کھانے پر مکھیاں تنگ کرتی ہوں تو کیا کریں ؟

پانچ لاکھ سے زائد لوگوں کے کلمہ پڑھنے کا ذریعہ بننے والے عالمی مبلغ مولانا محمد کلیم صدیقی صاحب مدظلہ فرماتے ہیں کہ بنارس یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے قرآن پاک کا سنسکرت زبان میں ترجمہ کرتے ہوئے قرآن کے بہت سے عجائبات کا تذکرہ کیا ہے۔ مثلاً انہوں نے ایک آیت پڑھی (وَأَنبَتنَا عَلَيهِ شَجَرَةٌ من يقطين) کہ جب حضرت یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ سے نکال کر کنارے پر ڈالا گیا تو ہم نے ان کے پاس کدو کی بیل اگادی۔ وہ کہنے لگے کہ میں اس ریسرچ میں پڑ گیا کہ صرف کدو ہی کی بیل کیوں لگائی گئی؟ بالآخر ایک جگہ یہ جواب ملا کہ کدو کی بیل میں خاصیت ہے کہ اس کے ارد گرد مکھیاں، مچھر اور پتنگے نہیں آسکتے۔ چونکہ حضرت یونس علیہ السلام کا جسم پانی میں رہنے کی وجہ سے نرم ہو گیا تھا، اس لیے انہیں مکھیوں سے بچانے کا بھی انتظام فرمایا گیا۔ وہ پروفیسر صاحب مزید کہتے ہیں کہ یہ پڑھ کر میرے دل میں بات آئی کہ یہ آیت تو مکھیوں اور مچھروں کو بھگانے کیلئے بھی استعمال ہو سکتی ہے۔ چنانچہ ایک دن میں نے اپنے دوستوں کی دعوت کی تو کھانے پر بہت زیادہ مکھیاں آگئیں۔ میں نے تجوید کے ساتھ اس آیت کا وظیفہ پڑھنا شروع کر دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ساری مکھیاں غائب ہو گئیں اور میرے سب دوستوں نے بھی دیکھ لیا کہ اس آیت کا وظیفہ پڑھنے سے ہی یہ حفاظت مل رہی ہے (بحوالہ : یہ بیان انٹرنیٹ کے اس لنک سے لیا گیا ہے) https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1969354523152189&id=100002329821185 محترم قارئین ! عبقری کے پیغام "اعمال سے بچنے کا یقین” کا یہی مفہوم ہے کہ ہم پر جب بھی کسی قسم کی پریشانی یا آزمائش آئے تو ہم فوراً اعمال کی طرف متوجہ ہوجائیں اور یہ دیکھیں کہ اب ہم اپنے رب کو کس آیت یا کس دعا کے ذریعے راضی کریں گے تو ہمارا کام بن جائے گا۔ یہی پیغام اور یہی ریت روایت صدیوں سے ہمارے اکابر واسلاف کے ذریعے ہم تک چلی آرہی ہے۔

جامعہ بنوری ٹاؤن کے طلباء پر جنات کا حملہ

شیخ الحدیث مولانا جلیل احمد اخون صاحب لکھتے ہیں کہ ہماری کلاس میں مردان کے ایک نئے طالب علم حبیب احمد داخل ہوئے۔ ان کے والد مرحوم عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ عامل بھی تھے اور روحانی عملیات میں مشہور تھے۔ چونکہ ان کے والد مرحوم جنات کے علاج میں بہت ماہر تھے، اس لیے جنات انتقامی کارروائی کے طور پہ ہمارے کمرے پر حملہ کرتے رہتے تھے۔ مولانا حبیب احمد کے پاس تو خاص قسم کے تعویذ تھے جن سے ان کی حفاظت رہتی تھی لیکن وہ جنات کمرے کے دوسرے ساتھیوں کو اکثر تنگ کرتے رہتے تھے (بحوالہ کتاب: جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن میں بیتے ہوئے دن صفحہ 81 ناشر: مکتبہ حکیم الامت عید گاہ بہاولنگر) جامعہ میں مجذوب کی آمد: جامعہ بنوری ٹاؤن میں بعض اوقات ایک مجذوب آیا کرتے۔ ہمارے استاد صاحب ان کی آمد پر بہت خوش ہوتے اور سبق روک کر ان کی بات سنتے۔ وہ مجذوب حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمتہ اللہ علیہ کی آواز میں تقریر کرتے، پھر ہمارے استاد صاحب سے پیسے مانگتے۔ اگر ان کے پاس ہوتے تو وہ خود دے دیتے اور اگر نہ ہوتے تو کسی طالب علم سے دلوا دیتے۔ اس مجذوب کی عادت تھی کہ ہر بار واپس جاتے ہوئے جامعہ کے مین گیٹ پر جو بھی طالب علم ملتا، وہ پیسے اس کو دے کر چلا جاتا. (بحوالہ کتاب: جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن میں بیتے ہوئے دن صفحہ 121 ناشر: مکتبہ حکیم الامت عید گاہ بہاول نگر) محترم قارئین! جو لوگ کہتے ہیں کہ عبقری اور تسبیح خانے میں من گھڑت واقعات بیان کیے جاتے ہیں، شریعت میں جنات کے تنگ کرنے کا کوئی ثبوت نہیں اور اکابر واسلاف میں رجال الغیب اور مجذوب کا کوئی وجود نہیں، انہیں چاہئے کہ درج بالا دونوں واقعات غور سے پڑھیں اور سوچیں کہ کیا یہ واقعات بھی عبقری کے شائع کردہ ہیں اور کیا ان کے مصنف بھی جنات کے پیدائشی دوست حضرت علامہ لاہوتی پراسراری ہیں؟ ہمیں چاہئے کہ اللہ پاک سے اپنے لیے شرح صدر مانگیں اور اپنے اکابر پر مکمل اعتماد کرتے ہوئے زندگی گزاریں۔ پلیز یہ میسج زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔

حضرت امام اعظم کی نظر میں نجات کا وظیفہ

حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے اللہ رب العزت کی 99 مرتبہ خواب میں زیارت کی۔ ایک دن میں نے دل میں سوچا کہ اگر آئندہ زیارت ہوئی تو سوال کروں گا کہ وہ کون سا ایسا عمل ہے جس کی برکت سے آپ کی مخلوق کو قیامت کے دن آپ کے عذاب سے نجات ملے گی۔ پس جب اگلی مرتبہ زیارت ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرا جو بھی بندہ صبح و شام یہ دعا ایک مرتبہ پڑھے گا وہ میرے عذاب سے نجات پا گیا۔ سبحان الابدی الابد سبحان الواحد الاحد سبحان الفرد الصمد سبحان رافع السماء بغیر عمد سبحان من بسط الارض علی ماء جمد سبحان من خلق الخلق فاحصاهم عدد سبحان من قسم الرزق ولم ینس احد سبحان الذی لم یتخذ صاحبة ولا ولد سبحان الذی لم یلد ولم یولد ولم یکن له کفوا احد. (بحوالہ کتاب: ہفت گوہر، صفحہ 10، مصنف: مولانا محمد یوسف فقیر دہلوی، ناشر: صدیقی ٹرسٹ، نزد سبیلہ چوک، کراچی) قارئین! غور فرمائیں کہ درج بالا تحریر میں وقت کی پابندی کے ساتھ ایک ایسا وظیفہ بتایا گیا ہے جس کا نہ قرآن میں ثبوت ملتا ہے اور نہ ہی احادیث میں۔ لیکن اس کے باوجود ہم اس وظیفے کو عبقری کا خود ساختہ اور من گھڑت نہیں کہہ سکتے۔ کیوں؟ کیونکہ یہ اور اس جیسے دیگر تمام وظائف عبقری نے صرف بتائے ہیں، بنائے نہیں۔ لہٰذا ہمیں چاہئے کہ عبقری کے متعلق بلا وجہ بدگمان ہونے کی بجائے اپنے اکابر و اسلاف سے شناسائی حاصل کریں، جو ہر دور میں اور ہر مشکل کیلئے وہی وظائف بتایا کرتے تھے جن پر آج ہم طرح طرح کے خود ساختہ فتوے لگاتے ہیں۔

عبقری اور تسبیح خانہ وظیفے کیوں بتاتا ہے؟

کیونکہ عبقری اور تسبیح خانے کے پاس معتبر، مستند اور مضبوط شرعی دلائل ہیں کہ جب کبھی کوئی شخص کسی پریشانی یا مصیبت میں مبتلا ہوا تو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پڑھنے کیلئے وظیفہ سکھایا "لا الہ الا اللہ الحلیم الکریم، سبحان اللہ رب العرش العظیم، والحمد للہ رب العالمین، اسئلک موجبات رحمتک … الى آخر” (بحوالہ : مشکوٰۃ، باب التطوع، فصل دوم) جب کوئی شخص قرض کے بوجھ تلے دب گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بھی ہر وقت پڑھنے کیلئے وظیفہ دیا: "اللہم انی اعوذ بک من الهم والحزن …” (بحوالہ: مشکوٰۃ، باب الدعوات) جب ایک صحابیہ خاتون بیوہ ہو گئیں تو اس موقع پر بھی انہیں سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ عالی سے پڑھنے کیلئے وظیفہ ملا: "اللهم آجرنی فی مصیبتی …” (بحوالہ: صحیح مسلم) جب حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے پاس ایک شخص نے آکر قرض کی شکایت کی تو آپ رضی اللہ عنہ نے بھی اسے وظیفہ پڑھنے پر لگایا: "اللهم اکفنی بحلالک عن حرامک …” (بحوالہ : مشکوٰۃ، باب الدعوات فی الاوقات) امام شافعی رحمہ اللہ اپنی مغفرت کیلئے یہ وظیفہ پڑھا کرتے تھے: "اللهم صل علی محمد وعلی آل محمد کلما ذکرہ الذاکرون وغفل عن ذکرہ الغافلون” (بحوالہ: حکومت اور علمائے ربانی، مصنف: حافظ عبداللہ محدث روپڑی، ناشر: مکتبہ تنظیم اہل حدیث، چوک دالگراں، لاہور) امام ابن تیمیہ روزانہ فجر کی سنتوں اور فرضوں کے درمیان 40 مرتبہ یہ وظیفہ پڑھا کرتے: "یاحی یا قیوم لا الہ الا انت برحمتک استغیث اصلح لی شانی کلہ” (بحوالہ: سوانح مولانا محمد داؤد غزنوی صفحہ 210، ناشر: مکتبہ غزنویہ، اردو بازار لاہور) حضرت پیران پیر شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ پر جب انوارات کا بوجھ بڑھ جاتا تو یہ وظیفہ پڑھتے: "فان مع العسر یسراً، ان مع العسر یسراً” (بحوالہ: فیوض یزدانی، ترجمہ الفتح الربانی، مصنف: مولانا عاشق الہی میرٹھی، ناشر: اعتقاد پبلشنگ ہاؤس، دہلی) شیخ مجدد الف ثانی رحمہ اللہ "لاحول ولاقوۃ الا باللہ” کا وظیفہ پڑھتے تھے (بحوالہ: عمدة السلوک، مصنف: سید زوار حسین شاہ، ناشر: ادارہ مجددیہ، ناظم آباد کراچی) ان کے علاوہ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی، مولانا محمد قاسم نانوتوی، مولانا رشید احمد گنگوہی، حضرت علامہ انور شاہ کاشمیری، مولانا عبیداللہ سندھی، شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوری، علامہ سید محمد یوسف بنوری رحمہم اللہ اجمعین و دیگر تمام اکابر اپنے پاس آنے والے لوگوں کو وظائف بتاتے تھے۔ مکتبہ اہل حدیث میں عارف باللہ حضرت عبداللہ غزنوی، مولانا غلام رسول قلعوی، حافظ عبدالمنان وزیر آبادی، مولانا ثناء اللہ امرتسری، مولانا ابراہیم میر سیالکوٹی، مولانا حکیم عبداللہ صاحب جہانیاں منڈی، امیر المجاہدین صوفی محمد عبداللہ، مولانا سید محمد داؤد غزنوی رحمہم اللہ اجمعین و دیگر تمام اسلاف اپنے پاس آنے والوں کو وظیفے دیتے تھے۔ مکتبہ بریلویہ میں حضرت پیر علی ہجویری، حضرت نظام الدین اولیاء، حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت، حضرت شاہ رکن عالم، حضرت میاں شیر محمد شرقپوری، صوفی برکت علی رحمہم اللہ اجمعین و دیگر لا تعداد اولیاء کرام اپنے پاس آنے والوں کو وظیفے بتاتے تھے۔ مکتبہ اثناء عشریہ میں حضرت امام محمد باقر، امام جعفر صادق، امام موسیٰ کاظم، امام محمد تقی، امام علی نقی، امام حسن عسکری رحمہم اللہ اجمعین و دیگر تمام علماء و مجتہدین اپنے پاس آنے والوں کو وظیفے بتاتے تھے۔ یعنی ہر دور میں آنے والے اولیائے کرام کا یہی مشن رہا ہے کہ مخلوق خدا کو ہر مشکل اور پریشانی میں اللہ جل شانہ کے در سے براہ راست مانگنے اور لینے کا طریقہ سکھا دیا جائے۔ موجودہ دور میں محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہی مشن عبقری اور تسبیح خانہ انجام دے رہا ہے۔ لہذا اگر ایسا کرنا شرعی گناہ یا دنیاوی جرم ہے تو پھر ان تمام اکابر و اسلاف کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟

انہوں نے جو فرمایا۔ وہی اولاد پیدا ہوئی

عبقری میں حضرت علامہ لاہوتی پراسراری صاحب دامت برکاتہم کے ایسے واقعات، جن میں کشف یا کسی کے متعلق پیشین گوئی موجود ہو، پڑھ کے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ ساری من گھڑت کہانی ہے۔ قارئین : اگر خدانخواستہ یہ من گھڑت کہانی ہوتی تو گزشتہ تمام اکابر اسلاف میں اس کہانی کا تذکرہ کہیں نہ ملتا۔ مثلاً مولانا عبد المجتبی رضوی (مکتبہ بریلویہ) لکھتے ہیں : جعفر بن صالح کا بیان ہے کہ میری بیوی حاملہ تھی۔ انہی دنوں اہل بیت کے شہسوار حضرت امام علی رضا رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ میری ملاقات ہوئی تو میں نے عرض کی : حضور! دعا کیجئے کہ رب قدیر میری بیوی کو لڑکا عطا فرمائے۔ آپ نے فرمایا: تیری بیوی دو بچوں کی حاملہ ہے۔ یہ سن کر میں بہت خوش ہوا اور واپس چل پڑا۔ دل میں سوچنے لگا کہ ایک کا نام محمد اور دوسرے کا نام علی رکھوں گا۔ یہ خیال آتے ہی آپ نے پیچھے سے آواز دی اور فرمایا: ایک بچے کا نام علی اور دوسرے کا نام ام عمر رکھنا۔ چنانچہ جب ولادت ہوئی تو ایک بیٹا تھا اور ایک بیٹی۔ لہذا میں نے نصیحت کے مطابق وہی نام رکھے (بحوالہ کتاب: تذکرہ مشائخ قادریہ رضویہ، صفحہ 176 ناشر: کشمیر انٹرنیشنل پبلشرز، اردو بازار لاہور) مولانا محمد اسحاق بھٹی (مکتبہ اہل حدیث) لکھتے ہیں کہ قاضی محمد سلیمان منصور پوری 1348ھ میں حج کیلئے تشریف لے گئے۔ ان کے چھوٹے بھائی قاضی عبدالرحمان صاحب انہیں کراچی بندرگاہ تک چھوڑنے گئے۔ جب قاضی محمد سلیمان صاحب جہاز کے عرشے پر گئے تو عبدالرحمان صاحب سے فرمایا : میرے بیٹے عبدالعزیز کے گھر ایک بیٹا پیدا ہوگا، اس کا نام معزالدین رکھنا۔ چنانچہ اسی حج سے واپسی پر قاضی صاحب کا انتقال ہو گیا اور تقریباً 7 ماہ بعد عبدالعزیز صاحب کے گھر بیٹا پیدا ہوا، جس کا نام معزالدین حسن رکھا گیا۔ (بحوالہ کتاب: تذکرہ قاضی محمد سلیمان منصور پوری، صفحہ 159 ناشر: مکتبہ قدوسیہ، اردو بازار، لاہور)

حافظ الحدیث حضرت عبداللہ درخواستی کے مبارک ہاتھوں سے لکھا ہوا تعویذ

حافظ الحدیث حضرت عبداللہ درخواستی کے مبارک ہاتھوں سے لکھا ہوا ایسا تعویذ، جس میں 35 مرتبہ "محمد رسول اللہ احمد رسول اللہ” لکھا ہوا واضح نظر آ رہا ہے۔ یہی وظیفہ بڑے بڑے اکابرین یعنی حضرت علامہ انور شاہ کاشمیری سے، نواب سید محمد صدیق حسن خان بھوپالی، حضرت خواجہ احمد دیر بی وغیرہ سے بھی ثابت ہے۔ مگر اکابرین کی ترتیب کو قائم رکھتے ہوئے جب یہی عمل عبقری اور تسبیح خانے سے خیر خواہی کے جذبے کے ساتھ مخلوق خدا تک پہنچا تو کچھ لوگوں نے اس پر عجیب و غریب قسم کے من گھڑت فتوے لگانا شروع کر دیے۔ افسوس کہ ہم اپنی لاعلمی کے باعث اکابر کی ترتیب کو بھول گئے اور اگر کوئی شخص انہی اکابر کی ترتیب کو زندہ کرے، تو ہم اپنی لاعلمی کا رونا رونے کی بجائے الٹا اسی پر فتوے لگانا شروع کر دیتے ہیں۔

اکابر سے جڑنے کا فائدہ کیا ہوگا؟

مولانا مفتی محمد انور اوکاڑوی صاحب فرماتے ہیں کہ اپنے اندر اسلاف (اکابر) پر اعتماد پیدا کرو، کیونکہ اچھا عالم بننے کیلئے اچھی صفات کا ہونا ضروری ہے۔ ہر نماز میں اللہ تعالیٰ نے یہ دعا پڑھنے کا حکم دیا ہے ” اھدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیھم ” کہ اے اللہ ہمیں ان لوگوں والے سیدھے رستے پر چلا جن پر تو نے انعام فرمایا۔ اسی طرح حدیث پاک میں ارشاد ہے کہ برکت تمہارے بڑوں کے ساتھ ہے (کنز العمال) یاد رکھنا چاہئے کہ فرقہ اس گروہ کو کہتے ہیں جو اپنے اکابر سے کٹ چکا ہو۔ اور فرقہ واریت یہ ہے کہ اپنے اکابر سے ہٹ کر کوئی نیا عمل یا عقیدہ ایجاد کر لیا جائے۔ مولانا خیر محمد جالندھری فرمایا کرتے تھے کہ اسلام ہمارے اکابر کے ذریعے ہم تک سلسلہ وار پہنچا ہے۔ مثلاً ریل گاڑی میں اصل چیز تو انجن ہوتا ہے، لیکن اس کے ساتھ جڑے ہوئے ڈبے بھی منزل پر پہنچ جاتے ہیں۔ اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے ہوئے اہل بیت و صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ جو شخص بھی جڑا رہے گا، وہ منزل (جنت) تک ضرور پہنچے گا (ماہنامہ الخیر بحوالہ کتاب: اسلاف پر اعتماد کی ضرورت صفحہ 116، ناشر: ادارہ تالیفات اشرفیہ، فوارہ چوک ملتان) لہٰذا محترم قارئین! الحمدللہ عبقری اور تسبیح خانے میں صرف زبانی کلامی نہیں، بلکہ عملی طور پر اکابرین امت (آل رسول، اصحاب رسول، فقہاء، اولیاء صالحین) کے ساتھ جڑے رہنے کی ترغیب بھی دی جاتی ہے اور ان کے اعمال/وظائف بھی بتائے جاتے ہیں، تا کہ آج قرب قیامت کے دور میں بھی ہم اپنے اکابر و اسلاف کی طرح اللہ جل شانہ کی رحمتیں اور برکتیں سمیٹنے والے بن جائیں اور آخرت میں ہمارے درجات بلند کرنے کیلئے جو نہی کوئی آزمائش آئے، ہم اپنے اکابر و اسلاف کے طریقے کے مطابق فوراً کسی وظیفے کے ذریعے اللہ جل شانہ کی طرف متوجہ ہو جائیں۔

وظائف کی خاص تعداد میں چھپا توحید کا راز

مولانا امیر حمزہ (مکتبہ اہل حدیث) لکھتے ہیں: حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ وتر (اکیلا/طاق) ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے۔ لہذا اے اہل قرآن! وتر ادا کیا کرو (ترمذی 453 حدیث صحیح) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے پوچھا: یا رسول اللہ! ہم رات کی نماز کو کس طرح طاق کریں؟ فرمایا: رات (تہجد) کی نماز دو دو رکعت کر کے ادا کرو، آخر میں ایک رکعت پڑھ لیا کرو، اس سے ساری نماز طاق ہو جائے گی (مسلم) مغرب کی نماز کی تین رکعتیں سارے دن کی نمازوں کو طاق بنا دیتی ہیں۔ دن اور رات میں 5 نمازیں طاق ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ عبادت بھی طاق اور جس کی عبادت کی جارہی ہے وہ بھی طاق، یعنی نماز کی ہر رکعت توحید کا اعلان کرتی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر عمل میں توحید کی خوشبو ہے۔ جب آنکھوں میں سرمہ لگاتے تو سلائیاں بھی طاق عدد میں (3) ڈالتے۔ کھجور تناول فرماتے تو طاق تعداد (3 / 5 یا 7) تناول فرماتے۔ ہر عمل میں توحید کی خوشبو۔ نماز میں پڑھی جانے والی سورۃ فاتحہ کی آیات بھی طاق (7) ہیں. (بحوالہ کتاب: قرآن کا تحفہ، تندرستی کا نسخہ، صفحہ 32، ناشر: مکتبہ دارالاندلس، چوبرجی لاہور) محترم قارئین! کبھی غور کریں کہ عبقری میں بتائے جانے والے تمام وظائف کی ایک خاص تعداد مقرر ہوتی ہے۔ مثلاً: گھر سے نکلتے وقت ایک مرتبہ بسم اللہ توکلت علی اللہ لا حول ولا قوة الا باللہ پڑھیں۔ 11 مرتبہ یا حفیظ یا سلام پڑھیں۔ اولاد کو اللہ کی پناہ میں دینے کیلئے 3 یا 7 مرتبہ بسم اللہ علی دینی و نفسی و ولدی و اہلی و مالی پڑھیں۔ جادو جنات سے بچنے کیلئے 21 مرتبہ دعائے حضرت کعب پڑھیں۔ ہر طرح کی جسمانی و روحانی شفاء پانے کیلئے فجر کی سنتوں اور فرضوں کے درمیان 41 مرتبہ سورۃ الفاتحہ پڑھیں۔ لاعلاج بیماریوں سے بچنے کیلئے بارش کے پانی پر 70/70 مرتبہ آیت الکرسی، سورۃ فاتحہ، آیت کریمہ اور چاروں قل پڑھیں۔ مرنے سے پہلے جنت میں اپنا ٹھکانہ دیکھنے کیلئے مسلسل 3 سال صبح و شام 101 مرتبہ تیسرا کلمہ، درود شریف اور استغفار پڑھیں۔ جادو، جنات، نظر بد اور نت نئی بیماریوں سے بچاؤ کیلئے 313 مرتبہ فَمَا لَهُم مِّن نَّاصِرِينَ پڑھیں۔ یعنی ہر تعداد طاق، ہر عمل میں توحید کے راز۔ قارئین! عبقری اور تسبیح خانہ تو مخلوق خدا کو ہر پل، ہر سانس توحید پر لگا رہا ہے۔ ایسی توحید جس میں عقیدہ بھی یہ ہو کہ ہم صرف اعمال سے پلیں گے، اعمال سے بنیں گے، اعمال ہی سے بچیں گے اور عملی طور پر بھی زبان پر اللہ وحدہ لا شریک کا نام ہو۔ لہذا جو لوگ عبقری اور تسبیح خانے کے متعلق لوگوں کے دلوں میں وساوس پیدا کرتے ہیں، انہیں سچے دل سے توبہ کرنی چاہیے کہ وہ توحید والے اعمال سے بلاوجہ بدگمان ہیں اور توحید ہی کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرنے کے غلط جذبے رکھتے ہیں۔ جبکہ سچ تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی توحید کی غیرت میں باقی سب گناہ تو معاف کر سکتا ہے، لیکن شرک کبھی معاف نہیں کرے گا۔

مکان اور دریا کی رُوح سے ملاقات

عبقری میں سلسلہ وار شائع ہونے والے کالم جنات کا پیدائشی دوست کے متعلق کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ سراسر دیومالائی کہانیاں ہیں۔ کبھی جنات سے ملاقات ہونے کو ناممکن کہا جاتا ہے اور کبھی ارواح سے ملنے پر اعتراض کیا جاتا ہے۔ حالانکہ حضرت علامہ لاہوتی پراسراری دامت برکاتہم تو ابھی صرف اولیائے کرام رحمہم اللہ کی ارواح سے ملاقات کی روداد بیان فرماتے ہیں۔ ہمارے اکابر واسلاف میں ایسے کئی شہسوار گزرے ہیں، جنہوں نے دیگر مخلوقات کی روح سے ملاقات کرنے کو بھی راز میں نہ رکھا، بلکہ اس نیت سے منظر عام پر لے آئے تاکہ لوگوں کے عقائد قیامت تک آنے والے ہر زمانے میں درست رہیں۔ مثلاً حضرت سید احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے حج کے سفر کی روداد اپنے مرشد حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کو لکھتے ہوئے کن روحوں سے ملاقات کا تذکرہ فرمایا:آئیے دیکھتے ہیں!الحمدللہ فقیر خیر وعافیت مکہ معظمہ میں مقیم ہے۔ حج کے بعد مدینہ منورہ کی زیارت کا ارادہ ہے۔ فضلِ تعالیٰ اس بابرکت اور مسعود سفر میں جو بشارتیں اور اعلیٰ درجے کی عنایات خداوند تعالیٰ کی طرف سے اس فقیر کو میسر ہوئی ہیں، ان میں سے کچھ تحریر کی جاتی ہیں۔ جب میں وطن سے سامان روانگی کی تیاری میں تھا، انہی دنوں ایک رات میرے مکان کی روحانیت نمودار ہوئی، جو میرے روبرو بہت غمگین شکل میں کھڑی ہوگئی اور کہنے لگی:"اے ہمارے معزز آقا! کل آپ ہمیں چھوڑ کر چلے جائیں گے۔”وہ اتنی آبدیدہ ہوئی کہ اس کے رنج سے میں بھی رو پڑا۔ اس ادنی بندہ (یعنی سید احمد شہید) نے مالکِ حقیقی کی بارگاہ میں عرض کی کہ اس مکان روحانیت کی محبت اور اس کے بدلے اس کی تسکین کے لیے کچھ فرمائیے۔ مجھے حکم ملا کہ اسے کہو: "تجھے جنت میں لے جائیں گے۔”لہٰذا میں نے حکم بجا لایا اور اس کو یہ بشارت سنا دی۔یقیناً مکان کی روحانیت بہت مسرور ہوئی۔ دریا کی روح سے مکالمہ: جب کلکتہ سے روانہ ہو کر دریائے شور تک پہنچے تو دریائے شور کی روح بڑی شان و شوکت اور دبدبہ کے ساتھ ظاہر ہوئی اور فقیر سے ملاقات کی اور مقابلہ اور جھگڑے کے لیے تیار ہوئی۔ اس کی گفتگو کے الفاظ یاد نہیں رہے، لیکن اتنا محفوظ ہے کہ وہ اپنا رعب و داب ظاہر کرتی تھی اور چاہتی تھی کہ اس کے سامنے عاجزی اور انکساری کی جائے اور اس کی بات مانی جائے۔ جب اس کی ہیبت دیکھی اور اس کی درخواست معلوم ہوئی تو اس کے رعب اور ڈر سے میرے نفس پر ذرا بھی اثر نہ ہوا اور میں نے پرواہ نہیں کی۔ بلکہ جواب میں کہا:"میں اور تُو دونوں اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں۔ مجھے تیری خوشامد کرنے کا کیا مطلب؟ تجھ سے ہرگز التجا نہ کروں گا۔” وہ روح یہ بیان سننے کے بعد جھگڑا کرنے سے باز آئی اور خوش ہوگئی۔ جب جہاز بمقام قاب و قمری پہنچا (یہ جگہ مشہور ہے جہاں جہاز ڈگمگاتے ہیں) ہمارا جہاز بھی ڈگمگانے لگا اور بوجہ سر چکرانے کے لوگوں میں اضطراب اور اداسی چھا گئی۔ اس وقت ایک تجلی نمودار ہوئی، جو ایک طرف سے جارہی تھی اور باری تعالیٰ کی طرف سے ارشاد ہوا:"اگر ہم تجھے ڈبو دیں تو کیا کرے گا اور کس کو مدد کے لیے لائے گا؟” میں نے عرض کیا:"اے خداوند! اگر میرا ڈبونا تجھے پسند ہے اور تمام دنیا چاہے کہ مجھے پکڑے اور باہر لائے، تو میں ہرگز باہر آنے کے لیے راضی نہیں ہوں، اور نہ ہی کسی کو اپنا معاون بناؤں گا۔” ایک تبسم بھری کیفیت نمودار ہوئی اور فرمایا:"تجھے ڈبویا جائے گا۔” (بحوالہ کتاب: تحریک مجاہدین، جلد 6، صفحہ 56، مصنف: ڈاکٹر صادق حسین ایم بی بی ایس)

قرآن وحدیث میں رجال الغیب کا ثبوت

محترم قارئین ! عبقری میں حضرت علامہ لاہوتی پراسراری دامت برکاتہم العالیہ کے مضمون میں اکثر رجال الغیب کا ذکر ملتا ہے ، کہ اولیائے کرام میں سے کچھ ایسے مقرب بندے ہوتے ہیں، جن کی ڈیوٹیاں اللہ جل شانہ نے بعض مخصوص امور کی انجام دہی پر لگائی ہوتی ہیں۔ کچھ لوگ ایسی باتیں پڑھ کر شش و پنج میں پڑ جاتے ہیں اور اپنی لاعلمی یا کم عقلی کی بنیاد پر جلدی سے شرک کا فتویٰ لگا دیتے ہیں، حالانکہ رجال الغیب کو سمجھنا ہو تو قرآن وسنت میں مکمل رہنمائی موجود ہے: فالمدبرات امرا ” ایسے فرشتے جو امور کی تدبیر میں لگے رہتے ہیں۔ یعنی بارش برسانا تو اللہ جل شانہ کا کام ہے، لیکن بارش کب اور کہاں برسانی ہے، اس کام پر فرشتہ مقرر ہے۔ رزق دینا اللہ جل شانہ کی شان ہے، لیکن مخلوق تک رزق پہنچانے پر فرشتے مقرر ہیں۔ اولاد دینا اللہ جل شانہ کے اختیار میں ہے، لیکن حاملہ عورت کے پیٹ میں روح پھونکنے پر فرشتے کی ڈیوٹی لگی ہوئی ہے۔ بالکل اسی طرح رجال الغیب اولیائے کرام کیلئے مخصوص ڈیوٹیاں ہوتی ہیں، جو وہ پوری ذمہ داری سے نبھانے میں مصروف رہتے ہیں۔ اہل بیت کے شہسوار حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حضرت خضر علیہ السلام اور حضرت الیاس علیہ السلام دونوں ہر سال موسم حج میں ملاقات کرتے ہیں اور ان کلمات پر علیحدہ ہوتے ہیں: بسم اللہ ماشاء الله لا يسوق الخير الا الله ما كان من نعمة فمن الله بسم الله ماشاء الله لا يصرف السوء الا الله ماشاء الله لا حول ولا قوة الا بالله یہ حدیث بیان کر کے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جو شخص ان کلمات کو صبح و شام تین مرتبہ پڑھے گا، اللہ تعالیٰ اسے غرق ہونے سے ، جل جانے سے، چوری ہونے سے ، شیطان سے، بادشاہ کے ظلم سے، سانپ سے اور بچھو سے محفوظ رکھے گا (دار قطنی صفحه ۲۲۵، تاریخ ابن عساکر صفحه ۷۴۰، تہذیب تاریخ دمشق صفحه ۱۵۵، اتحاف السعادۃ صفحہ ۱۱۲، البدایہ والنہایہ صفحه ۳۳۳، کنز العمال صفحه ۳۴۰، در منشور صفحه ۲۴۰، لسان المیزان صفحه ۹۲۰، شرح السنه صفحه (۴۴۳) حوالہ کتاب: تاریخ جنات و شیاطین صفحہ 225 مصنف: مولانا امداد اللہ اور جامعہ اشرفیہ لاہور ( مکتبہ دیوبند) ناشر: دار المعارف تحصیل جلال پور، ملتان)

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025