حضرت علامہ بدر الدین شبلی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھے قاضی حسام الدین رحمۃ اللہ علیہ نے مشرق کی جانب کسی سفر پر بھیجا تو راستے میں بارش نے مجھے اور میرے ساتھیوں کو پہاڑ کی غار میں پناہ لینے پر مجبور کر دیا۔ ہم غار میں سوئے ہوئے تھے کہ اچانک کوئی چیز مجھے جگانے لگ گئی۔ جب میں بیدار ہوا تو دیکھا کہ درمیانہ قد کی ایک بدشکل عورت میرے پاس کھڑی ہے، جس کی ایک ہی آنکھ تھی اور وہ بھی پھٹی ہوئی تھی۔ میں اسے دیکھ کر گھبرا گیا تو وہ کہنے لگی: گھبراؤ مت! میں اپنی چاندی جیسی بیٹی تمہارے ساتھ بیاہنے کیلئے آئی ہوں۔ کچھ دیر بعد مزید اسی طرح کے لوگ آتے دکھائی دیئے، جن کی آنکھیں پھٹی ہوئی تھیں۔ ان کے ساتھ ایک قاضی بھی تھا اور گواہ بھی۔ پس قاضی نے میرا نکاح پڑھایا، جسے میں نے قبول کر لیا۔ اس کے بعد وہ لوگ چلے گئے اور وہ بدشکل عورت اپنے ساتھ ایک خوبصورت لڑکی کو لے کر آئی، جس کی آنکھ اس کی ماں جیسی ہی تھی۔ اس نے لڑکی کو میرے پاس چھوڑا اور خود چلی گئی۔ میری وحشت بڑھتی جا رہی تھی، میں نے اپنے ساتھیوں کو کنکریاں مار کر اٹھانا چاہا، مگر وہ سب سوئے رہے۔ میں دعا اور ذکر میں لگ گیا۔ اتنے میں ہمارا کوچ کرنے کا وقت آ گیا، لیکن وہ لڑکی میرے ساتھ ہی رہی۔ اسی حالت میں تین دن گزر گئے۔ چوتھے دن وہی بدشکل عورت آئی اور کہنے لگی: لگتا ہے تمہیں میری بیٹی پسند نہیں آئی۔ شاید تم اس سے جدا ہونا چاہتے ہو۔ میں نے کہا: واللہ ایسے ہی ہے۔ وہ کہنے لگی: تو پھر تم اس کو طلاق دے دو۔ پس میں نے اسی وقت طلاق دے دی تو وہ دونوں چلی گئیں۔ بعد میں میں نے انہیں کہیں نہیں دیکھا۔
(بحوالہ کتاب: پرتاثیر واقعات، صفحہ 167، مصنف: مولانا ابو احمد طہٰ مدنی، ناشر: مکتبہ یادگارِ شیخ، اردو بازار لاہور)
