9، ص 125 ، حدیث : 23539 ) (14) حدیث پاک میں ہے: جو جمعہ کے دن ناخن ترشوائے ، اللہ تعالیٰ اس کو دوسرے جمعہ تک بلاؤں سے محفوظ رکھے گا اور 3 دن زائد یعنی 10 دن تک۔ (مرقاۃ المفاتیح ، ج 8، ص212۔ کنز العمال ج 6 ص 372) (15) دانت سے ناخن کاٹنا مکروہ ہے تنگی رزق اور غربت کا باعث ہے۔ (اتحاف ج 2 ص 412) (16) علامہ ابن عابدین شامی فرماتے ہیں: دانت سے ناخن نہ کاٹے کہ اس سے برص کی بیماری پیدا ہو جاتی ہے- (فتاوی شامی ج 5 ص 287) (17) مولانا اختر حسین صاحب لکھتے کہ ناخن کاٹنے کے بعد تراشے ہوئے کو دفن کرنا سنت ہے- ( سنت حبیب سلیم ص 189)
اکابر پر اعتماد ایک نورانی نور ۔۔۔ جس سے ہر گمراہی دور

( مولانا محمد نیاز ، فاضل : جامعہ مظاهر العلوم ، آراے بازار، لاہور) البركة مع اكابرهم الحمد للہ آپ حضرات نے اکابر پر اعتماد” کے نام سے جو سلسلہ شروع کیا ہے یہ بہت ہی لائق تعریف و تحسین ہے کیونکہ اس کو دیکھ کر مجھے اپنے استاذ امام الصرف والنحو حضرت مولانا مفتی محمد حسن صاحب چشتی دامت برکاتہم کی وہ صیحتیں یاد آتی ہیں جو وہ مدرسہ کی چاردیواری میں ہم کو نہایت مخلص ہو کر کیا کرتے تھے اور وہ ساری نصیحتیں اکابر پر اعتماد ” سے متعلق ہوتی تھیں انتہائی خوشی ہوتی ہے کہ جو کام استاذ محترم جامعہ مدنیہ جدید کی چاردیواری میں بیٹھ کر کیا کرتے تھے وہی کام عبقری سارے عالم میں پھیلانے کا ذریعہ بن رہا ہے۔ اکابر پر اعتماد” کیسے بنے گا؟ اس حوالہ سے میں استاد جی کے چند سنہری ملفوظات ذکر کرتا ہوں فرمایا اگر تمہارے پاس اکابر پر اعتماد اور انکی محبت موجود ہے تو پھر اگر علم تمہارے پاس قطرہ ہوگا اللہ اس کو سمندر بنادے گا اور اثر اکابر پر اعتماد اور ان سے محبت نہیں تو پھر اگر علم سمندر ہوا وہ بھی قطرہ بن جائے گا ۔ فرمایا کرتے تھے میری کوشش ہوتی ہے کہ اپنے طلبا اور علمائے کرام کو اکابر پر اعتماد سے جوڑوں ان کے دلوں میں اکا بڑ سے محبت اور اعتماد کو پختہ کروں کیونکہ اکابر پر اعتماد و محبت کی وجہ سے فتنوں سے اللہ حفاظت فرماتے ہے۔ فرمایا ایک مرتبہ میں امام اہلسنت مولانا سرفراز خان صاحب نقشبندی کے ہاں گیا تو انہوں مجھے خلافت سے نوازا اور فرمایا کہ مجھے معلوم ہے کہ آپ طلبا کو اکابر پر اعتماد سے جوڑتے ہو یہ بہت اچھی بات ہے۔ اکثر فرماتے ہیں کہ ہم دوسروں کے طرف مائل کیوں ہوں ہمیں تو اللہ تعالیٰ نے ایسے اکابرین سے جوڑا ہوا ہے جن کا جنتی ہونا اللہ نے دنیا میں دیکھا دیا ۔۔۔۔ ! جن کی قبروں سے جنت کی خوشبوں آئی ۔ فرمایا کہ اکا بر سب بڑے تھے اور ہر بڑے پر کسی نہ کسی بڑے کا سایہ ضرور ہوتا تھا فرمایا اکابر پر اعتماد کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ سارا بوجھ کا برین پر چلا جاتا ہے. ہم چھوٹوں کا کام یہ ہے کہ اپنے بڑوں سے رہنمائی لے لیں اور بھاگتے ہوئے جنت میں پہنچ جائیں۔ فرمایا اپنے بڑوں کی مجلس میں آنے جانے سے دل بھی بڑا ہو جاتا ہے اور اگر بڑوں کی مجلس میں آنا جانا نہ ہو تو پھر ہر بات پر اعتراض ہوتا ہے کہ یہ کیوں ہوا کیسے ہوا۔۔۔! قارئین محترم ! آپ حضرات کو اندازہ ہو گیا ہوگا کہ ہمیں اس وقت اکابر پر اعتماد” اور ان سے محبت کی شدید ضرورت ہے۔ اللہ جزائے خیر عطا فرمائے ! میرے پیارے مرشد حضرت اقدس شیخ الوظائف حکیم محمد طارق محمود مجذوبی چغتائی صاحب کو جنہوں نے اکابر پر اعتماد ” کے نام سے یہ سلسلہ شروع کروا کر ہم سب پر احسان عظیم کیا۔۔!
علامہ لاہوتی صاحب کی طرح حالت بیداری میں زیارت النبی صلى الله عليه وسلم کا فیض پانے اولیائے کرام

علامہ لا ہوتی صاحب دامت برکاتہم کے واقعات میں بار با حالت بیداری میں زیارت النبی سلیم کا تذکرہ ملتا ہے ہمارے اکا بڑ کی زندگی میں بھی بہت سے اس قسم کے واقعات ملتے ہیں چند اکابر پر اعتماد کے دوستوں کی خدمت میں پیش خدمت ہیں: (1) حضرت مولانا عبید اللہ صاحب فرماتے ہیں کہ بانی تبلیغ حضرت مولانا الیاس گونسبت حضوری حاصل تھی ایک مرتبہ خصوصی خدام کی مجلس میں فرمایا جب دل کو طلب ہوتی ہے سرکار دو جہاں صلی یا یتیم کی آنکھیں بند کرتے ہی زیارت ہو جاتی ہے (بحوالہ کرامات و کمالات اولیاء ج 1 ص 78، مجموعہ ارشادات شیخ الحدیث حضرت مولانا یوسف متالا صاحب، ناشر: زهراکیڈمی لندن ) (2) حضرت مولانا فضل رحمن گنج مراد آبادی کے خاص خدام فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ آپ فرمانے لگے یہ جنت ہے یہ جنت ہے چاروں سمت ہاتھ سے اشارہ کرتے رہے اور فرمانے لگے حضرت رسول مقبول صلی کیا یہ تم تشریف لے کر آئے ہیں۔ (بحوالہ تذکرہ حضرت مولانا فضل الرحمن گنج مراد آبادی، ص89، مصنف : مولاناسید ابوالسن علی ندوی، ناشر مجلس صحافت ونشریات لکھنو) (3) قطب ربانی امام شعرانی اپنی کتاب ” میزان میں لکھتے ہیں کہ شیخ سید محمد بن زین کو اکثر حالت بیداری میں آپ سلم کی زیارت ہو جایا کرتی تھی ( بحوالہ براہین قاطعہ ، مولانا خیل احمد سہارنپوری ،22 ، ناشر: دارالاشاعت کراچی ) شیخ اکبر حضرت محی الدین ابن عربی فرماتے ہیں کہ محض دلیل و برہان سے نہیں بلکہ دیکھتی آنکھوں سے بیداری میں حضرت رسالت مآب سی ایم کی زیارت با برکت سے مشرف ہوں اور یہ مقام تو میرے بہت سے بھائیوں کو بھی حاصل ہے جیسے شیخ سید احمد الرفاعی اس دولت کبری سے حالت بیداری میں مالا مال ہوئے اور حضور صلی یا یہ تم نے انھیں جنت کے تخت پر بٹھایا ( سعادت دارین ج 2 ص 98) محترم قارئین! آج اللہ کریم کے فضل سے عبقری کا پیغام سارے عالم میں پھیل گیا اس کی وجہ مخلصین کا اخلاص اور اہل اللہ کی سر پرستی ہے جو لوگ اب تک اس ماحول سے دور ہیں ان سے گزارش ہے ضرور تسبیح خانہ لاہور میں ایک مرتبہ آکر ماحول کو دیکھیں اللہ کریم کی عطا سے زندگی ایمان وسنت کے نور سے مزین اورا کا بڑ کی محبت سے لبریز ہو جائے گی۔ انشاء اللہ
تسبیح خانہ کا ماہانہ دم۔۔۔ تعلیمات اکابر کے سنگ

( پروفیسر محمد زبیر صاحب، لاہور ) تسبیح خانہ لاہور میں شیخ الوظائف دامت برکاتہم ہر ماہ اسم اعظم کا روحانی دم فرماتے ہیں جس سے بلا مبالغہ لاکھوں سے زیادہ لوگ فیض یاب ہو رہے ہیں ۔ یہ ترتیب شیخ الوظائف کی خود ساختہ نہیں ہے، بلکہ ہمارے اکابر کی زندگی میں ایسے بہت سارے واقعات ملتے ہیں جس میں وہ مخلوق خدا ( خواتین و حضرات کو دم فرما کر ان کو راحت اور سکون دیتے اور اللہ کے نام کے ذریعے ان کے دکھوں کا مداوا کرتے تھے: اکابر پر اعتماد کے دوستوں کی رہنمائی کیلئے ایک واقعہ پیش خدمت ہے: مولا نا اعجاز احمد صاحب اعظمی لکھتے ہیں کہ ایک غیر مسلم عورت شیخ حماد اللہ ہالیجوئی کے پاس آئی وہ پنو عاقل کے قریب سے آئی تھی۔ ہندو تھی اور چند ایک آدمی اس کیساتھ تھے نہایت روتی چلاتی ہوئی آئی کہ ہائے میں مرگئی ۔ آپ نے دریافت فرمایا کہ کیا ہوا ہے؟ ساتھ آدمیوں نے بتایا کہ اس کے سینے پر پھوڑا ہے جس کی وجہ سے نہایت درد ہے اور کئی دن سے بے تاب ہے، نیند نہیں آتی ۔ حضرت نے مسجد سے باہر بیٹھنے کا حکم دیا وہ لوگ بیٹھ گئے اور حضرت نے مسجد کے اندر سے ہی دم کرنا شروع کر دیا اور اپنی داہنی انگشت شہادت سے اشارہ فرماتے رہے، فوراً اس عورت کو آرام آگیا اور اس کو وہیں نیند آگئی۔ پھر حضرت نے مٹی کے ایک پاک ڈھیلے پر دم کر دیا اور فرمایا کہ اس کو پھوڑے پر پھیرتے رہو ان شاء اللہ شفاء ہوگی ۔ تو وہ ہندو برادری کے لوگ دُعائیں دیتے ہوئے واپس چلے گئے۔ (تجلیات ص, 140 بحوالہ : تذکرۃ اشیخ الیجوی "ہیں۔ 225- تالیف : حضرت مولانا اعجاز احمد اعظمی، ناشر: مکتبہ حمادیہ کراچی) محترم قارئین! میں یہ بات پورے اعتماد کے ساتھ کہ رہا ہو کر تی خانہ لاہورکا ایک عمل بھی اکابر کی زندگی سے ہٹ کر نہیں ۔ ۔ ۔ صبح سے لیکر شام اور شام سے صبح تک ہر عمل نہایت ہی مستند، جاندار اور شاندار ہے آپ سے گزارش ہے کہ آپ بھی ضرور ان بابرکت نورانی اعمال میں شریک ہو کر مسنون اعمال اورا کا بر پر اعتماد والی زندگی گزاریں اور حیرت انگیز برکات کا مشاہدہ کریں ۔ انشاء اللہ
ایمان کی ڈوبتی کشتی کو بچانے کا ذریعہ

(محمد قاسم متین، ایم فل اسکالر پنجاب یونیورسٹی) میں اکابر پر اعتماد کے قارئین سے عرض گزار ہوں کہ زیادہ سے زیادہ اس پیج کو گروپوں میں شیئر کریں تا کہ مجھ جیسے بہت سے غافل اور اکابر سے بیزار اور ان پر زبان درازی اور ہر بات کو شک کی نگاہ سے دیکھنے والے اکابر کے فیوض و برکات سے محروم نہ ہو جائیں ۔۔۔! میری دلی دعا ہے اللہ پاک عبقری والوں کو جتنی خیر ملی ہے اس کے ذریعے سے قیامت تک اُمت کے ہر طبقے کو ہر فتنے سے محروم رکھیں ( آمین ) کیونکہ جس زمانے سے ہم گزر ہے ہیں یہ بڑا ہی پر آشوب اور فتنوں سے بھرا زمانہ ہے ، ہر طرف سے دلوں کو موہ لینے والی صدائیں ہیں ، آدمی کو پتہ نہیں چلتا کہ منزل کہاں ہے؟ ایسے وقت میں ہماری نجات کا بہترین راستہ یا طرز عمل یہی ہے کہ ہم جو کام بھی کریں اپنے اکابر کے سائے میں رہ کریں اور اکا بڑ کی رہنمائی سے کریں خود رائی اور ا کا بڑ سے ہٹ کر جو کام بھی کریں گے وہ ہمیں اندھیری غار میں گرا دے گا۔۔۔! اگر ہم نے اکابر پر اعتماد نہ کیا تو جو حالت اب ہے اس سے بھی ابتر ہوتی جائےگی۔۔! میں ایک بات واضح طور پر آپ دوستوں سے عرض کر دوں کہ اگر ہماری صورتحال کو دیکھ کر کوئی مورخ لکھنا چاہے تو وہ ہماری حالت زار پر زیادہ الفاظ ضائع نہیں کرے گا بس اتنا لکھ دے گا دد گھر جل رہا تھا اور مکین ۔۔۔ آپس میں کافر کافر ھیل رہے تھے اپنے آپ کو بچانے کا راستہ اکابر پراعتماد ہی ہے بڑی خوشی ہے یہ پیج دنیا بھر میں اکابر پر اعتماد” پھیلانے کا سبب بن رہا ہے ۔ اللہ کریم آپ کی محنت کو قبول فرمائیں اور اپنی شان کے مطابق جزائے خیر عطا فرمائیں ( آمین )
مزارات پر حاضری تعلیمات اکابر کی روشنی میں

شیخ الوظائف دامت برکاتہم کچھ روز قبل بخارا سمر قند اور تاشقند میں موجود بزرگوں کے مزارات پر حاضر ہوئے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ آپ کی اپنی کوئی نئی ایجاد ہے! انہیں ہرگز نہیں بلکہ ہمارے تمام اکابر محقق علمائے کرام اور مشائخ ان بزرگوں کے مزارات پر جا کر استفادہ باطنی حاصل کرتے تھے۔ حضرت حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحب سے جب یہ سوال کیا گیا کہ علماء دیو بند اولیاء اللہ اور بزرگان دین کی قبروں اور مزارات پر جانے سے روکتے ہیں اور قبروں پر فاتحہ ودعا کومنع کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ بالکل جھوٹ ہے اور افتراء باندھا جاتا ہے۔ علماء دیوبند کا مسلک یہ ہے کہ اولیاء اللہ اور اہل اللہ کی قبروں پر جانا انتہائی برکت اور فیض حاصل ہونے کا ذریعہ ہے۔دار العلوم کے مفتی اعظم حضرت مولانا عزیز الرحمن صاحب ہر سال حضرت مجددالف ثانی کے مزار پر عرس کے موقع پر حاضری دیا کرتے تھے اور خود سلسلہ نقشبندیہ سے تعلق رکھتے تھے۔ دارالعلوم کے پہلے مہتم حضرت مولا نا رفیع الدین صاحب نقشبند یہ خاندان میں شاہ عبد الغنی صاحب محدث دہلودگی سے بیعت تھے اور ان کا سلسلہ حضرت شاہ ولی اللہ سے ملتا ہے۔ دیوبند کے بزرگ حضرت مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی، حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی ان سب کا چشتی سلسلہ سے تعلق تھا اور یہ سلسلہ حضرت خواجہ معین الدین اجمیری اور حضرت صابر کلیری سے ہوتا ہوا حضرت علی سے جاملتا ہے۔ ہمارے اکا بر تقریباً جس قدر اولیاء اللہ اور بزرگان دین گزرے ہیں ان کے مزارات پر حاضری دیتے اور استفاضہ کرتے۔ (بحوالہ: خطبات حکیم الاسلام، ج 7 ص 5- ترتیب: مولانا نعیم احمد، مدرس جامعہ خیر المدارس ملتان، ناشر مکتبہ امدادیہ ملتان) محترم قارئین! اللہ پاک سے یہ دعا مسلسل مانگتے رہا کریں کہ اللہ کریم میں اپنے بڑوں پر کامل اعتماد عطا فرمائے کیونکہ وہ ہم سے زیادہ سمجھدار تھے ۔۔۔! اور عبقری کے اکابر پر اعتماد کی خدمات کو قبول فرمائیں۔۔۔ ( تحریر مولانا محمد نواز صاحب فاضل جامعہ مظاہر العلوم )
تسبیح خانہ کا پیغام اعمال سے بچنے کا یقین بالکل صحیح احادیث مبارکہ کی روشنی میں

تحریر : مولانا ابو محمد غزالی، فاضل جامعہ امدادیہ فیصل آباد دکھ، دردوں، پریشانیوں اور تکلیفوں سے نکلنے کیلئے فوائد اور فضائل کے ذریعے اعمال کی طرف مائل کرنے کے حوالے سے تسبیح خانہ اور عبقری پوری دنیا میں مشہور ہے یہ ترتیب تسبیح خانہ کی کوئی خود ساختہ ترتیب نہیں بلکہ قرآن سنت سے ماخوذ ہمارے اسلاف واکابر کا طریقہ کار ہے چند احادیث مبارکہ پیش خدمت ہیں جس سے آپ کو تسبیح خانہ کے پیغام کی صداقت بآسانی سمجھ میں آجائے گی ۔ اعمال سے بچنے کی پہلی دلیل : حضرت عثمان ابی العاص فرماتے ہیں کہ انھوں نے حضور سایی پیام کی خدمت اقدس میں شکایت کی کہ جب سے میں نے اسلام قبول کیا ہے میرے جسم میں دردیں رہتی ہیں آپ سان لیا کہ تم نے فرما یا جہاں درد ہو وہاں ہاتھ رکھ کر تین بار بسم شریف اور سات مرتبہ یہ پڑھا کرو۔ أَعُوذُ بِاللهِ وَقُدْرَتِهِ مِن شَيْرَ مَا أَجِدُ وَأُحَاذِرُ (صحیح مسلم، ابواب الطب، حدیث نمبر : 5867) اعمال سے بچنے کی دوسری دلیل : ام المؤمنین اماں سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم سایا ہی ہم نے ان کے گھر ایک بچی کو دیکھا جس کے چہرے پر دھبے پڑے ہوئے تھے تو فرمایا اسے کسی سے دم کرواؤ سے نظر لگی ہے۔ (بحوالہ صحیح بخاری) اعمال سے بچنے کی تیسری دلیل : آپ سی پیہم ان کلمات کے ذریعے حضرات حسنین رضی اللہ تعالی عنہما کو دم فرمایا کرتے تھے۔ أُعِيْدُ كُمْ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَةٍ وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَّامَّةٍ ( صیح بخاری ) محترم قارئین: عبقری کا پیغام اعمال سے بچنے کا یقیں سوفیصد توحیدی عقیدہ ہے ہے جس سے جڑنے والا ہر شخص اللہ کے فضل و کرم سے کامیاب ہے اللہ کریم میں اکابر پر مکمل اعتماد عطا فرمائے۔ آمین