طب یا عملیات میں تجربہ کسی دلیل کا محتاج نہیں ہوتا

سال میں ایک مرتبہ بسم اللہ الرحمن الرحیم مخصوص تعداد میں لکھ کر اپنے پاس رکھنے سے بلاؤں اور مصیبتوں سے اللہ کے فضل و کرم سے حفاظت ہوتی ہے یہ بات اہل اللہ کے تجربہ سے ثابت ہے اور یاد رکھیں تجربہ کسی دلیل کا محتاج نہیں ہوتا بس یہ دیکھا جائے کہ وہ تجربہ شریعت کے مخالف نہ ہو۔ اپنی بات کی تائید میں ”اکابر پر اعتماد“ کے دوستوں کیلئے مفتیانِ کرام کا فتویٰ پیشِ خدمت ہے اگر اعتراض کرنا ہو تو ان پر کیجئے گا۔ ہمارے ہم پر نہیں۔ یکم محرم کو 113 مرتبہ بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھنا سوال: آج کل یہ کہا جا رہا ہے کہ محرم کی پہلی تاریخ کو 113 مرتبہ بسم اللہ لکھ کر گھر پر رکھنے سے ہر آفت اور بلا سے محفوظ رہتے ہیں۔ اس کی کیا حقیقت ہے؟ اس کے بارے میں مولانا شفیع عثمانی صاحب نے جواہر الفقہ میں لکھا ہے؟ جواب: مفتی محمد شفیع عثمانی صاحب رحمہ اللہ "جواہر الفقہ” میں لکھتے ہیں: "جو شخص محرم کی پہلی تاریخ کو ایک سو تیرہ (113) مرتبہ پوری "بسم اللہ الرحمن الرحیم” کا غذ پر لکھ کر اپنے پاس رکھے گا، ہر طرح کی آفات و مصائب سے محفوظ رہے گا، مجرب ہے۔” (جواہر الفقہ: 2/ 187) یہ بزرگوں کے تجربات میں سے ہے، سنت یا لازم سمجھے بغیر اس پر عمل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم (فتویٰ نمبر: 144001200021، دارالافتاء: جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن) اگر 113 مرتبہ لکھ کر اپنے پاس رکھنے سے بلائیں دور ہوتی ہیں تو 625 مرتبہ لکھنا کیسے بدعت ہو گیا۔۔۔! سوال کافی سالوں سے گھر بیچنے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر نہیں بک رہا، کیا اس کے لیے کوئی وظیفہ یا عمل مل سکتی ہے؟ جواب نماز باجماعت کے اہتمام کے ساتھ ساتھ فجر کی نماز کے بعد سورۂ یٰسین اور مغرب کی نماز کے بعد دو رکعت صلاۃ الحاجات اور مسنون دعائے حاجات کا اہتمام کریں، سارے مسائل اللہ جل شانہٗ حل فرما دیں گے۔ دعائے حاجات مسنون دعاؤں کی کتاب میں مل جائے گی۔ نیز حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے "اعمالِ قرآنی” میں حاجت روائی کے لیے ایک عمل لکھا ہے جو کہ درج ذیل ہے: بسم اللہ الرحمن الرحیم بارہ ہزار مرتبہ اس طرح پڑھیں کہ جب ایک ہزار پورے ہو جائیں تو دو رکعت پڑھ کر اپنی حاجت کے لیے دعا کریں، پھر پڑھنا شروع کریں اور ایک ہزار کے بعد پھر اسی طرح دو رکعت پڑھ کے دعا کریں، غرض اسی طرح بارہ ہزار پورے کریں ان شاء اللہ حاجت پوری ہوگی۔ فقط واللہ اعلم

عبقری میں ذکر کردہ ”12 ہزار مرتبہ بسم اللہ“ والا وظیفہ من گھڑت تو نہیں۔۔۔؟

سالہا سال سے عبقری میں وظائف شائع ہو رہے ہیں اور یہ تمام وظائف وہ ہوتے ہیں جو کہ ہمارے بڑوں کی کتابوں میں موجود ہیں ان ہی وظائف میں سے ایک وظیفہ بارہ ہزار مرتبہ بسم اللہ پڑھنے والا بھی ہے جو کہ بارہا تسبیح خانہ کے منبر سے بیان کیا جا چکا ہے اور یہ وہ وظیفہ ہے جو کہ دکھ درد کے مارے لوگوں بڑے بڑے دارالافتاؤں سے بھی بتایا جا رہا ہے یقین نہیں آتا تو یہ فتویٰ ضرور ملاحظہ فرمائیں: سوال: کافی سالوں سے گھر بیچنے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر نہیں بک رہا، کیا اس کے لیے کوئی وظیفہ یا عمل مل سکتی ہے؟ جواب: نماز باجماعت کے اہتمام کے ساتھ ساتھ فجر کی نماز کے بعد سورۂ یٰسین اور مغرب کی نماز کے بعد دو رکعت صلاۃ الحاجات اور مسنون دعائے حاجات کا اہتمام کریں، سارے مسائل اللہ جل شانہٗ حل فرما دیں گے۔ دعائے حاجات مسنون دعاؤں کی کتاب میں مل جائے گی۔ نیز حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے "اعمالِ قرآنی” میں حاجت روائی کے لیے ایک عمل لکھا ہے جو کہ درج ذیل ہے: بسم اللہ الرحمن الرحیم بارہ ہزار مرتبہ اس طرح پڑھیں کہ جب ایک ہزار پورے ہو جائیں تو دو رکعت پڑھ کر اپنی حاجت کے لیے دعا کریں، پھر پڑھنا شروع کریں اور ایک ہزار کے بعد پھر اسی طرح دو رکعت پڑھ کے دعا کریں، غرض اسی طرح بارہ ہزار پورے کریں ان شاء اللہ حاجت پوری ہوگی۔ فقط واللہ اعلم (فتویٰ نمبر: 144201200235، دارالافتاء: جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن)

کیا پاک ناپاک ہر حالت میں ذکر کیا جا سکتا ہے

عبقری کی سچی وضاحت انسان کے اوپر جو بھی حالات آتے ہیں وہ اس کے اپنے ہی ہاتھوں کی کمائی ہوتی ہے اور ان حالات میں درستگی کا سب سے بڑا ذریعہ اللہ رب العزت کی طرف رجوع ہے اور رجوع کا بڑا ذریعہ اللہ کا ذکر ہے اور اس لیے شریعتِ مطہرہ میں ذکر کی کوئی قید نہیں کھڑے، بیٹھے، لیٹے حتیٰ کہ پاک ناپاک ہر حالت میں کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اور اسی وجہ سے شیخ الوظائف جو بھی مریض آتا ہے آپ سب سے پہلے اسے اللہ کے ذکر سے مانوس کرنے کیلئے فرماتے ہیں کہ آپ نے ہر حالت میں اللہ کا ذکر کرنا ہے۔ تو ہو کسی بھی حال میں مولا سے لو لگائے جا چند اہل علم کے فتاویٰ پیشِ خدمت ہیں: سوال: السلام علیکم، حضرت! کیا ناپاکی کی حالت میں ذکر واذکار اور درود شریف پڑھ سکتے ہیں؟ وضاحت فرما دیں۔ جواب: ناپاکی کی حالت میں قرآن مجید میں جو دعائیں آئی ہیں، ان کو دعا کی نیت سے پڑھنا درست ہے، نیز ذکر و اذکار مثلاً: درود شریف، استغفار، کلمہ طیبہ یا کوئی اور وظیفہ پڑھنا بھی درست ہے۔ دلائل: الشامية: (293/1 ، ط: دار الفكر) (ولا بأس) لحائض وجنب (بقراءة أدعية ومسها وحملها وذكر الله تعالى، وتسبيح) (قوله بقصده) فلو قرأت الفاتحة على وجه الدعاء أو شيئا من الآيات التي فيها معنى الدعاء ولم ترد القراءة لا بأس به. الهندية : (38/1، ط: دار الفكر) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب (No-108758)، دارالافتاء دارالاخلاص، کراچی۔ دارالافتاء انڈیا کا فتویٰ: جی ہاں ذکر بھی کر سکتے ہیں اور درود شریف بھی پڑھ سکتے ہیں۔ (فتویٰ جواب نمبر: 58523) جامعہ علوم اسلامیہ کراچی کا فتویٰ: ناپاکی (جنابت یعنی غسل فرض ہونے) کی حالت میں قرآن مجید کی تلاوت کے علاوہ، دیگر ذکر واذکار، دعائیں، اور درود شریف وغیرہ پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم (فتویٰ نمبر: 144004201070 دارالافتاء: جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن۔) اللہ کریم کے فضل و کرم سے عبقری اور تسبیح خانہ کی بھرپور کوشش یہی ہے کہ بندہ مخلوق سے کٹ کر رب سے جڑنے والا بن جائے۔

عبقری میں ذکر کردہ ”اللهم باسمك كهف قطمير“ پڑھنا کیسا ہے

اہم فتویٰ۔۔۔! سالہا سال سے عبقری میں اصحابِ کہف کے ناموں کا وظیفہ اور ”اللهم باسمك كهف قطمير“ پڑھنے کا وظیفہ ذکر کیا جاتا ہے یہ کوئی عبقری کا خود ساختہ نہیں بلکہ بڑے بڑے جید علمائے کرام نے اصحابِ کہف کے ناموں کی برکات کو تسلیم کیا ہے اور بڑی معتبر کتابوں میں ذکر ہے ایک دارالافتاء کا فتویٰ پیشِ خدمت ہے ملاحظہ فرمائیں اور عبقری کے ”اکابر پر اعتماد“ پیج کو داد دیجئے جو کہ اس گئے گزرے دور میں بھی قرآن و سنت سے جڑے اکابر سے جوڑ رہا ہے۔ مزید حوالہ جات اکابر پر اعتماد کی پوسٹ نمبر 448۔449۔450 میں ملاحظہ فرمائیں۔ سوال: اصحابِ کہف کے نام سے متعلق ایک وظیفہ عبقری والوں نے نقل کیا ہے، ”اللهم باسمك كهف قطمير“ اس سے متعلق بتا دیں۔ جواب: جی ہاں! حاشیہ جلالین اور تفسیر روح المعانی میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے حوالے سے اسمائے کہف کے ناموں کے کچھ فوائد مذکور ہیں۔ دلائل: كما في روح المعاني: ومن غريب ما قيل: إن الضمير في يقولون سبعة لله عز وجل والجمع للتعظيم. وأسماؤهم على ما صح عن ابن عباس مكسلمينا ويمليخا ومرطولس وثبيونس ودردونس وكفاشيطيطوس ومنطنواسيس وهو الراعى والكلب اسمه قطمير. وروى عن على كرم الله تعالى وجهه أن أسماءهم يمليخا ومكشيلينيا ومثلينيا وهؤلاء أصحاب يمين الملك ومرنوش ودبرنوش وشاذنوش وهؤلاء أصحاب يساره وكان يستشير الستة والسابع الراعى، ولم يذكر في هذه الرواية اسمه، وذكر فيها أن اسم كلبهم قطمير، وفى صحة هذه الرواية لعلى كرم الله تعالى وجهه مقال، وذكر العلامة السيوطى فى حواشى البيضاوى أن الطبرانى روى ذلك عن ابن عباس فى معجمه الأوسط بإسناد صحيح، والذي في الدر المنثور رواية الطبرانى فى الأوسط بإسناد صحيح ما قدمناه عن ابن عباس والله تعالى أعلم. وقد سموا في بعض الروايات بغير هذه الأسماء، وذكر الحافظ ابن حجر في شرح البخارى أن في النطق بأسمائهم اختلافا كثيرا ولا يقع الوثوق من ضبطها. وفي البحر أن أسماء أصحاب الكهف أعجمية لا تنضبط بشكل ولا نقط والسند في معرفتها ضعيف، وذكروا لها خواصا فقال النيسابورى عن ابن عباس: إن أسماء أصحاب الكهف تصلح للطلب والهرب وإطفاء الحريق تكتب فى خرقة ويرمى بها فى وسط النار ولبكاء الطفل تكتب وتوضع تحت رأسه فى المهد وللحرث تكتب على القرطاس ويرفع على خشب منصوب فى وسط الزرع وللضربان وللحمى المثلثة والصداع والغنى والجاه والدخول على السلاطين تشد على الفخذ اليمنى ولعسر الولادة تشد على الفخذ الأيسر ولحفظ المال والركوب فى البحر والنجاة من القتل انتهى، ولا يصح ذلك عن ابن عباس ولا عن غيره من السلف الصالح، ولعله شيء افتراه المتزيون بزي المشايخ لأخذ الدراهم من النساء وسخفة العقول، وأنا أعد هذا من خواص أسمائهم فإنه صحيح مجرب. (ج: 8، ص: 234، ط: دار الكتب العلمية) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب دار الافتاء دار الاخلاص، کراچی فتویٰ نمبر (No-100882) جی ہاں۔۔۔! عبقری وظائف بناتا نہیں بلکہ بتاتا ہے وہ وظائف جو کہ ہمارے اکابر بتا گئے ہیں۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم کا تعویذ

محترم قارئین! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ تسبیح خانہ کے منبر سے بارہا 625 بار بسم اللہ الرحمن الرحیم کا تعویذ لکھنے اور اسے اپنے پاس رکھنے کا ذکر ہوتا ہے۔ ناقدین یہ اعتراض کرتے ہیں کسی خاص وقت اور خاص تعداد میں کوئی وظیفہ، عمل، نقش یا تعویذ لکھنا صحیح نہیں ہے۔ میں ان مخلصین کی خدمت میں عرض کرتا ہوں کہ اگر شیخ الوظائف حضرت حکیم محمد طارق محمود مجذوبی چغتائی صاحب حفظہ اللہ خاص وقت یا مخصوص دن کے اعمال و وظائف بتائیں تو یہ صحیح نہیں ہے لیکن شیخ الوظائف حفظہ اللہ کے علاوہ اگر کسی اور ذرائع سے ایسے اعمال یا وظائف ملیں تو ان کی تنقید کہاں چلی جاتی ہے؟ تسبیح خانہ لاہور میں جمادی الاول کی تیسری جمعرات 625 بار بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھنے کا تعویذ لکھوایا جاتا ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کیا اس طرح کا کوئی عمل ہمارے ”اکابرین“ کی تعلیمات میں ہے یا یہ تسبیح خانہ کی بدعت ہے؟ شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب حفظہ اللہ کے والد مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ اپنی کتاب جواہر الفقہ میں لکھتے ہیں کہ "جو شخص یکم محرم کی پہلی تاریخ کو ایک سو تیرہ (113) مرتبہ پوری بسم اللہ الرحمن الرحیم کاغذ پر لکھ کر اپنے پاس رکھے گا ہر طرح کی آفات و مصائب سے محفوظ رہے گا، مجرب ہے۔” (جواہر الفقہ، جلد دوم، ص 187 مکتبہ دارالعلوم کراچی) پس ثابت ہوا کہ تسبیح خانہ کے منبر سے شیخ الوظائف حضرت حکیم محمد طارق محمود مجذوبی چغتائی صاحب حفظہ اللہ قرآن وسنت یا اکابرین کی زندگی کے تجربات بیان فرماتے ہیں جو کسی بھی صورت میں بدعت نہیں ہو سکتے ہیں۔ والسلام و طالب دعا شریکِ دورہ حدیث جامعہ اشرفیہ لاہور

شیخ الوظائف نے پیرانِ پیر کے وسیلے سے دعا مانگ کر شرک تو نہیں کر دیا

انبیاءِ کرام اور اولیاءِ عظام کا وسیلہ دے کر دعا مانگنا شرک نہیں بلکہ قبولیت کا ایک ذریعہ ہے جس پر سالہا سال کے اولیاءِ کرام کا عمل تواتر سے چلا آ رہا ہے تمام اولیاءِ کرام کے سلاسل میں یہ توسل ذکر کیا جاتا ہے قرآن و سنت کے ساتھ چند حوالہ جات پیشِ خدمت ہیں جس سے اندازہ ہوگا کہ تسبیح خانہ سو فیصد اکابر کی ترتیب کو لے کر ہی چل رہا ہے۔ توسل بالذوات: یعنی اللہ سے کسی نبی علیہ السلام، صحابی رضی اللہ عنہ یا کسی ولی سے اپنے تعلق کا واسطہ دے کر دعا کرنا۔ یہ صورت بھی جمہور اہل سنت والجماعت کے نزدیک جائز ہے، چنانچہ قرآنِ کریم کی آیت سے ثابت ہے کہ بنوقریظہ اور بنونضیر کے یہودی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے فتح و نصرت کی دعا کیا کرتے تھے۔ (البقرۃ: 89) خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فقراءِ مہاجرین کے توسل سے دعا فرماتے تھے۔ (مشکوٰۃ: 2/ 447 قدیمی) اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ قحط سالی کے سال حضرت عباس رضی اللہ عنہ (جو اس وقت حیات تھے) کے وسیلے سے دعا فرماتے تھے۔ (نیل الاوطار: 4/ 8 طبع مصر) صحیح بخاری کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: "عن أنس بن مالك أن عمر بن الخطاب رضي الله عنه كان إذا قحطوا استسقى بالعباس بن عبد المطلب رضي الله عنه فقال: اللهم إنا كنا نتوسل إليك بنبينا ﷺ فتسقينا، وإنا نتوسل إليك بعم نبينا فاسقنا! قال: فيسقون.” (صحیح البخاری، کتاب العیدین، ابواب الاستسقاء، باب سؤال الناس الامام الاستسقاء إذا قحطوا، (1/ 137) وکتاب المناقب، ذکر عباس بن عبد المطلب، (1/ 526) ط: قدیمی) ترجمہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ قحط کے زمانے میں حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے وسیلے سے دعا فرماتے تھے، چنانچہ یوں کہتے تھے: اے اللہ ہم آپ سے اپنے نبی ﷺ کے وسیلے سے دعا کر کے بارش طلب کرتے تھے، اب آپ ﷺ کے چچا کے وسیلے سے آپ سے بارش کی دعا کرتے ہیں، چنانچہ بارش ہو جاتی۔ نیز رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک نابینا شخص آیا اور اس نے اپنی تکلیف کی شکایت کی تو آپ ﷺ نے اسے اہتمام سے وضو کر کے دو رکعت پڑھنے کے ساتھ اپنے وسیلے سے دعا کرنے کے الفاظ تلقین فرمائے، چنانچہ اسی مجلس میں اس کی بینائی لوٹ آئی۔ (جامع ترمذی، معجم کبیر للطبرانی) لہذا رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے توسل سے دعا کرنا جائز، بلکہ اجابتِ دعا میں مؤثر ہے، دعا میں توسل کا ثبوت متعدد احادیث سے ہے۔ شفاء السقام للسبکی (ص: ۳۵۸) میں ہے: "إن التوسل بالنبي صلى الله عليه وسلم جائز في كل حال قبل خلقه و بعد خلقه في مدة حياته في الدنيا و بعد موته في مدة البرزخ”۔ ترجمہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا توسل ہر حال میں جائز ہے، چاہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تخلیق سے پہلے ہو یا تخلیق کے بعد، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیاوی زندگی میں ہو یا وصال کے بعد حیاتِ برزخی میں ہو۔ (سنن الدارمی 227/1) "حدثنا أبو النعمان، حدثنا سعيد بن زيد، حدثنا عمرو بن مالك النكري، حدثنا أبو الجوزاء أوس بن عبد الله، قال: قحط أهل المدينة قحطًا شديدًا، فشكوا إلى عائشة فقالت: "انظروا قبر النبي صلى الله عليه وسلم فاجعلوا منه كوى إلى السماء حتى لا يكون بينه وبين السماء سقف، ففعلوا، فمطرنا مطرًا حتى نبت العشب، وسمنت الإبل حتى تفتقت من الشحم، فسمى عام الفتق۔” ترجمہ اوس بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ کے لوگ سخت قط (قحط) میں مبتلا ہو گئے تو انہوں نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اپنے حالات کی شکایت کی، آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کے پاس جاؤ اور اس کی ایک کھڑکی آسمان کی طرف اس طرح کھول دو کہ قبر مبارک اور آسمان کے درمیان کوئی پردہ نہ رہے، راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے ایسا ہی کیا تو خوب بارش ہوئی۔ اور اس سال خوب سبزہ اُگا جس کی وجہ سے اونٹ اتنے موٹے ہو گئے کہ محسوس ہوتا کہ چربی کی وجہ سے پھٹ پڑیں گے۔ اس لیے اس سال کا نام ہی عام الفتق یعنی پیٹ پھٹنے کا سال رکھ دیا گیا۔ (تفسیر الآلوسی = روح المعانی (297/3):) "وبعد هذا كله أنا لا أرى بأسا في التوسل إلى الله تعالى بجاه النبي صلى الله عليه وسلّم عند الله تعالى حيّا وميّتا، ويراد من الجاه معنى يرجع إلى صفة من صفاته تعالى، مثل أن يراد به المحبة التامة المستدعية عدم رده وقبول شفاعته، فيكون معنى قول القائل: إلهي أتوسل بجاه نبيك صلى الله عليه وسلّم أن تقضي لي حاجتي، إلهي اجعل محبتك له وسيلة في قضاء حاجتي. ” فقط والله اعلم (فتویٰ نمبر: 144201201331 دارالافتاء: جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن) تسبیح خانہ کے ممبر سے ہر وہ چیز بیان کی جاتی ہے جو قرآن وسنت اور تعلیماتِ اکابر میں موجود ہو۔

کیا شیخ الوظائف لوگوں کا ایمان خراب کر رہے ہیں ۔۔۔!

شیخ الوظائف دامت برکاتہم نے اپنے دروس میں کئی مرتبہ یہ واقعہ ارشاد فرمایا اور ابھی ربیع الاول 1443 ہجری مطابق 2021 کے بیان میں فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے روضۂ اقدس سے سلام کا جواب آنا اور مصافحہ کے لیے دستِ مبارک باہر نکلنے کے واقعات ہمارے کئی اکابرین کی زندگی میں موجود ہے تو اس بات کو عقل کی ترازو میں تولنے والے چند لوگوں نے یہ کہہ کر مسترد کرنے کی کوشش کی کہ ایسا ہونا ممکن ہی نہیں۔۔۔ تو ایسے احباب کی خدمت میں عرض ہے کہ یہ باتیں عقل سے نہیں عشق سے تعلق رکھتی ہیں اگر وہ اتنے نیک ہو گئے تھے کہ اللہ کریم نے ان پر بطورِ کرامت اس قسم کے حالات ظاہر کر دیے تھے تو آپ کو کیا اعتراض ہے۔۔۔! چند اہل علم کے حوالہ جات بمع فتاویٰ جات پیشِ خدمت ہیں۔ سوال: علمائے کرام سے جاننا چاہتا ہوں کہ 1 حضرت حسین احمد مدنی رحمہ اللہ کا جو واقعہ بیان کیا جاتا ہے کہ انہوں نے روضۂ اطہر صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہو کر اس طرح سلام کیا ”السلام علیک یا جدی“ تو روضۂ اطہر سے جواب آیا ”وعلیک السلام یا ولدی“ تو کیا یہ صحیح ہے؟ 2 حضرت عبد الرحمن ملا جامی رحمہ اللہ کا مشہور واقعہ کہ آپ نے چند اشعار: ”ز مہجوری برآمد جانے عالم ۔۔۔ ترحم یا نبی اللہ ترحم الخ“ جب روضۂ اطہر صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پڑھا تو روضۂ مبارک سے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ نکالا اور ملا جامی رحمہ اللہ نے مصافحہ کیا، حاضرین حاجیوں نے بھی یہ واقعہ اپنے آنکھوں سے دیکھا، یہ واقعہ صحیح ہے؟ کیوں کہ اہل حق علماء کرام اس کو خوب بیان کرتے ہیں اور بعض لوگ سخت انکار کرتے ہیں اور یہ بھی بتا دیں کہ یہ پورا واقعہ کون سی کتاب میں پایا جائے گا؟ جواب: سید الرسل و خاتم الانبیاء، سیدنا و مولانا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قبر مبارک میں حیات ہیں، اور آپ درود و سلام پڑھنے والوں کے درود و سلام کا جواب دیتے ہیں، یہ بات مسلم ہے اور صحیح احادیث سے ثابت ہے، اور جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ دنیوی میں خرقِ عادت کے طور پر چند امور بطورِ معجزہ ظاہر ہوئے ہیں، اور ان کا صدور مسلم عقیدہ ہے اسی طرح آپ کی حیاتِ برزخیہ دنیویہ جسدیہ میں اگر اس طرح کے کچھ واقعات صادر ہوں تو یہ نہ عقلاً ممتنع ہے اور نہ ہی شرعاً، اس میں کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے، نیز اہلِ سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ اولیاء کی کرامات حق ہیں، لہٰذا اگر اللہ کے کسی ولی کے لیے خرقِ عادت کے طور پر روضۂ اقدس سے سرورِ کائنات حضرت رسولِ مقبول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دستِ مبارک باہر آئے، یا آپ کے روضۂ اقدس سے کسی کے سلام کا بلند آواز سے جواب دیا جائے تو یہ ممکن ہے، بلکہ اس قسم کے ایک نہیں کئی واقعات موجود ہیں، جن کو اہل علم نے اپنی کتابوں میں ذکر کیا ہے، ہر دست اس سلسلے میں سید احمد رفاعی رحمہ اللہ کا مشہور واقعہ ذکر ہے جو کہ مشہور صوفی بزرگ ہیں، ان کا واقعہ علامہ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ نے ”الحاوی للفتاوی“ میں نقل کیا ہے: سید احمد رفاعی رحمہ اللہ جب 555ھ میں حج سے فارغ ہو کر زیارت کے لیے حاضر ہوئے اور قبرِ اطہر کے مقابل کھڑے ہوئے تو یہ دو شعر پڑھے: فِي حَالَةِ الْبُعْدِ رُوحِي كُنْتُ أُرْسِلُهَا تُقَبِّلُ الْأَرْضَ عَنِّي فَهِيَ نَائِبَتِي وَهَذِهِ نَوْبَةُ الْأَشْبَاحِ قَدْ حَضَرَتْ فَامْدُدْ يَمِينَكَ كَيْ تَحْظَىٰ بِهَا شَفَتِي ترجمہ: "دوری کی حالت میں، میں اپنی روح کو خدمتِ اقدس میں بھیجا کرتا تھا، وہ میری نائب بن کر آستانۂ مبارک چومتی تھی، اب جسموں کی حاضری کی باری آئی ہے، اپنا دستِ مبارک عطا کیجیے، تاکہ میرے ہونٹ اس کو چومیں۔”۔اس پر قبرِ شریف سے دستِ مبارک نکلا اور انہوں نے اس کو چوما۔ انتہی وَفِي بَعْضِ الْمَجَامِيعِ: حَجَّ سَيِّدِي أَحْمَدُ الرِّفَاعِيُّ فَلَمَّا وَقَفَ تُجَاهَ الْحُجْرَةِ الشَّرِيفَةِ أَنْشَدَ فِي حَالَةِ الْبُعْدِ رُوحِي كُنْتُ أُرْسِلُهَا تُقَبِّلُ الْأَرْضَ عَنِّي فَهِيَ نَائِبَتِي وَهَذِهِ نَوْبَة… الْأَشْبَاحِ قَدْ حَضَرَتْ فَامْدُدْ يَمِينَكَ كَيْ تَحْظَىٰ بِهَا شَفَتِي فَخَرَجَتِ الْيَدُ الشَّرِيفَةُ مِنَ الْقَبْرِ الشَّرِيفِ فَقَبَّلَهَا”. (الحاوی للفتاوی، 2/ 314) حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ نے فضائل حج میں ”البنیان المشید“ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ اس وقت تقریباً نوے ہزار کا مجمع مسجدِ نبوی میں تھا، جنہوں نے اس واقعہ کو دیکھا، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ مبارک کی زیارت کی، جن میں حضرت محبوبِ سبحانی، قطبِ ربانی شیخ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ کا نام نامی بھی ذکر کیا جاتا ہے۔ (فضائل حج ص 197، آدابِ زیارت) اسی طرح علامہ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ نے سلام کے جواب آنے سے متعلق بھی واقعات نقل کیے ہیں، نمونہ کے طور پر چند کا تذکرہ ذیل میں ہے: 1۔ سید نور الدین ایجی شریف عفیف الدین رحمہ اللہ کے والد ماجد کے متعلق لکھا ہے کہ جب وہ روضۂ مقدسہ پر حاضر ہوئے اور عرض کیا "السلام علیک ایھا النبی ورحمۃ اللہ وبرکاتہ” تو سارے مجمع نے جو وہاں حاضر تھا سنا کہ قبر شریف سے "وعلیک السلام یا ولدی” کا جواب ملا۔ "وَفِي مُعْجَمِ الشَّيْخِ برهانِ الدِّينِ البِقَاعِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي الْإِمَامُ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ أَبِي الْفَضْلِ النُّوَيْرِيُّ أَنَّ السَّيِّدَ نُورَ الدِّينِ الْإِيجِيَّ وَالِدَ الشَّرِيفِ عَفِيفِ الدِّينِ لَمَّا وَرَدَ إِلَى الرَّوْضَةِ الشَّرِيفَةِ وَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، سَمِعَ مَنْ كَانَ بِحَضْرَتِهِ قَائِلًا مِنَ الْقَبْرِ يَقُولُ: وَعَلَيْكَ السَّلَامُ يَا وَلَدِي”. (الحاوی للفتاوی، 2/ 314) 2۔ شیخ ابو نصر عبد الواحد بن عبد الملک بن محمد بن ابی سعد الصوفی الکرخی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں حج سے فراغت کے بعد زیارت کے لیے حاضر ہوا، حجرۂ شریفہ کے پاس بیٹھا تھا کہ شیخ ابوبکر دیار بکری رحمہ اللہ تشریف لائے، اور مواجہہ شریفہ کے سامنے کھڑے ہو کر عرض کیا "السلام علیک یا رسول اللہ” تو میں نے حجرۂ شریفہ کے اندر سے یہ آواز سنی "وعلیک السلام یا ابا بکر” اور ان سب

تسبیح خانہ کی ترتیب پر اعتراض کرنے سے پہلے یہ تحریر ضرور پڑھ لیں

ایک ہے دعوت اور ایک ہے حکمتِ دعوت اللہ کے فضل و کرم سے تسبیح خانہ حکمتِ دعوت کی ترتیب کے تحت دین کی خدمت کرنے کی کوشش کر رہا ہے اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اخلاص کا ذریعہ بنائے۔ 1343ھ میں سعودی فرماں روا عبد العزیز بن سعود کی حکومت نے مذہبی حوالے سے متنازع اقدامات کیے، ان میں جنت المعلیٰ اور جنت البقیع کے مزاراتِ مقدسہ پر بنے ہوئے قبوں کی مسماری کا معاملہ بھی تھا۔ اہل سعود کا یہ اقدام یہیں تک محدود نہیں تھا، بلکہ اگلے مرحلے میں گنبدِ خضراء کی مسماری بھی ان کا ہدف تھا، اس دوران امتِ مسلمہ میں سعودی حکومت کے بارے میں بڑے ناپسندیدہ جذبات پیدا ہو گئے اور دنیا بھر کے علماء اور مذہبی پیشواؤں نے ان کی فہمائش کی کوشش کی، جس کے نتیجہ میں شاہ عبد العزیز بن سعود نے اسی سال حج کے موقع پر اسی موضوع پر ایک کانفرنس کا انعقاد کیا۔ جس میں علمائے ہند میں سے حضرت مفتی اعظم ہند مفتی محمد کفایت اللہ دہلوی رحمہ اللہ اور علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ اور چند دیگر علماء کو بطورِ خاص مدعو کیا گیا تھا۔ اس کانفرنس میں سلطان عبد العزیز بن سعود نے اپنے موقف کو توحید پرستی پر مبنی قرار دیتے ہوئے کسی کی پرواہ نہ کرنے کا عزم ظاہر فرمایا، تو جوابی تقریر کے طور پر حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ نے شاہ ابن سعود کے نقطۂ نظر کی جو علمی تنقیح، تردید اور تصحیح فرمائی۔ اس سے نہ صرف یہ کہ سعودی فرماں روا لاجواب ہو گئے۔ بلکہ مزید اقدامات جن میں گنبدِ خضراء کی توہین آمیز مسماری بھی شامل تھی، اس سے باز آ گئے۔ اس طرح گنبدِ خضراء کا مہبطِ انوار منظر علماء کے سرخیل، بانی پاکستان علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ کا عظیم کارنامہ ہے۔ علامہ عثمانی کی یہ تقریر اپنی سابقہ تمہید کے ساتھ قارئین کے جذبۂ عقیدت کے نذر کی جا رہی ہے۔ (ادارہ)

شیخ الوظائف کی عراق میں اہلِ تشیع علمائے کرام سے ملاقات تاریخ کے آئینہ میں

ابھی حال ہی میں شیخ الوظائف کے دورۂ عراق 2021 میں پانچ رکنی آئے وفد سے شیخ الوظائف نے ملاقات کی جس کا مقصد دین کے پیغامِ امن اور محبت کا فروغ پیغامِ رواداری کو عام کرنا تھا اور یہ پیغامِ رواداری ہمارے تمام بڑوں کی زندگی میں موجود تھا تاریخ کے چند جھلکوں سے پردہ اٹھاتے ہیں اللہ کریم ہمیں اہل سنت والجماعت کے اکابر کی پیروی نصیب فرمائے۔ آمین۔ مسلم لیگ تحریک میں ایک ساتھ مولانا اشرف علی صاحب تھانوی، مولانا شبیر احمد عثمانی، مولانا ظفر احمد عثمانی، پیر جماعت علی شاہ صاحب، پیر مانکی شریف، پیر کوٹڑی شریف کے ساتھ اکثر شیعہ علمائے کرام بھی ساتھ تھے۔ (نوائے وقت 13 اپریل 1955) 22 نکاتی فارمولے کی تائید کرنے والے علماء ایک ساتھ علامہ سید سلیمان ندوی، مفتی محمد حسن، مولانا ظفر احمد عثمانی، مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی، مولانا اطہر علی، مولانا عبد الحامد بدایونی (بریلوی) مولانا داؤد غزنوی مفتی (اہل حدیث) جعفر حسین مجتہد (اہل تشیع)، مفتی کفایت حسین مجتہد (اہل تشیع) ایک ساتھ رہے۔ تحریک ختمِ نبوت میں ایک ساتھ 2 جون 1952ء کو مولانا لال حسین اختر صاحب کے رابطے اور کوششوں سے کراچی کے تھیوسوفیکل ہال میں آل پارٹیز کانفرنس کا اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر جو دعوت نامہ مسلم پارٹیز کو بھیجا گیا اس پر درج ذیل علمائے کرام کے دستخط تھے۔ 1۔ مولانا لال حسین اختر 2۔ مولانا احتشام الحق تھانوی (دیوبندی) 3۔ مولانا عبدالحامد بدایونی (بریلوی) 4۔ مولانا مفتی جعفر حسین مجتہد (شیعہ) 5۔ مولانا محمد یوسف (اہل حدیث) 1952ء میں تحریک ختمِ نبوت کے لیے تمام مکاتبِ فکر کو پھر سے جمع کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی اور آل پارٹیز ایکشن کمیٹی قائم کی گئی تو اس میں بھی اہل تشیع کی نمائندگی موجود تھی جبکہ مولانا ابوالحسنات قادری اور امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری تحریک کی قیادت کر رہے تھے۔ 1974ء میں محدث العصر حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوری کی قیادت میں کل جماعتی مجلس تحفظِ ختمِ نبوت تشکیل پائی اور اس کی جدوجہد سے قادیانیت کو پارلیمنٹ کو غیر مسلم اقلیت کا درجہ دلوایا تو اس کی قیادت میں بھی اہل تشیع موجود تھے۔ 1977ء میں ملک میں نفاذِ اسلام کے لیے تحریکِ نظامِ مصطفیٰ کی جدوجہد حضرت مولانا مفتی محمود کی سربراہی میں میدان میں آئی اس کی قیادت میں بھی شیعہ رہنما موجود تھے۔ 1998ء میں حضرت مولانا خواجہ خان محمد نور اللہ مرقدہ کی سربراہی میں ایک بار پھر کل جماعتی مجلسِ عمل کا احیاء عمل میں لایا گیا تو اہل تشیع اس کی قیادت میں موجود تھی، بلکہ نائب صدر کے منصب پر ایک شیعہ رہنما فائز تھے۔ اب جبکہ عالمی مجلس تحفظِ ختمِ نبوت کی میزبانی اور امیر مجلس حضرت مولانا عبدالمجید لدھیانوی دامت برکاتہم کی رہ نمائی میں تحریک تحفظِ ناموسِ رسالت وجود میں آئی ہے تو ماضی کے اسی تسلسل میں شیعہ رہنماؤں کو اس کی ہائی کمان میں شامل کیا گیا ہے۔ اس سے قبل متحدہ مجلسِ عمل میں بھی اہل تشیع کے دیگر مکاتبِ فکر کے ساتھ قیادت کا حصہ رہ چکے ہیں، اس طرح دینی تحریکات کے حوالے سے قیامِ پاکستان کے بعد سے اب تک جو روایت اور تسلسل چلا آ رہا ہے، وہ بدستور قائم ہے اور یہ دراصل سیکولر حلقوں کے اس اعتراض یا الزام کا عملی جواب ہے کہ پاکستان کے اسلامی تشخص، ملک میں اسلام اور شریعت کی حکمرانی کے بارے میں ملک کے مذہبی مکاتبِ فکر پوری طرح متفق اور پاکستان میں نفاذِ اسلام فرقہ وارانہ مسئلہ نہیں بلکہ متفقہ قومی مسئلہ ہے۔ 1974ء کی تحریک ختمِ نبوت میں دونوں حضرات سرگرمی کے ساتھ شریک ہوتے رہے، مشترکہ اجتماعات میں خطاب کرتے رہے ہیں اور جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری کی صدارت میں منعقد ہونے والا وہ تاریخی جلسہ تحریک کی تاریخ کا حصہ ہے جس میں دوسرے مکاتبِ فکر کے اکابر علماء کرام کے علاوہ شیعہ رہنماؤں نے بھی خطاب کیا تھا بلکہ یہ واقعہ بھی تاریخی اہمیت کا حاصل ہے کہ جلسہ کے بعد جب پولیس نے علامہ علی غضنفر کراروی (اہل تشیع) کو جلسہ گاہ سے نکلتے ہی گرفتار کر لیا تو آغا شورش کاشمیری نے نہ صرف اپنے خطاب کے دوران شدید احتجاج کیا بلکہ پولیس چوکی کا لوگوں کے ہجوم کے ساتھ محاصرہ کر لیا اور کراروی صاحب کو رہا کر کے وہاں سے واپس ہوئے۔ تحریکِ ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں ایک ساتھ تحریکِ ناموسِ رسالت، تحریکِ حرمتِ رسول اور دیگر جماعتوں کی جانب سے تحفظِ ناموسِ رسالت کے حق میں ناصر باغ سے اسمبلی ہال تک عظیم الشان ریلی نکالی۔ اس موقع پر مقررین نے تحفظِ ناموسِ رسالت ایکٹ کے تحفظ کا عزم ظاہر کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ہم کٹ مریں گے مگر کسی صورت توہینِ رسالت برداشت نہیں کی جائینگی، ریلی سےناموسِ رسالت تحریک کے رہنماؤں سید منور حسن، مولانا فضل الرحمن، پروفیسر ساجد میر، چودھری پرویز الٰہی، پروفیسر حافظ سعید، مولانا عبدالغفور حیدری، ڈاکٹر ابوالخیر زبیر، ساجد نقوی، جے یو آئی کے رہنما مولانا ڈاکٹر اجمل قادری ایک ساتھ رہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ میں ساتھ ساتھ بھارت میں مسلمانوں کے شرعی خاندانی قوانین کے تحفظ کے لیے ”آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ“ کا مشترکہ پلیٹ فارم موجود ہے جس کے پہلے سربراہ حضرت مولانا قاری محمد طیبؒ، دوسرے سربراہ حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ، تیسرے سربراہ حضرت مولانا مجاہد الاسلام قاسمیؒ تھے جبکہ اب اس کے سربراہ حضرت مولانا سید محمد رابع ندوی مدظلہ ہیں اور اہل تشیع اس بورڈ کا نہ صرف مسلسل حصہ ہیں بلکہ ممتاز شیعہ علماء اس کے مرکزی عہدہ دار بھی چلے آ رہے ہیں۔ جہادی تنظیموں میں شانہ بشانہ افغانستان میں روسی استعمار کے خلاف جہاد میں اہل سنت کی نصف درجن کے لگ بھگ جہادی تنظیموں کے ساتھ ساتھ اہل تشیع کی ”حزبِ وحدت“ بھی جہادِ افغانستان کا حصہ رہی ہے اور ان تنظیموں کے درمیان اس دور میں اشتراک و تعاون بھی رہا ہے۔ تحریک نفاذِ شریعت میں ایک ساتھ جناب بھٹو صاحب کے دور میں پاکستان قومی اتحاد کے جھنڈے کے نیچے تحریکِ نظامِ مصطفیٰ اور اسلامی انقلاب کیلئے مولانا مفتی محمود صاحب، مولانا سید

اکابر پر اعتماد کی ایسی پوسٹ جسے پڑھتے ہی آپ کا ایمان بچ جائے گا۔۔۔!

دوسروں کے ایمان کو بچانا چاہتے ہیں تو یہ ضرور پڑھیں۔۔۔! قرآنِ مقدس کی ایک آیت ہے ’’وَمَنْ يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا‘‘ یعنی جس شخص کو حکمت اور دانائی دی گئی اسے خیرِ کثیر دی گئی اس لیے فرمایا جاتا ہے دعوت کا کام حکمت اور بصیرت سے تعلق رکھتا ہے کس وقت کس جگہ کیا بات کرنی ہے اور کس طرح کرنی ہے اللہ کے فضل سے اسی حکمت اور دانائی کے تحت عبقری لبرل طبقہ کو مختلف بہانوں سے اپنے رب کے کلام اور کالی کملی والے صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے جوڑ رہا ہے۔۔۔ فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ بعض دفعہ ایک کام کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مختلف طریقے ثابت ہوتے ہیں اور سب کے سب سنت ہوتے ہیں لیکن ان میں سے ایک طریقہ ایسا ہے کہ لوگ اس کا مذاق نہیں اڑاتے بلکہ اس پر خوش ہوتے ہیں اور اس کو خوشی سے قبول کرتے ہیں، جب کہ اسی کام کے دوسرے طریقے کا مذاق اڑاتے ہیں اور استہزا و مذاق کر کے اپنا ایمان ضائع کرتے ہیں۔ ایسی صورت میں حکمت و بصیرت کا تقاضہ یہ ہے کہ اس سنت کو اختیار کیا جائے جو لوگوں کے ایمان ضائع ہونے کا سبب نہ بنے یعنی پہلا طریقہ اختیار کیا جائے۔ اس سلسلے میں حضرت حکیم الامت دامت برکاتہم العالیہ کی حکمت و بصیرت کے دو واقعہ ملاحظہ کیجیے۔ تہبند باندھنے کے بارے میں ایک سنت طریقہ یہ ہے کہ تہبند ٹخنہ سے اوپر ہو اور دوسرا طریقہ یہ ہے کہ موٹی پنڈلی سے اوپر ہو۔۔۔ استادِ محترم ولیِ کامل حضرت مولانا صوفی محمد سرور صاحب رحمہ اللہ شیخ الحدیث جامعہ اشرفیہ لاہور موٹی پنڈلی سے اوپر تک شلوار اور اونچی رکھتے تھے۔ حضرت حکیم العصر دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں کہ ہم خانیوال اسٹیشن پر بیٹھے تھے میں نے حضرت مولانا اعزاز علی رحمہ اللہ کا ایک ملفوظ حضرت صوفی صاحب کو سنایا مولانا فرماتے ہیں کہ بعض لوگ مستحبات پر عمل کرتے ہیں لیکن اس سے دوسرے کا ایمان ضائع ہو جاتا ہے۔ موٹی پنڈلی سے اوپر شلوار یا تہبند رکھنا مستحب ہے مگر مذاق کرنے سے ایمان ضائع ہو جاتا ہے۔ حضرت صوفی صاحب نے حدیث شریف سنائی ’’مَن تَمَسَّكَ بِسُنَّتِي عِندَ فَسَادِ أُمَّتِي فَلَهُ أَجْرُ مِائَةِ شَهِيدٍ‘‘۔ (جس نے فسادِ امت کے زمانہ میں میری سنت کو مضبوطی سے پکڑا اس کے لیے سو شہیدوں کا ثواب ہے) اور فرمایا اس حدیث کا کیا مطلب ہے؟ حضرت حکیم العصر دامت برکاتہم العالیہ نے فرمایا اس کا جواب بعد میں دوں گا پہلے ایک واقعہ سن لیں ارواحِ ثلاثہ میں لکھا ہے کہ جب مولوی اسماعیل صاحب رحمہ اللہ نے رفع یدین شروع کیا تو مولوی احمد محمد علی صاحب رحمہ اللہ نے جو شاہ عبدالعزیز رحمہ اللہ کے شاگرد تھے اور ان کے کاتب تھے شاہ صاحب رحمہ اللہ سے عرض کیا کہ حضرت مولوی اسماعیل صاحب رحمہ اللہ نے رفع یدین شروع کیا ہے اور اس سے مفسدہ پیدا ہوگا آپ ان کو روک دیجیے۔ جب شاہ عبدالقادر رحمہ اللہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا میاں عبدالقادر تم اسماعیل کو سمجھا دینا کہ وہ رفع یدین نہ کیا کریں، کیا فائدہ ہے خواہ مخواہ عوام میں شورش پیدا ہوگی۔ شاہ عبدالقادر صاحب رحمہ اللہ نے مولوی محمد یعقوب صاحب رحمہ اللہ کی معرفت مولوی اسماعیل صاحب رحمہ اللہ سے کہلایا کہ تم رفع یدین چھوڑ دو اس سے خواہ مخواہ فتنہ ہوگا۔ جب مولوی محمد یعقوب صاحب رحمہ اللہ نے مولوی اسماعیل صاحب سے کہا تو انہوں نے جواب دیا کہ عوام کے فتنے کا خیال کیا جائے تو اس حدیث کے کیا معنی ہونگے۔ ’’مَن تَمَسَّكَ بِسُنَّتِي عِندَ فَسَادِ أُمَّتِي فَلَهُ أَجْرُ مِائَةِ شَهِيدٍ‘‘۔ کیونکہ جو کوئی سنت متروکہ کو اختیار کرے گا عوام میں ضرور شورش ہوگی۔

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026