ایمان کی ڈوبتی کشتی کو بچانے کا ذریعہ

(محمد قاسم متین، ایم فل اسکالر پنجاب یونیورسٹی) میں اکابر پر اعتماد کے قارئین سے عرض گزار ہوں کہ زیادہ سے زیادہ اس پیج کو گروپوں میں شیئر کریں تا کہ مجھ جیسے بہت سے غافل اور اکابر سے بیزار اور ان پر زبان درازی اور ہر بات کو شک کی نگاہ سے دیکھنے والے اکابر کے فیوض و برکات سے محروم نہ ہو جائیں ۔۔۔! میری دلی دعا ہے اللہ پاک عبقری والوں کو جتنی خیر ملی ہے اس کے ذریعے سے قیامت تک اُمت کے ہر طبقے کو ہر فتنے سے محروم رکھیں ( آمین ) کیونکہ جس زمانے سے ہم گزر ہے ہیں یہ بڑا ہی پر آشوب اور فتنوں سے بھرا زمانہ ہے ، ہر طرف سے دلوں کو موہ لینے والی صدائیں ہیں ، آدمی کو پتہ نہیں چلتا کہ منزل کہاں ہے؟ ایسے وقت میں ہماری نجات کا بہترین راستہ یا طرز عمل یہی ہے کہ ہم جو کام بھی کریں اپنے اکابر کے سائے میں رہ کریں اور اکا بڑ کی رہنمائی سے کریں خود رائی اور ا کا بڑ سے ہٹ کر جو کام بھی کریں گے وہ ہمیں اندھیری غار میں گرا دے گا۔۔۔! اگر ہم نے اکابر پر اعتماد نہ کیا تو جو حالت اب ہے اس سے بھی ابتر ہوتی جائےگی۔۔! میں ایک بات واضح طور پر آپ دوستوں سے عرض کر دوں کہ اگر ہماری صورتحال کو دیکھ کر کوئی مورخ لکھنا چاہے تو وہ ہماری حالت زار پر زیادہ الفاظ ضائع نہیں کرے گا بس اتنا لکھ دے گا دد گھر جل رہا تھا اور مکین ۔۔۔ آپس میں کافر کافر ھیل رہے تھے اپنے آپ کو بچانے کا راستہ اکابر پراعتماد ہی ہے بڑی خوشی ہے یہ پیج دنیا بھر میں اکابر پر اعتماد” پھیلانے کا سبب بن رہا ہے ۔ اللہ کریم آپ کی محنت کو قبول فرمائیں اور اپنی شان کے مطابق جزائے خیر عطا فرمائیں ( آمین )

مزارات پر حاضری تعلیمات اکابر کی روشنی میں

شیخ الوظائف دامت برکاتہم کچھ روز قبل بخارا سمر قند اور تاشقند میں موجود بزرگوں کے مزارات پر حاضر ہوئے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ آپ کی اپنی کوئی نئی ایجاد ہے! انہیں ہرگز نہیں بلکہ ہمارے تمام اکابر محقق علمائے کرام اور مشائخ ان بزرگوں کے مزارات پر جا کر استفادہ باطنی حاصل کرتے تھے۔ حضرت حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحب سے جب یہ سوال کیا گیا کہ علماء دیو بند اولیاء اللہ اور بزرگان دین کی قبروں اور مزارات پر جانے سے روکتے ہیں اور قبروں پر فاتحہ ودعا کومنع کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ بالکل جھوٹ ہے اور افتراء باندھا جاتا ہے۔ علماء دیوبند کا مسلک یہ ہے کہ اولیاء اللہ اور اہل اللہ کی قبروں پر جانا انتہائی برکت اور فیض حاصل ہونے کا ذریعہ ہے۔دار العلوم کے مفتی اعظم حضرت مولانا عزیز الرحمن صاحب ہر سال حضرت مجددالف ثانی کے مزار پر عرس کے موقع پر حاضری دیا کرتے تھے اور خود سلسلہ نقشبندیہ سے تعلق رکھتے تھے۔ دارالعلوم کے پہلے مہتم حضرت مولا نا رفیع الدین صاحب نقشبند یہ خاندان میں شاہ عبد الغنی صاحب محدث دہلودگی سے بیعت تھے اور ان کا سلسلہ حضرت شاہ ولی اللہ سے ملتا ہے۔ دیوبند کے بزرگ حضرت مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی، حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی ان سب کا چشتی سلسلہ سے تعلق تھا اور یہ سلسلہ حضرت خواجہ معین الدین اجمیری اور حضرت صابر کلیری سے ہوتا ہوا حضرت علی سے جاملتا ہے۔ ہمارے اکا بر تقریباً جس قدر اولیاء اللہ اور بزرگان دین گزرے ہیں ان کے مزارات پر حاضری دیتے اور استفاضہ کرتے۔ (بحوالہ: خطبات حکیم الاسلام، ج 7 ص 5- ترتیب: مولانا نعیم احمد، مدرس جامعہ خیر المدارس ملتان، ناشر مکتبہ امدادیہ ملتان) محترم قارئین! اللہ پاک سے یہ دعا مسلسل مانگتے رہا کریں کہ اللہ کریم میں اپنے بڑوں پر کامل اعتماد عطا فرمائے کیونکہ وہ ہم سے زیادہ سمجھدار تھے ۔۔۔! اور عبقری کے اکابر پر اعتماد کی خدمات کو قبول فرمائیں۔۔۔ ( تحریر مولانا محمد نواز صاحب فاضل جامعہ مظاہر العلوم )

تسبیح خانہ کا پیغام اعمال سے بچنے کا یقین بالکل صحیح احادیث مبارکہ کی روشنی میں

تحریر : مولانا ابو محمد غزالی، فاضل جامعہ امدادیہ فیصل آباد دکھ، دردوں، پریشانیوں اور تکلیفوں سے نکلنے کیلئے فوائد اور فضائل کے ذریعے اعمال کی طرف مائل کرنے کے حوالے سے تسبیح خانہ اور عبقری پوری دنیا میں مشہور ہے یہ ترتیب تسبیح خانہ کی کوئی خود ساختہ ترتیب نہیں بلکہ قرآن سنت سے ماخوذ ہمارے اسلاف واکابر کا طریقہ کار ہے چند احادیث مبارکہ پیش خدمت ہیں جس سے آپ کو تسبیح خانہ کے پیغام کی صداقت بآسانی سمجھ میں آجائے گی ۔ اعمال سے بچنے کی پہلی دلیل : حضرت عثمان ابی العاص فرماتے ہیں کہ انھوں نے حضور سایی پیام کی خدمت اقدس میں شکایت کی کہ جب سے میں نے اسلام قبول کیا ہے میرے جسم میں دردیں رہتی ہیں آپ سان لیا کہ تم نے فرما یا جہاں درد ہو وہاں ہاتھ رکھ کر تین بار بسم شریف اور سات مرتبہ یہ پڑھا کرو۔ أَعُوذُ بِاللهِ وَقُدْرَتِهِ مِن شَيْرَ مَا أَجِدُ وَأُحَاذِرُ (صحیح مسلم، ابواب الطب، حدیث نمبر : 5867) اعمال سے بچنے کی دوسری دلیل : ام المؤمنین اماں سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم سایا ہی ہم نے ان کے گھر ایک بچی کو دیکھا جس کے چہرے پر دھبے پڑے ہوئے تھے تو فرمایا اسے کسی سے دم کرواؤ سے نظر لگی ہے۔ (بحوالہ صحیح بخاری) اعمال سے بچنے کی تیسری دلیل : آپ سی پیہم ان کلمات کے ذریعے حضرات حسنین رضی اللہ تعالی عنہما کو دم فرمایا کرتے تھے۔ أُعِيْدُ كُمْ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَةٍ وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَّامَّةٍ ( صیح بخاری ) محترم قارئین: عبقری کا پیغام اعمال سے بچنے کا یقیں سوفیصد توحیدی عقیدہ ہے ہے جس سے جڑنے والا ہر شخص اللہ کے فضل و کرم سے کامیاب ہے اللہ کریم میں اکابر پر مکمل اعتماد عطا فرمائے۔ آمین

تسبیح خانہ میں ماہانہ کیا جانے والا دوم تعلیمات اكابر کی روشنی میں

ہر مہینے کی آخری اتوار کو تسبیح خانہ لاہور میں اسم اعظم کا دم کیا جاتا ہے جس میں ملک بھر سے ہزاروں لوگ شریک ہوتے ہیں بیماروں کو شفاء، دکھی لوگوں کو سکھ، پریشان حال لوگوں کو اللہ کے فضل و کرم سے عافیت، برکت اور صحت ملتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ دم کرنا آپ سنی یا پیام کی مستقل سنت مبارکہ، تمام صحابہ کرام اور اولیائے کرام کا روزمرہ کا معمول تھا چند مثالیں پیش خدمت ہیں: (1) آپ کی تو خود کو اور صحابہ کرام نبی اللہ کو دم فرمایا کرتے تھے ( بحوالہ بخاری شریف، ناشر قدیمی کتب خانہ ) (2) آپ سا ہم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی برا خواب دیکھے تو اسے چاہیے کہ اٹھنے کے بعد تین مرتبہ پھونک مار دیا کرے ( بحوالہ صحیح بخاری ) ۔ (3) اماں عائشہ صدیقہ طاہرہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں آپ کی صلى الله عليه وسلم کے مرض الوفات میں آپ کی یہیں پر معوذات پڑھ کر دم کیا کرتی تھی۔ بخاری شریف ہی کی دوسری روایت میں ہے کہ آپ مسی لیم جب کسی پر دم فرماتے تو اس پر اپنا ہاتھ پھیرتے ہوئے چند کلمات ادا فرماتے (بحوالہ صحیح بخاری)۔ (4) حضرت ابوسعید خدری نے سفر کے دوران ایک بیمار شخص کو بکریوں کے ریوڑ کے عوض دم کیا تو اللہ کے کرم سے اسے شفاء مل گئی (صحیح بخاری)۔ (5) جب آپ کی یہ بیمار ہوئے تو جبریل امین آپ سی ایم کو کچھ کلمات پڑھ کر دم کیا کرتے تھے ( صحیح مسلم ) – وضاحت: حضرت مولانا قاری سید صدیق احمد باندوی صاحب ،حضرت مولانا شاہ محمد حفظ الرحمن صاحب حضرت مولانا شاہ رفیع الدین صاحب، حضرت مولانا یعقوب نانوتوی صاحب اور ان جیسے ہزاروں علمائے کرام دم کرنے کے حوالے سے دنیا بھر میں مشہور ہیں ۔ ( تحریر مولانا خلیل الرحمن ، فاضل جامعہ امدادیہ فیصل آباد ) محترم قارئین! آپ حضرات ان چند مثالوں سے بخوبی سمجھ گئے ہونگے کہ بیح خانہ لاہور میں ہونے والا ماہانہ دم توکل کے عین مطابق ہی ہے کیونکہ اس میں ہر بیماری دُکھ تکلیف میں اللہ کے کلام ہی کی طرف نظر جاتی ہے ۔ اللہ ہمیں اسلاف پر اعتماد عطا فرمائے ۔ آمین

ایسا مختصر صدقہ جو دوزخ میں جلتے شخص کو باہر نکال دیتا ہے

عبقری تسبیح خانے کے درس ہدایت میں شامل ہونے والے حضرات کو حضرت شیخ الوظائف دامت برکاتہم العالیہ نے کئی مرتبہ ایک عمل عنایت فرمایا کہ اگر آپ اپنے فوت شدگان سے خواب میں ملاقات کرنا، یا ان سے کوئی مشورہ کرنا، یا ضروری بات پوچھنا ، یا صرف ان کے حالات سے واقف ہونا چاہتے ہیں، تو عشاء کے بعد چار رکعت نفل پڑھیں اور ہر رکعت میں سورۃ الفاتحہ کے بعد سورۃ الْهُكُمُ التَّكَاثُرُ پڑھیں ۔ پھر سلام پھیرنے کے بعد ان نوافل کا ثواب اس فوت شدہ شخص کی روح کو ہدیہ کر دیں اور درود شریف پڑھتے پڑھتے سو جائیں ۔ کسی کو جلدی ، کسی کو دیر سے ملاقات ہو جائے گی۔ آئیے اب دیکھتے ہیں کہ اس مبارک عمل کا کیا ثبوت ہے؟ مولانا مفتی خالد محمود صاحب ( جامعہ قاسمیہ، ڈیرہ غازی خان ) ماہنامہ القاسم میں لکھتے ہیں کہ : ایک عورت حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں آئی اور کہنے لگی: میری بیٹی کا انتقال ہو گیا ہے، میری تمنا ہے کہ میں اس کو خواب میں دیکھوں۔ حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا: تو عشاء کی نماز کے بعد چار رکعت نفل پڑھ اور ہر رکعت میں الحمد شریف کے بعد سورۃ التکاثر پڑھ نفل مکمل ہونے پر لیٹ جا اور سونے تک حضور نبی کریم مسلم پر درود شریف پڑھتی رہے۔ اس نے ایسا ہی کیا تو اپنی بیٹی کو خواب میں دیکھا کہ نہایت سخت عذاب میں ہے۔ تارکول کا لباس اس کے جسم پر ہے اور اس کے ہاتھ پاؤں آگ کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ چنانچہ وہ عورت صبح اٹھ کر دوبارہ حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں گئی اور اپنا خواب سنایا۔ انہوں نے یہ اندوہناک حالت سن کر فرمایا کہ اپنی بیٹی کی طرف سے صدقہ کر ، شاید اللہ جل شانہ صدقے کی وجہ سے تیری بیٹی کا عذاب ختم فرمادے۔ اگلی رات خود حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ نے خواب میں دیکھا کہ جنت کے باغ میں ایک نہایت اونچے تخت پر ایک حسین و جمیل لڑکی بیٹھی ہے، جس کے سر پہ نور کا تاج ہے اور کہہ رہی ہے : اے حسن ! میں وہی لڑکی ہوں جس کی ماں آپ کے پاس آئی تھی۔ فرمانے لگے : تیری ماں نے تو تیری حالت اس کے برعکس بتائی تھی ۔ کہا: ہاں ۔۔۔ میری حالت وہی تھی جو میری ماں نے آپ کے سامنے بیان کی تھی ۔ ہم ستر مردے اسی عذاب میں مبتلاء تھے کہ ایک صالح شخص کا ہمارے قبرستان کے قریب سے گزر ہوا۔ انہوں نے ایک مرتبہ درودشریف پڑھ کے اس کا ثواب ہمیں ہدیہ کر دیا۔ ان کا درود اللہ پاک کے ہاں اتنا مقبول ہوا کہ اس کی برکت سے ہم سب اس عذاب سے آزاد کر دیے گئے اور ہمیں جنت میں یہ رتبہ مل گیا. بحوالہ کتاب : فضائل درود شریف، صفحہ 96 مصنف : حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمتہ اللہ علیہ، ناشر: کتب خانہ فیضی لاہور بحوالہ: ماہنامہ القاسم اپریل 2019ء صفحہ 18 ناشر : جامعہ قاسمیہ، دار الافتاء ڈیرہ غازی خان

شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کی والدہ پرجن مسلط ہو گیا

مولانا کوثر نیازی صاحب ، حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا جنات سے متعلق ایک ذاتی مشاہدہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ایک زمانے میں خود میری بیوی پر جن مسلط ہو گیا۔ میں نے اس سے بات چیت کی تو معلوم ہوا کہ وہ جن مسلمان ہے۔ میں نے کہا: کوئی ثبوت پیش کرو کہ تم واقعی ایک جن ہو۔ وہ کہنے لگا ، آپ کوئی فرمائش کر کے دیکھ لیں۔ میں نے عجیب فرمائش کی اور کہا: مجھے الائچی کے پودے سے ایک سبز ٹہنی لا کر دو، جس پہ سبز الا ئچی لگی ہوئی ہو۔ مجھے پتہ تھا کہ یہ درخت ہمارے یہاں نہیں ہوتے ، یہ کہاں سے لائے گا؟ لیکن کچھ ہی دیر بعد میری گود میں سبز شاخ پر لگی ہوئی سبز الائچی موجود تھی۔ اب میں نے اس کے مسلمان ہونے کا امتحان لینے کی غرض سے کہا: مجھے قصیدہ بردہ شریف کے کچھ اشعار سناو۔میری بیوی عربی نہیں جانتی تھی لیکن اس نے فرفر پورا قصیدہ سنانا شروع کر دیا (بحوالہ کتاب اکابر دیو بند کے ایمان افروز واقعات صفحه 135 مؤلف: مولانا محمد انور بن اخر داره اشاعت اسلام، اردو بازار کراچی) محترم قارئین ! درج بالا واقعے میں قابل غور بات یہ ہے کہ اگر حضرت مفتی اعظم پاکستان جیسی عظیم ہستی کی اہلیہ محترمہ اور حضرت شیخ الاسلام جیسے جید عالم دین کی والدہ مرحومہ پر جن مسلط ہو سکتا ہے تو پھر عام شخص کی کیا حیثیت ہے؟ اسی لیے شیخ الوظائف حضرت حکیم محمد طارق محمود مجذوبی چغتائی صاحب دامت برکاتہم العالية تسبیح خانے کے ہر درس اور ہر عبقری میگزین میں جنات سے بچنے کے مختلف وظائف اور اعمال عنایت فرمایا کرتے ہیں ، تاکہ اللہ پاک ہمیں ان اعمال کی برکت سے جناتی حادثات سے محفوظ رکھے۔

اگر گمراہی سے بچنا چاہتے ہیں تو یہ ضرور پڑھیں ۔۔۔

(زیر سر پرستی: مفتی سعید احمد صاحب دامت برکا تہم خلیفہ مجاز حضرت مولانا محمد یمنی صاحب ) کیا ہزاروں کی تعداد میں جنات سے اکابر کی ملاقاتوں کا انکار اور لاکھوں کی تعداد میں اکابر سے منقول وظائف کا انکار اکابر پر عدم اعتمادی نہیں ۔۔۔! جدید دور جو بہت سے مسائل و خطرات لے کر آیا ہے ان میں سب سے بڑا خطرہ اور فتنہ اکابر پر عدم اعتماد ہے۔ اکابر سے عدم اعتماد ظاہر میں تو ایک معمولی چیز لگتی ہے لیکن اس میں غور کیا جائے تو یہی چیز دین کی بنیاد کو کمزور کر دیتی ہے۔ دین اصل میں نام اکابر پر اعتماد کا ہے۔ آج تک کا تجربہ یہی ہے کہ جن لوگوں نے اکابر پر بے اعتمادی کی وہ کسی نہ کسی گمراہی میں مبتلا ہوئے ۔ اکابر پر اعتماد دراصل اپنے عجز کا اظہار ہے جو تحقیق انہوں نے محنت سے کی اور اپنی زندگیاں جس میں صرف کیں اس کو حق سمجھنا اور ان پر بھروسہ کرنا ہے۔ بخلاف اکابر پر بے اعتمادی کہ اس میں اپنی بڑائی کا اظہار اپنے آپ کو خیر کل اور اپنی سوچ کو صیح سمجھنا ہے۔ امت میں جتنے فتنے ہیں اگر غور کیا جائے تو سب میں سلف بیزاری ہے۔ آج تک جتنے بھی فتنے برپا ہوئے سب میں یہی چیز قدر مشترک ہے۔ بعض لوگ صحابہ سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں۔ بعض صحابہ کے فیصلوں کو تنقیدی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔ یہاں تک کہ حضرت عمرؓ کے بعض فیصلوں کو عمر کا مارشل لاء کہہ دیتے ہیں۔ بعض لوگ نئی نئی چیزوں کو دین میں لا کر سمجھتے ہیں کہ ہم صحابہ سے بھی محبت میں بڑھے ہوئے ہیں ان سب میں قدر مشترک سلف سے بیزاری اور اکابر پر اعتماد کا اظہار ہے۔ اس لیے قرآن نے بھی ایسے لوگوں کے بارے میں ارشاد فرمایا (ویتبع غیر سبیل المؤمنين نولہ ما تولى ونصلہ جهنم وساءت مصیرا) جو مومنوں کا راستہ چھوڑ کر کوئی اور راستہ اختیار کرے گا ہم اس کو اسی کے حوالے کریں گے اور جہنم میں داخل کریں گے اور وہ برا ٹھکانہ ہے ۔اللہ ہمیں اس گمراہی سے محفوظ فرمائے اور سلف پر اعتماد عطا فرمائے کہ ان پر اعتماد میں ہی نجات اور ہر گمراہی سے حفاظت ہے۔ آج ہر فارغ التحصیل ہونے والا نوجوان اپنی سوچ کو زیادہ اہمیت دیتا ہے بنسبت اکابر کے فہم اور سوچ کے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم طرح طرح کے مصائب میں گھر تے چلے جاتے ہیں۔ ہمیں نکلنے کی کوئی راہ بھی نہیں ملتی ۔ ہماری ایسی سوچیں لوگوں کے لیے دین سے بیزاری کا بھی ذریعہ بن رہی ہیں ۔ اللہ ہم سب کو سلف کی راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور مرتے دم تک اس پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ۔ ( انتخاب : طالبعلم محمد سجاد ، درجہ خامسه ) محترم قارئین! یہی آواز شیخ الوظائف دامت برکاتہم کی ہے تسبیح خانہ کی ہے، اور ماہنامہ عبقری کی ہے۔۔۔ اللہ کریم ہمیشہ کبھی بھی ہمیں اکابر پر بے اعتمادی نہ دے آمین۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نعت خواں کا جنات کی نظروں میں مقام

حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمتہ اللہ علیہ کے رفیق مولانا سید محمد امین گیلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں کچھ ساتھیوں کے ہمراہ شور کوٹ جلسے میں پہنچا۔ وہاں جا کر دو نظمیں پڑھیں ۔ بعد ازاں رات بسر کرنے کیلئے انتظامیہ نے مجھے ایک استاد صاحب کے خالی کمرے میں ٹھہرا دیا۔ میں اپنے دوستوں کے ساتھ لیٹا ہوا تھا کہ اتنے میں آٹھ دس بچوں کا گروہ آگیا اور منع کرنے کے باوجود وہ مجھے دبانے لگے۔ میں کافی دیر تک انہیں لطیفے سناتا رہا اور وہ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوتے رہے۔میرے دوست سو چکے تھے۔ میں نے بچوں سے کہا کہ اب بس کرو، میں بھی سونے لگاہوں۔ وہ سب اٹھ کر چلے گئے تو میں بھی سونے کی کوشش کرنے لگا۔ بتی جل رہی تھی۔ اتنے میں کسی نے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے مجھے دبانا شروع کر دیا۔ آنکھیں کھول کر دیکھا تو پائنتی کی جانب کوئی نہیں تھا۔ میں نے ٹانگیں سیدھی کر لیں۔ دوستوں کودیکھا تو وہ گہری نیند سور ہے تھے۔ یہ اللہ کا فضل ہے کہ میں کسی ایسے واقعے سے خوفزدہ نہیں ہوتا۔ وہ ہاتھ کسی مشین کی سی تیزی سے مجھے مسلسل دبارہے تھے۔ میں نے بلند آواز سے کہا: بھئی تمہاری بڑی مہربانی ، اب بس کرو، مجھے کچھ دیر سو لینے دو۔ یہ نہ ہو کہ فجر کی نماز قضاء ہو جائے ۔ میری بات سنتے ہی وہ غیبی ہاتھ رک گئے اور مجھے نیند آگئی ( بحوالہ کتاب: نا قابل فراموش سچے واقعات ، صفحہ 179 مصنف: مولاناانور بن اختر، ناشر: مکتبہ ارسلان ، کراچی)

عبقری تسبیح خانے میں ہونے والے ذکر بالجہر کا ثبوت

تحریر : مولانا نیاز محمد صاحب، فاضل جامعہ مظاہر العلوم، آراے بازار، لاہور محترم قارئین عبقری تسبیح خانے میں اکابر و اسلاف کی ترتیب کے عین مطابق سالہا سال سے قال اللہ وقال الرسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ اللہ ھو اللہ ھو کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں۔ جیسا کہ اہل علم حضرات جانتے ہیں کہ قرآن مجید میں جا بجا ذکر الہی کرنے کا حکم موجود ہے، اسی طرح احادیث مبارکہ میں بھی ذکر کی اہمیت اور فضیلت ملتی ہے۔ لیکن کیا آہستہ آواز میں ذکر کرنے کے علاوہ بلند آواز میں بھی کیا جاسکتا ہے؟ عظیم مفسر و محدث حضرت علامہ جلال الدین سیوطی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ” نتيجة الفكر في الجهر بالذکر “ علامہ عبدالحی لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ” سباحة الفكر في الجهر بالذكر ، اور مولانا سرفراز خان صفدر علیہ الرحمہ نے اپنی کتاب حکم الذکر بالجھر “ میں قرآن وسنت کی روشنی میں بلند آواز سے ذکر کرنا جائز قرار دیا ہے۔ جو لوگ ذکر بالجہر کو بدعت کہتے ہیں ، انہیں چاہئے کہ ان کتابوں کا ایک مرتبہ مطالعہ ضرور کریں اور لاعلمی یا بد گمانی کی وجہ سے مسلمان بھائیوں کو بدعتی کہنے سے باز آجا آجائیں۔ شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اس آیت ” فاذکر و الله كذكركم آباء کم اواشد ذکر کی تفسیر میں لکھتے ہیں : جان لو کہ اس آیت مبارکہ کی روشنی میں ذکر بالجہر شرعی طور پہ جائز ہے، کیونکہ اس کی دلیل میں خود رب تعالیٰ کا فرمان موجود ہے۔ (بحوالہ کتاب: اشعۃ اللمعات جلد 2 صفحہ 189 ناشر : فرید بک سٹال، اردو بازار لاہور ) اسی طرح حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی علیہ الرحمہ بھی اسی آیت کریمہ سے ذکر بالجہر پر استدلال کرتے ہیں ( بحوالہ کتاب: امداد الفتاوی جلد 5 صفحہ 152 ناشر: مکتبہ دار العلوم کراچی) حضرت علامہ عبدالحی لکھنوی علیہ الرحمہ نے ذکر بالجہر کے جائز ہونے کی دلیل میں 48 احادیث نقل فرمائی ہیں اور آخر میں لکھا ہے کہ ان تمام صحیح احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ذکر بالجہر میں کوئی برائی نہیں، بلکہ ان روایات میں سے بعض ذکر بالجہر کو جائز اور بعض مستحب ثابت کر رہی ہیں ( بحوالہ کتاب: سباحة الفکر صفحہ 62)

تسبیح خانے کا پیغام اعمال سے بچنے کا یقین شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کی نظر میں

عبقری تسبیح خانے میں سالہا سال سے حضرت شیخ الوظائف دامت برکاتہم العالیہ اکا بر واسلاف کی ترتیب کے عین مطابق مخلوق خدا کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ ہمارے دلوں میں اعمال سے بنے ، اعمال سے پلنے اور اعمال سے بچنے کا یقین اتنا پختہ ہو جائے کہ مشکل پیش آتے ہی ہماری نظر ڈائریکٹ اللہ پاک جل شانہ کی طرف جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ وظائف کی سو فیصد تاثیر پانے کیلئے حضرت شیخ الوظائف دامت برکاتہم العالیہ ایک بات اکثر فرمایا کرتے ہیں کہ اللہ والو! دعائیں پڑھا نہ کریں، بلکہ مانگا کریں ۔ ہم دعاؤں کو صرف پڑھتے ہیں ، جبکہ اللہ پاک جل شانہ کے ہاں قبولیت کروانے کیلئے بھکاری بن کے مانگنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ آیئے دیکھتے ہیں ، عصر حاضر کے جید عالم دین اور عظیم مفتی ، شیخ الاسلام حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہ کی اس کے متعلق کیا رائے ہے؟ گزشتہ دنوں مارچ 2019 ء میں حضرت مفتی صاحب پر جب دہشت گردوں کی طرف سے حملہ ہوا تو اس کے بعد ندیم محمود ضیاء الرحمان چترالی صاحب نے ان سے انٹرویو کرتے ہوئے سوال پوچھا: دہشت گردی کے حملے میں آپ کا بچ جانا کس معجزے سے کم نہیں۔ کیا اس وقت آپ کوئی دعا پڑھ ر ہے تھے؟ مفتی صاحب : بالکل ! اللہ تعالی نے مجھے گولیوں کی بوچھاڑ سے اس طرح محفوظ رکھا کہ مجھے خراش تک نہیں آئی۔ البتہ اپنے دو ساتھیوں کی شہادت کا مجھے سخت صدمہ ہے۔ جہاں تک آپ کے دوسرے سوال کا تعلق ہے تو میں دعا پڑھتا نہیں، مانگتا ہوں۔ دعا پڑھنی اور چیز ہوتی ہے، مانگنی اور چیز ہے۔ سفر کے دوران بھی دعا مانگنا میرا معمول ہے۔ حملے کے وقت میں سورۃ الکہف کی تلاوت شروع کر رہا تھا اور میری اہلیہ کے ہاتھوں میں قرآن مجید تھا، جس پر وہ سورۃ یاسین پڑھ رہی تھیں اور اس وقت اس آیت پر تھیں : وجعلنا من بین ایدیهم سدا ومن خلفهم سدا فأغشيلهم فهم لا یبصرون جس کا ترجمہ یہ ہے کہ ہم نے ان کے آگے پیچھے دیواریں کھڑی کر دی ہیں اور ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ہے ۔ آپ کو ایک حیرت انگیز بات بتاؤں؟ میں گاڑی کے بائیں دروازے کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، دہشت گروں کی ایک گولی اس دروازے کے آر پار ہوگئی۔ گولی لگنے کا مقام وہی تھا ، جہاں میری ٹانگ تھی۔ عقل تو یہی کہتی ہے کہ یہ گولی میری ٹانگ میں لگنی چاہئے تھی ، کیونکہ گولی دروازے کے آر پار ہوگئی تھی لیکن ابھی تک یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ وہ گولی کہاں چلی گئی؟ حملہ آور ہم پر تینوں اطراف سے فائرنگ کر رہے تھے، گاڑی کے شیشے چکنا چور ہو گئے لیکن مجھے میری اہلیہ کو ور پوتے پوتی کواللہ پاک نے محفوظ رکھا۔ بحوالہ: ماہنامہ القاسم اپریل 2019 صفحہ 10 مدیر : مولانا محمد قاسم حقانی صاحب، ناشر : جامعہ ابوھریرہ ، خالق آباد، نوشهره حوالہ نمبر 2: ماہنامہ البلاغ، اپریل 2019 صفحہ نمبر 6 ناشر : جامعہ دار العلوم کراچی حوالہ نمبر 3: روزنامه امت کراچی، منگل 26 مارچ 2019

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025