تسبیح خانہ میں بتائے عمل کی حقیقت جانیے! جس کی گواہی گیارہ مستند احادیث اور اکابرؒدے رہے !

سالہاسال سے تسبیح خانہ میںایام بیض (چاند کی 13،14،15)کو روزے رکھنے کی ترغیب دی جاتی ہے یہ ایک مسنون و مستحب عمل ہے، بڑی فضیلت کا حامل ہے ،اس کی برکت سے زندگی میں بہت خوشحالی اور برکتیں آتی ہیں ، مشکلات حل ہوتی ہیں جس پر بہت ہی زیادہ لوگوں کے مشاہدا ت ہیں اور کیوں نہ ہوںکہ احادیث مبارکہ میں ایام بیض کی بہت فضلیت آئی ملاحظہ فرمائیں جس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ تسبیح خانہ کا ہر عمل قرآن وسنت تعلیمات اکابرؒ سے جڑا ہے اور اسی وجہ سے یہاں آنے والا شخص رنگا جاتا ہے ۔ (1)۔ ترمذی شریف میں مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جس نے ہر مہینہ تین روزے رکھے گویاکہ اس نے صوم الدہر یعنی پوری زندگی مسلسل روزے رکھے۔ (سنن الترمذي 3/ 134قال أبو عيسى: هذا حديث حسن صحيح۔صحيح البخاري: طوق النجاة ج3/ص 41) (2)۔ صحیح ابنِ خزیمہ اور سننِ نسائی میں مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خرگوش کا گوشت لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے تناول فرمانا شروع کیا اور صحابہ رضی اللہ عنہم سے بھی کھانے کا فرمایا، ایک شخص نے عرض کیا کہ میرا روزہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سےفرمایا کونسا روزہ؟ توانھوں نے عرض کیا: مہینے کے تین روزے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بطورِ ترغیب) ان سے فرمایا کہ: "اگر تم نے روزے رکھنے ہیں تو ایامِ بیض یعنی 13،14اور15 کو رکھا کریں۔ (صحيح ابن خزيمة 2/ 1019) (3)۔ سننِ نسائی کی ایک دوسری روایت میں حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایامِ بیض کے تین دن یعنی 13،14،15تاریخ کو روزہ رکھنے کا حکم فرمایا۔ (سنن النسائي 4/ 223) (4)۔حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ بيان كرتےہيں:مجھے میرے جانی دوست (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے کہ موت سے پہلے ان کو نہ چھوڑوں: ہر مہینہ میں تین دن روزے۔ چاشت کی نماز اور وتر پڑھ کر سونا۔ (صحيح البخاري:1178) (5)حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضي اللہ تعالي عنہما بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلي اللہ نے مجھے فرمايا: ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھ لیا کرو، کیونکہ ہر نیکی کا بدلہ دس گنا ملے گا اور اس طرح یہ ساری عمر کا روزہ ہو جائے گا۔ (صحيح البخاري:1975) (6)۔رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے: كيا ميں تمہيں سينہ كے دھوكہ اور وسوسہ كو ختم كر دينے والى چيز كے متعلق نہ بتاؤں ؟ ہر ماہ كے تين روزے ركھنا ۔ (صحيح النسائي:2384) (7) آپ ﷺ نے فرمایاکہ رَمضان کے روزے اور ہر مہینے میں تین دن کے روزے سینے کی خرابی(یعنی جیسے حسد و نفاق) دُور کرتے ہیں ۔ (مُسنَد اِمَام اَحْمَد ج۹ص۳۶حدیث۲۳۱۳۲) (8 ) آپ ﷺ نےفرمایا کہ جس طرح تم میں سے کسی کے پاس لڑائی میں بچاؤ کے لئے ڈھال ہوتی ہے اسی طرح روزہ جہنَّم سے تمہاری ڈھال ہے اور ہر ماہ تین دن روزے رکھنا بہترین روزے ہیں ۔ ‘‘ (ابنِ خُزَیْمہ ج۳ص۳۰۱حدیث۲۱۲۵) (9) آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس سے ہوسکے ہر مہینے میں تین روزے رکھے کہ ہر روزہ دس گناہ مٹاتا اور گناہ سے ایسا پاک کردیتا ہے جیسا پانی کپڑے کو۔ (مُعْجَم کَبِیْر ج۲۵ص۳۵حدیث۶۰) (10)۔آپ ﷺ نے ابوذررضی اللہ سے فرمایا:ابوذر!جب تم ہرماہ کے تین دن کے صیام رکھو تو 13،14،15 تاریخ کو رکھو۔ (صحيح الترمذي:761) (11)۔آپ ﷺ چار چیزیں نہیں چھوڑتے تھے، عاشور۱ کا روزہ اور عشرئہ ذُوالْحِجَّہ کے روزے اور ہر مہینے میں تین۳ دن کے روزے اورفجر(کے فرض ) سے پہلے دو۲ رَکْعَتَیں (یعنی دوسُنَّتیں ) ۔ (نَسَائی ص۳۹۵ حدیث۲۴۱۳) علمائے کرام کے اقوال (1) ۔شیخ علامہ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے:آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرو سفر میں ایامِ بیض (13۔14۔15) كا روزہ نہیں چھوڑا كرتے تھے۔ ( نَسَائی ص۳۸۶ حدیث۲۳۴۲السلسلة الصحيحة:580) (2)۔ہر مَدَنی ماہ (یعنی سن ہجری کے مہینے) میں کم ازکم تین۳ روزے ہر اسلامی بھائی اور اسلامی بہن کو رکھ ہی لینے چاہئیں ۔ اس کے بے شمار دُنیوی اور اُخروِی فوائدہیں ۔ بہتر یہ ہے کہ یہ روزے ’’ ایامِ بِیْض ‘‘ یعنی چاند کی 13، 14 اور 15 تاریخ کو رکھے جا ئیں ۔ (فیضان ماہ رمضان ص149،مجلس دعوت اسلامی ) (3)۔شیخ مقبول احمد سلفی حفظہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایام بیض کے روزے رکھنا مستحب ہےیعنی ا ن روزوں کی تاکید آئی ہے کوئی انہیں رکھے تو بڑا اجر پائے گا۔ تین روزوں کا اجر زمانے بھرروزہ رکھنےکے برابر ہے ۔ (مجلس تحقیق الاسلامی ) (4)۔ایام بیض اور دوشنبہ اور پنجشنبہ کا روزہ مسنون ومستحب ہے، حسب ہمت وتوفیق اگر کوئی ان سب روزوں کا یا ان میں سے بعض کا اہتمام کرتا ہے تو فضیلت کی بات ہے۔ (فتویٰ دار العلوم انڈیا 160199) (5)ہر مہینے ایام بیض کے تین روزے رکھنا ، مستحب ہے اور بہت فضیلت کا حامل ہے ۔ (دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی،فتویٰ نمبر :62619) (6)افضل یہ ہے کہ ہر مہینے کے تین روزے ایام بیض یعنی 13،14،15 تاریخ کو رکھے جائیں۔ (درسِ ترمذی: 2/602″) (7) ذی الحجہ میں چونکہ تیرہ تاریخ کو (ایامِ تشریق میں داخل ہونے کی وجہ سے) روزہ رکھنا شرعاً ممنوع ہے، لہٰذا ذی الحجہ میں تیرہ تاریخ کی جگہ سولہ تاریخ کو یا بعد میں کسی تاریخ کو روزہ رکھ لیا کریں۔ (امداد الفتاوی: 2/133″) (8 ) ایامِ بیض (قمری مہینے کی 13، 14، 15 تاریخ) کے روزے مستحب ہیں، ان کا رکھنا فضیلت کا باعث ہے۔اگر کسی شخص کا مستقل یہ روزے رکھنے کا معمول ہے تو یہ انتہائی سعادت کی بات ہے، البتہ اگر کبھی اس سے یہ روزے رہ جائیں تو قضا یا گناہ نہیں ہوگا۔ بلکہ اگر کسی عذر (بیماری یا سفر شرعی) کی وجہ سے رہ جائیں تو احادیثِ مقدسہ کی رو سے ان ایام کے روزوں کا بھی اجر ملے گا۔ (فتوی نمبر : 144004200610دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ) یہ مسنون اعمال ہیں جس کی تسبیح خانہ میں پابندی کرائی جاتی ہے ترغیب دی جاتی ہے اور اللہ کے فضل سے
تسبیح خانہ کے من گھڑت عقیدہ کا بھانڈہ پھوڑنے والی تحریر! کہیں یہ آپ کو نئے شرک میں مبتلا نہ کردے !

تسبیح خانہ کے منبر سے بارہا اس بات کی تلقین اور تعلیم دی گئی کہ جب کبھی بھی روضہ اقدس ﷺ پر حاضری ہوتو مجرمانہ حاضری ہو، نظریں جھکی ہوں، جسم پر کپکپی طاری ہو اور جب سلام پڑھا جائے تونہایت ادب کے ساتھ پڑھا جائے آپ ﷺ اس سلام کوخود سنتے بھی ہیں اور جواب مبارک ارشاد فرماتے بھی ہیں’’ یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے یہ بڑے نصیب کی بات ہے ۔۔۔! ‘‘ اور یہ سلام و جواب تمام مکاتب فکر کے اکابرؒ کی تعلیمات میں مسلمہ ہے ۔ چند مستند حوالہ جات ملاحظہ فرمائیں سید الرسل و خاتم الانبیاء، سیدنا ومولانا محمد ﷺ اپنی قبرِ مبارک میں حیات ہیں اور آپ درود وسلام پڑھنے والوں کے درود و سلام کا جواب دیتے ہیں، یہ بات مسلم ہے اور صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ (1) روضہ اقدس ﷺسے کسی کے سلام کا بلند آواز سے جواب دیا جائے تو یہ ممکن ہے بلکہ اس قسم کے ایک نہیں کئی واقعات موجود ہیں، جن کو اہلِ علم نے اپنی کتابوں میں ذکر کیا ہے، سرِ دست اس سلسلے میں سید احمد رفاعی رحمہ اللہ کا مشہور واقعہ ذکر ہے جو کہ مشہور صوفی بزرگ ہیں، ان کا واقعہ علامہ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ نے ’’الحاوی للفتاوی‘‘ میں نقل کیا ہے : سید احمد رفاعی رحمہ اللہ جب 555 ھ میں حج سے فارغ ہوکر زیارت کے لیے حاضر ہوئے اور قبرِ اطہر کے مقابل کھڑے ہوئے تو یہ دو شعر پڑھے: فِي حَالَةِ الْبُعْدِ رُوحِي كُنْتُ أُرْسِلُهَا … تُقَبِّلُ الْأَرْضَ عَنِّي فَهْيَ نَائِبَتِي وَهَذِهِ نَوْبَةُ الْأَشْبَاحِ قَدْ حَضَرَتْ … فَامْدُدْ يَمِينَكَ كَيْ تَحْظَى بِهَا شَفَتِي ’’دوری کی حالت میں، میں اپنی روح کو خدمتِ اقدس میں بھیجا کرتا تھا، وہ میری نائب بن کر آستانہ مبارک چومتی تھی ، اب جسموں کی حاضری کی باری آئی ہے، اپنا دست مبارک عطا کیجیے، تاکہ میرے ہونٹ اس کو چومیں۔‘‘ ’’اس پر قبر شریف سے دستِ مبارک نکلا اور انہوں نے اس کو چوما۔‘‘ انتھی. (الحاوی للفتاوی ،2/ 314)(177439دارالافتاءدارالعلوم انڈیا) حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ نے فضائل حج میں ’’البنیان المشید‘‘ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ اس وقت تقریباً نوے ہزار کا مجمع مسجد نبوی میں تھا، جنہوں نے اس واقعہ کو دیکھا اور حضور ﷺ کے دستِ مبارک کی زیارت کی، جن میں حضرت محبوبِ سبحانی قطبِ ربانی شیخ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ کا نام نامی بھی ذکر کیا جاتا ہے۔ (فضائل حج ص 197، آداب زیارت) (2) سید نور الدین ایجی شریف عفیف الدین رحمہ اللہ کے والد ماجد کے متعلق لکھا ہے کہ جب وہ روضہ مقدسہﷺ پر حاضر ہوئے اور عرض کیا "السلام علیک أیها النبي ورحمة الله وبرکاته” تو سارے مجمع نے جو وہاں حاضر تھا سناکہ قبر شریف سے’’وعلیک السلام یا ولدي‘‘ کا جواب ملا۔ (الحاوی للفتاوی ،2/ 314) (3) شیخ ابو نصر عبد الواحد بن عبد الملک بن محمد بن ابی سعد الصوفی الکرخی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں حج سے فراغت کے بعد زیارت کے لیے حاضر ہوا، حجرہ شریفہ کے پاس بیٹھا تھا کہ شیخ ابوبکر دیار بِکری رحمہ اللہ تشریف لائے اور مواجہ شریفہﷺ کے سامنے کھڑے ہوکر عرض کیا ’’السلام علیک یا رسول الله‘‘ تو میں نے حجرہ شریفہ کے اندر سے یہ آواز سنی’’وعلیک السلام یا أبابکر‘‘اور ان سب لوگوں نے جو اس وقت حاضر تھے اس کو سنا۔ (الحاوی للفتاوی ،2/ 314) حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ نے ’’فضائل حج‘‘ اور ’’فضائل درود شریف‘‘ میں اس طرح کے کئی واقعات کئی کتابوں سے نقل کیے ہیں، لہٰذا اس سے معلوم ہوا کہ اولیاء اللہ کے لیے اس قسم کے واقعات کا پیش آجانا کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ (4) حضرت شیخ الحدیث فرماتے ہیں کہ میں نے ملا جامی رحمہ اللہ کی کتاب ’’یوسف زلیخا ‘‘ اپنی دس سال کی عمر میں والد صاحب سے پڑھی اور ان ہی سے یہ قصہ سنا کہ حضرت مولانا جامی رحمۃ اللہ علیہ یہ نعت (جو یوسف زلیخا نامی کتاب کے شروع میں ہے) لکھنے کے بعد جب ایک مرتبہ حج کے لیے تشریف لے گئے ان کا ارادہ یہ تھا کہ روضہ اقدس کے پاس کھڑے ہوکراس نظم کو پڑھیں گے، چناچہ جب حج کے بعد مدینہ منورہ حاضری کا ارادہ کیا تو امیر مکہ نے خواب میں حضور ﷺ کی زیارت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں ان سے ارشاد فرمایا کہ اس کو (یعنی جامی کو ) مدینہ نہ آنے دی. امیرِ مکہ نےممانعت کردی، مگر ان پر جذب وشوق اس قدر غالب تھا کہ یہ چھپ کر مدینہ منورہ کی طرف چل دیے، امیرِ مکہ نے دوبارہ خواب دیکھا، حضور ﷺنے فرمایا وہ آرہا ہے اس کو یہاں نہ آنے دو، امیرِ مکہ نے آدمی دوڑائے اور ان کو راستہ سے پکڑوا کر بلایا ، ان پر سختی کی اور جیل خانہ میں ڈال دیا، اس پر امیرِ مکہ کو تیسری مرتبہ حضورِ اقدس ﷺ کی زیارت ہوئی ، حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا یہ کوئی مجرم نہیں ہے، بلکہ اس نے کچھ اشعار کہے ہیں، جن کو یہاں آکر میری قبر پر کھڑے ہوکر پڑھنے کا ارادہ کررہا ہے، اگر ایسا ہوا تو قبر سے مصافحہ کے لیے ہاتھ نکلے گا جس میں فتنہ ہوگا، اس پر ان کو جیل سے نکالا گیا اور بہت اعزاز واکرام کیا گیا۔ (فضائل درود شریف ص 198) (5) ’’الجمعیۃ، شیخ الاسلام نمبر‘‘ میں اس طرح مذکور ہے : مشہور عالم اور بزرگ مولانا مشتاق احمد انبیٹھوی مرحوم نے بیان فرمایا کہ ایک بار زیارتِ بیت اﷲ سے فراغت کے بعد دربارِ رسالت میں حاضری ہوئی تو مدینہ طیبہ کے داورانِ قیام مشائخِ وقت سے یہ تذکرہ سناکہ اِمسال روضہ اطہر سے عجیب کرامت کا ظہور ہوا ہے، ایک ہندی نوجوان نے جب بارگاہِ رسالت میں حاضر ہو کر صلاۃ وسلام پڑھا تو دربارِ رسالت سے ”وعلیکم السلام یا ولدي“ کے پیارے الفاظ سے اس کو جواب ملا۔ اس واقعہ کو سن کر قلب پر ایک خاص اثر ہوا۔ مزید خوشی کا سبب یہ بھی تھا کہ یہ سعادت ہندی نوجوان کو نصیب ہوئی ہے۔ دل تڑپ اٹھا اور اس ہندی نوجوان کی
عبقری والوں کو برکت ہیضہ تونہیں ہوگیا ۔۔۔! کیا جانور سے بھی برکت مل سکتی ہے ؟

عبقری کے برکتی ٹولے کا علمی تعاقب تسبیح خانہ کا موضوع ہی برکت کی تلاش ہے، تسبیح خانہ لاہور ان ہی چیزوں کو بیان کرتا ہے جن کی وجہ سے زند گی خوشحال اور موت بے مثال ہوجائے، زندگی کو خوشحال بنانے میں جہاں دیگر ذرائع وا عمال ہیں وہاں برکتوں کے فیصلے کرانے میں بکریاں پالنا بھی ہے۔لوگوں کے ذہن میں سوال آتا ہو گاکہ عبقری والوں کو برکت کا ہیضہ تونہیں ہوگیا ۔۔۔!کیا جانور سے بھی برکت مل سکتی ہے ۔۔۔! تو اس کا جواب ہم احادیث مبارکہ کی روشنی میں دیتے ہیں کہ برکتوں کے اس نظام کا فیصلہ عبقری والوں نے نہیں کیا بلکہ ڈیڑھ ہز ار سال قبل بارگاہ نبوت ﷺ کی زبان اطہر سے یہ برکت بیان کی گئی ہے چند حوالہ جات ملاحظہ ہوں : (۱)جس گھر میں 3بکریاں ہوں اس گھر میں فرشتے صبح تک دعائے رحمت کرتے ہیں(ابن سعد)۔ (۲)اللہ پاک نے معیشت بکری اور کھیتی میں رکھی ہے (ابن ابی الدنیا)۔ (۲)بکری کی خدمت کرو کیونکہ یہ جانور جنت میں سے ہے۔ بکری والوں میں سکینہ اور وقار ہے(مجمع)۔ (۴)آپ ﷺ نےفرمایا کہ ایک بکری ایک برکت، دوبکریاں دو برکت تین بکریاں تین برکتیں ہیں(ادب المفرد)۔ (۵)آپ ﷺ نےبکریوں کےساتھ بھلائی کی وصیت فرمائی کیونکہ یہ کمزور جانو رہے۔ (طبرانی) بکریوں میں برکت پر فتویٰ بکریاں گھر میں برکت کا باعث ہیں، یہ بات تو مختلف روایات میں موجود ہے،۔ بکریوں کے بابرکت ہونے کا ذکر مختلف کتابوں میں موجود ہے۔البتہ امام طبرانی نے ایک روایت صحیح سند کے ساتھ نقل کی ہے کہ حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گھر میں بکریاں پالا کرو، ان میں برکت ہے۔: عن أم هانيء أن النبي صلى الله عليه و سلم قال: اتخذوا الغنم فإن فيها بركةً.” (المعجم الکبیر للطبرانی:۲۴/۴۲۶، رقم الحدیث :۱۰۳۹) وضاحت :نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بکریوں میں برکت کا ارشاد فرمایا ہے اور اس وجہ سے ان کے پالنے کی ترغیب دی ہے۔ فقط واللہ اعلم (ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن،فتوی نمبر :144104200774)تاریخ اجراء :21-12-2019 مجلس التحقیق الاسلامی محدث فورم کا فتویٰ 1۔ اُم ھانی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اُن سے فرمایا ﴿اتَّخِذِي غَنَمًا فَإِنَّ فِيهَا بَرَكَةً :::تُم بکریاں لو (یعنی بکریاں پالو اور اُن کی تجارت کرو ) کہ بکریوں میں برکت ہوتی ہے۔ (سنن ابن ماجہ /حدیث 2304/کتاب التجارات /آخری باب اتخاذ الماشیّۃ ، السلسلۃ الصحیحۃ /حدیث 773،) 2۔ مسند احمد میں ثقہ رواۃ سے موقوفاً مروی ہے :وہب بن کیسان فرماتے ہیں کہ میرے والد سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے ،تو سیدنا ابو ہریرہ نے پوچھا کہاں کا ارادہ ہے ،تو میرے والد نے عرض کیا کہ میری کچھ بکریاں ہیں (ان کے پاس جارہا ہوں ) تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اچھا ہے ، آپ ان بکریوں سے مٹی جھاڑا کیجئے ، اور ان کی رہائش کو صاف ستھرا رکھیئے ،اور ان کے پاس نماز بھی پڑھ لیا کیجئے، کیونکہ بکریاں جنت کے جانوروں میں سے ہیں ۔ (مسند احمد 9625 ) (رجاله ثقات رجال الشيخين ،الذهبي في "السير” 5/226۔ أخرجه مالك في "الموطأ” برواية يحيى 2/933، وبرواية أبي مصعب الزهري (1965) ، ومن طريقه المزي في ترجمة حميد من "تهذيب الكمال” 7/390، وأخرجه البخاري في "الأدب المفرد” (572) عن إسماعيل بن أبي أويس، كلاهما (مالك وإسماعيل) عن محمد بن عمرو بن حلحلة، عن حميد بن مالك، عن أبي هريرة وفيه قصة. وهذا إسناد صحيح) 3۔ نبی مکرم ﷺ کی چچا زاد سیدہ ام ھانی رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا : اے ام ھانی بکریاں پالو کیونکہ یہ شام کو خیر کے ساتھ آتی ہیں اور صبح خیر کے ساتھ جاتی ہیں "۔ (مسند احمد 26903،حديث صحيح) 4۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: تم لوگ بکری کے ٹھکانے میں نماز پڑھو اور اسکی ناک سے بہنے والا پانی صاف کرو یا مٹی صاف کردوکیونکہ یہ جنت کے حیوانات میں سے ہیں۔ (صحيح الجامع:3789) 5۔ سیدنا عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”بکری جنت کے جانوروں میں سے ہے “۔ (ابن ماجہ، کِتَاب التِّجَارَاتِ،بَاب اتِّخَاذِ الْمَاشِیَۃِ) عبقری تو ایک ڈاکیہ ہے جو قرآن وسنت اور تعلیمات اکابرؒ کے پیغامات آپ تک پہنچا رہا ہے ۔
درخت پر تعویذلٹکانے کی حقیقت کیا ہے؟ عبقری کے نئے فتنے کا پول کھل گیا!

جب سے عبقری سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ چلی ہے جس میں تعویذ درخت پر باندھنے کا ذکر ہے، کچھ کم علم رکھنے والے مخلصین اس کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں، اس کو عبقری کا خود ساختہ بتا رہے ہیں۔ایسے افراد ہمارے اکابرینؒ کی زندگی سے ناآشنا ہیں۔ ہمارے اکابرینؒ کی کیا تعلمات ہیں اوروہ مخلوق خدا کو راحت پہنچانے کے لیے کن کن طریقوں کو اپنایا کرتے تھے؟ آئیں آپ کو چند مثالیں پیش کرتا ہوں۔ 1- کتاب’’ آسان عملیات و تعویذات‘‘ کے صفحہ نمبر 178 پر علامہ شیخ ابو العباس احمد بن علی بونی ؒ کا اسماء الحسنیٰ ؒ پر مشتمل ایک تعویذ لکھا ہے، جس میں انھوں نے نقش کو مریض جہاں لیٹا ہے وہاں لٹکانے کا فرمایا ہے۔اس سے مریض صحت یاب ہو جائے گا۔ (بحوالہ کتاب: آسان عملیات و تعویذات، مرتب: اعجاز احمد خاں سنگھانوی، ص 178) 2-کتاب ’’آسان عملیات و تعویذات ‘‘کے صفحہ نمبر 238 پر ایک نقش اور لکھا ہے جو کالے کپڑے میں موم جامہ کرکےگھر میں لٹکانا ہے۔۔ (بحوالہ کتاب: آسان عملیات و تعویذات، مرتب: اعجاز احمد خاں سنگھانوی، ص 178) 3۔اسی طرح’’ حکیم الامت‘‘ نےاپنی کتاب’’ اعمال قرآنی‘‘ میں اس طرح کے بے بہا عملیات کو ذکر کیا ہے۔ اس طرح ’’گنجینئہ اسرار‘‘ میں ’’شیخ الحدیث مولانا انور شاہ کاشمری رحمۃ اللہ علیہ‘‘ کے بے شمار اس طرح کے عملیات کا ثبوت ملتا ہے۔ اسی طرح’ ’علامہ شیخ علی بونی رحمۃ اللہ علیہ ‘‘اپنی کتاب ’’شمش المعارف ‘‘میں اس قسم کے بہت سارے عملیات کا ذکر کرکے اس بات کا ثبوت دیا ہے کہ سارا کچھ شرک نہیں بلکہ عین توحید ہے۔ اسی طرح علامہ’’غزالی رحمۃ اللہ علیہ‘‘ کی کتاب میں اس طرح کے عملیات بے بہا ملتے ہیں اور ہمارے بہت سے محدثین اور مفسرین اور عاملین حضرات کی کتابوں میں یہ عام دستور ہے اور اس طرح کے عملیات بہت زیادہ تعداد میں ملتے ہیں۔ درج بالا باتوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس طرح کے عملیات ہمارے اکابرینؒ کی زندگی میں بے بہا ملتے ہیں۔جن کو انھوں نے مخلوق خدا کو راحت پہنچانے کے لیے استعمال کیا ۔عبقری بھی دن رات مخلوق خدا کے مسائل، دُکھ اور پریشانیوں کو حل کرنے میں دن رات لگا ہے، کبھی کس انداز میں اور کبھی کس انداز میں،یہ سب اسباب ہی ہیں، مسب الاسباب اللہ جل شانہٗ کی ہی ذات ہے۔ اللہ مجھے اور آپ کو اکابرین ؒ کی طرز پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور اکابرینؒ کی صحیح فہیم اور فراصت عطا فرمائے۔ آمین!
آخر عبقری کو الہام کہاں سے ہوتا ہے ؟ پول کھل گیا!

لوگ کہتے ہیں کہ عبقری والے پتہ نہیں کہاں کہاں سے من گھڑت باتیں لاتے ہیں جس کا ثبوت قرآن سے ملتا ہے اور نہ حدیث سے، یہ اولیائے کرام کی طرف منسوب من گھڑت الہامات ہوتے ہیں۔ تو محترم قارئین! یہ الہامات کا سلسلہ عبقری کا خود ساختہ نہیں بلکہ ہمارے معتمد علمائے کرام میں اس کی بے شمار مثالیں موجود ہیں ایک ایسے ہی مسند قال پر بیٹھے صاحب حال بزرگ کے الہام کا تذکرہ شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم کی زبانی پڑھیے اور اپنی کم علمی کا رونا روئیے۔۔۔۔! حدیث’’مسلسل زمانی‘‘کے بارےمیں حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم اپنا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں، جو انہوں نے اپنی کسی کتاب میں لکھا ہے، فرماتےہیں کہ میں ایک مرتبہ جدہ میں کسی کانفرنس میں شریک تھا، مجھے چار پانچ گھنٹے کا وقت مل گیا، میں نے ٹیکسی لی اور عمرے کیلئے چلا گیا، عمرے پر جانے کے بعد جب سیڑھیوں سے اتر رہا تھا تو وہاں ایک طالب علم میرے انتظار میں کھڑا تھا، اس نے مجھ سے کہا: آپ کو شیخ یاسین فادانی یاد فرمارہے ہیں اور انہوں نے مجھ سے کہا ہے کہ آپ کو فلاح جگہ مولانا تقی صاحب دامت برکاتہم ملیں گے، ان کو میرے پاس بلائیے۔ شیخ یاسین فادانی کو اساتذہ جانتے ہیں شاید آپ نہیں جانتے ہوں گے، وہ جامع المسانید تھے، بڑے بڑے مشائخ ان کے پاس حدیث کی سند لینے جاتے تھے، اصلا ً انڈونیشاکے تھے اور مکہ مکرمہ میں مقیم تھے۔ مولانا تقی صاحب دامت برکاتہم طالب علم سے فرمانے لگے: شیخ کو کیسے پتہ چلا کہ میں آیا ہوں؟ طالب علم نے جواب دیا: یہ تو مجھے معلوم نہیں لیکن شیخ نے مجھے یہ بتایا ہے کہ آپ فلاں دروازے کے پاس کھڑے ہوجائیں، وہاں آپ کو تقی صاحب دامت برکاتہم ملیں گے، ان کو لائیے گا۔ جب مولانا تقی صاحب دامت برکاتہم شیخ کے پاس پہنچے تو شیخ یاسین فادانی صاحب نے فرمایا: اصل میں میرے پاس ایک حدیث ’’مسلسل بیوم عاشورا‘‘ ہے اور آج عاشورا کا دن ہے، میں نے سوچا کہ آپ کو بلائوں اور آپ کو ’’حدیث مسلسل بیوم عاشورا ‘‘ کی اجازت دوں، اس لیے کہ یہ دن سال میں ایک مرتبہ آتا ہے معوم نہیں آئندہ سال آپ زندہ ہوں گے یا نہیں؟ میں زندہ رہوں گا یا نہیں؟ زندہ ہوں گے تو یہاں موجود ہوں گے یا نہیں؟ اس لیے میں نے آپ کو تکلیف دی، مولانا تقی صاحب دامت برکاتہم نے فرمایا: کہ حضرت! آپ کو پتہ کیسے چلا کہ میں آیا ہوں؟ وہ فرمانے لگے: بس باقی باتوں کو چھوڑ دیں، آپ حدیث کی اجازت لیں۔ کبھی کبھی اللہ تعالیٰ الہام فرماتے ہیں اور وہ الہام اعلیٰ درجے کا ہوتا ہے۔ (ماہنامہ بینات فروری 2021 ءجمادی الاخریٰ ۱۴۴۲ ھ ) عبقری میں بزرگوں کےالہامات کی داستان کوئی کہانی نہیں بلکہ ایک سچی حقیقت ہے !
عبقری کا کرشماتی ٹوپی /ڈوپٹہ بدعت ‘ شرک‘دھوکہ یا حقیت؟

آئیے! صحابہ ؓاور اکابرینؒ کی سچی زندگی کے سچے حوالے پڑھیں! www.facebook.com/watch/?v=828359197820195 عبقری ہجویری محل کے کرشماتی ٹوپی/ ڈوپٹے پربعض لوگ کم علمی کی وجہ سے اعتراض کرتے ہیں کہ ٹوپی میں کوئی نقش وغیرہ لکھ کر پہننا شرک ‘ بدعت ہےاور کسی ولی اللہؒ یا صحابیؓ سے ایسا کرنا ثابت نہیں تو آئیےاپنے علم میں اضافہ کیجئے کہ ٹوپی میں نقش لکھنا عبقری کی نئی ایجاد نہیں بلکہ صحابہ ؓ اوراولیاء اللہؒ کا طرز عمل ہے۔ صحابہ کرامؓ کا ٹوپی میں تبرکات اورتعویذ کا استعمال: آئیے!حضرت عمرؓ کی بارگاہ سے حقیقت جانئے! قیصرِرُوم نے حضرتِ عمرفاروقِ اعظم ؓ کو خط لکھاکہ مجھے دائِمی دردِسرکی شکایت ہے ۔اگرآپ کے پاس اِس کی دواہوتوبھیج دیجئے !حضرت ِعمرفاروقِ اعظم ؓ نے اُس کوایک ٹوپی بھیج دی۔ قیصرِرُوم اُس ٹوپی کوپہنتاتو اسکا درد ِسر ختم ہوجاتااورجب سرسے اُتارتا تودردِ سرپھرلوٹ آتا ۔ اسے بڑا تعجُّب ہوا ۔ آخرکاراُس نے اس ٹوپی کو اُدھیڑا تو اس میں سے ایک کاغذ برآمدہوا جس پر بسم اللّٰه الرحمن الرحیمِ لکھاتھا ۔ ( تَفسیرِ کبِیر ، ج1،ص155،‘مصنف علامہ فخرالدین رازی ؒ) سیف اللہ کا لقب پانےو الےحضرت خالد بن ولیدؓ کی طاقت کا راز! جنگ یرموک کے موقع پر حضرت خالد بن ولیدؓکی ٹوپی وہاں گم ہو گئی،بہت تلاش کے بعد وہ مل گئی، جس سے آپ کو اطمینان اور سکون میسر آیا، آپ کے ساتھیوں نے اس کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: "رسول اللہ ﷺنے جب عمرہ کیا تو اپنے بال مبارک منڈوائے، اس وقت لوگوں نے آپ کے موئے مبارک لینے میں جلدی کی، میں نے آپ کی پیشانی کے بال حاصل کر لئے پھر میں نے ان موئے مبارک کو اس ٹوپی میں رکھ دیا۔ ہر میدان جنگ میں اس ٹوپی کو پہن لیتا ہوں، اللہ تعالیٰ ان کی برکت سے مجھے فتح و نصرت سے ہمکنار کرتا ہے۔ (مستدرک حاکم صفحہ:299 ‘جلد 3)(مسند ابو یعلی :7183) (البداية والنهاية:7/ 113)(مجمع الزوائد، ص:430،431، ج:9، حدیث: 1588)( الشفاء بتعريف حقوق المصطفيٰ، مصنف : علامہ قاضي عياض مالکیؒ، ج 2 :ص 619) ( عمدة القاري، جلد 3 :صفحہ 37،. مصنف: علامہ عينيؒ) جو شخص اللہ الصمد کا نقش اپنے گھر میںرکھے یا اپنے پاس (ٹوپی ‘امامہ یا ڈوپٹہ )میں رکھے اس کو کچھ درد اور اذیت نہ پہنچے گی اور دشمن نقصان نہ پہنچا سکے گا۔ (بحوالہ کتاب: وظائف الصالحین اضافہ شدہ ایڈیشن،مکتبہ شہید السلام ،اسلام آباد پاکستان) (مئولف: مولانا اقبال قریشی)(پسند فرمودہ:مولانا ابو القاسم نعمانی مہتہم دارالعلوم انڈیا۔۔مولانا محمد سلمان الحسنی ناظم جامعہ مظاھرہ العلوم سہارنپور ،داماد شیخ الحدیث مولانا ذکریاؒ۔۔الشیخ عبد الرحمٰن الشیبی،مولانا محمد مکی حجازی شیخ حرم بیت اللہ) اگر کسی کے آدھے سر میں سرد ہوتو اس کیلئے یا اللہ کا نقش باوضو لکھ کر موم جامہ کرکے مریض کے سر میںجس طرف درد ہے اسی طرف باندھ دے۔ انشاء اللہ درد سر سے نجات ہوگی۔ (بحوالہ:آسان عملیات و تعویذات صفحہ57،جلد دہم -کتب خانہ انور شاہ۔مرتب : عامل کامل اعجاز احمد خان سنگھانوی) یہ دعا لکھ کر سر پر باندھے سے درد اور بیماری جاتی رہتی ہے۔ (شرجی،62)(بحوالہ کتاب:غذا ء ُ الارواح المعروف شرعی وظائف۔ مئولف جناب حافظ محمد دائود خان صاحب رحمانی مرحوم (مولوی فاضل)سابق شیخ الحدیث مدرسہ جامعہ اسلامیہ رائیدرگ) جس کے سر میں درد ہو سورۂ الاحزاب کی آیت نمبر56 زعفران سے کپڑے پر لکھ کراس کے سر پر باندھنے سے انشاء اللہ درد جاتا رہےگا۔ (بحوالہ:آسان عملیات و تعویذات صفحہ315،جلد 13 -کتب خانہ انور شاہ۔مرتب : عامل کامل اعجاز احمد خان سنگھانوی) کرشماتی ٹوپی ڈوپٹہ میں موجود روحانی نقش و طلسم کے حوالہ جات درج ذیل ہیں: (1)ارشادالعاملین صفحہ 559 ‘ناشر:ادارہ قریش۔ (2)آسان عملیات وتعویذات جلد 9 ‘صفحہ 139 ‘ناشر:کتب خانہ انور شاہ کراچی۔(3)آئینہ عملیات صفحہ126‘ناشر:دارالاشاعت کراچی (4)عملیات اکابر صفحہ 14 ، حسب فرمائش:سید المشائخ والعلما حضرت سید انور حسین نفیس الحسینیؒ،ناشر:حاجی چوہدری منصور ۔
وقت اور تعداد مقرر کر کے وظیفہ پڑھنے کا ثبوت

جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ وقت اور تعداد مقرر کر کے وظیفہ پڑھنا بدعت ہے انہیں غالباً یہ خبر نہیں ہے کہ ہمارے جن اکابر علمائے عظام نے ہمیں سنت اور بدعت کا فرق سمجھایا حلال و حرام سکھایا اور جائز نا جائز کا حکم ہم تک پہنچایا وہ تمام حضرات شریعت کی تمام احتیاطوں کو ہم سے زیادہ جانتے تھے ۔ انہی معتبر ہستیوں میں سے ایک عظیم محدث حضرت شیخ محمد تھانوی رویشعلیہ ہیں، جو درج ذیل اعمال بتاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ہر عمل اسی خاص وقت اور اسی خاص تعداد کے مطابق کیا جائے۔ عمل برائے استخارہ: پندرہ مرتبہ درود شریف ابراہیمی پڑھ کر اس کا ثواب حضرت شیخ عبد القادر جیلانی ایملیہ کی روح مبارک کو ہدیہ کرے پھر گیارہ سو مرتبہ اخبرنی بحالی ” پڑھ کر سو جائے لیکن یہ عمل صرف جمعرات کے دن کرے اس سے پہلے غسل کرے اور خوشبولگائے اور اس دن کا روزہ بھی رکھے ۔ تمام مشکلات کے حل کیلئے : هر شکل مہم کیلئے فجر کی سنت اور فرض کے درمیان چالیس مرتبہ سورہ فاتحہ پڑھنا بے حد مجرب ہے ۔ جب آمین پر پہنچے تو تین مرتبہ آمین کہے۔ سات نسلوں تک رزق منتقل ہو گا : جناب رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے منقول ہے کہ جس شخص کی روزی کا دروازہ تنگ ہو گیا ہوا سے چاہئے که صبح و شام تین تین مرتبہ اس دعا کو پڑھے۔ اس عمل کا اثر یہ ہو گا کہ اس کی سات نسلیں مخلوق کی محتاج نہ ہوں گی ۔ فیلهِ الْحَمْدُ رَبِ السَّمَوَاتِ وَرَبِّ الْأَرْضِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ وَلَهُ الْكِبْرِيَاءُ فِي السَّمَوَاتِوَالْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (سوره جاثیہ ۳۸) بحوالہ کتاب: عملیات اکابر ، صفحہ ۲۲ مصنف : حاجی راؤ عبد السلام رائے پوری ناشر: مکتبہ سلطان عالمگیر 5 لوئر مال شاہ نفیس میڈ یکون لاہور Waqt Aur Tadaad Muqarrar Kar Ke Wazifa Parhnay Ka Subot 53 فیس بک پر پڑھیں
عبقری وظائف کی حقیقت

کچھ عرصہ پہلے ماہنامہ عبقری میں امتحان میں کامیابی حاصل کرنے کا ایک وظیفہ شائع ہوا جسے ہزاروں سٹوڈنٹس نے آزمایا اور اس کی برکت سے امتحان میں بہترین نمبر حاصل کیے۔ جو لوگ عبقری وظائف پر اعتراض کرتے ہیں کہ یہ خود ساختہ ہوتے ہیں انہیں دیکھنا چاہئے کہ یہ وظیفہ کہاں سے آیا۔ حضرت مولانا مفتی دین محمد صاحب فرماتے ہیں کہ اگر کسی طالب علم کو نتیجہ امتحان کے بارے میں تشویش ہو تو وہ تین دن تک روزانہ با وضو قبلہ کی طرف منہ کر کے بیٹھے اور ایک ہی نشست میں گیارہ ہزار مرتبہ یا حسیب پڑھے تو ان شاء اللہ نتیجہ حسب مراد نکلے گا ( بحوالہ کتاب: خزینتہ الاسرار، صفحہ 35 مصنف: مولانا احمد علی بن شاہ دوست پنجگوری ناشر: کتب خانہ مجید یہ بوہر گیٹ ملتان) قارئین ! ہر سنی سنائی بات پر یقین کرنا کہاں کی دانش مندی ہے؟ ہمیں چاہئے کہ اپنے ا کا بر واسلاف سے بذات خود آشنائی حاصل کریں۔ ان کے وظائف پڑھیں، ان کے عملیات آزمائیں اور ماہنامہ عبقری کی طرح پورے معاشرے میں خیر و برکت پھیلانے کا ذریعہ بن جائیں۔ ہمارے اکابرین نے انہی وظائف کے ذریعے ہی زندگی کے قدم قدم پر اللہ جل شانہ کی مدد حاصل کی تھی ۔ اور تو اور ۔۔۔خود حضور سرور کو تین سالی یہ تم سے بھی قدم قدم پر جو دعا ئیں اور مسنون اعمال ثابت ہیں، ان کا یہی مطلب ہے کہ انہوں نے بھی اسباب کی دنیا میں رہتے ہوئے مستبب الاسباب کی طرف نگاہ جمائے رکھی۔ یہی عبقری کا پیغام ہے کہ اعمال سے بننے اعمال سے پلنے اور اعمال کے ذریعے بچنے کا یقین ہمارے دلوں میں پختہ ہو جائے۔ Ubqari Wazaif Ki Haqeeqat Qisat No 52 Akabir Par Aitmad فیس بک پر پڑھیں
يَا حَسِيبُ سے امتحانات میں یقینی کامیابی

52 قسط نمبر آئیے اکابر سے اس عمل کی حقیقت جانیئے. کچھ عرصہ پہلے ماہنامہ عبقری میں امتحان میں کامیابی حاصل کرنے کا ایک وظیفہ شائع ہوا، جسے ہزاروں سٹوڈنٹس نے آزمایا اور اس کی برکت سے امتحان میں بہترین نمبر حاصل کیے ۔ جو لوگ عبقری وظائف پر اعتراض کرتے ہیں کہ یہ خود ساختہ ہوتے ہیں انہیں دیکھنا چاہئے کہ یہ وظیفہ کہاں سے آیا۔ حضرت مولانا مفتی دین محمد صاحب فرماتے ہیں کہ اگرکسی طالب علم کو نتیجہ امتحان کے بارے میں تشویش ہو تو وہ تین دن تک روزانہ باوضو قبلہ کی طرف منہ کر کے بیٹھے اور ایک ہی نشست میں گیارہ ہزار مرتبہ یا حسیب“ پڑھے تو ان شاء اللہ نتیجہ حسب مراد نکلے گا۔ (بحوالہ کتاب: خزینۃ الاسرار صفحہ 35 مصنف : مولانا احمد علی بن شاه دوست پنجگوری ناشر: کتب خانہ مجید بوہڑ گیٹ، ملتان) قارئین ! ہر سنی سنائی بات پر یقین کرنا کہاں کی دانش مندی ہے؟ ہمیں چاہیئے کہ اپنے اکابر و اسلاف سے بذات خود آشنائی حاصل کریں۔ ان کے وظائف پڑھیں ان کے عملیات آزمائیں اور ماہنامہ عبقری کی طرح پورے معاشرے میں خیر و برکت پھیلانے کا ذریعہ بن جائیں۔ ہمارے اکابرین نے انہی وظائف کے ذریعے ہی زندگی کے قدم قدم پر اللہ جل شانہ کی مدد حاصل کی تھی اور تو اور ۔ ۔ ۔ خود حضور سرور کونین سمی لیلا امینی سے بھی قدم قدم پر جو دعائیں اور مسنون اعمال ثابت میں ان کا یہی مطلب ہے کہ انہوں نے بھی اسباب کی دنیا میں رہتے ہوئے مسبب الاسباب کی طرف نگاہ جمائے رکھی۔یہی عبقری کا پیغام ہے کہ اعمال سے بننے اعمال سے پلنےاور اعمال کے ذریعے بچنے کا یقین ہمارے دلوں میں پختہ ہو جائے۔ Ya Haseebu Se Imtehanaat Mein Yaqeeni Kamyabi Qisat No 52 فیس بک پر پڑھیں
اکابر پر اعتماد ہی سے سلامتی ملے گی

السلام علیکم ! مولانا صاحب ! آپ کا پیج اکابر پر اعتماد مجھے بہت پسند ہے۔ اس پر کی جانے والی تمام پوسٹیں ایک سے بڑھ کر ایک ہیں۔ میرے استاد و شیخ حضرت مولانا سرفراز خان صفدر نے مجھے آخری ایام میں وصیت فرمائی تھی: بیٹا! ایا درکھنا انسان جب تک اپنے اکابر کے ساتھ جڑا رہے حق پر قائم رہتا ہے۔ لیکن جونہی اس کے دل میں اپنے اکابر کے متعلق شک آ گیا راہِ راست سے بھٹک جائے گا۔ حضرت امام جعفر صادق رحمت اللہ بھی اکابر پر اعتماد کے فوائد بیان فرمایا کرتے تھے اور کہتے تھے : اے سفیان ! سلامتی بہت نایاب چیز ہے، حتی کہ اس کو تلاش کرنے کی جگہ بھی مخفی ہے۔ اگر وہ کہیں سے مل سکتی ہے تو ممکن ہے کہ گوشئہ گمنامی میں ملے۔ اگر تمہیں گوشہ گمنامی میں تلاش کے باوجود بھی سلامتی نہ ملے تو ا کا بر سلف صالحین) کےاقوال میں مل جائے گی ( حاجی محمد سعید گوجرانوالہ ) بحوالہ کتاب: تہذیب الاسماء جلد 1 صفحہ 150 ، مصنف: امام نووی رحمت اللہ۔ ناشر: دار الکتب العلمیہ، بیروت ۔ سیر الصحابہ جلد 7 صفحہ 86 Akabir Par Aitmad Hi Se Salamati Milay Gi Qisat NO 51 YouTube