اکابرؒ کی زندگی میں محبتوں کا پیغام

آج کے اِس گُزرے دور میں ہماری پستی کے اسباب میں سے ایک بڑا سبب باہمی منافَرَت اور فِرقہ واریّت ہے جس سے اُمت کا شیرازہ بِکھرتا جا رہا ہے جبکہ اختلاف تو شروع سے رہا ہے اور تا قیامت رہے گا۔ اکابِر و اَسلاف کی باہمی رواداری کے متعلق مولانا سید محمد کَفیَل بخاری مَدَّ ظِلُّہٗ کی ایک تحریر آپ کی خِدمت میں پیش ہے، جِس سے آپ کو عِقْرِی کا پیغام رواداری سمجھنے میں مَدَد مِلے گی کہ ہمارے بڑے کس طرح عَمَل کرتے تھے۔ مولانا مظہر علی اَظہَر علیہ الرحمۃ (مَکْتَبَہ اثناء عَشِرِیَہ) مَجْلِس اَحرار الاسلام کے بانی رہنماؤں اور حضرت امیر شریعت مولانا سیّد عطاء اللہ شاہ بخاری کے رُفَقاء میں سے تھے۔ وہ مَجْلِس اَحرار الاسلام ہند کے سیکرٹری جنرل بھی رہے۔ مُنکَر اَحرار چودھری فَضل حق رحمۃ اللہ کے بعد مَجْلِس اَحرار میں وہ دوسری شخصیت تھے، جِنہوں نے قَلَم، سَفْہَالَہ اور تَحْرِیرِی مَیدان میں بھی مَجْلِس اور قوم کی خُوب رہنمائی کی۔ مولانا مَظْہَر عَلی اَظْہَر نے شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے کے باوجود 1930ء کی تَحریک مَدْحِ صَحَابَہؓ لکھنو کی قِیَادت کی، 1935ء کی تحریک مُقَدَّس تَحَفُّظِ خَتْم نُبُوَّت میں بھی بھر پُور حِصَّہ لیا۔ اَحرار کے اَکابر اَکیلوں میں شرکت کی اور خِطاب فرمایا۔ پَیر سَالِنی کے باوجود بَحیُتی طور پر اَحرار سے ہی وابَستَہ رہے اور کِسی دُوسری جماعت میں شامل نہ ہوئے۔ 7 سِتَمبر 1974ء کو پارلِیمَنٹ کے قادیانیوں کو غَیر مُسلم اَقَلِّیَت قرار دِیا اور مولانا اپنی زِندگی میں یہ عَظِیم فِیصلہ سُن کر دُنیا سے رُخصت ہوئے۔ اُن کی نَمازِ جَنَازَہ جانشِین شیخ التفسیر حضرت مولانا عَبِید اللہ اَنور صاحب نے پڑھائی۔ آپ کی تَصنِیفات میں مَدْحِ صَحَابَہؓ اور خِطابَات اَحرار جیسی بَہت سی کِتابیں شامل ہیں۔ (بِحَوالَہ: ماہنامہ نقیب ختم نبوت، ستمبر 2018ء، صفحہ 29، ناشر: داربنی ہاشم، مہربان کالونی، ملتان) مُحتَرَم قَارِئِین! اَلحَمد لِلّه مَوجُودہ دَور میں ماہنامہ عبقری اَکا بَر و اَسلاف کے پیغام رواداری کو نہایت اَحسَن اَنداز سے پھیلانے میں اپنا حِصَّہ شامل کر رہا ہے۔

بڑوں پر اعتراض کرنے کی بجائے اپنی اصلاح کی ضرورت ہے

خانقاہ مجتبیٰ گنج میں ذکر بالجهر مخصوص تعداد اور مخصوص طریقے سے کروایا جاتا ہے، اس کی حقیقت معالجہ کی طرح ہے۔ جیسا کہ قطب الاقطاب حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اشغال صوفیاء بطریقہ معالجہ کے ہیں اور سب کی اصل نصوص سے ثابت ہے، جیسا کہ علاج کرنا تو ثابت ہے مگر شربت بنفشہ حدیث سے ثابت نہیں ۔ ایسے ہی (صوفیا ئے کرام کے) سب اذکار کی اصل ہیئت ثابت ہے، جیسے توب بندوق کی اصل ثابت ہے، اگرچہ اس وقت میں موجود نہ تھی، لہٰذا یہ بدعت نہیں ۔ (بحوالہ فتاویٰ رشید یہ مع تالیفاتِ رشیدیہ ص 194 مرتب حضرت مولانا محمد گنگوہی ناشر: کتب خانہ دیو بند) فقیہ الامت حضرت مولانا مفتی محمود حسن گنگوہیؒ فرماتے ہیں کہ بعض مشائخ بھی خاص طریقے سے کلمہ کا ذکر اپنے مریدین کے لیے تجویز کرتے ہی۔ اس میں ہر دفعہ لا الہ الا اللہ کے ساتھ محمد رسول اللہ کے پڑھنے کو بھی نہیں بتاتے، بلکہ کچھ تعداد مقرر کرتے ہیں کہ آپ کا جوتا چوری نہ ہونے کی وجہ کیا ہے؟ تو فرمایا: لگے میں جس تجویز کرنے میں ڈھیروں منافع ہیں، جن کو مشائخ جانتے ہیں اور وہ منافع اس کے خلاف کرنے سے حاصل نہیں ہوتے، لیکن ثواب ہر صورت میں حاصل ہو جاتا ہے اور ایمان تازہ ہوتا رہتا ہے، لہٰذا اس کی عبادت ہونے کا انکار نہیں کیا جا سکتا (فتاویٰ محمودیہ ج 6 ص 41 ناشر: دار الافتاء فاروقیہ کراچی) مولانا نثار الحسینی ذکر بالجہر کی مکمل تفصیل پر ایک کتاب لکھی ہے: (”ذکر بالجہر کا شرعی حکم“ ناشر: خانقاہ امدادیہ، حضر و اٹک ، پاکستان) اسی طرح مولانا مفتی رضا الحق صاحب رئیس دار الافتاء جنوبی افریقہ نے بھی ذکر بالجہری کے ثبوت میں پوری کتاب لکھی ہے (”ذکر اجتماعی و جهری، شریعت کے آئینہ میں“ ناشر: زم زم پبلشرز کراچی) محترم قارئین! اگر اب درج بالا کتابوں کا سرسری مطالعہ بھی کرلیں تو ان شاء اللہ اس بات پر مطمئن ہو جائیں گے کہ تبلیغ خانے میں ہونے والا ذکر بالجهر صوفیاء واکابر و اسلاف کی ترتیب پر ہے۔ لہٰذا ہمیں اکابرینِ اُمت پر اعتراض کرنے کی بجائے اپنے عقائد اور اعمال درست کرنے کی ضرورت ہے۔ Baron Par Etiraz Nahi Apni Islah Ki Zarorat 121 YouTube

چوری سے حفاظت کا ایک انوکھا عمل

ماہنامہ عبقری میں مخلوقِ خدا کے نفع کیلئے ایسے ہی اعمال شائع ہوچکے ہیں، جن کی برکت سے مال و اسباب کے چوری ہونے سے حفاظت رہتی ہے، اور اس میں اہم بات یہ ہے کہ عبقری میں دیا جانے والا کوئی بھی عمل شریعت سے نہیں ٹکراتا، یعنی ہر عمل قرآن و سنت، صحابہ واہلِ بیت رضی اللہ عنہم واکابر و اسلافِ رحمہم اللہ کے معمولاتِ زندگی میں موجود ہوتا ہے۔ کیونکہ عبقری کے وظائف کے متعلق شک و شبہے کا اظہار کرتے ہیں، تو ہمیں چاہیے کہ اپنے اکابر و اسلافؐ کے حالاتِ زندگی کا مطالعہ کرنا بھی اپنی مصروفات میں شامل کرلیں، اس سے نہ صرف علم میں اضافہ ہوگا، بلکہ اکابرین اُمت کی طرزِ زندگی عافیتوں اور برکتوں کا مجموعہ بھی بن جائے گی۔ ان شاء اللہ! حکیم محمد فاروق صاحب (مدرس جامعہ فاروقیہ) لکھتے ہیں کہ: حضرت شاہ محمد اسحاق دہلویؓ بھی حرم شریف میں دل سے تو جوق تھے دروازے پر بٹی چھوڑ جاتے تھے، حالانکہ وہاں جوتے کا کھو جانا بہت مشکل تھا، لیکن حضرت شاہ محمد اسحاق دہلویؓ کا جوتا کبھی چوری نہ ہوا تھا۔ لوگوں کو اس بات پر تعجب تھا۔ ایک مرتبہ کسی نے پوچھا کہ آپ کا جوتا چوری نہ ہونے کی وجہ کیا ہے؟ تو فرمایا: لگے میں جس وقت جوتا اُتارتا ہوں، یہ نیت کر لیتا ہوں کہ میرا جوتا چور کیلئے حلال ہے۔ پھر چور چونکہ چوری کی قسمت میں ہے، اس لیے میرا جوتا چوری نہیں ہوتا اسی طرح مولانا یعقوب مہاجر مکی رحمہ اللہ کے قیام کے دوران کچھ سامان خریدنے بازار تشریف لے گئے ۔ اشرفیوں کی تھیلی ہاتھ میں تھی۔ ایک بدو آیا اور اشرفیوں کی تھیلی چھین کر بھاگ گیا۔ مولانا جلدی سے اپنے مکان میں داخل ہوگئے اور یہ کہتے ہوئے دروازہ بند کردیا کہ میں وہ تھیلی اس چور کیلئے حلال کر دی۔ لیکن چور جس طرف بھی جاتا تھا، اسے رستہ بند پاتا تھا۔ بار بار اسی جگہ آیا اور معافی مانگتے ہوئے تھیلی واپس کر دی (حوالہ: کتاب ملفوظات مفتی محمود حسن گنگوہی ص 252:134 ناشر دارُالہُدیٰ کراچی) محترم قارئین حضرت شاہ محمد اسحاق علیہ الرحمۃ و جلیلُ القَدر محدث ہیں، جنہیں شاہ عبدالعزیز محدثِ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی مسندِ حدیث کا وارث بنایا۔ جو لوگ اپنے اکابر و اسلافؓ کی ترتیبِ زندگی سے غافل ہو کر عبقری میں شائع کیے جانے والے حقائق پر اعتراض کرتے ہیں، کیا وہ بندے سے ہمدردی کے درج بالا اعمال کو خارج از سند اور متضرر ہوتے کی جُرأت کرسکتے ہیں؟

نظر بد کی تباہ کاریاں ۔۔۔ تعلیمات اکابر کی روشنی میں

(Nazar bad ki tabah kariyan) زندگی میں قدم قدم پر پریشانی ، دکھ اور تکلیفوں کی ایک اہم وجہ نظر بد ہے، دعائیں دیں شیخ الوظائف دامت برکاتہم کو جو آج اس مادی دور کے اندر بھی ہمیں ہمارے بڑوں سے جوڑے ہوئے ہیں جبکہ آج اپنے اپنوں سے دور ہو چکے ہیں۔۔۔! (1) علامہ حافظ ابن کثیر فرماتے ہیں کہ نظر بد کا لگنا اور اثر انداز ہونا برحق ہے۔ (تفسیر ابن کثیر ج 10 ص410) (2) علامہ حافظ ابن حجر فرماتے ہیں کہ نظر بد کی حقیقت کچھ یوں ہے کہ ایک بری طبیعت کا انسان اپنی حاسدانہ نظر جس شخص پر ڈالے تو اُسے نقصان پہنچے۔ (فتح الباری ج 10 ص 200) (3) علامہ امام ابن اثیر فرماتے ہیں کہ دشمن یا حسد کرنے والے شخص کی نظریں جب اس پر پڑتی ہیں تو وہ بیمار ہو جاتا ہے۔(النهايه ج 3 ص 332) (4) علامہ حافظ ابن قیم فرماتے ہیں کہ کچھ کم علم لوگوں نے نظر بد کی تاثیر کو باطل قرار دیا ہے اور ان کا یہ کہنا کہ یہ تو ہم پرستی ہے ۔۔۔! حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ سب سے زیادہ جاہل اور ارواح کی صفات اور ان کی تاثیر سے ناواقف ہیں اور ان کی عقلوں پر پردہ پڑا ہوا ہے۔ خبر دار۔۔۔ جنات کی نظر بد سے بھی ہوشیار ہیں۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے گھر کے اندر ایک لڑکی دیکھی جس کے چہرے پر سیاہ نشانات تھے۔ ارشاد فرمایا کہ اس پر کچھ پڑھ کردم کرو کیونکہ اس کو نظر لگ گئی ہے۔(بخاری، اصح ، رقم : 5407۔ مسلم، صحیح، رقم: 2197) حضرت امام القراء نے لکھا ہے کہ یہ سیاہ نشان جنات کی نظر بد کی وجہ سے تھا۔ شیخ وحید عبد السلام بالی حفظہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جس طرح انسان کی نظر بد اثر انداز ہوتی ہے اسی طرح جنات کی نظر بد بھی اثر انداز ہوتی ہے ، اس لئے مسلمان کو چاہیے کہ وہ جب بھی اپنے کپڑے اتارے یا شیشہ دیکھے یا کوئی بھی کام کرے تو ” بسم اللہ پڑھ لیا کرے تا کہ جنات اور انسانوں کی نظر بد کی تاثیر سے محفوظ رہ سکے۔( بحوالہ شریر جادوگروں کا قلع قمع کرنے والی تلوارص 139 مکتبہ اسلامیہ اہل حدیث لاہور ) محترم قارئین! آج اس پرفتن دور میں شیخ الوظائف دامت برکاتہم ہمیں جو بے لوث جو سودا دے رہے اللہ پاک ہی انھیں اپنی شان کے مطابق جزائے خیر عطا فرمائے آپ تمام دوست عبقری کیلئے نظر بد سے حفاظت کی ضرور دعا کیا کریں۔۔۔! فیس بک پر پڑھیں اشرف المخلوقات کی بیماریوں میں جنات کا دخل

شیخ الوظائف کے نظر بد پر بیانات تعلیمات قرآن وسنت کی روشنی میں

شیخ الوظائف دامت برکاتہم کے بہت سے دروس میں نظر بد کی حقیقت اور اس سے بچنے کی تعلیمات کا ذکر ہوتا ہے اور ابھی کچھ عرصے سے مستقل نظر بد پر آپ کے بیانات ہورہے ہیں۔ میں اکابر پر اعتماد کے دوستوں کی خدمت میں کچھ تفصیل کے ساتھ نظر بد کی حقیقت عرض کرتا ہوں جس سے آپ یہ بات با آسانی سمجھ سکیں گے واقعی شیخ الوظائف دامت برکاتہم نے ہمارے مرض کی تشخص بالکل صحیح کی ہے۔ نظر بد یا نظر لگنا ایک قدیم تصور ہے جودنیا کی مختلف اقوام میں پایا جاتا ہے۔ اسلام کے صدر اول میں دشمنانِ اسلام نے اسلام کو نقصان پہنچانے کیلئے عرب کے ان لوگوں کی خدمات لینے کا ارادہ کیا جو نظر لگانے میں شہرت رکھتے تھے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ وہ جس چیز کو نقصان پہنچانے کے ارادے سے دیکھتے ہیں ان کے دیکھتے ہی وہ چیز تباہ ہو جاتی۔ (1) آپ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمایا: نظر کا لگ جانا حقیقت ہے۔(بحوالہ بخاری، صحیح، رقم: 5408 مسلم، صحیح رقم : 2187 – أحمد بن حنبل، المسند رقم : 8228)(2) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نظر حق ہے اگر کوئی چیز تقدیر کو کاٹ سکتی ہے تو نظر ہے اور جب تم سے ( نظر کے علاج کے لیے ) غسل کرنے کے لیے کہا جائے تو غسل کر لو۔ (مسلم، الصحیح رقم :2188 ۔ ابن حبان، اصحیح رقم 6107)(3) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں کیلئے جھاڑ پھونک کی اجازت دی : نظر بد، بچھو وغیرہ کے کاٹے پر، پھوڑے پھنسی کے لئے۔ (مسلم، اصحیح رقم : 2196 أحمد بن حنبل، المسند رقم : 12194 ترمذی، السنن، رقم : 2056)(4) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا یا حکم دیا کہ نظر بد لگنے کا دم کیا کرو۔ (بخاری، صحیح رقم : 5406 ۔ مسلم، صحیح، رقم : 2195)(5) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نظر بد سے اللہ کی پناہ طلب کرو۔ (ابن ماجہ رقم : 3508 صحیح الجامع رقم : 938)(6) حضرت اسماء بنت عمیس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے گزارش کی کہ بنو جعفر کو نظر بد لگ جاتی ہے تو کیا وہ ان پر دم کر سکتی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں اگر تقدیر سے کوئی چیز سبقت لے جانے والی ہوتی تو وہ نظر بد ہے ( مسند احمد ج 2 ص 438) (7) بے شک نظر بد انسان پر اثر انداز ہوتی ہے حتی کہ اگر وہ ایک اونچی جگہ پر ہو تو نظر بد کی وجہ سے نیچے بھی گر سکتا ہے۔(صحیح الجامع رقم : 1681)(8) نظر بد انسان کو اونچے پہاڑ سے نیچے گرا دیتی ہے۔ (الصحیحہ 1249)(9) نظر بد انسان کو قبر میں اور اونٹ کو ہانڈی میں پہنچا دیتی ہے ( صحیح الجامع 4144)(10) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قضا و تقدیر کے بعد سب سے زیادہ نظر بد کی وجہ سے میری امت میں اموات ہوں گی۔(صحیح الجامع 1206 ) محترم قارئین ! درج بالا روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ شیخ الوظائف کا نظر بد کو اتنی اہمیت کے ساتھ بیان کرنا کوئی تو ہم پرستی نہیں بلکہ سچی حقیقت ہے جس پر قرآن و حدیث کے سینکڑوں دلائل موجود ہیں۔۔۔!

پاک آرمی کی نظر میں اعمال سے بچنے کا یقین

گزشتہ دنوں شیخ الوظائف پاک فوج کے سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل جاوید ناصر صاحب سے ملاقات کیلئے ان کی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے جنرل صاحب شیخ الوظائف کو ایک مسجد میں تلاوت قرآن کرتے ہوئے ملے۔ جنرل جاوید ناصر صاحب نے شیخ الوظائف کو اپنے آزمودہ تجربات و وظائف بتائے خاص طور پر وہ جو انہوں نے اوجڑی کیمپ اسلام آباد کے سانحہ کے وقت دعائیں پڑھیں اور بغیر کسی خاص سائنسی آلات کے اللہ تعالیٰ نے بہت بڑے سانحہ سے ایسے بچایا کہ پوری دنیا کی جدید سائنس حیران رہ گئی۔ اوجڑی کیمپ کا مختصر قصہ یہ ہے کہ یہ سانحہ 1988ء میں پیش آیا پاک آرمی کے ایمونیشن ڈپو میں آگ بھڑک اٹھی جہاں بے شمار بم اور سفید سلفر موجود تھا جس پر پانی ڈالیں تو آگ مزید بھڑک اٹھتی بم اڑ اڑ کر پھٹ رہے تھے اوجڑی کیمپ سے ایک بم اڑا اور سیدھا خاقان عباسی جو کہ اس وقت وزیر مملکت تھے کی گاڑی کو لگا اور وہ موقع پر ہی شہید ہو گئے خاقان عباسی سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے والد تھے۔ امریکی اور یورپی ماہرین کی ٹیمیں جمع تھیں مگر آگ نہیں بجھ رہی تھی امریکی ماہرین کی ٹیم نے چھ ماہ کیلئے جڑواں شہر ( راولپنڈی اسلام آباد ) خالی کرنے کا کہا اس وقت کے آرمی چیف نے مجھے (جنرل جاوید ناصر صاحب کو بلایا) میں اس وقت ملٹری انجینئر نگ ونگ کا ڈائر یکٹر تھا، میں نے پاک فوج کی دو یونٹوں کو اکٹھا کیا ان کو یہ دعائیں سکھائیں اور تاکید کی کہ ہر فوجی روزانہ روزہ رکھ کر آئے اور یہ دعائیں پڑھتا رہے۔ پس تمام فوجی مسلسل ان دعاؤں کا ورد کرتے ہوئے بم ناکارہ کرتے رہے۔ لہذا پاک فوج کے جوانوں نے 11 دنوں میں ان مسنون دعاؤں اور نفلی روزے کی برکت سے چالیس ہزار 600 بم ہاتھوں سے اٹھا کر ڈی فیوز کیے۔ جبکہ امریکی اور یورپی ماہرین نے گیارہ دنوں میں صرف 30 بم ڈی فیوز کیے۔ امریکی اور یورپی ماہرین آج بھی حیران ہیں کہ پاک فوج نے اتنا بڑا کارنامہ کیسے سرانجام دیا؟ جو بظاہر ناممکن تھا۔ قارئین! دراصل یہ اعمال کی برکت اعمال سے پلنے ، بننے اور بچنے کا یقین ہے جسے تسبیح خانہ پورے عالم میں پھیلا رہا ہے۔ اسی طرح کچھ عرصہ قبل عالمی تبلیغی جماعت مرکز رائے ونڈ پاکستان کے امیر محترم حضرت مولانا نذر الرحمان صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے بھی دنیا بھر کے تمام تبلیغی مراکز کو خط کے ذریعے یہ ہدایات ارسال فرمائی ہیں کہ موجودہ فتنوں کے دور میں ملک وقوم کی حفاظت کیلئے ان دعاؤں کا ضرور بالضرور اہتمام کریں۔ وہ مسنون دعائیں یہ ہیں : 1 – اللَّهُمَّ إِنَّا نَجْعَلُكَ فِي نُحورِهِمْ وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ (ابوداؤد) 2 – اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِنَا وَا مِنْ رَوْعَاتِنَا ( ترندی و ترغیب)

درختوں کو چیر دینے والے صحابی جن سے صحابہ کرام کی ملاقات

علامہ لا ہوتی صاحب کے واقعات میں افریقہ کے پر اسرارہ ہیبت ناک جنگلات میں خوفناک جنات کا تذکرہ ملتا ہے، یہ کوئی افسانوی کہانی نہیں بلکہ ایک زندہ جاوید حقیقت ہے تاریخ کے مستند جھر کوں سے ایک واقعہ اکابر پر اعتماد کے دوستوں کیلئے پیش خدمت ہے: حضرت ابی بن کعب فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ مسلمانوں کی ایک جماعت مکہ معظمہ جانے کی نیت سے نکلی اور اتفاقاً راستہ بھول گئی ، اس لق و دق میدان میں زندگی کا کوئی سہارا نہ تھا ، موت کیلئے تیار ہو کر کفن پہن لیے اور لیٹ گئے ، اسی دوران ایک جن درختوں کو چیرتا ہوا سامنے آیا اور کہا میں ان لوگوں میں سے ہوں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث سنی ہیں ، میں نے خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے:من كان يعمل بالله واليوم الآخر فليحب المسلمين ما يحب لنفسه یکره للمسلمين ما يكره لنفسهترجمه” جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اس کو چاہیے کہ سب مسلمانوں کیلئے وہ چیز پسند کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے اور اس چیز کو نا پسند کرے جسے اپنے لیے نا پسند کرتا ہے”یہ حدیث سنا کر اس جن نے قافلے والوں کو راستے کی راہنمائی بھی کی اور پانی کا پتا بھی بتا دیا۔۔۔! ( بحوالہ ثمرات الا واراق ص 249 بحوالہ آ کام المرجان فی احکام الجان )محترم قارئین ! علامہ لاہوتی صاحب کی زندگی کا ہر ہر گوشہ اکابر کے واقعات میں موجود ہےضرورت اس بات کی ہے ہم اپنے اکابر کے دامن سے اپنا رابطہ مضبوط کریں۔ ( محمد صہیب رومی قادری)

یہی میرے ہجویری عبقری مرشد کی باتیں

اپنے مرشد شیخ الوظائف دامت برکا تہم کیلئے نذرانہ عقیدت یہی میرے مرشد کی جلوت کی باتیں یہی میرے مرشد کی خلوت کی باتیں ہمیشہ خدا سے محبت کی باتیں ہمیشہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی باتیں جو حسن سماعت خدا ہم کو بخشے تو کانوں تو کانوں سے اپنے سماعت کریں ہم بلا کی بلاغت غضب کی فصاحت جنوں کی حکایت قیامت کی باتیں نگاہیں جھکا کر گزرنا سکھایا خدا سے سر راہ ڈرنا سکھایا بچائیں جو شر اور آفت سے ہم کو سکھائیں وہ ہم کو شرافت کی باتیں یہی کچھ بتاتے ہیں مرشد ہمارے یہی کچھ ہیں ان کی کرامت کی باتیں بچاتے ہیں وہ عشق صورت سے ہم کو سنا کر ہمیں حسن سیرت کی باتیں یہی میرے مرشد کی جلوت کی باتیں یہی میرے مرشد کی خلوت کی باتیں طالب دعا: مولاناولید الرشیدیشیخ الوظائف حضرت اقدس مرشد نا حکیم محمد طارق محمود چغتائی دامت برکاتہم جو اس دور میں بے پناہ صفات کےحامل عالمی شہرت یافتہ شخصیت ہیں، اس وقت آپکی تالیفات کی تعداد 350 کے قریب ہو چکی ہے آپ کا انداز بیان نہایت دلکش اور جاذب ہوتا ہے جو کہ ہر دکھی دل کی آواز ہوتی ہے ..

درود تاج پر اعتراض کرنے والے ضرور پڑھیں ۔۔۔

آخری گزارش: جامعہ امدادیہ سے فارغ ہونے کے بعد جب سے میں نے درود تاج کے بارے میں حضرت امام اولیاء مولانا احمد علی لاہوری کا واقعہ پڑھا اُس وقت سے میری جستجو اس درود پاک کے بارے میں بڑھتی گی ۔ دَافِعِ الْبَلَاءِ وَالْوَبَاءِ وَالْقَحْطِ وَالْمَرْضِ وَالأَلم “ کے جو الفاظ درودتاج میں نقل کیے گئے ہیں اس سے مراد مجازی معنی ہی ہیں جو کہ وسیلہ ہونے میں آتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس جو سارے جہانوں کیلئے رحمت ہیں ان سے بڑا وسیلہ کیا ہوسکتا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی دعا سے نابینا صحابی کو شفاء مل گئی ( ترمذی ج 2 ص 197 ) ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کی موجودگی عذاب ٹل جانے کا ذریعہ (سورۂ انفال آیت 33) ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے بارش کا نازل ہونا ( تاریخ ابن عساکر، بحوالہ المواہب اللدنیہ 272) ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لعاب مبارک کو پانی میں ڈالنے سے فاتر العقل کا صحت یاب ہو جانا ( مسند احمد ج 6 ص 379) ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی برکت سے قحط سالی خوش حالی میں بدل جانا۔ ( بخاری ج 1 ص 140) دَافِعِ الْبَلَاءِ وَالْوَبَاءِ وَالْقَعْطِ وَالْمَرَضِ وَالأَلم “ الفاظ میں اگر معنی مجازی مراد لیا جائے تو کوئی اختلاف نہیں رہتا اور بہت سے اہل علم یہی معنی مراد لیتے ہیں چند ایک حوالہ جات پیش خدمت ہیں: کوئی مسلمان بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دافع حقیقی نہیں سمجھتا، دافع حقیقی صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ذات اقدس ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم محض وسیلہ ہونے کی حیثیت سے دافع مجازی ہیں جیسا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ارشاد فرمایا "وَمَا كَانَ اللهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنتَ فِيهِمْ وَمَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ“۔ (کتاب الامن و العلی بحوالہ حضرت داتا گنج بخش اور درود تاج شریف ص 16، ترتیب: خلیل احمد رانا ، ناشر: دار الفیض گنج بخش ” لاہور ۔ مجربات محسن ص 128 مصنف : مولانا محمد محسن منور یوسفی، ناشر: الحسن مکتبه لاہور ۔ عقیدہ توسل ، تبرک کی شرعی حیثیت ، مصنف : شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہر القادری صاحب، ناشر : منہاج القرآن لاہور۔ اسلام میں وسیلے کا تصور ، مصنف : مولانا محمد معراج الاسلام صاحب، ناشر: شریف پرنٹنگ پریس لاہور ) محترم قارئین ! عبقری تو صرف ایک ڈاکیہ ہے جوا کا برکی ڈاک آپ تک پہنچاتا ہے۔ میں دل کی گہرائیوں سے دعا کرتا ہوں کہ اللہ تبارک تعالیٰ اس کی ہر حاسد کے حسد اور ہر شریر کے شر سے حفاظت فرما ئیں۔ آمین

مشکلات و بلیات سے نجات درود تاج کے ذریعے ۔۔ تعلیمات اکابر کی روشنی میں

(1) محدث کبیر ، مفتی اعظم مولانا مفتی محمد فرید جامعہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک درود تاج کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جس کا یہ عقیدہ ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کی دعا اور توسل سے بلا وغیرہ کو دفع کرتا ہے اس کیلئے ( درود تاج ) پڑھنا جائز ہے۔ (فتاویٰ فریدیہ ج1 ص 347 تخریج و ترتیب مفتی محمد وہاب مدرس دار العلومصدیقیه زروبی ، ناشر : دار العلوم صدیقیه زروبی صوابی )(2) شیخ التفسیر حضرت مولانا عبد اللہ بہلوی فرماتے ہیں: جو شخص زیارت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا طالب ہوا سے چاہیے کہ 313 مرتبہ درود تاج 21 دن تک بلاناغہ پڑھے تو زیارت فیض بشارت سے مشرف ہوگا، ہزاروں لوگوں کو فائدے ہوئے ہیں اور زیارت سے مشرف ہوئے ہیں۔ (کتاب : محاسبة الاعمال في الغد ووالأصال ص5 مصنف: شیخ التفسیر حضرت مولا نا عبد اللہ بہلوی)(3) علامہ ارشد حسن ثاقب صاحب دامت برکاتہم فاضل جامعہ اشرفیہ فرماتے ہیں درود تاج نہایت ہی مقبول و معروف ہے، مالی پریشانیوں کے حل ، مشکلات و بلیات کے تدارک اور قضائے حاجات کیلئے سریع الاثر ہے ( بحوالہ جامع الوظائف ص 264 ، ناشر : ادارۃ القریش لاہور ۔ اس کتاب میں موجود عملیات اور درود تاج کی تصدیق کرنے والے علمائے کرام ۔ (۱) مفتی شاہد عبید صاحب نائب مفتی جامعہ اشرفیہ لاہور ۔ (۲) حضرت مولا نا ڈاکٹر منظور احمد مینگل صاحب۔ (۳) حضرت مولانا عدنان کاکا خیل صاحب۔ (۴) شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد الرحمن صاحب اشرفی ۔ (۵) استاد الحدیث حضرت مولانا حافظ فضل الرحیم )(4) مولانا خلیل احمد صاحب، فاضل جامعہ امدادیہ فیصل آباد فرماتے ہیں کہ میں نے اس درود تاج کو نوکری میں ترقی اور پاکٹ منی میں برکت کیلئے ، ہر بیماری سے نجات کیلئے ،سانپ بچھو اور موذی جانور کے کاٹے کیلئے ، صاحب کشف بننے کیلئے بہت آزمودہ پایا ہے۔(5) مولانا قاری عطاء اللہ صاحب فاضل جامعہ اشرفیہ لاہور فرماتے ہیں کہ میں نے اس درود تاج کو سخت ترین جنات سے خلاصی کیلئے تسخیر خلائق کیلئے ، حاملہ کی صحت کیلئے ، بانجھ پن دور کرنے کیلئے ، زیارت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ،علاج کیلئے نہایت ہی مجرب پایا ہے۔ مولانا عبدالغفار صاحب، فاضل جامعہ حنفیہ کراچی و فاضل وفاق المدارس العربیہ فرماتے ہیں خواب میں زیارت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے فوری شادی کیلئے ، حاسدین سے حفاظت کیلئے ، گناہوں سے بچنے اور بے بہا رزقیکیلئے ، ایک ہفتہ میں جنات کے خاتمہ کیلئے لا جواب پایا۔(تحریر: مولانا ابوعون محمد جہلمی صاحب، فاضل جامعہ امدادیہ فیصل آباد)

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025