قرض کی ادائیگی کیلئے صحابہ کرامؓ کون سے وظیفے پڑھتے تھے؟

حضرت جی مولانا محمد یوسف کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: حضرت ابو وائلؒ نے فرمایا کہ ایک غلام نے حضرت علی المرتضیٰؓ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ میں اپنے مالک کا قرض ادا کرنے سے عاجز ہو گیا ہوں، آپ اس معاملے میں میری مدد فرمائیں۔ حضرت علیؓ نے فرمایا: کیا میں تمہیں وہ کلمات نہ سکھاؤں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سکھائے تھے؟ اگر تم پر یمن کے صیر پہاڑ جتنا بھی قرض ہوگا، تو ان کلمات (کا وظیفہ پڑھنے) سے اللہ پاک تمہارا وہ قرض ادا کر دے گا۔ تم یہ دعا پڑھا کرو: اَللّٰهُمَّ اكْفِنِيْ بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَأَغْنِنِيْ بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ (سنن ترمذی جلد 2 صفحہ 195)

حضرت ابو سعید خدریؓ فرماتے ہیں کہ ایک دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر ایک انصاری صحابی حضرت ابو امامہؓ پر پڑی تو فرمایا: اے ابو امامہ! کیا بات ہے کہ آج تم نماز کے علاوہ دوسرے وقت میں بھی مسجد میں موجود ہو؟ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! غموں اور قرضوں نے مجھے گھیر لیا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں وہ کلمات نہ سکھا دوں، جنہیں پڑھنے سے اللہ تعالیٰ تمہارا غم دور کر دیں گے اور قرض ادا کر دیں گے؟ تم صبح و شام یہ دعا پڑھا کرو: اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحُزْنِ وَأَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَأَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَأَعُوْذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ وَقَهْرِ الرِّجَالِ. حضرت ابو امامہؓ فرماتے ہیں کہ جب میں نے یہ دعا پڑھنا شروع کی تو اللہ پاک نے میرے غم بھی دور کر دیے اور سارا قرض بھی ادا کر دیا۔ (سنن ابو داؤد جلد 2 صفحہ 370)

ایک دفعہ جمعے کے دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذؓ کو مسجد میں نہ دیکھا تو ان کے گھر تشریف لے گئے اور فرمایا: کیا بات ہے، آج تم نظر نہیں آئے؟ عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! مجھ پر ایک یہودی کا ایک اوقیہ سونا قرض ہے۔ آج گھر سے نکلا تو راستے میں وہی یہودی مل گیا، جس کی وجہ سے دیر ہو گئی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے معاذ! کیا میں تمہیں ایسی دعا نہ سکھاؤں جسے پڑھنے سے اللہ تعالیٰ تمہارے اوپر سے یمن کے صیر پہاڑ جتنا قرض بھی اتار دیں گے۔ تم یہ پڑھا کرو۔ قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ ۖ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ ۖ بِيَدِكَ الْخَيْرُ ۖ إِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ. تُوْلِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَتُوْلِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ ۖ وَتُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَتُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ ۖ وَتَرْزُقُ مَنْ تَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ. رَحْمٰنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَرَحِيْمَهُمَا تُعْطِيْ مِنْهُمَا مَنْ تَشَاءُ وَتَمْنَعُ مِنْهُمَا مَنْ تَشَاءُ ارْحَمْنِيْ رَحْمَةً تُغْنِيْنِيْ بِهَا عَنْ رَّحْمَةِ مَنْ سِوَاكَ (اخرجہ الطبرانی جلد 10 صفحہ 186)

پوسٹ کو شیئر کریں

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026