ہوشیار! کہیں جنات کی نظر بد آپ کو برباد نہ کردے ۔۔۔!

شیخ الوظائف دامت برکاتہم کے کچھ عرصہ قبل نظرِ بد پر بہت سے بیانات ہوئے ان بیانات میں آپ نے جنات کی نظرِ بد کے بھی کئی واقعات ارشاد فرمائے تاریخ میں بکھرے مستند واقعات میں سے چند واقعات ”اکابر پر اعتماد“ کے دوستوں کی خدمت میں پیشِ خدمت ہیں تاکہ ہم انسانوں کی طرح جنات کی نظرِ بد سے بھی ہوشیار رہیں۔

امام بخاریؒ اور امام مسلمؒ نے ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ حضور نبی کریم ﷺ نے اپنے گھر میں ایک بچی کو دیکھا جس کو جن کی نظرِ بد لگی ہوئی تھی۔ تو حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا اس کو فلاں سے جھاڑ پھونک کرالو اس کو (جنات کی) نظرِ بد لگ گئی ہے۔ وضاحت: اس حدیث میں ”النظرة“ نظرِ بد کی جگہ عربی میں ”سفعة“ ہے جس کے متعلق حضرت حسین بن مسعود فراء (بغوی محی السنہ، قامع البدعة محدث صاحب مصابیح السنہ و معالم التنزیل وغیرہ) فرماتے ہیں کہ ”سفعة“ کے معنی جن کی نظرِ بد لگنے کے ہیں اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اس بچی کو جن کی نظرِ بد لگ گئی تھی۔ ”آکام المرجان فی احکام الجنان“ کے مصنف فرماتے ہیں کہ آنکھ دو قسم کی ہے ایک انسان کی آنکھ، دوسری جن کی آنکھ یعنی ایک انسان کی نظر لگنا دوسری جن کی۔ سورۃ فلق و ناس انسان اور جنات کی نظرِ بد سے پناہ دیتی ہے۔ امام ترمذیؒ نے ابونظیرہ بن مسعود اور حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی اور امام ترمذیؒ نے اسے حسن قرار دیا وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جنوں اور انسانوں کی نظرِ بد سے پناہ مانگتے تھے یہاں تک کہ معوذتین (سورۃ فلق، سورۃ ناس) نازل ہو گئیں تو انہیں اختیار فرمالیا (انہیں کے ذریعے پناہ لینے لگے)

پوسٹ کو شیئر کریں

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026