kia tamam Akabir mirzai thy?
amliyat he amliyat
کشف کا ثبوت قرآن وحدیث کی روشنی میں

سوال: مولانا صاحب! کیا کسی کو کشف ہوسکتا ہے؟ عبقری میں ایک کالم چھپتا ہے ”جنات کا پیدائشی دوست“ اس میں کشف القبور، کشف الصدور، کشف الارواح اور کشف الکلام وغیرہ کے واقعات جا بجا ملتے ہیں۔ بھلا کوئی انسان عالم الغیب کیسے ہوسکتا ہے؟ یہ تو سراسر مشرکانہ باتیں لگتی ہیں (سائل: منیر احمد، چکوال) جواب: جنابِ عالی! پہلی بات تو یہ ہے کہ کشف کا معنی وہ نہیں جو آپ کر رہے ہیں، یعنی کوئی بھی انسان واقعی عالم الغیب نہیں ہوسکتا، لیکن جب ہم آیت الکرسی پڑھتے ہیں تو ہمیں یہ الفاظ ملتے ہیں کہ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ (مفہوم) کوئی ذی روح اللہ تعالیٰ کے علم کا احاطہ نہیں کرسکتا، مگر جتنا وہ خود چاہے، کسی کو عطا کردے۔ اسی طرح سورہ کہف میں ارشاد ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ہمارے ایک بندے (حضرت خضر علیہ السلام) کو پایا جسے ہم نے اپنی خاص رحمت سے نوازا اور علم لدنی عطا فرمایا ہوا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ”الْمَرْءُ يَقِيْسُ عَلَى نَفْسِهِ“ انسان ہر کسی کو اپنے جیسا سمجھتا ہے حالانکہ اولیاء اللہ کے دیکھنے، سننے اور سمجھنے کی صلاحیت عام لوگوں سے زیادہ ہوتی ہے۔ شہیدِ بالاکوٹ حضرت مولانا محمد اسماعیل دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کشف کی دلیل میں دو حدیثیں پیش کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا (1) مومن کی فراست سے ڈرو کیونکہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے (2) جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے چالیس دن مختص کردے، تو اللہ تعالیٰ اس کے دل سے اس کی زبان پر حکمت کے چشمے جاری کردیتا ہے (بحوالہ کتاب: عبقات، صفحہ 349 ناشر: ادارہ اسلامیات انارکلی بازار لاہور) اسی طرح علامہ ناصر الدین البانی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک معرکہ جہاد کے دوران حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا کشف بصری (یعنی جنات کے پیدائشی دوست کی طرح آنکھوں کے سامنے سے پردوں کا ہٹ جانا) اور حضرت ساریہ رضی اللہ عنہ کا کشف سمعی (یعنی جنات کے پیدائشی دوست کی طرح میلوں دور سے آواز سن لینا) برحق کہا ہے (دیکھیں کتاب: سلسلہ احادیث الصحيحہ، جلد 3، صفحہ 101) کشف تو صحابہ کرام اور تابعین عظام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے متواتر چلا آ رہا ہے۔ ہمیں چاہئے کہ اللہ تعالیٰ سے شرح صدر کی بھیک مانگیں تاکہ ہمیں دین کی گہری باتوں کی سمجھ آ سکے ورنہ خدانخواستہ ہم دین کے ایسے مسئلے کا انکار کر بیٹھیں گے جو تواتر کی راہ سے ثابت ہو کر ہم تک پہنچا ہے۔
Ubqari k mutanad wazaif
Slam ala nooh 4 oliya ka faisla
Wazaif Quran o Hadith
رُوحانی سُرمہ

عبقری میں بتائے جانے والے من گھڑت وظائف کا ثبوت نہ قرآن سے ملتا ہے، نہ حدیث سے۔ قارئین یہ ایک ایسا سوال ہے، جو اکثر کم علم حضرات کی طرف سے سب سے زیادہ اٹھایا جاتا ہے۔ اگر ہم مجددِ احناف حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی کتابوں کا مطالعہ کریں، تو ان میں درجنوں نہیں، بلکہ سینکڑوں ایسے وظائف ملتے ہیں، جن کا ثبوت نہ قرآن میں ہے نہ حدیث میں۔ صرف اپنے اکابر کی ترتیب پر اعتماد کرتے ہوئے انہوں نے وہ وظائف اپنے ہزاروں شاگردوں اور مریدوں کو بتائے۔ مثلاً ایک جگہ انہوں نے بصارت کی کمزوری دور کرنے کیلئے ایک وظیفہ لکھا ہے کہ اس آیت کو ہر نماز کے بعد تین مرتبہ پڑھ کے انگلی پر دم کریں اور آنکھوں پر پھیر لیں۔ ان شاء اللہ بصارت میں کمی نہیں ہوگی۔ فَكَشَفْنَا عَنكَ غِطَاءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيدٌ (بحوالہ کتاب: اعمالِ قرآنی، صفحہ 17، ناشر: تاج کمپنی لمیٹڈ کراچی/ڈھاکہ) قارئین! اب آپ خود دیکھیں کہ ”سورہ ق“ کی یہ آیت تو قیامت کے ایک منظر کے تناظر میں پیش کی گئی، مگر برسوں پہلے حضرت تھانویؒ نے اسے نظر تیز کرنے کیلئے لکھ ڈالا۔ یہ کیسا دوغلا پن ہے کہ آج یہی عمل اگر عبقری والے شائع کر دیں، تو یہ من گھڑت وظیفہ کہلاتا ہے، اور یہی عمل کسی اور کتاب سے ملے، تو اس کے بیان کرنے والے کو ”حکیم الامت“ کا خطاب دے دیا جاتا ہے۔ خدارا کچھ تو ہوش کے ناخن لیں۔ پہلے یہ تو سوچیں کہ یہ من گھڑت یا اکسیر المجرب وظائف شروع کہاں سے ہوئے تھے۔ کیا حضرت تھانویؒ کے گھر میں بھی ماہنامہ عبقری لگا ہوا تھا؟؟؟
روحانی علاج کرنے والے سارے عامل، یا جھوٹے یا پاگل

سوال: مولانا صاحب! آج کل یوٹیوب پر ایک ویڈیو چل رہی ہے جس پر واضح الفاظ میں لکھا ہوا ہے۔”روحانی علاج کرنے والے سارے عامل، یا جھوٹے یا پاگل“یہ ویڈیو دیکھ کر مجھے نہایت ذہنی کوفت ہوئی۔ اس کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟ (سائل: عدنان یوسف، کوئٹہ) جواب: یہ بات یقیناً اکابر و اسلاف بیزار ذہنیت کی عکاسی کرتی ہے۔ ایسی بات کہنے والوں کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہئے۔ یہ بات صرف وہی شخص کہہ سکتا ہے جس کی آنکھوں کے سامنے پردہ آ گیا ہو۔ کیونکہ اس لایعنی اور فضول منطق کی زد میں ہمارے وہ تمام اکابر و اسلاف آ جاتے ہیں جن کا تقویٰ اور علم عظمتوں کی بلندی کو چھو رہا ہے۔ذیل میں ان چند مشہور شخصیات کے نام لکھے جا رہے ہیں جن کے عملیات، تعویذات اور وظائف ابھی تک مخلوقِ خدا کی خیر خواہی کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔ یہ تمام اکابر عالم، فقیہ اور صوفی ہونے کے ساتھ ساتھ روحانی عامل بھی ہیں۔ اور یہ بات تو قسم اٹھا کر کہی جا سکتی ہے کہ ان میں سے کوئی بھی ہستی نعوذ باللہ جاہل یا پاگل نہیں تھی۔ (1) پیرانِ پیر شیخ عبدالقادر جیلانیؒ (2) حضرت علامہ انور شاہ کاشمیریؒ (3) امام الاولیاء مولانا احمد علی لاہوریؒ (4) امام اہلسنت مفتی احمد الرحمن صاحب (5) مفتی اعظم پاکستان مولانا محمد شفیع صاحبؒ (6) مولانا عبدالرؤف ربانی رحیم یار خان (7) حضرت مولانا محمد یعقوب نانوتویؒ (8) قطبِ عالم حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ (9) حضرت مولانا سائیں محمد عالم (10) حضرت مولانا عبدالکریم قریشی بیر شریف والے (11) مولانا عبدالصمد ہالیجوی (12) مولانا مفتی محمد ولی درویش (بنوری ٹاؤن) (13) مولانا اجمل احمد خان لاہوری (14) مفتی عبداللہ صاحب (دوست شاخ والے) (15) مفتی اعظم مولانا ولی حسن خان ٹونکی (بنوری ٹاؤن) (16) حضرت اقدس مولانا قاضی محمد زاہد الحسینی (اٹک) (17) مناظرِ اسلام مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی (18) مناظرِ ختمِ نبوت مولانا محمد اکرم طوفانی (19) مولانا محمد مسعود ازہر (20) حافظ عبدالقیوم نعمانی (21) مولانا عبدالحمید صاحب (ٹنڈو الہ یار) (22) حضرت چلاسی بابا (ایبٹ آباد) (23) حضرت حاجی فضل رحیم صاحب (24) حاجی محمد فاروق صاحب (سکھر) (25) حاجی عبدالمنان صاحب (مکہ مکرمہ) (26) مفتی محمود الحسن گنگوہی (27) مفتی محمد حسن صاحب (شاہ پور چاکر والے) (28) خواجہ خواجگان خان محمد صاحب (کندیاں شریف) (29) مولانا شمس الرحمن عباسی (کراچی) (30) مولانا عزیز الرحمن ہزاروی (راولپنڈی) (31) پروفیسر عبدالرحمن صدیقی (نوشہرہ) (32) مولانا قاضی مظہر حسین (چکوال) (33) مولانا محمد ادریس انصاری (صادق آباد) (34) مولانا علاء الدین صاحب (جنوبی افریقہ) (35) قاری محمد الیاس صاحب تانجک (36) مفتی کفایت اللہ صاحب (مردان) (37) مولانا قاری سلطان روم صاحب (بنوری ٹاؤن) (38) مولانا مفتی عبدالرؤف سکھروی (39) مولانا سیف اللہ خالد (40) مولانا مفتی محمد وجیہ (41) مولانا عبدالمالک صاحب (گوجرانوالہ) (42) حضرت مولانا حافظ عبدالرحمن (جنوبی افریقہ) (43) مولانا خالد نعمانی بن حضرت مولانا خلیل الرحمن مظاہری (44) مولانا بدیع الزمان صاحب (بنوری ٹاؤن) ان تمام زندہ و فوت شدگان علماء پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو۔ ان تمام اسمائے گرامی کی تحقیق کیلئے دیکھیں کتاب: شفاء و رحمت، صفحہ 401 مصنف: صاحبزادہ عزیز الرحمن رحمانی، حاشر پبلشرز کراچی
نفیسہ العلم وا لمعرفہ ۔ سیدہ نفیسہ طاہرہ رحمۃ اللہ علیہا

نواب سید محمد صدیق حسن خان رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ : جامعہ ازہر(مصر) کے علمائے راسخین اور ابرارِ کاملین میں سے شیخ محمد ابو الموا ہب شاذلی کو ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ کی زیارت ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا : سونے سے پہلے پانچ مرتبہ تعوذ، پانچ مرتبہ تسمیہ پڑھ کر ایک مرتبہ یہ دُعا مانگو (اللھم بحق محمد ارنی وجہ محمد حالا و مالا) تو میں خواب میں تمہیں ملنے کیلئے آیا کروں گا۔ لہذا بعد ازاں تمام عمر انہیں کثرت سے زیارت نبویﷺ سے نوازا گیا۔چنانچہ محمد ابو المواہب شاذلی فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ خواب میں مجھے حضور سرورِ کونین ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب تجھے کوئی مشکل پیش آئے تو سیدہ نفیسہ طاہرہ کی نذر مان لیا کر، اگرچہ ایک پیسہ ہی کیوں نہ ہو، تیری مشکل حل ہو جائے گی، ان شاء اللہ۔ میں (نواب صدیق حسن خان ؒ) کہتاں ہوںکہ آنحضرت ﷺ کی طرف سے ان کی نذر ماننے کے حکم سے مراد یہ ہے کہ کچھ صدقہ ‘خیرات کرکے اس کا ثواب سیدہ نفیسہ طاہرہ کو ہدیہ کر دینا چاہیے۔ (بحوالہ: اہلحدیث کتاب: خیرۃ الخیرۃ، از نواب سید محمد صدیق خان بھوپالی، مطبع شاہجہانی) www.rekhta.org(انٹر نیٹ کا لنک) امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ کی باکمال بہو حضرت نفیسہ بنت حسن بن زید بن امام حسن بن علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہا خاندان نبوت ﷺ کی جلیل القدر خاتون‘ زہد و عبادت‘ ورع و تقویٰ اور نیکی و صالحیت کے اونچے مرتبہ پر فائز تھیں۔ ان کی شادی حضرت امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ کے صاحبزادے حضرت اسحاق الموتمن کے ساتھ ہوئی۔ چالیس (40) برس میں 30 حج، متوا تر روزے اور قیام اللیل سیدہ نفیسہ قرآن مجید کی حافظہ اور اس کی تفسیر پر عبور کرکھتی تھیں۔ آپ ؒ کے علم و فضل کی وسعت کا یہ عالم تھا کہ امام شافعی آپ کی خدمت میں گئے اور آپ ؒ سے بعض احادیث کی سماعت کا شرف حاصل کیا۔ اللہ تعالیٰ کے ڈر سے اکثر روتی رہتیں‘ ہمیشہ رات کو قیام کرتیں اور دن کو روزے رکھتیں۔ آپ ؒ نے تیس حج کیے۔ حج کے موقع پر غلاف کعبہ سے لپٹ جاتیں اور دُعا ما نگتے ہوئے یہ الفاظ کہتیں ’’ الھی و سیدی و مولائی متعنی و فر حنی برصاک عنی‘‘ حضرت زینب بنت یحییٰ کہتی ہیں کہ مجھے متواتر چالیس برس اپنی پھوپھی سیدہ نفیسہ کی خدمت میں رہنے کا شرف حاصل ہوا۔ اس ثناء میں کبھی میں نے ان کو شب میں سوتے اور دن میں بغیر روزے کے نہیں دیکھا۔ ایک دن میں نے پوچھا کیا آپ اپنے اوپر ترس نہیں کرتیں؟ کیسے ترس کروں جبکہ میرے سامنے دور تک ایسی خوفناک وادیاں پھیلی ہوئی ہیں ، جنہیں کوئی آرام طلب طے نہیں کر سکتا۔ عظیم ہستیوں کا اپنے لیے دُعا کروانا صوفیائے کرام میں سے حضرت ذوالنون مصری اور حضرت بشر حافی ان کی خدمت میں بالا التزام حاضر ہوا کرتے۔ ایک مرتبہ حضرت بشر حافی بیمار ہو ئے تو حضرت سیدہ نفیسہ عیادت کیلئے گئیں‘ اس وقت امام احمد بن حنبل بھی وہاں عیادت کیلئے آئے ہوئے تھے۔ امام احمد بن حنبل نے پوچھا کہ یہ خاتون کون ہیں؟ جب معلوم ہوا تو حضرت بشر حافی سے فرمانے لگے‘ سیدہ نفیسہ سے میرے لیے بھی دعا کروائیں۔ چنانچہ جب دُعا کی درخواست کی گئی تو آپ نے ان الفاظ میں دُعا مانگی: ’’ اے اللہ بن حارث اور احمد بن حنبل تجھ سے دوزخ کی آگ سے محفوظ رہنے کی التجا کرتے ہیں۔ یا ارحم الراحمین، ان کو دوزخ کی آگ سے محفوظ رکھنا۔ امام شافعی کی وصیت: سیدہ نفیسہ دولت مند خاتون تھیں اور آپؒ کا تمام مال دو دولت مریضوں‘ جذامیوں اور حاجت مندوں پر خرچ ہوتا تھا۔ امام شافعی مصر میں گئے تو حضرت نفیسہ نے ان کی مالی امداد کی۔ امام شافعی ان کی زیارت کو گئے تو پردے کی اوٹ میں بات کی۔ا مام شافعی نے ان سے دعا بھی کروائی۔ جب امام شافعی فوت ہوئے اور ان کا جنازہ پڑھا گیا تو حضرت نفیسہ بھی گئیں اور الگ نماز جنازہ ادا کی۔ ایک روایت میں ہے کہ امام شافعی نے وصیت کی تھی کہ ان کا جنازہ حضرت سیدہ نفیسہ کے گھر کے سامنے سے لے کر جایا جائے۔ چنانچہ وصیت کے مطابق ان کا جنازہ جب حضرت سیدہ نفیسہ کے گھر کے سامنے پہنچا تو انھوں نے گھر میں ان کی نماز جنازہ پڑھی۔ تہجد کی دُعائوں کے بے خطا تیر کثرت علم و معرفت کی بناء پر لوگ انہیں ’’نفیسۃ العلم و المعر فۃ‘‘ کہا کرتے تھے۔ آپ ؒ فرمایا کرتی تھیں کہ سحری کے وقت لوگوں کی زبانوں سے جو آہوں کی تیر نکلتے ہیں وہ کبھی خطا نہیں جاتے‘ بلکہ ٹھیک نشانے پر بیٹھتے ہیں۔ بالخصوص وہ تیر تو قطعاً خطا نہیں جاتے جو ان کے دلوں سے نکلتے ہیں۔ قبر میں 190 مرتبہ قرآن مجید کی تلاوت حضرت سیدہ نفیسہ ؒ نے بیماری کے ایام میں اپنے گھر میں ہی اپنے ہاتھوں سے قبر کھودی۔ روزانہ اس قبر میں اترتیں اور قرآن مجید پڑھتیں۔ اسی قبر میں انہوں نے ایک سو نوے (190)قرآن مجید مکمل کئے۔ وقت موت قریب پہنچا تو آپ ؒ روزے سے تھیں، لوگ ڈرتے ہوئے آئے اور پانی پینے پر مجبور کیا تو لوگوں کے اصرار سے تنگ آکر فرمایا: میں تیس سال سے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا مانگ رہی ہوں کہ روزے کی حالت میں اس سے ملوں‘ کیا تم چاہتے ہو‘ اب روزہ چھوڑدوں؟ ایسا ہرگز نہیں ہوگا سورۃ الا نعام کی تلاوت شروع کردی اور جب اس آیت ’’ لَھُمْ دَارُ السَّلاَمِ عِنْدَ رَبِّھِم‘‘ پر پہنچیں تو روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔ ان کا مزار ‘ اہل مصر کیلئے باران رحمت کا ذریعہ انہوں نے بیماری کے ایام میں اپنے شوہر حضرت سید اسحاق الموتمن کو خط لکھ کر اپنے متعلق اطلاع کی ہوئی تھی‘ چنانچہ قدرت الہٰی کہ جس روز ان کی وفات ہوئی‘ اسی دن حضرت اسحاق الموتمن مدینہ طیبہ سے مصر تشریف لے آئے۔ انہوں نے مصر کے لوگوں سے فرمایا کہ میں ان کی میت مدینہ منورہ لے جاکر جنت البقیع میں دفن کرنا چاہتا
تسبیح خانہ میں سیدہ نفیسہ طاہرہ کی نذر ماننے سے کام تو بن گیا لیکن کہیں ہم شرک و بدعت میں مبتلاء تو نہیں ہو گئے

محترم قارئین! اکابر و اسلاف کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے حضرت شیخ الوظائف دامت بر کاتہم العالیہ نے گزشتہ سال عبقری تسبیح خانے میں آل رسول کی ایک بزرگ خاتون حضرت سیدہ نفیسہ طاہرہ رحمتہ اللہ علیہا کے فضائل و مناقب بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ جو شخص ندرمان لے کہ یا اللہ ! میرا فلاں مسئلہ حل ہو جائے تو میں سیدہ نفیسہ طاہرہ رحمۃ اللہ علیہا کی طرف سے اتنے روپے خیرات کروں گا یا فلاں فلاں نفلی اعمال کا بد یہ ان کی روح مبارکہ کو ایصال ثواب کروں گا تو اس شخص کے ناممکن کام بھی ممکن ہو جاتے ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیںکہ کیا یہ عمل غیر شرعی شرک و بدعت ہے یا قرآن وسنت اور اکابرین امت کی تعلیمات کے عین مطابق ہمارا وہ بھولا ہوا سبق، جسے حضرت شیخ الوظائف دامت برکاتہم العالیہ نے دوبارہ یاد کروادیا۔