جدید سائنسی دور میں پتھر کے دور والے جاہلانہ اعتراض

مولانا ارسلان بن اختر میمن لکھتے ہیں کہ : بعض اوقات نیک جنات بد کار انسانوں کو سزائیں بھی دیتے ہیں۔ چنانچہ امام ابن عقیل رحمة اللہ علیہ اپنی کتاب الفنون میں فرماتے ہیں: ہمارا ایک مکان تھا، جس میں جو شخص بھی رات گزارتا صبح کو اس کی لاش ہی ملتی ۔ ایک مرتبہ ایک مغربی نوجوان آیا ، اس نے اس مکان کو پسند کر کے خرید لیا۔ وہاں رات بسر کی اور صبح کو صحیح سلامت بیدار ہوا۔ پڑوسی اس بات سے کافی حیران ہوئے ۔ وہ نوجوان بہت عرصے تک اسی مکان میں مقیم رہا، پھر کہیں اور جانے لگا تو اس سے زندہ رہنے کا سبب پوچھا گیا۔ اس نے بتایا کہ جب میں اس مکان میں عشاء کی نماز کے بعد قرآن کریم کی تلاوت کرتا تو ایک رات گھر میں موجود کنویں سے ایک پر اسرار نوجوان باہر نکلا اور اس نے مجھے سلام کیا۔ میں ڈر گیا تو وہ کہنے لگا : آپ ڈرئیے مت ، مجھے بھی کچھ قرآن کریم سکھائیے ۔ چنانچہ میں اسے قرآن کریم سکھانا شروع ہو گیا۔ ایک دفعہ میں نے اس سے سوال کیا کہ اس مکان کا قصہ کیا ہے جو اس میں رہنے والا کوئی بھی زندہ نہیں بچتا تھا؟ وہ بولا: دراصل ہم مسلمان جنات ہیں ۔ ہم نماز بھی پڑھتے ہیں اور قرآن کریم کی تلاوت بھی کیا کرتے ہیں۔ اس گھر میں آپ سے پہلے اکثر شراب پینے والے اور بدکار لوگ آئے تو ہم نے گلا گھونٹ کر انہیں مار ڈالا۔ ) (بحوالہ کتاب: واقعات کی دنیا صفحہ 238 ناشر: مکتبہ ارسلان، کراچی) محترم قارئین ! امام ابن عقیل رحمتہ اللہ علیہ کے اس واقعے سے ثابت ہوا کہ جب گھروں میں گناہوں اور نافرمانیوں کا رواج آئے گا تو سزا کے طور پر اللہ پاک انسان پر ایسی مخلوق مسلط کر دے گا ، جو انہیں نظر آئے بغیر ہمیشہ مختلف قسم کی مشکلات اور حادثات کی بندشوں میں گرفتار رکھے گی۔ ماہنامہ عبقری کے ذریعے مخلوق خدا میں ماشاء اللہ یہ شعور بیدار ہو چکا ہے کہ دوسرے جراثیم کی طرح جنات بھی ہمیں متاثر کرتے اور بیماریوں میں مبتلاء کرتے ہیں ۔ ان سے بچنے کا واحد حل ، اعمال نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی پابندی اور ذکر الہی کی کثرت ہے۔ ورنہ اس کے علاوہ کوئی راستہ اور کوئی منزل نہیں۔ کچھ لوگ سائنسی ترقی ہونے کے باوجود بھی یہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ جنات کا کوئی وجود نہیں ، یا جنات انسانوں کو نہیں چمٹ سکتے ۔ حالانکہ اب تو سائنس نے بھی ثابت کر دیا ہے کہ جنات انسانوں کو نہ صرف چمٹ جاتے ہیں، بلکہ انہیں کئی کئی سال تک مختلف امراض میں جکڑے رکھتے ہیں۔ جن کا علاج ادویات کے ساتھ ساتھ اگر دم درود اور ورد وظیفے سے کیا جائے تو زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ جیسا کہ سروسز ہسپتال لاہور پاکستان کے ایک مشہور ڈاکٹر کا انٹرویو آج کل سوشل میڈیا پر بہت معروف ہو چکا ہے اور وہ بتارہے ہیں کہ اگر مریضوں کا علاج سورۃ رحمن کی آڈیو تلاوت سنانے کے ذریعے کیا جائے تو سو فیصد رزلٹ ملتا ہے۔ حالانکہ لاعلاج مریضوں کیلئے سورۃ رحمن کا یہی عمل گزشتہ کئی سال سے حضرت شیخ الوظائف دامت برکاتہم العالیہ اپنے دروس و بیانات اور عبقری میگزین کے ذریعے لوگوں کو بتا کر ان کی دادرسی کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ تو معلوم ہوا کہ حضرت شیخ الوظائف دامت برکاتہم العالیہ لوگوں کو بالکل درست راہ پر لگار ہے اور ان کی دنیا آخرت کے مسائل سلجھا رہے ہیں۔ فجزاهم الله عناء عن جميع المومنین خیر الجزاء

کیا خواب میں بتایا جانے والا وظیفہ قابل عمل ہوتا ہے؟

قارئین ! بعض اوقات عبقری میگزین میں ایسے وظائف کا ذکر ہوتا ہے، جو لوگوں کو خواب کی حالت میں مختلف بزرگ ہستیوں کی طرف سے لا علاج امراض یا پیچیدہ مسائل کے حل کیلئے عطا ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ ایسے واقعات پڑھ کر اپنے یقین کی طاقت کھو بیٹھتے ہیں اور اعتراض کرتے ہیں کہ عبقری میں یہ قصے کہانیوں کا سلسلہ بند ہونا چاہئے ، حالانکہ اگر یہی لوگ ذرا ہوش مندہی کے ساتھ اپنے اکابر و اسلاف کا تذکرہ پڑھیں تو ایسے بے شمار ماوراء العقل واقعات ان کا استقبال کرتے ہیں۔ جیسا کہ چالیس کتابوں کے مصنف مولانا محمد اسحاق بھٹی صاحب ڈیڑھ سو مساجد کے مہتمم جناب میاں نعیم الرحمان صاحب کے متعلق لکھتے ہیں کہ میاں نعیم الرحمن کینسر کے مرض میں مبتلا تھے اور کافی دنوں سے بے ہوش پڑے تھے۔ جامعہ سلفیہ کا ایک وفد جس میں چوہدری یٰسین ظفر بھی شامل تھے، میاں صاحب کی عیادت کے لیے گیا۔ میاں صاحب کی حالت دیکھ کر چوہدری یٰسین ظفر صاحب نے کہا کہ چل چلاؤ کا وقت محسوس ہو رہا ہے۔ خدا کی قدرت کہ ڈاکٹر حضرات مایوسی کے عالم میں ان سے مشین ہٹانے لگے تو میاں صاحب نے آنکھیں کھول لیں۔ پھر اس کے بعد یہی احباب میاں صاحب کی عیادت کے لیے کے ان کے گھر گئے۔ میاں صاحب اس قدر نحیف و نزار ہو چکے تھے کہ بغیر سہارے کے حرکت تک نہ کر سکتے تھے۔ لیکن ان احباب کی آمد پر میاں صاحب بغیر کسی سہارے کے اٹھ کر بیٹھ گئے اور کہنے لگے : جس وقت میں نے آنکھیں کھولی تھیں، اس وقت میں خواب دیکھ رہا تھا کہ میں جنت میں ہوں اور حضرت آقا علیہ الصلوۃ والسلام، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور میرے ابا جان میاں فضل حق کے ساتھ موجود ہیں ۔ امی عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے ایک وظیفہ کی تلقین فرمائی، جس میں سبحان اللہ و بحمدہ کے الفاظ تھے۔ علمائے کرام نے مختلف کلمات پڑھے جن میں سبحان اللہ و بحمدہ آتا تھا۔ مگر میاں صاحب ہر ایک کا جواب نفی میں دیتے رہے آخر کار کسی نے سبحان الله و بحمده عدد خلقه ورضا نفسه وزنة عرشه ومداد كلمته کہا تو میاں صاحب نے روتے ہوئے بتایا کہ ہاں یہی وہ الفاظ تھے۔ مجھے میرے والد گرامی میاں فضل حق صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے کہا : نیم چلو گھر جاؤ، بچیاں اکیلی ہیں ۔ اس کے ساتھ ہی میری آنکھیں کھل گئیں۔ اصل میں میاں نعیم الرحمن صاحب کی کچھ بچیوں کی ابھی شادی نہیں ہوئی تھی ( اس وظیفے کی برکت سے ) جونہی بچیوں کی شادی کا فریضہ ادا ہو، اس کے تھوڑے عرصے بعد میاں صاحب رحلت فرما گئے ( بحوالہ کتاب : بزمِ خردمنداں صفحہ نمبر: 5 ناشر محمد اسحاق بھٹی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اسلامیہ کالونی ساندہ، لاہور) (قسط 253) ۔

ہوشیار! کہیں جنات کی نظر بد آپ کو برباد نہ کردے ۔۔۔!

شیخ الوظائف دامت برکاتہم کے کچھ عرصہ قبل نظر بد پر بہت سے بیانات ہوئے ان بیانات میں آپ نے جنات کی نظر بد کے بھی کئی واقعات ارشاد فرمائے تاریخ میں بکھرے مستند واقعات میں سے چند واقعات’’ اکابر پر اعتما د‘‘ کے دوستوں کی خدمت میں پیش خدمت ہیں تاکہ ہم انسانوں کی طرح جنات کی نظر بد سےبھی ہشیار رہیں ۔۔! امام بخاری ؒ اور امام مسلم ؒنے ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ حضور نبی کریم ﷺ نے اپنے گھر میں ایک بچی کو دیکھا جس کو جن کی نظر بد لگی ہوئی تھی تو حضورﷺنے ارشاد فرمایا اس کو فلاں سے جھاڑ پھونک کرالو اسکو(جنات کی ) نظر بد لگ گئی ہے۔ وضاحت :اس حدیث میں’’النظرۃ ‘‘نظربد کی جگہ عربی میں’’ سفعۃ‘‘ہے جس کے متعلق حضرت حسین بن مسعود فراء(بغوی محی السنۃ ،قامع البدعۃ محدث صاحب مصابیح السنۃ و معالم التنزیل وغیرہ) فرماتے ہیںکہ’’ سفعۃ‘‘ کے معنی جن کی نظر بد لگنے کے ہیں اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اس بچی کو جن کی نظر بد لگ گئی تھی۔ ’’ آکام المرجان فی احکام الجنان ‘‘کے مصنف فرماتے ہیں کہ آنکھ دو قسم کی ہے ایک انسان کی آنکھ ،دوسری جن کی آنکھ یعنی ایک انسان کی نظر لگنا دوسری جن کی۔سورۃ فلق و ناس انسان اور جنات کی نظر بد سے پناہ دیتی ہے:۔ امام ترمذی ؒ نے ابو نظیرہ بن مسعود اور حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی اور امام ترمذی ؒ نے اسے حسن قرار دیا وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جنوں اور انسانوں کی نظر بد سے پناہ مانگتے تھے یہاں تک کے معوذ تین (سورۃ فلق ،سورۃ ناس ) نازل ہوگئیں تو انہیں اختیار فرمالیا(انہیں کے ذریعے پناہ لینے لگے) (جنوں کی دنیا ،مصنف امام جلال الدین سیوطی الشافعی رحمۃ اللہ علیہ۔ناشر، مکتبہ برکات المدینہ کراچی)

شیخ الوظائف کا دورانِ بیماری انوکھاخواب

چند ہفتوں سے بیماری اور تکلیف سے گزر رہا تھا اللہ کی منشا اس کی رضا بہت زیادہ تکلیف کے باوجود بھی مطمئن۔ اسی دوران ہفتہ20 جون 2020ءکی رات کو سویا۔ اتوار21 جون کی صبح طبیعت بہت خراب تھی۔ میری گزشتہ چند ہفتوں کی بیماری میں وہ رات بہت مشکل رات تھی۔ میں نے خواب دیکھا:اللہ کمی بیشی معاف فرمائے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہٗ ‘حضرت علی رضی اللہ عنہٗ‘ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہٗ اور حضرت زین العابدین رضی اللہ عنہٗ جس میں میں نے ساتھ محسوس کیا کہ حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم اجمعین بھی ہیں اور بڑے بڑے اہل بیت ؓ‘صحابہؓ‘ اولیاءؒ اور بڑی ہستیاںؒ ہیں جیسے وہ عیادت اور دعا کے لیے تشریف لائے ہیں۔ بہت سی باتیںہوئیں‘ وہ باتیں مجھے یاد نہیں‘ جیسے کچھ موضوعات پر گفتگو ہوئی ہے لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہٗ نے میری مونچھوں کی طرف اشارہ کرکےفرمایا کہ یہ تھوڑی سی بڑھالیں‘ یہ عمل بھی درست ہے‘ یہ بھی شرعاً ٹھیک ہے کہ مونچھیں صاف کرتے ہیں اگر بڑھا لیں تو اس کو تراش لیا کریں تو یہ عمل بھی بہت اچھا ہے‘ میں نے ان کی بات سنی اورکچھ نہیں بولا۔ میرے دل میں ان کی عظمت تھی‘ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہٗ فرمانے لگے: اگر آپ مونچھیں صاف نہیں کریں گے حلق نہیں ہوگا تقسیر ہوگی یعنی کچھ بڑھی ہوں گی تو اس کو تراشیں گے تو ہماری صف میں شامل ہوجائیں گے۔ہنستے مسکراتے ہوئے یہ باتیں ہورہی ہیں۔ جیسے میرے ساتھ ان کی بہت محبت ہے‘ پیار ہے‘ میں نے ان سے عرض کیا: جی بالکل ٹھیک ہے اور بہت شفقت فرمائی۔ ہاں! ایک میں نے ان دونوں حضرات کے ہاتھوں (حضرت عمر رضی اللہ عنہٗ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہٗ) پر بوسہ بھی دیا۔ بس بوسہ میں نے ان دونوں حضرات کے ہاتھوں پر دیا‘ مصافحہ بھی صرف ان دونوں حضرات سے کیا۔ باقی جتنے بھی بڑے حضرات تھےان سب سے صرف سلام ہوا۔ ان کی منشاء یہ تھی کہ میں جو مونچھیں صاف کرواتا ہوں‘ اسے حلق کہتے ہیں یعنی جو بالکل صاف ہوںایسی مونچھیں نہ ہوں بلکہ آپ کی مونچھیں کچھ بڑی ہوں‘ان کی منشاء یہ تھی ۔اور انہوں نے اس موجودہ عمل کو بھی اچھا قرار دیا‘ مونچھیں بالکل صاف کروانے کے عمل کو وہ کہتے وہ بھی شرعاً ٹھیک ہے ۔اور بہت دیر تک ان کے ساتھ باتیں ہوتی رہیں۔ ایک دم میری آنکھ کھلی بہت خوشبو تھی۔ اس کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ میں اپنی مونچھیں بالکل صاف نہیں کروں گا‘ کچھ بڑی رکھوں گا۔

کہیں جنات آپ کےدل پر قبضہ نہ کرلیں !

جنات کی کارستانیوں کےمستند واقعات’’اکابر پر اعتماد‘‘ کے دوستوںکیلئےپہلی دلیل میں آپ نے پڑھا کہ انسان کی پیدائش سے ہی جنات ہمارے پیچھے لگ جاتے ہیں تو بڑا ہونےکے بعد وہ ہمیں کیوں معاف کریں گے۔۔۔۔! ماہنامہ عبقری میں جو جنات سے بچنےکیلئے جومسنون و اولیائے کرامؒ سے منقول وظائف دیئے جاتے ہیں آ ج میں آپ دوستوں کو حدیث مبارکہ کی روشنی میں اس کی وجہ بتا تا ہوں ۔۔۔۔! حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا شیطان نے اپنی سونڈھ انسان کے دل پر رکھی ہوتی ہے ۔ جب وہ اللہ کا زکر کرتا ہے تو یہ پیچھے ہٹ جاتا ہے اور جب وہ اللہ کو بھو ل جاتا ہے تو یہ اس کے دل کو لقمہ بنا لیتا ہے (تلبیس ابلیس 126 احیاء العلوم الدین،مصنف امام غزالی ۔ الدر المنثور ۔ شعب الایمان) یاد رکھیں ! ماہنامہ عبقری کا ہرواقعہ قرآن وسنت اکابرین امت کی تعلیمات کا ترجمان ہے ۔

سونےکی سنتیں ۔۔۔ہر بلا سےحفاظت کا ذریعہ عبقری کا پیغام سنتیں ہوجائیں عام

الحمدللہ ماہنامہ عبقری کی بھر پو ر کو شش یہی ہے کہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ مسنون اعمال اور اکابر کی زندگی سے جو ڑا جائے اس لیے تسبیح خانہ میں آنے والے ہر دوست کیلئے مسنون زندگی کی کچھ باتیں پیش خدمت ہیں ۔۔۔! (1)بسم اللہ پڑھ کر برتن ڈھانپنااور دروازہ بند کرنا(بخاری) ۔ (2)آگ یا ہیٹر وغیرہ بجھا کر سونا(بخاری)۔(3)باوضو سونا۔فوائد: (الف)اگر مرجائے تو شہادت کی موت مرتاہے(ابن سنی ،کنزالعمال) ۔(ب)روزہ دارو شب بید ار کی طرح ہے(فیض القدیر)۔(ت)اُس کی روح عرش کے سامنے سجدہ کرتی ہے(شعب الایمان) ۔(4)مردو عورت کاآنکھوں میں تین سلائیاں اثمد سرمہ ڈالنا۔ فائدہ: آپﷺ نےفرمایاکہ یہ آنکھوں کوروشن کرتا اور پلکیں خوب اگاتا ہے (شمائل ترمذی)۔(5پہلےسیدھی آنکھ میں ڈالنا۔(6)بستر جھاڑنااور خو دبچھانا(مشکوٰۃ)۔ (7) سنت بستریہ ہیں ،بوریہ ،چٹائی ،کپڑے کا فرش، زمین، تخت ،چارپائی ، چمڑااور کھال ۔ (8)سوتے وقت مسواک کرنا (مشکوٰۃ) ۔ (9) سب کو معاف کرکےسونا۔ (10) سوتے وقت اپنے پاس پانی اور مسواک رکھ کر سونا۔ (11) قبلہ رخ پائوں پھیلاکراور پیٹ کے بل نہ سونا (زرقانی) ۔ (12)لوگوں کےبیچ میں یا راستے میںنہ سونا(مجمع الزوائد) اللہ کریم سے دعا ہے کہ وہ ہمیں تسبیح خانہ کے پلیٹ فارم سے ملنے والی اس مسنون زندگی کو زیادہ پھیلانے اور اس پر عمل کرنےکی توفیق عطا فرمائے ۔

شیخ الوظائفؒ کو خواب میں بشارت ۔۔۔۔ تعلیمات صحابہ ؓ کی روشنی میں

شیخ الوظائف دامت برکاتہم کو ابھی کچھ عرصہ قبل چند صحابہ کرام ؓ کی خواب میں زیارت ہوئی وہ زیارت’’ اکابر پر اعتما د ‘‘ قسط نمبر 441میں شائع بھی ہوئی ہے اس خواب میں صحابہ کرام و اہل بیت عظام ؓسےشیخ الوظائف کا عشق نمایاں اور صحابہ کرام ؓ کی شفقتیں بھی واضح ہیں اس خواب میں جو حکم فرمایا گیا اس کے چند حوالہ جات پیش خدمت ہیں : (1)آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیشہ اپنی ’’مونچھیں‘‘ ترشواتے تھے کبھی منڈوائی یا جڑ سے اکھاڑی نہیں ہیں۔ احادیث مبارکہ میں ہے:آتش پرستوں کی مخالفت کرو، مونچھیں ترشواؤ اور داڑھی بڑھاؤ۔ (مسلم، الصحیح، 1: 222، رقم: 260۔أحمد بن حنبل، المسند، 2: 365، رقم: 8764، مصر: مؤسسة قرطبة) (2)حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت میں ہے کہ:نبی کریم ﷺ اپنی’’ مونچھیں‘‘ مبارک کتروایا کرتے تھے اور اللہ کے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ (ترمذي، السنن، 5: 93، رقم: 2760، بیروت: دار احیاء التراث العربي۔طبراني، المعجم الکبیر، 11: 277، رقم: 11725، الموصل: مکتبة الزہراء) حضرت عمر فاروق ؓ کی مونچھیں:(3)حضرت سیِّدُنا ذر بن جیش رضی اللہ عنہ ہ فرماتے ہیں :حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی’’ مونچھوں ‘‘کے بال دائیں بائیں سے کافی بڑھے ہوئے تھے اور اُن میں بھورا پن بھی تھا۔ (معرفۃ الصحابۃ ، معرفۃ نسبۃ الفاروق ، معرفۃ صفۃ عمر ، ج۱ ، ص۶۹ ، الرقم: ۱۷۰۔الاستیعاب ، عمر بن الخطاب ، ج۳ ، ص۲۳۶) (4)حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، فرماتے ہیں کہ امیر المؤمنین سیِّدُنا فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کو جلال آتا تو اپنی’’ مونچھوں ‘‘کو تاؤ دیتے تھے۔ ‘‘ (معجم کبیر ، صفۃ عمر بن الخطاب ، ج۱ ، ص۶۶ ، حدیث: ۵۴ ، الاستیعاب ، عمر بن الخطاب ، ج۳ ، ص۲۳۶) (5)حضرت سیِّدُنا اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ’’ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کو جب جلال آتا تو اپنی’’ مونچھوں‘‘ کو اپنے منہ کی طرف کرتے اور ان میں پھونک مارتے۔ ‘‘ (طبقات کبری ، ذکر استخلاف عمر ، ج۳ ، ص۲۴۸) خواب میں صحابہ کرام ؓکی زیارت باسعادت’’ اکابرؒپر اعتماد ‘‘اور ان سے عشق ہی کا نتیجہ ہے۔ یادرکھیں۔۔۔! شیخ الوظائف عملیات ووظائف بناتے یا گھڑتے نہیں بلکہ بتاتے ہیں۔

شیخ الوظائف کی مونچھیں تعلیمات صحابہ و اہل بیت کی روشنی میں

امام مالک کی مونچھیں:اسحاق بن عیسیٰ الطباع (ثقہ راوی) سے روایت ہے کہ میں نے (امام) مالک بن انس (رحمہ اللہ) کو دیکھا، ان کی مونچھیں بھر پور اور زیادہ تھیں، ان کی دونوں مونچھوں کے باریک سرے تھے، پھر میں نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے فرمایا: مجھے زید بن اسلم نے عامر بن عبد اللہ بن زبیر سے حدیث بیان کی، انھوں نے عبد اللہ بن زبیر (رضی اللہ عنہ) سے کہ کوئی اہم معاملہ ہوتا تو عمر بن الخطاب (رضی اللہ عنہ) اپنی مونچھوں کو تاؤ دیتے اور منہ سے پھونکیں مارتے تھے، پس انھوں نے مجھے حدیث کے ساتھ فتویٰ دیا۔ (کتاب العلل و معرفۃ الرجال للامام احمد 2/ 1589، وسندہ صحیح، دوسرا نسخہ 1/ 261 ح 1507، نیز دیکھئے طبقات ابن سعد 3/ 326 ومولانا زبیر علی زئی صاحب صاحب فرماتے ہیں سندہ صحیح) اہل علم کے نزدیک مونچھوں کی اہمیت:علامہ بدر الدین ابو محمد محمودبن العینی، عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری میں لکھتے ہیں:مونچھیں کاٹنا سنت ہے قص الشارب کا لفظ قصصت الشعر سے ماخوذ ہے میں نے بال کٹوائے طیر مقصوص الجناح (جس پرندے کے پر کٹے ہوں)۔ اہل مدینہ میں سے بہت سے بزرگوں کے نزدیک مونچھیں منڈوانے سے کٹوانا بہتر ہے۔ مثلاً سالم، سعید بن مسیب، عروہ بن الزبیر، جعفر بن الزبیر، عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ، ابوبکر بن عبد الرحمن بن الحارث، ان سب کے نزدیک مونچھیں کاٹنا مستحب ہے مونڈھنے کی نسبت یہی قول ہے۔ حمید بن ہلال، حسن بصری، محمد بن سیرین، عطاء بن ابی رباح اورامام مالک کا بھی یہی مذہب ہے۔ قاضی عیاض رحمہ اﷲ نے فرمایا کثیر تعداد میں سلف نے مونچھیں مونڈھنے سے منع فرمایا ہے یہی امام مالک کا مذہب ہے ان کے نزدیک یہ مثلہ ہے۔ امام مالک مونچھیں مونڈھنے والے کو سزا کا حکم دیتے تھے اور ہونٹ سے اوپر بال کاٹنے کو مکروہ سمجھتے تھے مستحب یہ ہے کہ اوپر سے اتنی مونچھیں کاٹی جائیں جس سے ہونٹ نظر آئیں۔ علامہ احمد بن علی بن حجر عسقلانی فتح الباری شرح صحیح البخاری میں لکھتے ہیں:امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :مونچھیں کاٹنے کی مذہب مختار میں حد یہ ہے کہ ہونٹ ظاہر ہو جائیں، کلی طور پر مونڈھنا نہیں اور جن روایات میں احفوا الشوارب مونچھیں کاٹو، اس کا مطلب ہے وہ بال کاٹو جو ہونٹوں پر لمبے لمبے موجود ہیں۔ النووي، شرح صحیح مسلم، 3: 149، بیروت: دار احیاء التراث العربي خواب میں صحابہ کرامؓکی زیارت باسعادت اکابر ؓ پر اعتماد اور ان سے عشق ہی کا نتیجہ ہے۔ یادرکھیں۔۔۔!شیخ الوظائف عملیات ووظائف بناتے یاگھڑتے نہیں بلکہ اکا بر کے بتائے ہوئے بتاتے ہیں۔

شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کو امتحانات میں پوزیشن دلانے والا وظیفہ

غرض مند دیوانہ ہوتا ہے اسے اپنے مسائل کا حل چاہیے اور عبقری کا مقصد ہی یہی ہے کہ مشکلات کے مارے ، دکھوں میں گھرے اور مسائل میں الجھے لوگوں کو کسی نہ کسی بہانے اللہ کےنام کی طرف متوجہ کیاجائے اور یہی ہمارے بڑوںکا طرز زندگی تھا کہ وہ بھی زندگی کے ہرشعبہ میں اللہ کے نام کےذریعے مد د طلب کیا کرتے تھے۔ شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم فرماتے ہیں کہ میٹرک کا امتحان مجھے پنجاب یونیورسٹی سے دینا تھا، چنانچہ امتحان کے وقت میں لاہور چلا گیا ، اور اپنے بڑے بھائی جناب محمد زکی کیفی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے یہاں قیام کیا۔ چونکہ میں نے تمام تر تیاری پرائیویٹ طور پر کی تھی، اس لئے مجھے کچھ خوف سا تھا کہ میں ان طلبہ کا مقابلہ کیسے کرسکوں گا جنہوں نے باقاعدہ اسکولوں میں پڑھا ہے۔ بھائی جان مجھے تسلی دیتے، اور فرماتے کہ انشاء اللہ تعالیٰ تم اچھی طرح کامیاب ہوگے۔ امتحان کا مرکز دیال سنگھ کالج میں مقرر ہوا ، اور میں ڈرتے ڈرتے امتحان گاہ میں پہنچا جو طلبہ سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ حضرت والد صاحبؒ (مفتی اعظم پاکستا ن مولانا محمد شفیع صاحبؒ) نے مجھے ایک عمل یہ بتایا ہوا تھا کہ جب کبھی امتحان گاہ میں جائو تو پرچہ کھولنے سے پہلے دائیں ہاتھ کی پانچ انگلیوں پر ’’کھیعص‘‘ اس طرح پڑھا کرو کہ پہلے چھوٹی انگلی پر کاف کہہ کر انگلی بند کرلو، پھر ہر حرف پر ایک ایک انگلی بند کرتے جائو یہاں تک کہ’’ ص‘‘ پر پوری انگلیاں بند ہو جائیں، اس کے بعد کہو: کُفِیْتُ پھر ’’حمعسق‘‘ اس طرح پڑھو کہ’’ حا ‘‘کہہ کر چھوٹی انگلی کھولو، پھر ہر حرف پر ایک ایک انگلی کھولتے جائو، یہاں تک کہ جب ساری انگلیاں کھل جائیں تو کہو ’’حُمِیْتُ‘‘ چنانچہ میں اپنے سارے امتحانات میں یہ عمل کرتا آیا تھا اور الحمد للہ ہمیشہ نمایاں طور پر کامیاب ہوا تھا۔ اس موقع پر بھی میں نے یہی عمل کیا، اور پرچہ کھولا تو اس کا کوئی سوال ایسا نہیں تھا جو مجھے مشکل لگا ہو۔ آخر میں اس میں ایک انگریزی مضمون لکھنے کو کہا گیا تھا۔ میں نے وہ مضمون بھی کئی صفحوں میں لکھا، اور دلچسپ انداز میں لکھا۔ جب نتیجہ آیا تو پتہ چلا کہ مجھے پورے بورڈ میں دوسری پوزیشن ملی ہے۔ فالحمد للہ علی ذلک۔ (ماہنامہ البلاغ، بانی مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی محمد شفیع صاحب، شعبان المعظم 1441ھ اپریل 2020،جلد نمبر55، شمارہ نمبر8، صفحہ نمبر۲۵) جی ہاں دنیا کی بااثر ترین شخصیت شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی صاحب بھی وظائف کے ذریعے امتحان میں اعلیٰ پوزشن لیا کرتےتھے اور اگر عبقری میں پوزشن حاصل کرنے کے وظائف شائع ہوں تووہ بد عت ہیں ۔۔۔۔!!!

شیخ الوظائف ساری دنیا میں انگوٹھی کی متروکہ سنت زندہ کرنے کا ذریعہ

شیخ الوظائف دامت برکاتہم اللہ کےفضل و کرم سےسارےعالم میں سنتوںاور مستحبات کو زندہ کرنے کا ذریعہ بن رہے ہیں اور خاص طور پر وہ سنتیں جو آج متروک ہوتی جارہیں ان ہی سنتوں میں سے ایک سنت انگوٹھی پہننا بھی ہے جس کے بارے میں مدینہ منورہ کے نامور محدث،شیخ الحدیث مولانا محمد ذکریا کاندھلوی مہاجر مدنی ؒ کے شاگردِ رشید،جامعہ مظاہر العلوم کے ہونہار فاضل حضرت مولانا حبیب اللہ قربان مظاہری ؒکے فرامین بزبان مولانا سید سلیمان بنوری حفظہ اللہ (جوکہ مولانا کی مجالس میں بارہا شریک ہوئے)پڑھیے اور شیخ الوظائف برکاتہم کے حوصلے کو داد دیجئےجوکہ ہر خاص و عام کی محفل میں سنتیں زندہ کرنا اپنی زندگی کا مقصد سمجھتے ہیں ۔۔۔! فاعتبرو یا اولی الابصار حضرت مولانا حبیب اللہ قربان مظاہری ؒ نے انگوٹھی کے متعلق فرمایا ’’یہ آج کی سنت ِ متروکہ بن گئی ہے، علماء بھی نہیں پہنتے، حالانکہ بخاری شریف میں رسول اللہﷺ خاتم النبین کی چھ انگوٹھیوں کا ذکر ہے، اس سلسلے میں امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ کا مستقل رسالہ ’’جزء الـخاتم‘‘ بھی ہے اور میرے مطالعہ اور یاد کے مطابق (ہوسکتا ہے کہ اس سے زیادہ ہوں) حضور پاکﷺ خاتم النبینﷺ کی بارہ انگوٹھیاں تھیں۔ مہر کے لیے صرف ایک انگوٹھی تھی، اس کے علاوہ بھی گیارہ تھیں، جبکہ بخاری شریف میں ہی اس کے علاوہ پانچ انگوٹھیوں کا ذکر ہے۔ایک روایت میں ہے ’’فَضَّہُ حَبَشِیٌّ‘‘ (سنن ابودائود:۴۲۱۶) یعنی کالا پتھر تھا، جس کو سلطانی پتھر کہتے ہیں اور بادشاہ و امراء پہنتے ہیں، موجودہ سعودی فرماں روا شاہ سلمان اور حرم کے ایک امام بھی پہنتے ہیں۔ شراح نے یہاں ’’حبشی پتھر‘‘ لکھا ہے، حالانکہ ’’حَبش‘‘ نامی جگہ ہے، جو ’’یمن‘‘ میں ہے، جہاں سے پتھر نکلتے ہیں، یہ وہ ’’حبشہ‘‘ نہیں ہے۔ یہ بات مجھے پڑھنے کے دوران سمجھ نہیں آئی تھی، بعد میں سمجھ آئی۔ (ماہنامہ بینات کراچی، ج، شمار 8،9۔ص100، بانی:محدث العصر حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری، شعبان، رمضان ۱۴۴۱ھ اپریل، مئی2020ء ، جامعۃ العلوم الاسلامیۃ،کراچی) عبقری کی کوئی چیز بھی خود ساختہ نہیں ، ضرورت قرآن و حد یث کو پڑھنے اور تعلیمات اکابرؒکو سمجھنے کی ہے۔ یاد رکھیں !شیخ الوظائف عملیات و وظائف بناتے نہیں بلکہ بتاتےہیں ۔

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025