4 اولیائے کرام کا متفقہ فیصلہ

کچھ عرصہ پہلے ماہنامہ عبقری میں شیخ ابو الحسن شاذلیؒ کا ایک زبردست عمل شائع ہوا کہ اگر سانپ یا بچھو نے کاٹ لیا ہو تو بسم اللہ حروفِ مقطعات کی صورت میں اور اس کے بعد ”سَلَامٌ عَلٰی نُوْحٍ فِی الْعٰلَمِیْنَ“ لکھ کر دھو کر پلائیں، زہر اتر جائے گا اور مریض صحت یاب ہو جائے گا۔ بعض لوگ کہتے ہیں عبقری میں دیئے جانے والے وظائف کی کوئی سند نہیں ہوتی۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ درج بالا عمل کے متعلق مزید تین جلیل القدر علماء و اولیائے کرام کے کیا تاثرات ہیں؟ امام ابو القاسم قشیریؒ (مکتبہ شافعیہ) لکھتے ہیں کہ: جس شخص کو سانپ اور بچھو سے نقصان پہنچنے کا خدشہ ہو، وہ صبح و شام یہ آیت ”سَلَامٌ عَلٰی نُوْحٍ فِی الْعٰلَمِیْنَ“ پڑھ لے تو محفوظ رہے گا۔ (بحوالہ التفسیر القشیری المعروف بہ لطائف الاشارات فی تفسیر القرآن ناشر: دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان) علامہ کمال الدین دمیریؒ فرماتے ہیں کہ: سانپ اور بچھو نے حضرت نوحؑ سے وعدہ کیا تھا کہ جو شخص آپؐ کا نام لے گا، ہم اسے نقصان نہیں پہنچائیں گے۔ لہٰذا ”سَلَامٌ عَلٰی نُوْحٍ فِی الْعٰلَمِیْنَ“ سانپ اور بچھو سے حفاظت کے لئے اکسیر المجرب ہے۔ (بحوالہ: حیات الحیوان، احکامِ تعویذات صفحہ 39، مصنف: مفتی محمد ہاشم خان مدنی (مکتبہ بریلویہ) ناشر: مکتبہ بہارِ شریعت داتا دربار لاہور۔) حضرت علامہ ابو محمد عبداللہ یافعی یمنیؒ (مکتبہ حنفیہ) لکھتے ہیں کہ اگر کوئی شخص بچھو کے لئے ”سَلَامٌ عَلٰی نُوْحٍ فِی الْعٰلَمِیْنَ“ پڑھ لے تو اس کی ایذاء سے بچا رہے گا۔ (بحوالہ کتاب: اسرارِ رحمانی صفحہ 219، مترجم: مولانا رحیم بخش صاحب دہلوی ناشر: مشتاق بک کارنر اردو بازار لاہور۔)

کیا حضور ﷺ سے بالوں پر عمل کرنا ثابت ہے؟

دینِ اسلام خیرخواہی کا دین ہے، جو اس میں خیر تلاش کرے گا اسے چھوٹی چھوٹی چیزوں میں بڑی خیر ملے گی۔ محترم شیخ الوظائف صاحب نے ساری زندگی اس خیر کو تلاش کر کے مخلوقِ خدا تک پہنچایا، انہوں نے دورانِ روحانی محفل جادو، جنات اور بلاؤں سے حفاظت کے لیے بالوں پر عمل کروایا، کچھ کم علم اور کم ظرف اس پر اعتراض کرتے ہیں کہ کیا حضور ﷺ کی زندگی سے ایسا کوئی عمل ثابت ہے؟ مستند احادیث میں تفصیلی واقعہ ہے کہ ایک یہودی نے حضور ﷺ پر جادو کروایا اور فرشتوں کے ذریعے حضور ﷺ کو اس کی اطلاع کی گئی اور اس کنویں کی نشاندہی کی گئی جہاں جادو دفن کیا گیا تھا، جب کنویں سے جادو کی چیزیں نکالی گئیں ان میں حضور ﷺ کے موئے (بال) مبارک تھے اور حضور ﷺ نے ان پر سورہ فلق کی تلاوت فرمائی جس کی برکت سے جادو ختم ہو گیا۔ (تفسیر ابن کثیر، جلد 5، صفحہ 661، 662، شرح سورہ فلق، تالیف: امام المفسرین حافظ عماد الدین ابوالفداء اسمعیل بن عمر بن کثیر الدمشقی، ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑھی، مکتبہ: اسلامیہ، صحیح مسلم: حدیث نمبر: 5703، صحیح بخاری، حدیث نمبر: 5763) دلہن کے بالوں پر مسنون عمل جب کسی کا نکاح ہو تو بیوی کی پیشانی کے بال پکڑ کر دعا پڑھیں (سنن ابی داؤد حدیث نمبر: 2160) نو مولود کے بالوں کا عمل حضرت علیؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت حسنؓ کی پیدائش کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اے فاطمہ! حسنؓ کا سر منڈواؤ اور اس کے بالوں کے وزن کے برابر چاندی صدقہ کرو” (سنن ترمذی، حدیث نمبر: 1519) اگر بالوں پر عمل کرنا غلط تھا تو حضور ﷺ نے جادو کے خاتمے، منکوحہ کے بال پکڑ کر دعا پڑھنے اور امام حسنؓ کے بالوں پر عمل کرنے کا کیوں فرمایا؟ اکابر کی مستند کتب سے بالوں پر عمل کے حوالے سرکش کے بال پکڑ کر اس پر مخصوص کلمات پڑھیں، وہ فرمانبردار ہو گا۔ (گنجینہ اسرار، ص 88، مولانا انور شاہ کشمیری)، پانی جاری ہونے کیلئے بالوں میں تعویذ باندھیں، ظالم کو مغلوب کرنے کے لئے بالوں پر عمل، برائے دردِ سر، دفعِ دشمن کیلئے سر کے بالوں میں عمل (آسان عملیات و تعویذات، جلد دوم، ص 87، 134، 140، 147، 180 اعجاز احمد خاں سنگھانوی، کتب خانہ انور شاہ کراچی) حضرت سلیمانؑ کے ساتھ ایک بلا کی گفتگو اور بالوں میں اثر باب 174: ام الصبیان کے علاج اور اس گفتگو کے بیان میں جو حضرت سلیمانؑ اور اس موذیہ کے مابین ہوا اس بلا نے حضرت سلیمانؑ کو بتایا کہ یہ کس طرح انسان کے جسم اور بالوں میں سرایت کرتی ہے اور اس کا علاج طلسماتی تعویذ ہے۔ (مجرباتِ امام سیوطیؒ، صفحہ: 184، مصنف: امام جلال الدین عبدالرحمن سیوطیؒ، مکتبہ: کتب خانہ شانِ اسلام، اردو بازار لاہور) بال کھول کر عمل کرنے کا حوالہ شیخ محمد محدث تھانویؒ کا عمل ہے کہ خاص ساعتوں میں نفل پڑھ کر خاص وظیفہ پڑھیں اور سر کے بال کھول کر عمل کریں۔ (ص 100، اعجاز احمد خاں سنگھانوی، کتب خانہ انور شاہ کراچی) بیماری سے شفاء کیلئے بالوں پر عمل تسمیہ لکھ کر سر کے بالوں سے باندھیں، درد میں تسکین ملے گی۔ (شمس المعارف، صفحہ 317، مصنف: شیخ ابو العباس احمد بن علی بونیؒ، مکتبہ: شبیر برادرز، اردو بازار لاہور) تعویذ لکھ کر سر کے بالوں سے باندھیں۔ (شمس المعارف، صفحہ 563، مصنف: شیخ ابو العباس احمد بن علی بونیؒ، مکتبہ: شبیر برادرز، اردو بازار لاہور) رزق میں برکت اور لوگوں میں عزت کیلئے بالوں پر عمل سر کے بالوں میں یہ تعویذ باندھیں، رزق میں برکت اور لوگ محبت کرنے لگیں۔ (شمس المعارف، صفحہ 569، مصنف: شیخ ابو العباس احمد بن علی بونیؒ، مکتبہ: شبیر برادرز، اردو بازار لاہور) بیماری سے شفاء کے لئے خاص کلمات لکھ کر سر کے بالوں میں باندھیں۔ (شمس المعارف، صفحہ 603، مصنف: شیخ ابو العباس احمد بن علی بونیؒ، مکتبہ: شبیر برادرز، اردو بازار لاہور) جنات کا سایہ دور کرنے کے لئے بالوں پر عمل جنات کا سایہ دور کرنے کے لئے خاص اسماء الحسنیٰ کے ساتھ دعا پڑھ کر بالوں کو گرہ دیں، جنات کا اثر ختم ہو گا۔ (نافع الخلائق، صفحہ 520، مصنف: مولانا محمد زوار خان، اسلامی کتب خانہ، اردو بازار لاہور) شادی کے لئے بالوں پر عمل جس لڑکی کی شادی نہ ہوتی ہو وہ کنگھی کے ساتھ تعویذ باندھ کر بالوں میں پھیرے۔ (نافع الخلائق، صفحہ 537، مصنف: مولانا محمد زوار خان، اسلامی کتب خانہ، اردو بازار لاہور) قارئین! اکابر کی کتابوں میں بے بہا ایسے عمل ہیں جن میں بالوں پر عمل کیا جاتا ہے، اس کا بیماری اور جادو کے توڑ میں بہت گہرا عمل دخل ہے۔ اس لئے انسان کو جس شعبے کا علم نہ ہو اس پر اعتراض نہیں کرنا چاہیے، عملیات ایک شعبہ ہے جیسے درس و تدریس اور دعوت و تبلیغ ایک شعبہ ہے اسی طرح روحانی عملیات ایک مکمل شعبہ ہے، اعتراض کرنے اور سننے والا بڑی خیر سے محروم ہو جاتا ہے اور فتنوں کا پھیلانے والا بن جاتا ہے اس لئے اعتراض سے بچیں۔

حزب البحر کے چلے میں علماء کی آمد

عبقری تسبیح خانہ لاہور میں ماہِ صفر کی 6,7,8 (1 اگست جمعہ، 2 اگست ہفتہ اور 3 اگست اتوار 2025ء) کو حزب البحر کا چلہ ہوا، اس چلے میں جہاں پورے پاکستان اور بیرونِ ملک سے سینکڑوں مرد و خواتین نے شرکت کی، وہیں ملکِ پاکستان کے نامور علماء حضرت مولانا اللہ وسایا مدظلہ، حضرت مولانا عزیز الرحمن ثانی سلمہ اور ان کے پورے وفد نے ناصرف دورہ کیا بلکہ اپنے ہفت روزہ شمارے میں اس چلے کی مقبولیت کا تذکرہ بھی کیا۔ نوٹ: اس چلے میں شامل ہونے والے ہر فرد کو مفت کھانا، رہائش اور 12 قیمتی روحانی تحائف دیئے گئے۔ (بحوالہ: ہفت روزہ ختمِ نبوت، جلد نمبر 44، شمارہ نمبر 26، صفحہ نمبر 36، ناشر: عزیز الرحمن جالندھری، مطبع: القادریہ پرنٹنگ پریس، طابع: سید شاہد حسین، مقامِ اشاعت: جامع مسجد باب الرحمت ایم اے جناح روڈ کراچی)

بارہ ربیع الاول کی پرنور محفل اور آقا ﷺ کے نقشِ نعلین مبارک کا خاص الخاص عمل

کچھ عرصہ سے شیخ الوظائف ہر سال آقا ﷺ کی ولادتِ باسعادت کے پرنور موقع پر نقشِ نعلین مبارک کا لاجواب، باکمال اور حیرت انگیز عمل قضائے حاجات کی نیت سے اپنی نگرانی و اجازت کے ساتھ کرواتے آ رہے ہیں، وہ حاجت دنیا کی ہے یا آخرت کی، اللہ اپنے حبیبِ کبریا ﷺ کے نقشِ پاک کے صدقے ضرور بالضرور پوری فرماتے ہیں بشرطیکہ حاجت جائز ہو۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شیخ الوظائف کا یہ عمل کہیں بدعت تو نہیں؟؟ کیا شریعت میں اس عمل کا کوئی ثبوت ملتا ہے؟؟ اہل اللہ، اولیاء، محدثین اور علماء کرام اس بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ آئیے تاریخ پہ نظر ڈالیں شیخ علامہ محمود کردی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب ”تبرک الصحابۃ بآثار رسول اللہ ﷺ“ میں لکھتے ہیں: نعلین پاک سے تبرک حاصل کرنا کوئی امرِ بدعت نہیں بلکہ معمولِ صحابہ و تابعین رہا ہے۔ محدثین کی روایات اور مورخین کے بیانات سے اس کی تصدیق ہوتی ہے۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ جو سابقون الاولون اور بدری صحابہ میں سے ہیں، انہوں نے حضور اکرم ﷺ کے نعلین مبارک اٹھائے رکھنے کی ڈیوٹی اپنے ذمہ لے رکھی تھی۔ صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے مناقب میں ان کی پہچان ہی ”صَاحِبُ النَّعْلَيْنِ وَالْوِسَادَةِ وَالْمُطَهَّرَةِ“ لکھی ہے۔ (بخاری، کتاب المناقب، حدیث: 3761) مواہب اللدنیۃ، المسترطیب الاداریۃ، جامع ترمذی کی شرح "قوت المغتذی” میں بھی الفاظ و واقعہ کی تبدیلی کے ساتھ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت موجود ہے ابنِ کثیر نے امیر المؤمنین محمد المہدی رحمۃ اللہ علیہ کے مناقب بیان کرتے ہوئے "تاریخ ابن کثیر” میں لکھا ہے کہ ایک دن محمد المہدی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس ایک شخص آیا جس کے پاس جوتوں کا ایک جوڑا تھا۔ اس نے کہا یہ نبی ﷺ کے نعلین ہیں جو میں آپ کو تحفۃً پیش کرتا ہوں۔ پس اس نے یہ نعلین لے لئے، انہیں بوسہ دیا اور اپنے دائیں طرف رکھا اور اس شخص کو دس ہزار درہم دینے کا حکم دیا۔ جب وہ شخص چلا گیا تو مہدی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا بخدا میں یہ بات اچھی طرح جانتا ہوں کہ یہ جوتے رسول اللہ ﷺ نے پہنے تو کیا انہیں کبھی دیکھا بھی نہ ہو گا لیکن اگر میں یہ اسے واپس کر دیتا تو وہ جا کر لوگوں سے کہتا پھرتا کہ میں نے مہدی کو رسول اللہ ﷺ کے نعلین کا تحفہ دیا جو اس نے لوٹا دیا اور لوگ اس کی بات کو سچ سمجھتے۔ نقشِ نعلین کا ادب بعض علماء نے تو عکسِ نقشِ نعلینِ رسول کو بھی باعثِ برکت بتایا ہے۔ ”بعد حمد و الصلوٰۃ یہ ناچیز اشرف علی عرض کرتا ہے کہ ان دنوں ہم لوگوں کے کثرتِ معاصی سے جو کچھ ہجومِ بلیاتِ صوریہ و معنویہ ہے، ظاہر ہے اس کا علاج بجز اصلاحِ اعمال و توبہ و استغفار کے کچھ نہیں ہے مگر ہم لوگوں کے قلب و زبان کی جو کیفیت ہے، معلوم ہے۔ البتہ اگر کوئی وسیلہ قوی ہو تو اس کی برکت سے حضورِ قلب بھی میسر ہو سکتا ہے اور امیدِ قبول بھی قریب ہے۔ بہ جملہ ان وسائل کے بتجربہ بزرگانِ دین نقشہ نعلِ مقدس حضور سرورِ عالم فخرِ آدم ﷺ نہایت قوی البرکت، سریع الاثر پایا گیا ہے۔“ نقشِ نعلین کے فوائدِ عجیبہ: 1."فتح المتعال فی مدح خیر النعال” میں علامہ محدث حافظ تلمسانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس نقشِ پاک کے فوائد اس قدر واضح ہیں کہ محتاجِ بیان نہیں۔ ان فوائدِ عجیبہ میں سے ایک یہ ہے کہ ابو جعفر رحمۃ اللہ علیہ کا کہنا ہے کہ میں نے ایک طالبِ علم کو نقشِ نعلین بنوا دیا تھا، چنانچہ ایک روز اس نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے کل رات اس نقشِ پاک کی ایک عجیب برکت دیکھی۔ ہوا یوں کہ رات کو میری بیوی کے شدید درد اٹھا، میں نے یہ نقشِ پاک اس کی درد کی جگہ پر رکھ کر اللہ تعالیٰ سے التجا کی "یا اللہ مجھے اس کی برکت سے صاحبِ نعلین ﷺ کی برکت دکھلا اور میری بیوی کو شفاء عطا فرما” چنانچہ اللہ کے فضل سے فوراً شفاء ہوئی۔ 2۔ مواہب اللدنیۃ میں علامہ احمد قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ نقشِ نعلین شریف مقامِ درد پر رکھنے سے درد سے نجات مل جاتی ہے اور پاس رکھنے سے راہ میں لوٹ مار سے محافظت ہو جاتی ہے اور شیطان کے مکر و فریب سے امان میں رہتا ہے اور حاسد کے شر و فساد سے محفوظ رہتا ہے۔ مسافت طے کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ 3۔ مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے مختلف علماء و بزرگانِ دین کے حوالہ سے لکھا ہے الف۔۔۔۔ قاسم بن محمد رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ اس نقشہ کی آزمائی ہوئی برکت یہ ہے کہ جو شخص اس کو تبرکاً اپنے پاس رکھے، ظالموں کے ظلم سے، دشمنوں کے غلبہ سے، شیطانِ سرکش سے اور حاسد کی نظرِ بد سے امن و امان میں رہے گا اور اگر حاملہ عورت زچگی کی تکلیف کے وقت اسے اپنے دائیں ہاتھ میں رکھے تو بفضلہ تعالیٰ اس کی مشکل آسان ہو۔ ب۔۔۔ شیخ ابن حبیب النبی رحمۃ اللہ علیہ روایت فرماتے ہیں کہ ان کے ایک دنبل نکلا کہ کسی کی سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ نہایت سخت درد ہوا کہ کسی طبیب کی سمجھ میں اس کی دوا نہ آئی۔ انہوں نے نقشِ شریف درد کی جگہ رکھ لیا، معاً ایسا سکون ہو گیا کہ گویا کبھی درد ہوا ہی نہ تھا۔ 4۔ صاحبِ فتح المتعال علامہ تلمسانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک اثر خود میرا مشاہدہ کردہ ہے اور وہ یہ کہ ایک بار سفرِ دریائے شور کا اتفاق ہوا اور دورانِ سفر ایک ایسی حالت ہوئی کہ سب ہلاکت کے قریب تھے۔ کسی کے بچنے کی امید نہ تھی۔ میں نے نقشہ نعلین ناخدا کے پاس بھیج دیا تاکہ اس سے توسل کرے چنانچہ اسی وقت اللہ تعالیٰ نے عافیت فرمائی۔ 5۔ محمد بن الجزری رحمۃ اللہ علیہ سے منقول ہے کہ جو شخص اس نقشہ نعلین کو اپنے پاس رکھے

قید سے رہائی پانے کا شرطیہ عمل

برائے محبوس عامل کو چاہیے کہ قیدی کو قید سے چھڑوانے کیلئے روزانہ کسی بھی حالت میں عصر اور مغرب کے درمیان اول و آخر سات مرتبہ درود شریف کے ساتھ 363 مرتبہ پڑھے۔ يَا خَالِصُ يَا مُخْلِصُ يَا خَلَاصُ بِحَقِّ خَوَاجَه خِضْر وَمِهْتَر اِلْيَاس یہ عمل گیارہ روز تک اسی ترتیب سے پڑھے۔ روزانہ 363 مرتبہ پڑھنے کے بعد حضورِ قلب سے اللہ تعالیٰ سے دعا کرے، ان شاء اللہ العزیز گیارہ دن کے اندر قیدی قید سے چھوٹ جائے گا۔

غلط نام رکھنے سے انسان اور گھر جل گیا

حضرت شیخ الوظائف دامت برکاتہم العالیہ اپنی روحانی محافل میں ایک اہم راز کی طرف اکثر توجہ دلایا کرتے ہیں کہ بچوں کا نام بہت سوچ سمجھ کر رکھنا چاہیے۔ ہمیشہ وہی نام رکھیں جو حضور سرورِ کونین ﷺ کی آل و اصحابؓ سے ثابت یا اکابرینِ اُمت کے ہاں رواج پذیر ہو۔ ورنہ عجیب و غریب قسم کے نام رکھنے سے بعض اوقات ایسی مشکلات، بیماریاں اور ناکامیاں جنم لیتی ہیں جن کا ازالہ ساری زندگی نہیں ہو سکتا، بلکہ غلط نام رکھنے کی وجہ سے بعض مسائل نسل در نسل منتقل ہوتے ہیں۔ جیسا کہ امام عبدالوہاب شعرانی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ! امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص حاضر ہوا تو آپؓ نے پوچھا: تمہارا نام کیا ہے؟ اس نے کہا: جمرہ۔ آپؓ نے اس کے والد کا نام پوچھا تو کہنے لگا: شہاب۔ آپؓ نے پوچھا: کون سے قبیلے سے ہو؟ کہنے لگا: حرقہ سے۔ آپؓ نے پوچھا: وہ کہاں ہے؟ اس نے کہا: حرۃ النار کے علاقے میں۔ آپؓ نے پوچھا: وہ کس وادی میں ہے؟ کہنے لگا: ذاتِ لظیٰ میں۔ یہ سن کر امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جلدی سے واپس چلے جاؤ اور دیکھو وہ تو جل چکے ہیں چنانچہ وہ اپنے علاقے میں پہنچا تو سب لوگ بری طرح جل چکے تھے۔ (بحوالہ کتاب: کشف الغمہ عن جمیع الامہ، صفحہ 523، مصنف: شیخ عبدالوہاب بن احمد بن علی شعرانی ناشر: ادارہ پیغام القرآن اُردو بازار لاہور) اسی طرح امام ابن قیم رحمہ اللہ نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ: حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے دادا "حزن” حضور سرورِ کونین ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے پوچھا: تمہارا نام کیا ہے؟ انہوں نے عرض کی "حزن”۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تم سہل ہو (یعنی تم اپنا نام سہل رکھ لو) وہ کہنے لگے: میں اس نام کو تبدیل نہیں کرتا جو میرے باپ دادا نے رکھا تھا۔ حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پس اس نام کی وجہ سے ہمارے ہاں (نسل در نسل) تنگی موجود رہی۔ (بحوالہ کتاب: تحفۃ المودود باحکام المولود، صفحہ 134، ناشر: دارالمعرفۃ بیروت۔ الادب المفرد، امام بخاریؒ جلد 2 صفحہ 454، صحیح بخاری رقم 6190) مشکل ناموں کے معنی (حزن = غم) (جمرہ = انگارہ) (شہاب = شعلہ) (حرقہ = حرارت) (حرۃ النار = جھلسی ہوئی زمین) (ذاتِ لظیٰ = آگ کی لپیٹ) یاد رکھیں! حضرت شیخ الوظائف دامت برکاتہم العالیہ وظائف اور واقعات بناتے نہیں بتاتے ہیں۔ تاکہ ہم اپنے اکابر کی راہوں پر چل کر روزمرہ پریشانیوں اور مشکلات سے نجات حاصل کر سکیں!

تسبیح خانہ کا منبر کیا شرک پھیلا رہا ہے؟

عبقری کا عمل خود ساختہ یا مسنون جانیے! تسبیح خانہ کے منبر سے ایسے اعمال اور وظائف بتائے جاتے ہیں جن کے متعلق کچھ مخالفین کہتے ہیں کہ یہ خود ساختہ ہیں۔ آئیے ہم دیکھتے ہیں کہ تسبیح خانہ کا منبر لوگوں کو خود ساختہ اعمال سے متعارف کروا رہا ہے یا مقبول مسنون اعمال کی معطر راہوں پر لے جا رہا ہے؟ شیخ الوظائف حضرت حکیم محمد طارق محمود مجذوبی چغتائی صاحب حفظہ اللہ نے ایک عمل بتایا کہ نماز میں رکوع کے بعد حمداً کثیراً طیباً مبارکاً فیہ پڑھیں تو اس کا ثواب فرشتوں کی ایک جماعت لکھتی ہے۔ آئیے ہم دیکھتے ہیں کہ یہ الفاظ اور ثواب والی بات حدیث میں ہے یا نہیں؟ تسبیح خانہ پر فتویٰ لگانے سے پہلے یہ فتویٰ پڑھیں۔ عنوان: ربنا لک الحمد سے متعلق روایت کی تخریج اور ربنا لک الحمد پڑھنے کا حکم (No-105887) سوال: مفتی صاحب! سنا ہے کہ رکوع کے بعد ربنا ولک الحمد حمداً کثیراً طیباً مبارکاً فیہ پڑھنا حدیث سے ثابت ہے، یہ حدیث صحیح ہے اور اس کو پڑھ سکتے ہیں؟ جواب: سوال میں ذکر کردہ روایت بخاری شریف میں موجود ہے۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَلَّادٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيِّ، قَالَ: كُنَّا يَوْمًا نُصَلِّي وَرَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ. فَقَالَ رَجُلٌ وَرَاءَهُ: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ. فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ: «مَنِ الْمُتَكَلِّمُ» قَالَ: أَنَا. قَالَ: «رَأَيْتُ بِضْعَةً وَثَلَاثِينَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا أَيُّهُمْ يَكْتُبُهَا أَوَّلُ» (حدیث نمبر: 799، ج: 1، ص: 159، ط: دار طوق النجاۃ) ترجمہ: حضرت رفاعہ بن رافع زرقٰیؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ہم ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے، جب آپ نے رکوع سے سر اٹھا کر سمع اللہ لمن حمدہ کہا تو ایک شخص نے (باآوازِ بلند) (ربنا ولک الحمد حمداً کثیراً طیباً مبارکاً فیہ) پڑھا جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”یہ کلمات کس نے کہے تھے؟“ وہ شخص بولا: میں نے فرمایا: ”میں نے تیس سے زیادہ فرشتوں کو دیکھا کہ وہ ان کلمات کی طرف لپک رہے تھے کہ کون انہیں پہلے لکھے۔ ربنا لك الحمد پڑھنے کا حکم: مستند حوالہ جات: صحيح البخاري: (رقم الحدیث: 789، 157/1، ط: دار طوق النجاة) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ، يُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْكَعُ، ثُمَّ يَقُولُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، حِينَ يَرْفَعُ صُلْبَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ، ثُمَّ يَقُولُ وَهُوَ قَائِمٌ: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ – قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَلَكَ الْحَمْدُ ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَهْوِي، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَسْجُدُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، ثُمَّ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي الصَّلَاةِ كُلِّهَا حَتَّى يَقْضِيَهَا، وَيُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ مِنَ الثِّنْتَيْنِ بَعْدَ الْجُلُوسِ. وفيه أيضا: (رقم الحدیث: 722، 145/1، ط: دار طوق النجاة) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: "إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَلَا تَخْتَلِفُوا عَلَيْهِ، فَإِذَا رَكَعَ، فَارْكَعُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا، فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ، وَأَقِيمُوا الصَّفَّ فِي الصَّلَاةِ، فَإِنَّ إِقَامَةَ الصَّفِّ مِنْ حُسْنِ الصَّلَاةِ وفيه أيضا: (رقم الحدیث: 796، 158/1، ط: دار طوق النجاة) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا قَالَ الْإِمَامُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ الْمَلَائِكَةِ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ. وفيه أيضا: (رقم الحدیث: 795، 157/1، ط: دار طوق النجاة) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، قَالَ: اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَكَعَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَتَيْنِ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ. مجمع الأنهر: (96/1، ط: دار إحياء التراث العربي) واختلفت الأخبار في لفظ التحميد ففي بعضها اللهم ربنا لك الحمد وفي بعضها ربنا لك الحمد، وفي بعضها ربنا ولك الحمد، وفي بعضها اللهم ربنا ولك الحمد، والأول أفضل والثاني المشهور في كتب الحديث وهو الصحيح تبيين الحقائق: (116/1، ط: المطبعة الكبرى الأميرية) وقد اختلفت الأخبار في لفظ التحميد فقال في بعضها اللهم ربنا لك الحمد، وفي بعضها ربنا ولك الحمد، وقال في المحيط: ربنا لك الحمد أفضل لزيادة الثناء، وقال الفقيه أبو جعفر : لا فرق بين قولك ربنا لك الحمد وبين قولك ربنا ولك الحمد، واختلفوا في هذه الواو قيل هي زائدة وقيل هي عاطفة تقديره ربنا حمدناك ولك الحمد قال رحمه الله البحر الرائق: (335/1، ط: دار الكتاب الإسلامي) والمراد بالتحميد واحد من أربعة ألفاظ : أفضلها : اللهم ربنا ولك الحمد كما في المجتبى ويليه : اللهم ربنا لك الحمد، ويليه : ربنا ولك الحمد، ويليه المعروف: ربنا لك الحمد، فما في المحيط من أفضلية الثاني فمحمول على أفضليته على ما بعده لا على الكل كما لا يخفى لما صرحوا به من أن زيادة الواو توجب الأفضلية واختلفوا فيها: فقيل زائدة، وقيل: عاطفة تقديره ربنا حمدناك ولك الحمد واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب دارالافتاء، دارالاخلاص، کراچی

شیخ الوظائف مخلوق کو اتنے وظائف کیوں بتاتے ہیں؟ اصل وجہ سامنے آ گئی!

مرشد اعظم حضرت حکیم محمد طارق محمود مجذوبی چغتائی صاحب حفظہ اللہ لوگوں کو اتنے وظائف کیوں بتاتے ہیں؟ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ شیخ الوظائف دامت برکاتہم العالیہ کا مقصد یہ ہے کہ لوگ ان اعمال کے ذریعے اللہ کے قریب ہو جائیں اور یہ ترتیب بزرگانِ دین کی زندگیوں سے ملتی ہے۔ حضرت مولانا اللہ یار خان صاحب رحمہ اللہ کے مکتوبات میں لکھا ہے کہ یاد رکھنا وقت سخت نازک ہے، مخلوق خدا سے دور ہو چکی ہے اور رسول خدا ﷺ سے روحانی تعلق توڑ چکی ہے، اخروی مؤاخذہ کی قائل ہی نہیں رہی، حرام حلال کی قائل نہیں ہے، بیٹا ہمیشہ سنت الہی اس طرح جاری چلی آتی ہے کہ جب سخت بے دینی دنیا میں پھیل جاتی تو اس وقت اللہ تعالیٰ جماعتِ انبیاء کو مبعوث فرماتے تھے، سلسلہ نبوت ختم ہوا کسی قسم کا کوئی نبی نہیں آ سکتا سوائے سابق نبی عیسیٰ علیہ السلام کے اس واسطے اللہ تعالیٰ وقتاً فوقتاً صوفیہ عارفین، اولیاء اللہ کی جماعت سے کسی نہ کسی کو منتخب فرماتے ہیں، مخلوق جو خدا سے دور ہو گئی اس کو شیطان کے چنگل سے نجات دلا کر خدا رسیدہ بنائیں، عزیزم! میں پیری مریدی کے لئے نہیں پیدا ہوا بلکہ میری ڈیوٹی یہی ہے جو کام کر رہا ہوں، آپ بھی اس محبوب رب العالمین کی جماعت میں داخل ہو کر اس کے فرد بن گئے۔ آپ کا بھی فرض اور ہر رفیق حلقہ کا فرض ہے کہ خدا کے بندوں کو تلقین کریں ذکر الہی میں مشغول بنا دیں، نمازی بنا دیں، متبع رسول اکرم ﷺ بن جائیں، آپ کو اللہ تعالیٰ استقامت عطا فرمائے، آگے چلو گے تو رنگ دیکھو گے، آپ جس طرح ظاہری فوج کے ملازم ہیں اسی طرح کوشش کریں کہ باطنی حکومت کے بھی فرد بن جائیں۔ بس حضرت حکیم طارق محمود چغتائی صاحب لوگوں کا تعلق اللہ اور رسول اللہ ﷺ سے جوڑ رہے ہیں جو ایک عظیم کام ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں مرشد کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

کیا تسبیح خانہ میں تقسیم کیے جانے والے مور کے پنکھ گھر میں رکھنا جائز ہے؟

شیخ الوظائف سالہا سال سے تسبیح خانہ میں ہر مہینے بے شمار لوگوں کو مور کے پنکھوں سے اسمِ اعظم کا دم کر رہے ہیں اور اب یہی مور کے پنکھ رمضان المبارک کے بابرکت مہینہ میں لوگوں میں تقسیم کیے جا رہے ہیں جس پر لا تعداد اسمِ اعظم پڑھا جاتا رہا ہے اور اللہ کے نام کی برکت ان مور کے پنکھوں میں شامل ہے۔ سوال یہ ہے کیا ان مور کے پنکھوں کو گھر میں رکھنے میں کوئی شرعی قباحت تو نہیں یا شریعت میں اس کی کوئی ممانعت تو نہیں ہے۔ اس مسئلے کے متعلق علماء کیا فرماتے ہیں آپ بھی پڑھ لیجئے! سوال نمبر: 67201 عنوان: کیا مور کا پنکھ خرید کر گھر میں رکھنا جائز ہے؟ سوال: کیا مور کا پنکھ خرید کر گھر میں رکھنا جائز ہے؟ کیوں کہ مور کا پنکھ حاصل کرنے کے لیے مور کو تکلیف دی جاتی ہے، اس کے جسم سے زبردستی وقت سے پہلے نوچ لیا جاتا ہے؟ جواب نمبر: 67201 بسم اللہ الرحمن الرحیم Fatwa ID: 1015-1008/H=10/1437 بلاضرورت زبردستی نوچ لینا تو اچھا نہیں ہے تاہم کسی نے ایسا کر لیا اور اس سے کسی شخص نے خرید لیا تو خریدنا اور گھر میں رکھنا درست ہے شرعاً اس کے رکھنے میں کچھ حرج نہیں ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند، انڈیا لہٰذا! یہ مور کے پنکھ جن پر اسمِ اعظم لا تعداد میں پڑھا جاتا رہا ہے ان کو اپنے پاس رکھنا جائز ہی نہیں بلکہ باعثِ خیر و برکت بھی ہے۔ جس کی وجہ سے آپ کی زندگی اور گھر میں امن و سکون، خیر و عافیت اور برکت ہی برکت ہوگی۔ ان شاء اللہ۔

کھجور کا درخت کیسے پیدا ہوا۔۔۔؟

عبقری والوں علمی معلوماتی جواب تسبیح خانہ کے منبر سے اکثر یہ بات بیان کی گئی ہے کہ جس مٹی سے انسان کو تخلیق کیا گیا اسی مٹی سے کھجور کے درخت کو پیدا کیا گیا آئیے اس بات کا جواب تاریخ کے معتبر علماء سے لیتے ہیں۔۔۔! 1 یہ ثابت ہے کہ آدم علیہ السلام کے جسمِ اطہر سے بچی ہوئی مٹی سے کھجور کے درخت کو پیدا کیا گیا۔ مَافِي احکام القرآن للقرطبی (360/9): قال کلوا من عمتکم یعنی النخلة خلقت من فضلة طینة آدم علیه السلام۔ وفي معالم التنزيل للبغوی (33/3): الحکمة في تشبیهها بالنخلة من بین سائر الاشجار…… لانها خلقت من فضل طینة آدم علیه السلام ولذلک قال النبي ﷺ اکرموا عمتکم قیل من عمتنا قال النخلة۔ وفي عمدة القاری (15/2): قال الکرماني ان النخلة خلقت من بقیة طینة آدم علیه السلام فهي کالعمة للاناس۔ (نجم الفتاوی جلد 1 ص 384) 2 زمین پر سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام کی بچی ہوئی مٹی سے کھجور کا درخت پیدا کیا گیا۔ (بحوالہ: تفسیر روح البیان، ج 7 ص 393 ملخصاً) جی ہاں! تسبیح خانہ کی کوشش اللہ کریم کے فضل و کرم سے یہی ہوتی ہے کہ قرآن و سنت ہی سے بندوں کو جوڑا جائے، اور ان سے ماخوذ مستند معلومات ہی امت کو پہنچائی جائے۔

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026