تسبیح خانہ میں سیدہ نفیسہ طاہرہ کی نذر ماننے سے کام تو بن گیا لیکن کہیں ہم شرک و بدعت میں مبتلاء تو نہیں ہو گئے

محترم قارئین! اکابر و اسلاف کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے حضرت شیخ الوظائف دامت بر کاتہم العالیہ نے گزشتہ سال عبقری تسبیح خانے میں آل رسول کی ایک بزرگ خاتون حضرت سیدہ نفیسہ طاہرہ رحمتہ اللہ علیہا کے فضائل و مناقب بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ جو شخص ندرمان لے کہ یا اللہ ! میرا فلاں مسئلہ حل ہو جائے تو میں سیدہ نفیسہ طاہرہ رحمۃ اللہ علیہا کی طرف سے اتنے روپے خیرات کروں گا یا فلاں فلاں نفلی اعمال کا بد یہ ان کی روح مبارکہ کو ایصال ثواب کروں گا تو اس شخص کے ناممکن کام بھی ممکن ہو جاتے ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیںکہ کیا یہ عمل غیر شرعی شرک و بدعت ہے یا قرآن وسنت اور اکابرین امت کی تعلیمات کے عین مطابق ہمارا وہ بھولا ہوا سبق، جسے حضرت شیخ الوظائف دامت برکاتہم العالیہ نے دوبارہ یاد کروادیا۔

آسمان سے عذاب اترچکا ہے بچنا چاہتے ہیں تو جانورپال لیں

آج کل ہر دوسرے گھر میں قربانی کے جانور موجو دہیں ۔اس سلسلے میں ایک بات یاد رکھیےکہ ہماری شریعت کے اندر جانورں کے بھی حقوق اور آداب ہیں اور ہماری بدحالی سے ان جانور وں کی حق تلفی کا بھی بڑا تعلق ہے۔ اسی لیے شیخ الوظائف دامت برکاتہم اپنے بیانات میں جانوروں کی خدمت پر بہت زور دیا کرتے ہیں اور فرماتے ہیں ان بےزبانوںکا خیال رکھاکرو کہ یہ تمہاری زندگی میں برکتیں بھی لاتے ہیں اوربے برکتی کا ذریعہ بھی بنتےہیں ۔ (۱)جس گھرمیں 3بکریاں ہوںاس گھرمیں فرشتے صبح تک دعائے رحمت کرتے ہیں(ابن سعد) ۔ (۲) اللہ پاک نے معیشت بکری اور کھیتی میںرکھی ہے(ابن ابی الدنیا)۔ (۳) بکری کی خدمت کر و کیونکہ یہ جانور جنت میں سے ہے ۔بکری والوں میں سکینہ اور وقار ہے(مجمع الزوائد)۔ (۴)آپ ﷺ نےفرمایا کہ ایک بکری ایک برکت، دوبکریاں دو برکت تین بکریاں تین برکتیں ہیں(ادب المفرد، امام بخاری)۔ (۵)آپ ﷺ نےبکریوں کےساتھ بھلائی کی وصیت فرمائی کیونکہ یہ کمزور جانور ہے(طبرانی)۔ (۶)آپ ﷺنے سفید مرغ پالنے کا حکم فرمایا ہے۔جس گھرمیں سفید مرغ ہوگا جنات ،جادوگر،سانپ، بچھو وغیرہ قریب نہ آئیں گے ،(یعنی اس گھر میں جادو،جنات اور کالے سفلی تعویذات کا اثر نہیں چل سکے گا)(بیہقی)۔ (۷) سفید مرغ آپ ﷺ اور مومنین کا دوست ہے(جامع صغیر)۔ (۸)جو شخص اللہ کی رضا کیلئے گھو ڑا پالے،ا س کا گوبر اور پیشاب قیامت کے دن اس کے ترازومیں تولاجائےگا(بخاری)۔ (۹)جانوروں کی خدمت پر بھی ثواب ہے (بخاری )۔ (اکابر پر اعتما د،قسط نمبر 456 )یادرکھیں !شیخ الوظائف فوائد وفضائل بناتے نہیں بلکہ بتاتے ہیں ۔

سفید مرغ 16 گھروں کی حفاظت کرتا ہے

کچھ عرصہ پہلے تسبیح خانے میں درس کے دوران سفید مرغ کے کمالات بتائے گئے تو کچھ لوگوں نے کہا کہ یہ سب من گھڑت باتیں ہیں۔ بھلا مرغ کا سکھ اور سلامتی سے کیا رشتہ؟ حالانکہ ایسے حضرات کو سوچنا چاہئے تھا کہ بھلا دینی امور کے ساتھ کم عقلی کا کیا رشتہ ؟ 1400 سال پہلے نازل ہونے والی شریعت میں آقائے دو جہاں ستیش یہ تم نے جن باتوں کو کائنات پر بسنے والے انسانوں اور جنات کے سامنے پیش کر دیا، بھلا آج ایسی کون سی تبدیلی آگئی ہے کہ ان باتوں سے انکار کر دیا جائے؟ کیا آج کا انسان روٹی کی بجائے چارہ کھانا شروع ہو گیا ہے؟ کیا آج کا انسان لباس کی بجائے چیتے کی کھال سے جسم ڈھانپنا شروع ہو گیا ہے؟ کیا آج کا انسان زمین کی بجائے جنت الفردوس کا باسی بن گیا ہے؟ اگر ایسا کچھ نہیں ہوا تو پھر جان لیں کہ ہمیں بھی انہی احتیاطوں کی ضرورت ہے جو آج سے 1400 برس پہلے بتائی گئی تھیں۔ الحمد للہ ! عبقری اور تسبیح خانے کا عالمی مقصد یہی ہے کہ مخلوق خدا کو ایسے آزمودہ وظائف اور آسان ٹوٹکے بتائے جائیں، جن کی برکت سے ان کی دنیاوی زندگی بھی خوش حال ہو جائے اور آخرت بھی بہترین۔ امام طبرانی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ لی لی کہ تم نے ارشاد فرمایا: سفید مرغ رکھا کرو، کیونکہ جس گھر میں سفید مرغ ہو، وہاں نہ تو شیطان اس گھر کے قریب ہوگا، نہ جادوگر اور نہ کوئی درندہ ان گھروں کے قریب آئے گا جو اس گھر کے ارد گرد ہیں (رواہ فی الاوسط) امام بیہقی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مرغ نماز کیلئے اذان دیتا ہے اور جو شخص سفید مرغ رکھے گا، اس کی تین چیزوں سے حفاظت کی جائےگی۔1: شیطان کے شر سے۔ 2: جادوگر کے شرسے۔ 3: کاہن کے شرسے (رواہ فی شعب الایمان) امام حارث بن ابی اسامہ رحمۃ اللہ علیہ حضرت ابوزید انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا: سفید مرغ میرا دوست ہے اور میرے دوست کا بھی دوست ہے۔ یہ اپنے مالک کے گھر کی نگہبانی بھی کرتا ہے اور اس کے اردگرد کے سات گھروں کی نگہبانی بھی (مسند حارث) حضرت انس رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: شاخ دار کلغی والا سفید مرغ میرا دوست ہے اور میرے دوست حضرت جبریل علیہ السلام کا بھی دوست ہے۔ یہ اپنے گھر کی بھی حفاظت کرتا ہے اور اپنے پڑوس کے 16 گھروں کی بھی حفاظت کرتا ہے۔ 4 دائیں طرف سے، 4 بائیں طرف سے، 4 سامنے سے اور 4 پیچھے سے (راوہ ابوالشيخ فى كتاب العظمة) حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سفید مرغ کو برا بھلا مت کہو، اس لیے کہ یہ میرا دوست ہے اور میں اس کا دوست ہوں اور اس کا دشمن میرا دشمن ہے۔ جہاں تک اس کی آواز پہنچتی ہے، یہ جنات کو دفع کرتا ہے (رواه ابن حبان)

تسبیح خانہ میں شیرینی تقسیم کر نے کا عمل

تسبیح خانہ میں ابھی کچھ عرصہ قبل لاکھوں سے زائد مرتبہ سورہ اخلاص پڑھوائی گئی اور اس کے بعد شیر ینی تقسیم کی گئی ایک بات یاد رکھیں کہ یہ عمل کوئی دین کا حصہ سمجھ کر یا لازمی سمجھ کر نہیں کیا گیا۔۔۔۔ ہمارے اکا بڑ کی کتابوں میں ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں کہ فلاں عمل کرنے کے بعد اتنی مٹھائی تقسیم کی جائے یا کچھ میٹھا بچوں میں کھلایا جائے اس بات کا تعلق مشاہدے اور عملیات کے فن سے ہے۔ ذیل میں ایک معتمد دارافتاء کا فتوی پیش خدمت ہے جس سے اس شیرینی کے تقسیم کی حقیقت آپ سمجھ جائیں گے۔ سوال: ہر سال ماہ رمضان میں ختم تراویح کے موقع پر مٹھائی، بطور یا دیگر چیزیں تقسیم ہوتی ہیں، یہ کہاں سے ثابت ہیں؟ کیا یہ بدعت کے زمرے میں نہیں آئے گا؟ کیوں کہ اس کو ہر سال پابندی سے منایا جاتا ہے، ٹھیک ہے کہ اس کو دین کا حصہ نہیں سمجھا جاتا لیکن عوام اس کو ضروری تو نہیں سمجھتے؟ کیا صرف اس خیال سے اس کو ترک کرنا کیا صحیح ہے؟ اگر یہ ضروری نہیں تو پھر ہر سال کیوں ہوتا ہے؟ جواب: سنن بیہقی، تاریخ ابن عساکر اور تاریخ ذہبی میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول ہے کہ آپ نے سورہ بقرہ مکمل یاد کرنے کی خوشی میں ایک اونٹ ذبح کر کے لوگوں کی دعوت کی تھی۔ اس واقعہ سے اتنا معلوم ہوا کہ خوشی کے موقع پر اس طرح کا کوئی اہتمام کرنا، جب کہ اس کو ضروری اور اور دین کا حصہ نہ سمجھا جائے، شرعی نقطہ نگاہ سے جائز ہے۔ اس لیے کہ بدعت اس نئے عمل یا عقیدے کو کہا جاتا ہے جس کو ضروری سمجھ کر دین کا حصہ قرار دے دیا گیا ہو، چونکہ یہ عمل کہیں بھی ضروری اور دین کا حصہ سمجھ کر نہیں کیا جاتا ہے، اس لیے اس عمل پر بدعت کا اطلاق نہیں ہوگا۔ اگر کہیں پر لوگوں کے اس عمل کو ضروری اور دین کا حصہ سمجھ بیٹھنے کا شبہ ہو تو اس کو ترک کیا جاسکتا ہے۔ بہرحال اس کو ضروری نہ سمجھا جائے اور مسجد یا وقف فنڈ سے اس کا اہتمام نہ ہو تو ختم پر شیرینی وغیرہ تقسیم کی جاسکتی ہے فقط ۔ (فتوی نمبر : 143508200001 دار الافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن) دار العلوم انڈیا کا فتویٰ تراویح میں ختم قرآن کے موقع پر شیر ینی وغیرہ کی تقسیم فی نفسہ مباح ہے، اگر عمومی چندہ کے بغیر ایک دوا فرادر یاد نمود کے بغیر ،خلوص کے ساتھ اپنی طرف سے تقسیم کر دیں، تو گنجائش ہے، ایسی صورت میں بہتر یہ ہے کہ کوئی خشک چیز ( مٹھائی وغیرہ ) تقسیم کر دی جائے (1440/110T/sd=12-Fatwa:1020) اور جتنی بھی شیرینی یا حلوہ تسبیح خانہ میں آیا وہ تمام کا تمام لوگوں میں تقسیم کر دیا گیا اس میں ایک ایثار اور لوگوں کی خیر خواہی کا بھی سبق تھا.

شیخ الوظائف کے دادا جان ؒ کا بتایا مشکل کشاء وظیفہ

Shaikh ul Wazaif ke Dada Jaan ka wazifa Qisat No 609

یَابَدِیْعَ الْعَجَائِبِ بِالْخَیْرِ یَا بَدِیْعُ Shaikh ul Wazaif ke Dada Jaan ka wazifa Qisat No 609 شیخ الوظائف نے جمعرات کی محفل میں اپنے دادا جان ؒ کا آزمودہ وظیفہ بیان فرمایا جو کئی سالوں سےان کا اور جن کو بھی انہوں نے مختلف مشکلوں ‘ مصیبتوں اور آزمائشوں کےلئےبتایا، سب نے اسےبہت پُر تاثیر اور مجرب پایا۔شیخ الوظائف نے اپنے دادا جان ؒ کا جو وظیفہ بیان فرمایاآئیے اس عمل کے مستند حوالہ جات ملاحظہ فرمائیں۔مشکل کشاء وظیفہ:بارہ روز تک اس دعا کو 1200 مرتبہ پڑھ کر دعا کرنے سےکیسا بھی مشکل کام ہو ان شاءاللہ پورا ہو جائے گا۔ یَابَدِیْعَ الْعَجَائِبِ بِالْخَیْرِ یَا بَدِیْعُ (عمدۃ السلوک‘ حصہ دوم ص399)(بہشتی زیور) مستند مدارس کا فتویٰ سوال :اَٹھرا نامی عورتوں کی بیماری واقعی ہوتی ہے جس میں مبتلا عورتوں کا miscarriage (حمل کا ضائع ہونا) ہو جاتا ہے، یہ بچے فوت ہو جاتے ہیں، اس کی علامات کیا ہیں؟ اور طریقہٴ علاج کیا ہے؟ مجھے یہ دعا حصول اولاد کے لیے پڑھنے کو دی گئی ہے، ۱۱۰۰/ (گیارہ سو) مرتبہ تین مہینہ تک۔ قاری کے مطابق مجھے اَٹھرا ہے یا بدیع العجائب بالخیر یا بدیع اس دعا کا کیا مطلب ہے؟ یہ دعا نہ تو قرآن میں ہے اور نہ حدیث میں ، اس کی کیا حقیقت ہے؟ جواب :بسم الله الرحمن الرحيم ۔مذکورہ بیماری کی علامات وطریقہٴ علاج جاننے کے لیے کسی ماہر طبیب یا حکیم سے رابطہ کریں، حصول اولاد کے لیے مذکورہ دعا پڑھنے میں مضائقہ نہیں، پڑھ سکتی ہیں، یہ دعا اگرچہ قرآن وحدیث میں نہیں لیکن اس کے پڑھنے میں کوئی خرابی نہیں، اس کا معنی ہے کہ اے، عجائب کو انوکھے انداز پر پیدا کرنے والی ذات (مستفاد بہشتی زیور)۔Fatwa: 1374-1346/M=12/1438واللہ تعالیٰ اعلم دارالافتاء،دارالعلوم انڈیا۔ سوال نمبر 62019:مقصد حاجت کے لئے انہیں پڑھ سکتے ہیں ؟ کیا یہ مجرب ہے؟ (۱) یا بدیع العجائب بالخیر یا بدیع، ۱۲۰۰ مرتبہ اکیس دن تک۔ جواب نمبر: 62019۔بسم الله الرحمن الرحيم ۔یہ عمل کرسکتے ہیں، مجرب ہے، یہ عمل تو بہشتی زیور (۹/ ۸۶، اختری) میں بھی مذکور ہے، البتہ اس میں طریقہ یہ لکھا ہے کہ بارہ روز تک روز اس دعا کو بارہ ہزار مرتبہ پڑھ کر ہرروز دعا کیا کرے۔ ان شاء اللہ کیسا ہی مشکل کام ہو پورا ہوجائے گا۔Fatwa ID: 17-9/Sn=2/1437-Uواللہ تعالیٰ اعلم دارالافتاء، دارالعلوم انڈیا ان حوالہ جات سےیہ بات عیاں ہوتی ہے کہ شیخ الوظائف کے آبائواجداد بھی اپنی زندگی میں اکابرین کا عکس لئے ہوئے تھےجس سے وہ خود بھی مستفید ہوئے اور امت کو بھی اس سے خیریں بانٹیں۔شیخ الوظائف کے ابائو اجداد کا اکابرین سے تعلق‘ پیار‘ محبت اور تعاون بے انتہا تھا‘ اس کے حوالہ جات جاننے کے لئے شیخ الوظائف کی تصنیف ’’ میرے خاندانی حالات‘‘ کا مطالعہ کیجئے۔ فیس بک پر پڑھیں

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025