کیا تعویذات بھی مقدمہ جیتا تے ہیں؟

حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ ایک دیہاتی شخص کا کسی ڈپٹی کی عدالت میں مقدمہ تھا۔ اس نے حاجی عابد حسین صاحب رحمہ اللہ سے تعویذ لیا، مگر عدالت میں وہ تعویذ لے جانا بھول گیا۔ جج نے جب اس سے پوچھ گچھ کی تو دیہاتی نے کوئی جواب نہ دیا، بلکہ یہ کہا: ”ابھی ٹھہر جاؤ، گھر سے تپنج (تعویذ) لے آؤں، پھر بتاؤں گا“۔ وہ ڈپٹی جج مسلمان تھا، مگر نیچری ذہنیت رکھتا تھا۔ کہنے لگا: ”اچھا لے آؤ، آج میں بھی دیکھتا ہوں کہ تعویذ کیا کرتا ہے“۔ اس نے دل میں ٹھان لی کہ آج جو بھی ہو جائے، حتیٰ الامکان اس دیہاتی کا مقدمہ بگاڑ دوں گا۔ آخر وہ دیہاتی تعویذ لے آیا اور اپنی پگڑی کی طرف اشارہ کر کے بولا: ”اس میں رکھا ہوا ہے، اب پوچھو“۔ چنانچہ ڈپٹی صاحب نے خوب جرح و قدح کی اور اس کے کیس کو بالکل بگاڑ دیا، حتیٰ کہ فیصلہ بھی اس کے خلاف لکھ دیا، مگر جب سنانے لگا تو اپنے لکھے ہوئے فیصلے کے برعکس الفاظ بول دیے۔ پھر خود حیران ہوا کہ میں نے تو جان بوجھ کر اس کے خلاف فیصلہ کیا تھا، مگر یہ سب کچھ کیسے ہو گیا۔ آخر کار حاجی عابد حسین رحمہ اللہ کی خدمت میں پہنچا اور توبہ کی۔ (بحوالہ: حسن العزیز، صفحہ 73 بحوالہ کتاب: عملیات و تعویذات کے شرعی احکام، صفحہ 51 مصنف: مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ، ناشر: ادارہ تالیفات اشرفیہ بیرون بوہڑ گیٹ ملتان) قارئین! جو لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ تعویذ و عملیات بالکل غیر شرعی عمل ہے، بھلا کاغذ پر لکھی ہوئی آیات یا آڑی ترچھی لکیریں کسی کیلئے شفاء کا ذریعہ کیسے بن سکتی ہیں؟ ان سب حضرات کو اپنی رائے پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ دارالعلوم دیوبند جس سے بلا مبالغہ لاکھوں لوگوں تک قرآن و سنت کا پیغام پہنچا، اس کے بانی حاجی عابد حسین صاحب رحمہ اللہ، حضرت تھانوی رحمہ اللہ کے بقول تعویذ لکھنے اور اس کی تاثیر ملنے کے قائل تھے۔ تھے تو آباء وہ تمہارے ہی، مگر تم کیا ہو؟ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظرِ فردا ہو
kash hm ny b rohani amal seekhy hoty

ماہنامہ "عبقری” کے متعلق ایک دفعہ یہ اعتراض اُٹھایا گیا کہ اس میں روحانی عملیات و ظائف اور تعویزات کثرت سے دیئے جاتے ہیں حالانکہ یہ چیزیں اسبابِ ضعیفہ میں سے ہیں، یعنی قرآن و حدیث کا سب سے ادنیٰ درجے میں استعمال یہ ہے کہ اس کا وظیفہ پڑھا جائے— محترم قارئین! وظائف اور تعویزات چاہے اسبابِ ضعیفہ ہی کیوں نہ ہوں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہر دور میں ان کی اشد ضرورت اور اہمیت رہی ہے۔ حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی $رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: حضرت قطب الارشاد مولانا رشید احمد گنگوہی $رحمۃ اللہ علیہ$ فرمایا کرتے تھے کہ: بعض اوقات تواس بات پر بہت افسوس ہوتا ہے کہ ہم نے تعویذ گنڈے کیوں نہ سیکھے، کیونکہ اس سے لوگوں کو بہت نفع ہوتا ہے۔ ہمارے حضرت شیخ المشائخ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی $رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا تھا کہ میں تمہیں کم سے کم تعویذ مانگے تو اُسے تعویذ دے دیا کروں۔ میں نے عرض کی کہ حضرت مجھے تو کچھ آتا ہی نہیں تو فرمایا: اس وقت جو دل میں آئے لکھ دیا کرو۔ (حضرت مولانا اشرف علی تھانوی $رحمۃ اللہ علیہ$) کو بھی حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی $رحمۃ اللہ علیہ$ نے فرمایا تھا کہ جو تم سے کسی ضرورت کیلئے تعویذ مانگے، تو انکار نہ کرو مرض کی مناسبت سے اُس وقت جو سمجھ میں آئے لکھ دیا کرو۔ (دیکھیں: مجالس حکیم الامت جلد ۲ صفحہ ۶۱) بحوالہ کتاب: عملیات و تعویزات اور اس کے شرعی احکام صفحہ ۴۹؛ مصنف: حضرت حکیم الامت مفتی محمد شفیع ملتان) قارئین! اب بتائیں کہ تعویذات و عملیات کا ہمارے اکابر کی نظر میں کتنا بلند مقام تھا۔ وہ تو اس میدان (روحانی علاج) کو تبلیغ دین کا اہم ذریعہ سمجھیں اور لوگوں کیلئے نفع مند ضرورت خیال کریں اور ہم اس چیز کو گھٹیا، ٹوپی ڈرامہ اور اسباب ضعیفہ کے القاب بپا تی ہیں تو یہ سوچیں کہ ہمارے ان اکابر کی زد میں آکر کس کس کی روح کو تکلیف پہنچتی ہوگی؟ کاش ہم نے بھی روحانی عمل سیکھے ہوتے
ubqari wazaif sy zulm sy nijat
مفتی محمود الحسن گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ بھی عبقری پڑھتے تھے

فقیہ الامت، استاذ الحدیث، مفتی اعظم حضرت مفتی محمود الحسن صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے کسی شخص نے اپنی پریشانیوں کا تذکرہ کر کے تعویذ مانگا۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: روزانہ فجر کی سنت اور فرض کے درمیانی وقت میں یہ وظیفہ پڑھ لیا کرو۔ ان شاء اللہ تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔ اوّل و آخر 11 مرتبہ درود شریف + 41 مرتبہ سورہ فاتحہ مع بسم اللہ بحوالہ کتاب: ملفوظات فقیہ الامتؒ، صفحہ 200 مرتب: مفتی محمد فاروق استاذ جامعہ محمودیہ ناشر: مکتبہ دارالہدیٰ اردو بازار کراچی میرے محترم دوستو! یہی وظیفہ ماہنامہ عبقری میں کئی مرتبہ چھپ چکا ہے اور ہزاروں لوگ اس وظیفے کی برکت حاصل کر کے ناممکن مسائل حل کروا چکے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا مفتی محمود صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے بھی یہ وظیفہ عبقری سے پڑھا ہوا تھا؟ عبقری پر جو اعتراض کیا جاتا ہے کہ اس میں من گھڑت وظائف دیے جاتے ہیں، کیا مفتی محمود صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے وظیفے کو بھی من گھڑت کہا جا سکتا ہے؟
Ahadees mn taweez ka saboot
پرندے بھی انسانوں کی طرح باتیں کرتے ہیں

سوال: کیا ایسا ممکن ہے کہ انسان پرندوں کی زبان سمجھنے لگے علامہ لاہوتی صاحب کے مضمون میں اس قسم کے واقعات بکثرت ملتے ہی۔ جواب یہ مضمون تو قرآن مقدس کی صریح نص سے ثابت ہے کہ ہر چیز اللہ تبارک و تعالیٰ کا ذکر اور تسبیح بیان کر رہی ہے، جن لوگوں کو اللہ رب العزت فطرت سلیمہ اور صفائے قلب عطا فرماتے ہیں وہ ان کی اس زبان کا مشاہدہ بھی فرما لیتے ہیں، علامہ شہاب الدین محمود آلوسی بغدادی جیسے محقق کی تفسیر روح المعانی سے چند جانوروں کی بولیاں لکھی جاتی ہیں جو کہ اہل اللہ پر منکشف ہوئیں : (1) تیتر ” الرحمن على العرش استوى” یعنی اللہ تعالی عرش کے مالک ہیں، پڑھتا رہتا ہے۔ (2) باز "فى البعد من الناس انس” لوگوں سے دور رہنے میں راحت ہے، یہ پڑھتا رہتا ہے۔ (3) گدھ اس انداز میں ہمیں درس عبرت دیتا ہے۔ "یا ابن آدم عش ما عشت فان إخرك الموت” یعنی اے آدم کے بیٹے جتنا جینا ہے جی لے، آخر ایک دن تجھے مرنا ہے ۔ (4) فاختہ کہتی ہے "ياليت الخلق لم يخلق” اے کاش کے مخلوق پیدا ہی نہ ہوئی ہوتی ۔ (5) مور ان الفاظ میں نصیحت کرتا ہے "کما تدین تدان” جیسا کروگے ویسا بھرو گئے۔ (6) مینڈک تسبیح پڑھتا رہتا ہے "سبحان ربی القدوس” پاک ہے میرے پروردگار کی ذات ۔ (7) طوطا دنیا سے آخرت کی طرف اس انداز میں رہنمائی کرتا ہے۔ "ويل لمن الدنيا همة” یعنی برباد ہوا وہ شخص جس نے دنیا کا ارادہ کیا ۔ (8) سنگ خوره ” زبان کے بے جا استعمال کرنے والے لوگوں کو ان الفاظ میں نصیحت کرتا ہے "من سكت سلم” یعنی جو خاموش رہا اس نے نجات پائی ۔ ( تفسیر روح المعانی، مصنف علامہ شہاب الدین محمود آلوسی بغدادی رحمتہ اللہ علیہ ) دراصل یہ تمام روحانی دنیا صفائے قلب کے بغیر سمجھ آہی نہیں آسکتی ۔ ۔ ۔ علامہ لاہوتی صاحب کی زندگی اگر آپ پڑھیں تو وہ کوئی رومانوی اور افسانوی جنات کی کہانی نہیں بلکہ اس کا حاص لوگوں لوگوں کو اعمال والی زندگی اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی طرف مائل کرنا ہے۔