امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے دلائل النبوۃ میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک مرتبہ اپنے اصحابؓ سے مکہ مکرمہ میں فرمایا: تم میں سے جو شخص بھی جنات کو دیکھنا چاہتا ہے، وہ آج رات کو آ جائے۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ میرے سوا اس رات کوئی بھی نہ آ سکا۔ آنحضرت ﷺ مجھے لے کر اونچی پہاڑی پر پہنچے اور اپنے پاؤں مبارک سے میرے لیے ایک دائرہ کھینچ کر فرمایا کہ تم اسی دائرے میں بیٹھے رہنا۔ پھر خود آگے تشریف لے گئے اور ایک جگہ کھڑے ہو کر قرآنِ پاک کی تلاوت شروع فرما دی۔ اچانک ایک بڑی جماعت نے آپ ﷺ کو گھیر لیا۔ میں نے جنات کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ آپ کے پیغمبر ہونے کی گواہی کون دیتا ہے؟ قریب ہی ایک درخت تھا، حضور ﷺ نے فرمایا: اگر یہ درخت گواہی دے تو مان لو گے؟ جنات نے کہا: ہاں مان لیں گے۔ اس پر آپ ﷺ نے درخت کو بلایا تو درخت نے آپ ﷺ کی نبوت کی گواہی دی، جس پر وہ تمام جنات آپ ﷺ کے خاتم النبیین ہونے پر ایمان لے آئے۔
(بحوالہ کتاب: پرتاثیر واقعات، صفحہ 392 ناشر: مکتبہ یادگارِ شیخ، اردو بازار لاہور)
