اگر وظیفے پڑھنے سے کچھ ملتا تو حضور ﷺ میدان جہاد میں نہ جاتے

قارئین! آج کچھ کم عقل اور اپنے اکابر و اسلاف کے طرز زندگی سے لا علم لوگ عبقری میگزین پر اعتراض کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ ایسا خواب ناک جہان ہے، جس میں ہر مسئلے کا حل اور ہر مشکل سے نجات ملتی ہے، اگر وظائف ہی سے کچھ ملنا ہوتا تو حضور صلی اللہ میدان جنگ میں تشریف نہ لے جاتے۔ حالانکہ محترم قارئین! ایسے لوگوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ حضور سرور کونین ﷺ تو میدان جنگ میں بھی وظیفہ پڑھنے کا ثبوت ملتا ہے۔ اگر وظیفے پڑھنے سے کچھ نہ ملنا ہوتا تو حضور ﷺ میدان جہاد میں حم لا يُنْصَرُوْنَ کا وظیفہ نہ پڑھتے ۔ بحوالہ کتاب: مسند احمد بحوالہ کتاب: برصغیر میں اسلام کے اولین نقوش صفحه 202 ناشر: مکتبہ قدوسیہ اردو بازارلاہور ۔ بحوالہ کتاب مجربات اکابر ص 126 ، ناشر: اداره تالیفات اشرفیہ چوک فواره ملتان پاکستان خبر دار ! لوگوں کو وظائف بتانے میں کبھی غفلت نہ کرنا: مولانا عبد القیوم حقانی صاحب ( جامعہ ابوہریرہ نوشہرہ) لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ حافظ الحدیث حضرت مولانا عبد اللہ درخواستی رحمتہ اللہ علیہ نے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: اگر صیح العقیدہ لوگ دم وغیرہ کے سلسلے میں لوگوں کی کفایت نہیں کریں گے تو مجبور لوگ اپنے مقصد کے حصول کیلئے بد عقیدہ ، گمراہ ، شریر اور خواہشات پرست لوگوں کے پاس جا کر اپنا ایمان ، عزت اور مال ضائع کر بیٹھیں گے۔ اس لیے میں تمہیں تاکید کرتا ہوں کہ تم اس سلسلے میں کبھی غفلت نہ برتنا۔ پھر فرمایا: "یا باسط یا حفیظ” کو خود بھی پڑھنا اور لوگوں کو بھی پڑھنے کی تلقین کرنا۔ پھر مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا : یا باسط پڑھنے سے مال ، اعمال علم ، عزت ، اولاد، دنیا اور آخرت میں کشائش (وسعت) ملے گی اور یاحفیظ پڑھنے سے جان ، مال ، اولاد، عزت ، قبر اور آخرت کی حفاظت ہوگی۔ (بحوالہ کتاب: مرد قلندر صفحه 146 ناشر : القاسم اکیڈمی ، جامعہ ابوہریرہ خالق آباد، نوشہرہ )

عبقری کے مستند وظائف نے ظلم سے نجات دلائی

عبقری پر اعتراض کرنے والوں کی طرف سے بار بار یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ اس کے وظائف بالکل غیر مستند اور خود ساختہ ہیں۔ آئیں دیکھتے ہیں کہ اس غلط اعتراض میں کتنے فیصد سچ ہے۔ چند سال پہلے عبقری میں ”یاقہّارُ“ پڑھنے کا ایک عمل شائع ہوا تھا، جس سے لاتعداد لوگوں کو جادو کے وار اور جنات کے ظلم سے نجات مل رہی ہے۔ مولانا اعجاز احمد خان سنگھانوی نے اس عمل کے متعلق لکھا ہے کہ اس اسمِ پاک کو 306 بار پڑھنے سے تین ہفتے کے اندر اندر ظالم کے ظلم سے چھٹکارا حاصل ہو جاتا ہے۔ حتیٰ کہ یہ اسم پڑھنے سے ظالم خود آکر معافی مانگتا ہے۔ (بحوالہ کتاب: آسان عملیات و تعویذات، صفحہ 219 ناشر: مکتبہ انور شاہ، کورنگی ٹاؤن کراچی نمبر 31) جامعہ اسلامیہ رائڈرگ کے سابق شیخ الحدیث مولانا محمد داؤد خان راز رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یاقہّارُ پڑھنے سے خاتمہ ایمان پر ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا ہو جاتی ہے۔ ہر مشکل کام کے وقت صرف سو مرتبہ یاقہّارُ پڑھنے سے کام آسان ہو جائے گا۔ دشمن کے شر سے بچنے کیلئے نماز کی سنت اور فرض کے درمیانی وقفے میں پڑھنے سے عجیب تاثیر ملتی ہے۔ (بحوالہ کتاب: غذاء الارواح یعنی شرعی و وظائف صفحہ 80 ناشر: مکتبہ الریحان، شہید ملت روڈ کراچی نمبر 5) قاری محمد قاسم صندلی قادری لکھتے ہیں: جس شخص کو دشمن سے خطرہ ہو وہ رات کے آخری پہر میں اور سورج نکلتے وقت سو مرتبہ یاقہّارُ پڑھے اسے دشمن پر غلبہ حاصل ہو گا، اسی طرح ہر فرض نماز کے بعد 306 مرتبہ یہ اسم پڑھنے سے اللہ تعالیٰ حفظ و امان میں رکھے گا۔ (بحوالہ کتاب: قرآنی وظائف اسمائے حسنیٰ کے خواص، ص 76) قارئین! غور فرمائیں کہ درج بالا تینوں کتابوں میں مقررہ تعداد اور مقررہ وقت کی پابندی کے ساتھ وظیفہ پڑھنا بتلایا گیا ہے۔ اگر یہ وظیفہ عبقری کا خود ساختہ تھا تو عبقری سے کئی سال پہلے لکھی جانے والی ان کتب کے مصنفین نے اسی وظیفے کی خاص تعداد اور خاص وقت کیسے مقرر کر لیے تھے؟

مفتی محمود الحسن گنگوہی رحمہ اللہ بھی عبقری پڑھتے تھے

فقیہ الامت، استاذ الحدیث، مفتیِ اعظم حضرت مفتی محمود الحسن صاحب رحمہ اللہ سے کسی شخص نے اپنی پریشانیوں کا تذکرہ کر کے تعویذ مانگا۔ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا: روزانہ فجر کی سنت اور فرض کے درمیانی وقت میں یہ وظیفہ پڑھ لیا کرو۔ ان شاء اللہ تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔ اوّل و آخر 11 مرتبہ درود شریف + 41 مرتبہ سورہ فاتحہ مع بسم اللہ بحوالہ کتاب: ملفوظات فقیہ الامتؒ، صفحہ 200 مرتب: مفتی محمد فاروق استاذ جامعہ محمودیہ ناشر: مکتبہ دارالھدیٰ اردو بازار کراچی میرے محترم دوستو! یہی وظیفہ ماہنامہ عبقری میں کئی مرتبہ چھپ چکا ہے اور ہزاروں لوگ اس وظیفے کی برکت حاصل کر کے ناممکن مسائل حل کروا چکے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا مفتی محمود صاحب رحمہ اللہ نے بھی یہ وظیفہ عبقری سے پڑھا ہوا تھا؟ عبقری پر جو اعتراض کیا جاتا ہے کہ اس میں من گھڑت وظائف دیے جاتے ہیں، کیا مفتی محمود صاحب رحمہ اللہ کے وظیفے کو بھی من گھڑت کہا جا سکتا ہے؟

احادیث میں تعویذ لکھنے اور لٹکانے کا ثبوت

مولانا صاحب! میں نے پڑھا ہے کہ تعویذ لکھنا بدعت اور لٹکانا شرک ہے؛ جبکہ ماہنامہ عبقری میں اور عبقری کے فیس بک پیج پر بہت زیادہ تعویذات بتائے جاتے ہیں۔ میری درخواست ہے کہ ان سے یہ سلسلہ بند کروایا جائے (مجیب اللہ محمدی، سیالکوٹ) جنابِ عالی! آپ کی معلومات میں کمی ہے۔ احادیث میں کہیں بھی تعویذ کو شرک نہیں کہا گیا، بلکہ تمیمہ لٹکانا شرک ہے۔ تمیمہ کے معنی ہیں (منکہ) اور منکے لٹکانے پر تو ہمارے تمام اکابر کا اتفاق ہے کہ یہ شرک ہے؛ مگر تعویذ لکھنا اور لٹکانا چونکہ صحابہ کرامؓ سے ثابت ہے اس لیے عبقری والے تعویذات کے ذریعے اللہ کی پناہ حاصل کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ درج ذیل صحابہ کرام و تابعین عظام رضی اللہ عنہم تعویذ لکھنے اور لٹکانے کے قائل تھے۔ (1) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تعویذ لکھ کر دیا کرتے تھے۔ (ابو داؤد ج 2 ص 543، مصنف ابن ابی شیبہ ج 12 ص 75) (2) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بچے کی پیدائش کیلئے دو قرآنی آیات لکھ کر دیتے تھے اور ان کو دھو کر پلانے کا حکم فرماتے۔ طبرانی کی روایت میں تو یہاں تک ملتا ہے کہ اس پانی میں سے کچھ پیٹ پر اور کچھ منہ پر بھی چھڑکوا دیتے تھے (مصنف ابن ابی شیبہ ج 12 ص 60) (3) سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بھی اس کی قائل تھیں کہ پانی میں تعویذ ڈال کر وہ پانی مریض پر چھڑکا جائے (مصنف ابن ابی شیبہ ج 12 ص 60) (4) حضرت مجاہدؒ فرماتے ہیں کہ ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں کہ قرآنی آیات لکھ کر مریض کو پلائی جائیں (مصنف ابن ابی شیبہ ج 12 ص 74) (5) حضرت سعید بن مسیب رحمتہ اللہ علیہ کی نظر میں چمڑے میں مڑھ کر تعویذ پہننا جائز ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج 12 ص 74) (6) حجاج بن اسود کہتے ہیں میں نے مکہ کے مفتی اعظم حضرت عطاء بن رباح رحمتہ اللہ علیہ سے تعویذ کے متعلق پوچھا تو وہ فرمانے لگے ہم نے تو نہیں سنا کہ کوئی اس کام کو مکروہ کہتا ہو۔ (7) امام باقر رحمتہ اللہ علیہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ قرآن کریم کی آیات کو چمڑے میں لکھ کر لٹکایا جائے (مصنف ابن ابی شیبہ ج 12 ص 74)

70 ہزار مرتبہ کلمہ بخشش کا ذریعہ

سوال: علامہ لاہوتی صاحب کے کالم میں اکثر کئی مرتبہ 70 ہزار مرتبہ کلمہ کے نصاب کا ذکر آیا ہے، میرے ایک دوست کہتے ہیں کہ 70 ہزار مرتبہ کلمہ کا ہمارے اکابر سے کوئی ثبوت نہیں ہے۔ جواب: یہ بات تمام ہی لوگ جانتے ہیں کہ تمام اذکار میں سب سے بابرکت فضیلت کا حامل یہی کلمہ ہے، تمام مشائخ کے سلاسل میں اس کلمہ پر روحانی عروج کا دارومدار ہے۔ حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا فضائلِ ذکر، باب دوم میں اس کلمہ کے نصاب کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ہمارے حضرت شاہ ولی اللہ صاحب رحمہ اللہ نے ”قول جمیل“ میں اپنے والد سے نقل کیا ہے کہ ابتدائے سلوک میں ایک سانس میں لا الہ الا اللہ دو سو مرتبہ کہا کرتا تھا۔ شیخ ابویزید قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے یہ سنا کہ جو شخص ستر ہزار مرتبہ لا الہ الا اللہ پڑھے اس کو دوزخ کی آگ سے نجات ملے، میں نے یہ خبر سن کر ایک نصاب یعنی ستر ہزار کی تعداد اپنی بیوی کیلئے بھی پڑھا اور کئی نصاب خود اپنے لئے پڑھ کر ذخیرہ آخرت بنایا، ہمارے پاس ایک نوجوان رہتا تھا جس کے متعلق یہ مشہور تھا کہ یہ صاحبِ کشف ہے، جنت دوزخ کا بھی اس کو کشف ہوتا ہے، مجھے اس کی سچائی میں کچھ شک تھا، ایک مرتبہ وہ نوجوان ہمارے ساتھ کھانے میں شریک تھا کہ دفعتاً اس نے ایک چیخ ماری اور سانس پھولنے لگا اور کہا کہ میری ماں دوزخ میں جل رہی ہے، اس کی حالت مجھے نظر آئی ہے، قرطبی رحمہ اللہ کہتے ہیں میں اس کی گھبراہٹ دیکھ رہا تھا مجھے خیال آیا کہ ایک نصاب اس کی ماں کو بخش دوں جس سے اس کی سچائی کا بھی مجھے تجربہ ہو جائے گا چنانچہ میں نے ایک نصاب ستر ہزار کا ان نصابوں میں سے جو اپنے لئے پڑھے تھے اس کی ماں کو بخش دیا میں نے اپنے دل میں چپکے ہی سے بخشا تھا اور میرے اس پڑھنے کی خبر بھی اللہ کے سوا کسی کو نہ تھی مگر وہ نوجوان فوراً کہنے لگا کہ چچا میری ماں دوزخ کے عذاب سے ہٹا دی گئی ہے۔ قرطبی رحمہ اللہ کہتے ہیں مجھے اس قصہ سے دو فائدے ہوئے ایک تو اس برکت کا جو ستر ہزار کی مقدار پر میں نے سنی تھی اس کا تجربہ ہوا۔ دوسرے اس نوجوان کی سچائی کا یقین ہو گیا۔ آگے شیخ الحدیث فرماتے ہیں کہ یہ ایک واقعہ ہے اس قسم کے نامعلوم کتنے واقعات اس امت میں پائے جاتے ہیں۔ (کتاب: فضائلِ ذکر صفحہ نمبر 484، مصنف شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ، ناشر: کتب خانہ فیضی، لاہور۔ کتاب: مجرباتِ دیربی صفحہ نمبر 210، مصنف شیخ خواجہ احمد دیربی رحمہ اللہ، ناشر: فرید مبین پبلشرز، کراچی۔ کتاب: آپ کے مسائل اور ان کا حل) اب آپ ہی بتائیے کہ اس میں علامہ لاہوتی صاحب کتنے خاموش طریقے سے لوگوں کو اعمال پر لگا کر اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت پر لگا رہے ہیں۔

ایک وظیفے کے زیادہ فائدے کیوں ہوتے ہیں؟

سوال: بعض اوقات عبقری میں ایک ہی وظیفے کے کئی فائدے لکھے ہوتے ہیں۔ میرے دوست مجھ سے پوچھتے ہیں کہ ایک ہی وظیفے کے اتنے سارے کمالات کیسے ہوسکتے ہیں؟ اس کی تھوڑی وضاحت فرمادیں (سائل: مہران کاشف پنڈی بھٹیاں) جواب: میرے بھائی! جو شخص روحانی عملیات کی الف ب سے بھی واقف ہو وہ یہ بات بخوبی جانتا ہے کہ ہمارے اکابر بھی بعض اوقات ایک ہی عمل کے بے شمار فائدے بتایا کرتے تھے۔ مثلاً امام ربانی قطب عالم مولانا رشید احمد گنگوہی قدس سرہ عام طور پر ہر مرض کیلئے سریانی زبان کے چند حروف ”1115ھ 111“ کا تعویذ لکھ کر دیتے، جو بذریعہ ڈاک بھی ارسال کیا جاتا۔ اس کے علاوہ آپ جملہ بیماریوں، بدچلنی اور آوارگی کیلئے سورہ فاتحہ کو کاغذ یا طشتری پر لکھ کر پانی میں گھول کر پلانے کا فرماتے. (بحوالہ کتاب: عملیات اکابر، ص 14 مصنف: حاجی عبدالسلام رائے پوری، حسب فرمائش سید العلماء والمشائخ حضرت سید نفیس الحسینیؒ) اسی طرح ماضی قریب کے مشہور عالم دین زبدۃ المحققین، حضرت علامہ محمد موسیٰ خان روحانی بازی رحمہ اللہ (جن کی علمی صلاحیت کو امام کعبہ نے بھی قبول کیا) نے درود شریف کی ایک کتاب لکھی، جس کے بیس فوائد ذکر کیے: (1) ہر حاجت پوری ہوگی (2) ہر مشکل آسان ہوگی (3) لاعلاج بیماریوں سے شفاء ملے گی (4) تجارت و کاروبار میں برکت ہوگی (5) مقدمہ میں کامیابی ہوگی (6) سحر اور جادو ختم ہو جائے گا (7) جنات کی شرارت سے خلاصی ملے گی (8) بے اولاد کو اولاد مل جائے گی (9) نرینہ اولاد کا حصول آسان ہوگا (10) سفر میں سلامتی و کامیابی ہوگی (11) ملازمت سہولت سے ملے گی (12) سفر میں ساتھ رکھنے سے برکت ملے گی (13) فوراً شادی ہوجائے گی (14) گمشدہ چیز مل جائے گی (15) دشمنوں پر غلبہ نصیب ہوگا (16) جس گھر میں یہ کتاب ہوگی اس میں خوب خیر و برکت ہوگی (17) علم میں برکت ہوگی (18) حج و عمرے کی سعادت ملے گی (19) خواب میں زیارتِ النبی ﷺ ہوگی (20) لوگوں کے دلوں میں محبت پیدا ہوجائے گی۔ (دیکھیں کتاب: البرکات المکیۃ، مصنف شیخ موسیٰ خان روحانی بازی، ناشر: جامعہ اشرفیہ فیروز پور روڈ لاہور) اب کیا اتنے بڑے علماء کے بارے کوئی کہہ سکتا ہے کہ انہوں نے کوئی بات جھوٹ لکھی ہے؟ یا وظیفے کے فوائد بتانے کیلئے ہر قسم کا چونا منجن اکٹھا کر دیا ہے؟ اس طرح کے اعتراض لگانے کیلئے صرف عبقری ہی کیوں نظر آتا ہے؟

شہد کو گلے میں لٹکانے سے شفاء ملتی ہے یا گھول کر پلانے سے؟

سوال: مولانا صاحب! مانا کہ قرآن شفاء ہے، لیکن شہد بھی تو شفاء ہے۔ آپ یہ بتائیں کہ اگر کسی بندے کے گلے میں شہد کا ڈبہ بھر کے لٹکا دیا جائے تو کیا اسے شفاء مل جائے گی؟ قرآن گلے میں لٹکانے کیلئے نازل ہوا تھا یا عمل کرنے کیلئے؟ عبقری میں بتایا جاتا ہے کہ فلاں آیت کا تعویذ لکھ کر پہن لیا جائے تو شفاء مل جائے گی۔ پلیز کوئی ایسی بات کیا کریں جو عقل میں سما سکتی ہو (سائل: عبدالوہاب، دبئی) جواب: جنابِ عالی! افسوس یہ ہے کہ لوگوں نے قرآن کو پڑھنا ہی چھوڑ دیا ہے۔ اگر آپ نے تھوڑا سا وقت قرآن کو سمجھنے پر لگایا ہوتا تو آپ کی عقل میں یہ بات سما جاتی کہ شہد ایک مادی چیز ہے اور قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ شہد کے بارے فرمایا: ”فِیْہِ شِفَآءٌ لِّلنَّاسِ“ کہ اس کے اندر لوگوں کیلئے شفاء ہے۔ شہد کی شفاء بھی صرف اسی وقت ملے گی جب یہ جسم کے اندر جائے گا۔ آنکھوں کیلئے بھی اسی وقت شفاء کا ذریعہ بنتا ہے جب آنکھوں کے اندر شہد کی سلائی لگائی جاتی ہے۔ کسی پھوڑے پھنسی کیلئے بھی شفاء اسی وقت بنتا ہے جب اس جگہ کے اوپر اچھی طرح شہد کا لیپ کر دیا جائے۔ لیکن دوسری طرف قرآن کے بارے ارشاد ہے: وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا ھُوَ شِفَآءٌ وَّ رَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یعنی قرآن سارے کا سارا شفاء اور رحمت ہے۔ اس آیت میں شہد کی طرح یہ نہیں فرمایا گیا کہ اس کے اندر شفاء ہے بلکہ اس آیت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ قرآن بذاتِ خود شفاء اور رحمت ہے جس پر عمل کرنے سے بھی شفاء ملے گی، جس کو پڑھنے سے بھی شفاء ملے گی، جس کو لکھنے سے بھی شفاء مل جاتی ہے، جس کو گھول کر پینے سے بھی شفاء حاصل ہو جاتی ہے اور جس کو صرف دیکھتے رہنے سے بھی شفاء اور رحمت کا نزول ہوتا رہتا ہے۔ اسی لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حافظِ قرآن ہونے کے باوجود قرآنِ پاک کو دیکھ کر پڑھا کرتے تھے تاکہ اس کو دیکھنے والی شفاء اور رحمت سے بھی حصہ مل جائے۔ (بحوالہ کتاب: الداء والدواء صفحہ 5، مصنف: زبدۃ المحدثین نواب سید محمد صدیق حسن خان رحمہ اللہ، ناشر: اسلامی کتب خانہ، فضل الہی مارکیٹ، اردو بازار لاہور)

پٹرول کے بغیر چلنے والی گاڑی

سوال: مولانا صاحب! عبقری میں سورہ کوثر کا ایک عمل دیا جاتا ہے اور اس کے فوائد میں لکھا جاتا ہے کہ سورہ کوثر سے گاڑی کے پٹرول میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ حتیٰ کہ نارمل رینج سے بڑھ کے کئی کئی کلومیٹر تک گاڑی سفر طے کر سکتی ہے۔ یہ کیسی بے ڈھنگی سی بات ہے؟ بھلا کبھی گاڑی پر بھی سورہ کوثر کا اثر ہوا ہے؟ (سائل: عبدالمجید، گوجرانوالہ) جواب: جناب عالی! اگر آپ کو اکابر و اسلاف کے حالات کی خبر ہوتی تو آپ یہ سوال کبھی نہ کرتے۔ سورہ کوثر سے پٹرول میں برکت شامل ہو جانا کون سی ناممکن بات ہے؟ ضلع قصور میں مولانا محی الدین لکھوی رحمہ اللہ نام کے ایک بزرگ گزرے ہیں، جنہوں نے پٹرول کے بغیر بھی گاڑی چلائی تھی۔ ان کی سوانح حیات میں یہ واقعہ ابھی تک موجود ہے کہ ایک دن وہ کسی آدمی کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔ راستے میں پٹرول ختم ہو گیا۔ اس وقت جگہ جگہ پٹرول پمپ موجود نہیں تھے۔ وہ آدمی پریشان ہو گیا۔ مولانا محی الدین لکھوی رحمہ اللہ نے فرمایا: کیا تمہارے پاس کوئی برتن ہے؟ کہنے لگا: جی ہاں۔ فرمایا: سامنے ٹیوب ویل سے پانی بھر کے لے آؤ۔ جب وہ پانی لے آیا تو انہوں نے بسم اللہ پڑھ کے گاڑی کی ٹینکی میں سارا پانی انڈیل دیا۔ وہ آدمی حیران تھا کہ شاید مولانا صاحب رحمہ اللہ کو پانی اور پٹرول میں فرق معلوم نہیں۔ بھلا کبھی پانی سے بھی گاڑی چل سکتی ہے؟ مولانا لکھوی رحمہ اللہ نے فرمایا: بسم اللہ پڑھ کے گاڑی اسٹارٹ کرو۔ جب اس نے اسٹارٹ کی تو گاڑی حسبِ معمول آسانی سے چل پڑی۔ اس نے مقررہ مقام پر پہنچ کر مولانا محی الدین لکھوی رحمہ اللہ کو اتارا، پھر اپنے گھر چلا گیا۔ اگلے دن گاڑی کا انجن چیک کیا تو اس میں پانی کے کوئی آثار نہیں تھے۔ (بحوالہ کتاب: تذکرہ مولانا محی الدین لکھویؒ۔ مصنف: مولانا محمد اسحاق بھٹی۔ ناشر: مکتبہ اسلامیہ اردو بازار لاہور) لہٰذا میرے بھائی! سورہ کوثر تو اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جس میں برکتوں کے خزانے چھپے ہوئے ہیں، کیا اللہ کا کلام اتنا بے بس ہے کہ ٹیوب ویل کے پانی جتنا کام بھی نہ کر سکے؟

عملیات ہی عملیات

مولانا صاحب! یہ جو عبقری جیسے رسالوں میں آئے دن نئے نئے وظیفے بتائے جاتے ہیں، کیا ایسی کوئی ترتیب ہمارے اکابرین کے ہاں ملتی ہے؟ ہم نے تو آج تک کسی عالمِ دین کے عملیات کے متعلق نہیں سنا۔ براہ کرم دلیل سے بات کیجئے گا (سائل: محمد حنیف مدنی، سیالکوٹ) الجواب بعون الوہاب: گزارش یہ ہے کہ اکابرین عظام رحمہم اللہ کے ہاں جتنے زیادہ وظیفے رائج تھے عبقری میں تو ابھی تک ان کا عشرِ عشیر بھی نہیں سما سکا۔ اگر آپ محدث العصر علامہ انور شاہ کاشمیری رحمہ اللہ ہی کی ایک کتاب ”گنجینہ اسرار“ کو دیکھ لیں تو اس میں درج ذیل عملیات اور تعویذات ملتے ہیں۔ ہرن کی جھلی پر لکھنے والے تعویذ کی تعداد (2)دھو کر پینے والے تعویذوں کی تعداد (5)سمجھ میں نہ آنے والے منتروں کی تعداد (1)لکھنے والے تعویذوں کی تعداد (206)پڑھنے والے وظیفوں کی تعداد (312)پڑھ کر تالی بجانے والے عمل کی تعداد (1)لکھ کر چرخہ الٹا گھمانے والے عمل کی تعداد (1)انڈے کا چھلکا اتار کر لکھنے والے عمل کی تعداد (1)پڑھ کر کیل گاڑنے کے عمل کی تعداد (1)کنویں میں ڈالنے والے تعویذ کی تعداد (4)چاندی کی انگوٹھی پر لکھنے والے نقش کی تعداد (4)گوشوں میں دفن کرنے والے تعویذ کی تعداد (9)لکھ کر لٹکانے والے تعویذ کی تعداد (9)بزرگوں کو ایصال ثواب کرنے والے اعمال کی تعداد (2) اکابرین و اسلاف میں سے یہ تو ابھی صرف ایک محدث کی ایک کتاب کی تفصیل لکھی گئی ہے۔ ان جیسے سینکڑوں علماء کی سینکڑوں کتابیں عملیات سے بھری ہوئی ہیں۔ جن کا مطالعہ آپ خود بھی کر سکتے ہیں۔

لہسن، پیاز کی تاثیر کا اقرار قرآن و حدیث کے وظائف کا انکار

جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ”عبقری اور تسبیح خانے کے ذریعے بتائے جانے والے وظائف کی کوئی حقیقت نہیں، صرف ایک ٹوپی ڈرامہ ہے، جس کے ذریعے لوگوں سے عقیدت وصول کی جاتی ہے۔ انسان جتنا مرضی وظیفہ پڑھتا جائے، اسے کچھ فائدہ نہیں ہوسکتا۔ ایسے تمام حضرات کیلئے امام العصر حضرت مولانا انظر شاہ صاحب کاشمیری رحمہ اللہ کا بہترین جواب حاضر ہے۔ شیخ الحدیث مولانا انظر شاہ صاحب کاشمیری رحمہ اللہ اپنے والد ماجد حضرت علامہ انور شاہ کاشمیری رحمہ اللہ کی عملیات کے موضوع پر لکھی جانے والی کتاب ”گنجینہ اسرار“ کے شروع میں لکھتے ہیں کہ: اگر کوئی شخص عملیات کا انکار کرتا ہے تو کرتا رہے کیوں کہ اس کائنات میں انکار کا سلسلہ کوہ ہمالیہ سے بھی بلند ہے۔ اس کی گہرائی سمندر کی گہرائی سے بھی زیادہ ہے۔ افسوس تو یہ ہے کہ ابو جہل جیسا مزاج رکھنے والا انسان ”لہسن، پیاز، مرچ، ہلدی، گل بنفشہ، گاؤ زبان جیسی جڑی بوٹیوں کے اثرات کو تسلیم کر لیتا ہے، مگر دنیا کی سب سے زیادہ پکی اور سچی حقیقتوں یعنی قرآن و حدیث اور وظائف کی تاثیر کا صاف انکار کر دیتا ہے (بحوالہ کتاب: گنجینہ اسرار، صفحہ 12 ناشر: ادارہ اسلامیات، انارکلی، لاہور) قارئین! شیخ الحدیث مولانا انظر شاہ کاشمیری رحمہ اللہ کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا انہوں نے بھی نعوذ باللہ ”ٹوپی ڈرامے“ کا دفاع کیا ہوا ہے؟

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026