شب برأت کے اس عمل سے پیسے نہیں ڈالر($) ملیں گے

(15 شعبان المعظم 1442ھ 29 مارچ) ہر سال تسبیح خانہ لاہور میں شعبان المعظم کی رات یعنی شبِ برأت میں ہمارے اکابر کے مسنون اعمال کروائے جاتے ہیں۔ الحمد للہ! تسبیح خانہ کا ممبر مخلوقِ خدا میں اعمال اور اذکار کے پھول بکھیر رہا ہے نہ کہ شرک اور بدعت! آپ کی خدمت میں اکابرین سے منسوب عمل پیشِ خدمت ہے، جو صرف ایک دن کرنا ہے اور آپ مالدار ہو جائیں۔ انشاء اللہ تعالیٰ! بہت عرصہ قبل فقیر کو یہ عمل ایک اللہ والے سے حاصل ہوا تھا اور الحمد للہ فقیر کو بھی فائدہ ہوا اور میرے بتانے پر بہت سے دیگر ساتھیوں کو بھی ہوا۔ اس لئے فقیر کی کوشش ہوتی ہے کہ ہر سال اپنے محبین اور متعلقین کو یاد دہانی کرا دے۔ ضروری وضاحت یاد رہے کہ یہ عمل خالص بزرگوں کے مجربات میں سے ہے، اس لئے جس کا من چاہے کرے اور جو مطمئن نہ ہو وہ ہرگز نہ کرے، نیز علماء کرام سے دست بستہ بصد احترام گزارش ہے کہ فقہی موشگافیوں سے گریز کریں بدعت اور من گھڑت فتوے لگا کر عوام کے دلوں میں شکوک وشبہات اور وساوس سے پرہیز کریں۔ اس عمل میں قرآن پاک کی سورت مبارکہ آیت کریمہ اور اللہ تبارک و تعالیٰ کا اسم مبارک ہے۔۔ اس کے علاوہ کچھ نہیں اللہ تعالیٰ سب بھائیوں کی ہر پریشانی دور فرمائے آمین! خیر خواہ فقیر عزیز الرحمن رحمانی 15 شعبان المعظم 1442ھ 29 مارچ (یہ عمل ہمارے اکابر کا بتایا ہوا ہے۔) یاد رکھیں! تسبیح خانہ اعمال بناتا نہیں بلکہ بتاتا ہے۔
سورۃ قریش کا یہ وظیفہ کہاں سے ثابت ہے؟

کچھ عرصہ پہلے ماہنامہ عبقری میں ایک عمل دیا گیا کہ ہر کھانے کے بعد تین مرتبہ سورۃ قریش پڑھنے سے ان شاء اللہ اس کھانے سے سائیڈ ایفیکٹ ( فوڈ پوائزن ) نہیں ہو گا 7 نسلوں میں رزق کی فراوانی رہے گی اور انسان پر کبھی فاقہ نہیں آئے گا۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ عبقری میں خود ساختہ وظیفے شائع ہوتے ہیں ان کی خدمت میں گزارش ہے کہ خدارا تھوڑا سا وقت نکال کر اپنے ان اکابر واسلاف کے متعلق شناسائی حاصل کریں، جن کے ذریعے دین منتقل ہوتے ہوتے ہم تک پہنچا۔ ان سب حضرات ذی وقار مہم اللہ اجمعین نے دین کے ہر پہلو اور ہر شعبے کو نہایت دیانت داری سے ہم تک پہنچایا اور اعمال سے بنے اعمال سے پلنے اور اعمال کے ذریعے بچنے کا یقین ہمیں سکھا یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے متعلق احادیث میں آتا ہے کہ اعمال کے ذریعے کام بنے کا یقین ان کے دلوں میں اتنا پختہ ہو چکا تھا کہ اگر جوتی کا تسمہ بھی ٹوٹ جاتا تو وہ پہلے اللہ جل شانہ کی طرف رجوع کرتے بعد میں بازار جاتے ۔ شیخ الوظائف رزق کی فراوانی برکت و وسعت کے لئے جو سورۃ قریش پڑھنے کی تلقین کرتے ہیں یہ عمل بھی ان کا خود ساختہ نہیں بلکہ اکابرین سے ثابت ہے۔ سورۃ قریش کا درج ذیل ایک خاص الخاص وظیفہ شیخ التفسیر مولانا احد علی لاہوری رحمتہ اللہ علیہ اپنے مخلصین کو دیا کرتے تھے، جس پر نہ ہی تعداد کے خود ساختہ ہونے کا فتویٰ لگایا جاتا ہے اور نہ ہی یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ سورۃ قریش تو تلاوت کیلئے نازل ہوئی تھی اس کا وظیفہ پڑھنا کہاں ثابت ہے؟ حضرت مولانا احمد علی پنجگوری صاحب فرماتے ہیں: مرشد عالم حضرت الشیخ مولانا غلام حبیب صاحب رحمتہ اللہ علیہ حضرت لاہوری رحمتہ اللہ علیہ نے تیر بہدف وظیفہ عطا کیا۔ جس کے بارے میں شیخ فرمایا کرتے تھے کہ یہ وظیفہ در حقیقت ایک چیک تھا جو کیش کی صورت میں مجھے ملا اسکی برکت سے میں جو چاہتا مجھے مل جاتا اور حج کے موقع پر میں لاکھوں روپے راہ خدا میں خرچ کرتا۔ وظیفہ یہ ہے کہ ہر نماز کے بعد اول و آخر ایک ایک مرتبہ درود شریف اور درمیان میں سات مرتبہ سورۃ قریش پڑھیں۔ (حوالہکتاب خربین الاسر ارس 59 مصنف مولانا حمدعلی بن شاه دوستمحمد پنچگوری ناشر: کتب خانہ مجید یہ )
سورۃ قریش سے بنا کیش، زندگی کا عیش

59 قسط نمبر سورۃ قریش سے بنا کیش، زندگی کا عیشاکابر پر اعتمادکچھ عرصہ پہلے ماہنامہ عبقری میں ایک عمل دیا گیا کہ ہر کھانے کے بعد تین مرتبہ سورۃ قریش پڑھنے سے ان شاء اللہ اس کھانے کا سائیڈ ایفیکٹ (فوڈ پوائزن ) نہیں ہوگا 7 نسلوں میں رزق کی فراوانی رہے گی اور انسان پر کبھی فاقہ نہیں آئے گا۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ عبقری میں خود ساختہ وظیفے شائع ہوتے ہیں، ان کی خدمت میں گزارش ہے کہ خدارا تھوڑا سا وقت نکال کر اپنے ان اکابر واسلاف کے متعلق شناسائی حاصل کریں، جن کے ذریعے دین منتقل ہوتے ہوتے ہم تک پہنچا ان سب حضرات ذی وقار رحمہم اللہ اجمعین نے دین کے ہر پہلو اور ہر شعبے کو نہایت دیانت داری سے ہم تک پہنچایا اور اعمال سے بننے, اعمال سے پلنے اور اعمال کے ذریعے بیچنے کا یقین ہمیں سکھایا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے متعلق احادیث میں آتا ہے کہ اعمال کے ذریعے کام بنے کا یقین ان کے دلوں میں اتنا پختہ ہو چکا تھا کہ اگرجوتی کا تسمہ بھی ٹوٹ جاتا تو وہ پہلے اللہ جل شانہ کی طرف رجوع کرتے بعد میں بازار جاتے۔ سورۃ قریش کا درج ذیل ایک خاص الخاص وظیفہ شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوری دی ٹیلیہ اپنے مخلصین کو دیا کرتے تھے، جس پر نہ ہی تعداد کے خود ساختہ ہونے کا فتویٰ لگایا جاتا ہے اور نہ ہی یہ اعتراض کیا جاتاہے کہ سورۃ قریش تو تلاوت کیلئے نازل ہوئی تھی اس کا وظیفہ پڑھنا کہاں ثابت ہے؟حضرت مولانا احمد علی پنجگوری صاحب لکھتے ہیں کہ : مرشد عالم حضرت الشیخ مولانا غلام حبیب صاحب دینیہ کو حضرت لاہوری پای شیمیہ نے تیر بہدف وظیفہ عطیہ کیا۔ جس کے بارے میں حضرت شیخ د اینیملہ فرمایا کرتے تھے کہ یہ وظیفہ در حقیقت ایک چیک تھا جو کیش کی صورت میں مجھے ملا۔ اس کی برکت سے میں جو چاہتا، مجھے مل جاتا اور حج کے موقع پر لاکھوں روپے راہ خدا میں خرچ کرتا۔ وظیفہ یہ ہے کہ ہر نماز کے بعد اول آخر ایک ایک مرتبہ درود شریف اور درمیان میں سات مرتبہ سورہ قریش پڑھیں۔ بحوالہ کتاب: خزینۃ الاسرار صفحہ 58 مصنف: مولانا احمد علی بن شاہ دوست محمد پنجگوری ناشر: کتب خانہ مجید یہ بوہر بازار ملتان
ایصال ثواب کے ذریعے پتھر دل بھی موم ہوجاتے ہیں

زندوں کو ایصال ثواب سے کیوں محروم رکھتے ہیں ۔۔۔؟ تسبیح خانہ لاہور کے عالمی روحانی پلیٹ فارم کا مقصد خیر خواہی اور بھلائی ہے جس میں مسلم، غیر مسلم، زندہ، مردہ، انسان، جنات حتیٰ کہ جانوروں تک کی خیر خواہی ہے اسی وجہ سے تسبیح خانہ سے ایک عمل جائز محبت کیلئے اکثر بیان کیا جاتا جس پر سینکڑوں مشاہدات شاہد ہیں وہ یہ کہ جب میاں، بیوی، یا کسی اور جائز رشتے میں ناچاقی ہو جائے تو اس شخص کو نفلی اعمال کا ہدیہ دینا شروع کر دیں اس کی برکت سے اس کا پتھر دل موم ہو جائے گا۔ اس پر کم علم رکھنے والے لوگ کہنے لگے کہ ایصالِ ثواب تو صرف مردوں کا کیا جاتا ہے زندوں کو ایصال تو ہوتا ہی نہیں تو ایسے لوگوں کیلئے ہم نہایت ہی معتمد دارالافتاؤں کے فتاویٰ جات پیش کرتے ہیں کہ ایصالِ ثواب مردوں کے ساتھ زندوں کو بھی کیا جا سکتا ہے۔ (1) نفلی اعمال کا ثواب جس طرح مردوں کو بخشا جا سکتا ہے، اسی طرح زندوں کو بھی نفلی اعمال کا ثواب بخشا جا سکتا ہے۔ ثواب پہنچانے کے لیے مُردوں کی تخصیص نہیں، لہٰذا قرآن مجید تلاوت کر کے اس کا ثواب زندہ اور مردوں دونوں کو پہنچانا جائز ہے۔ فقط واللہ اعلم (فتویٰ نمبر: 144210200297 دارالافتاء: جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن، (جلد 7 / صفحہ 379) (کفایت المفتی جلد 4 / صفحہ 140 – آپ کے مسائل اور ان کا حل 4 / 425) (2) ایصالِ ثواب مُردوں کے ساتھ خاص نہیں ہے، بلکہ مُردوں کے ساتھ ساتھ زندہ لوگوں کو بھی نیک عمل کر کے ثواب پہنچایا جا سکتا ہے، عام طور پر مُردوں کے لیے ایصالِ ثواب کیا جاتا ہے۔ (شرح العقائد، ص: 172)۔ (شامی: 2/180 مطلب فی القراءۃ للمیت واھداء ثوابھا لہ)۔ (3) جو زندہ ہیں اُن کو بھی بلکہ جو مسلمان ابھی پیدا نہیں ہوئے اُن کو بھی پیشگی (ایڈوانس میں) ایصالِ ثواب کیا جا سکتا ہے۔ (فاتحہ اور ایصالِ ثواب کا طریقہ، ص 12 تا 18 ماخوذاً ماہنامہ فیضانِ مدینہ بحوالہ رجب 1438۔ اپریل 2017) (4) اگر کوئی شخص اپنی نفل نمازیں، روزے یا حج وعمرہ یا قرآن پاک کی تلاوت وغیرہ کا ثواب اپنے مرحوم یا زندہ متعلقین کو پہنچانا چاہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، بس شرط یہ ہے کہ یہ اعمال نفلی ہوں اور ان پر دنیا میں کوئی اجرت نہ لی گئی ہو۔ (دیکھئے مجموع فتاویٰ ابن تیمیہ: 24 / 366، بدائع الصنائع: 2 / 454 وغیرہ)۔ (5) فقہ شافعی کی کتابوں میں یہ صراحت بھی ہے کہ اگر ان عبادات کو انجام دے کر آدمی یہ دعا کر لے کہ اللہ تعالیٰ اس کا ثواب فلاں کو پہنچا دے، تو اس اعتبار سے انجام کار اس کا ثواب دوسرے کو پہنچ جائے گا۔ (ماخوذ از کتاب النوازل: 6 / 264-266 ملخصاً) (بحوالہ آپ کے مسائل اور ان کا حل، جلد 3) یاد رکھیں تسبیح خانہ اعمال بناتا نہیں بلکہ بتاتا ہے۔
اپنے مردوں سے ملنا چاہتے ہیں تو یہ عمل ضرور کریں

انسان کے مرنے کے بعد اس کی زندگی ختم نہیں ہوتی بلکہ ایک نئی زندگی شروع ہوتی ہے تسبیح خانہ سے بارہا اپنے مرحومین کے پاس قبرستان جاکر اعمال کرنے کی تلقین کی جاتی ہے اور یہ بھی بتایا جاتا کہ انھیں آپ کی آمد کی اطلاع ہوتی ہے کہ آپ کا بیٹا، باپ، شوہر، بھائی، یا کوئی اور قریبی قبر پر آیا ہے اس لیے جو ان سے ملاقات کے خواہشمند ہوں انھیں ضرور ان کی قبور پر جانا چاہیے۔ اہل قبور کے ادراک اور شعور پر ہم اپنی کوئی خامہ فرسائی نہیں کرتے بلکہ اہل علم کا فتویٰ پیش کر کے بات کو مختصر کر دیتے ہیں اللہ کریم ہمیں اکابر کی پیروی اور عقل سلیم عطا فرمائے آمین۔
نیک اولاد اور فرمانبردار بیوی کیلئے آزمودہ وظیفہ

تسبیح خانہ لاہور میں سالہاسال سے اولاد کو نیک بنانے اور اور فرماں بردار بیوی کے حصول کیلئے سورۂ فرقا ن کی آیت نمبر74کا وظیفہ دیا جا رہا ہے جس کے سینکڑوں مشاہد ات ہیں یہ طرز عمل کوئی تسبیح خانہ کا خود ساختہ نہیں بلکہ بڑے بڑے دارالافتائوں کے مفتیان کرام بھی اس وظیفہ کو اس کام کیلئے استعمال کرتے ہیں اسی لیےتو تسبیح خانہ کے منبرسےیہ بات بیان کی جاتی ہے کہ تسبیح خانہ اعمال اور وظائف بناتا نہیں بلکہ بتاتاہے ۔حوالہ ملاحظہ فرمائیں : سوال: میرا بیٹا چوبیس سال کا ہے بہت فرماں بردار ہے بہت خیال رکھنے والا ہے اسے تعلیم کے لئے مارشش بھیجا تھا وہاں سے بغیر کسی برائی کے واپس آگیا لیکن وہاں ایک لڑکی سے دوستی ہوگئی لڑکی کے والد کی ساری زندگی تبلیغ میں گزری اب انتقال ہوچکا ہے لیکن لڑکی دین کی طرف بلکل نہیں ہے اور میرا بیٹا اس سے شادی کرنا چاہتا ہے تاکہ اسے مارشش کی شہریت مل جائے اور اس کی زندگی میں آسانیاں آجائیں لیکن مجھے اس لڑکی کے طور طریقے پسند نہیں اس کی بے باکی اور کھلا ماحول سے مجھے بہت تشویش ہے بیٹے کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ سمجھنا نہیں چاہتا بس کوئی دُعا بتادیں کہ اس کا دل کسی دین دار خاندانی لڑکی کی طرف مائل ہوجائے وہ خود بھی نماز روزے اور دین سے اتنا قریب نہیں ہے ڈر ہے کہ بلکل ہی دین سے بے بہرہ نہ ہوجائے ماں ہو۔ تو چاہتی ہوں کہ ایسی لڑکی ہو جو ہماری نسلوں کی دین کے مطابق پرورش کرے اللہ پاک آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے آمین جواب نمبر: 603359بسم الله الرحمن الرحيمFatwa : 756-574/H=07/1442 ہر نماز کے بعد اور رات کو سونے سے قبل وضوء کرکے اول و آخر تین تین مرتبہ درود شریف اور درمیان میں تین دفعہ رَبَّنَا ہَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّیَّاتِنَا قُرَّةَاَعْیُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا (القرآن الکریم: پ: 19 سورة الفرقان، رکوع: 4) آیت شریفہ کو پڑھ کر اپنی تمام اولاد بالخصوص مذکور فی السوال بیٹے کے لئے دلسوزی کے ساتھ دعاء کیا کریں اللہ پاک آپ کو اور اولاد کو نیز تمام متعلقین کو شرور و فتن سے محفوظ رکھے دنیا و آخرت کی بھلائیوں سے نوازے۔ آمین واللہ تعالیٰ اعلم دارالافتاءدارالعلوم انڈیا تسبیح خانہ سوفیصد اکابرؒ کے اعمال کا پرچار کرتا ہے اور اعمال بناتا نہیں بلکہ بتاتا ہے ۔
تسبیح خانہ میں لگے پینا فلیکس پرلکھی حدیث کا حکم

ایک صاحب جو کہ علمی اعتبار سےاچھے خاصے پڑھے لکھے تھے وہ کہنے لگے میں نےرمضان 2021 کا مہینہ تسبیح خانہ میں گزارا یہاں کا تربیتی ، اصلاحی ماحول دیکھ کر بہت متاثر ہوا۔جب شیخ الوظائف کے بیانات ہوتے تو ان کےپیچھے جو پینا فلیکس لگے تھے ان پر ہر عشرہ کے لحاظ سے وضاحت لکھی ہوتی کہ مثلا پہلا عشرہ رحمت ، دوسرے عشرہ پر مغفرت اور تیسرےپر جہنم سے خلاصی لکھا ہوا تھامیں نے یہ سنا ہوا تھا کہ اس روایت پر کلام ہے اس لیے میں نے وہاں موجو د ایک مولاناصاحب سے پوچھا تو انھوں نے یہ وضاحت فرمائی جوکہ اکابر ؒپر اعتماد کے دوستوں کی خدمت میں پیش ہے : حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت سے ایک مفصل حدیث منقول ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شعبان کے آخری خطبہ جمعہ میں ارشاد فرمائی، اس روایت کا آخری جملہ یہ ہے: وہو شہر اولہ رحمة واوسطہ مغفرة وآخرہ عتق من النار ومن خفف عن مملوکہ فیہ غفر اللہ لہ واعتقہ من النار۔ یہ روایت مشکاة شریف میں بیہقی کی شعب الایمان کے حوالہ سے منقول ہے۔ کنز العمال میں ہے کہ ایک روای علی بن زید بن جدعان ضعیف ہیں۔لیکن یہ ملحوظ رہے کہ کسی ایک راوی کے ضعیف ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ یہ روایت ناقابل اعتبار ہے بالخصوص فضائل کے باب میں اس طرح کے ضعف کو نظر انداز کرنا محدثین کا متفقہ ضابطہ ہے۔ (تسبیح خانہ سارے عالم میں ہدایت رہنمائی اور برکت پھیلانے کا ذریعہ )
تسبیح خانہ میں نماز فجر کے بعد سورۂ یٰسین کیوں پڑھائی جاتی ہے؟ کیا یہ بدعت ہے ؟ یا من گھڑت وظیفہ آئیے جانتے ہیں!

تسبیح خانہ جب سے بنا ہے اس وقت سے یہاں معمول ہے کہ روزانہ فجر کی نماز کے بعد یہاں سورہ یٰسین پڑھی جاتی ہے اور تمام لوگ باخوشی اس عمل میں شریک ہونے والے کہتے ہیں کہ اس عمل کی برکت سے ہمارے دنیا کے بڑے بڑے کام نہایت ہی آسانی سے پورے ہوتے ہیں آئیے تسبیح خانہ میں کیے جانے والے اس عمل کو علمی دلائل کی روشنی میں پرکھتے ہیں: (1) صبح کے وقت سورہ یٰسین کی تلاوت کو بدعت نہیں کہا جاسکتا اس وقت پڑھنے کو بدعت بتلانا جہالت اور زیادتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے دن کے شروع حصے میں سورہ یٰسین پڑھی اس کی ضروریات پوری کی جائیں گی۔“ من قرأ یٰس فی صدر النہار قضیت حوائجہ (رواہ الدارمی مرسلاً، مشکاۃ بحوالہ 54888 دارالافتاء انڈیا) (2) اگر کوئی روزانہ نماز فجر کے بعد سورہ یٰسین کی تلاوت کا معمول رکھتا ہے اور اپنے طور پر اس عمل کو جاری رکھتا ہے تو اس میں مضائقہ نہیں، یہ بدعت نہیں بلکہ یہ مستحسن ہے۔ (177137 دارالافتاء انڈیا) (3) صبح کے وقت سورہ یٰسین کی تلاوت کرنا اور اس کی خیر و برکات کا ذکر حدیث شریف میں آیا ہے۔ مرقاۃ المفاتیح میں ہے: سنن دارمی کے حوالے سے منقول ہے: جلیل القدر تابعی حضرت عطاء بن ابی رباح رحمۃ اللہ تعالیٰ سے روایت ہے، فرمایا کہ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: جس شخص نے دن کے شروع میں سورہ یٰسین پڑھی تو اس کی حاجات (دینی دنیوی یا اخروی یا مطلقاً تمام ضرورتیں) پوری کی جائیں گی۔ (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح، کتاب فضائل القرآن۔ رواہ الدارمی: بلاغاً۔ اگرچہ حدیث مبارک میں نماز فجر کے بعد تلاوت سورہ یٰسین کی صراحت نہیں ہے، لیکن صبح کے وقت کا ذکر ہے، لہٰذا اگر کوئی شخص فجر کی نماز کے بعد سورہ یٰسین کی تلاوت کرلے تو اسے بھی مذکورہ بالا فضیلت حاصل ہو جائے گی۔ (4) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جس نے دن کے شروع میں سورہ یٰسین پڑھی تو اسے دنیاوی اور اخروی کام شام تک آسانی دی جائے گی اور اگر شام کو پڑھے تو صبح تک آسانی دی جائے گی۔ (المسندل امام الدارمی بحوالہ: احکام القرآن للقرطبی 2/ 15) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب دارالافتاء الاخلاص، کراچی (5) فجر کے بعد اگر کسی جگہ سورہ یٰسین پڑھنے کا اہتمام کیا جاتا ہے اور اس کے بعد دعا کی جاتی ہے تو یہ عمل شرعاً درست ہے۔ (143908200005 دارالافتاء: جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف) جی ہاں تسبیح خانہ اعمال بناتا نہیں بلکہ بتاتا ہے! وہ اعمال جو قرآن و سنت اور تعلیماتِ اکابر میں منقول ہیں!
چھپکلی مارنے پر دین و دُنیا کا فائدہ! ’’عبقری کا ایک نیا فتنہ؟؟‘‘ اصل حقائق جانیے ‘احادیث کی روشنی !

عبقری حویلی احمد پور میں شیخ الوظائف دامت برکاتہم نے چھپکلی مارنے کے متعلق ذکر فرمایا تھا کہ اسے مارنے پر ثواب ملتا ہےیہ بات آپ نےاپنی طرف سے بیان نہیں کی تھی بلکہ صحیح احادیث مبارکہ کی روشنی میں بیان کی تھی ان روایات کی تخریج اور تشریح اکابرؒ پر اعتما د کے دوستوں کی خدمت میں پیش ہے : (1)حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص چھپکلی کو پہلی مار میں مار ڈالے اس کو اتنا ثواب ہے اور جو دوسری مار میں مارے اس کو اتنا اتنا ثواب ہے لیکن پہلی بار سے کم اور جو تیسری بار میں مار ڈالے اس کو اتنا اتنا ثواب ہے لیکن دوسری بار سے کم۔“ (حدیث نمبر:۲۲۴۰،ج:۴، ص:۱۷۵۸،ط:دارإحیاء التراث العربی اخرجہ احمد فی مسندہ :٤ ١/ ٢٩٦ ( ٨٦٥٩)، ط: مؤسسۃ الرسالۃ، ابن ماجہ فی سننہ: ٢ /١٠٧٨ (٣٢٢٩)، ط: دار احیاء الکتب العربیۃ ، و الترمذی فی سننہ:٣ /١٢٨ ( ١٤٧٢)، ط:دارالغرب العربی، و البیھقی فی سننہ الکبری : ٢ / ٣٧٨ (٣٤٤٢)، ط: دارالکتب العلمیۃ ۔ تشریح : حضور اکرم ﷺ نے گرگٹ اورچھپکلی کو مارنے کا حکم دیا ہے اور ان کا نام فاسق(شرارتی ) رکھا ہے اور فرمایا کہ جب نمرود نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا تو یہ (چھپکلی ) اس آگ کو بھڑکانے کے لئے اس میں پھونک مارتی تھی۔یہ موذی جانور ہے ، انسان کو ہر ممکن ضرر پہنچانے کی کوشش کرتی ہے ، برتن میں تھوکتی ہے اور نمک میں رال ٹپکا تی ہے، جس کی وجہ سے برص کی بیماری پیدا ہوتی ہے اور کچھ بس نہیں چلتا تو چھت وغیرہ پر چڑھ کر کھانے میں بیٹ کرتی ہے، اس وجہ سے آپ ﷺ نے اس کے مارنے کا حکم دیا ہےاورحدیث میں پہلی مار میں مارنے کاحکم دیا گیا ہے، تو یہ اس کو جلد مارنے کی ترغیب کے طور پر کہا گیا ہے اور ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بسا اوقات اگر پہلی بار میں چھوٹ جائے تو پھر ہاتھ نہیں آتی، اس لیے اس کو بھاگنے کا موقع دیے بغیر ہی مار دینا چاہیے۔ مسلم شریف کی ایک اور روایت میں پہلے وار سے مارنے والے کے لئے 100 نیکیاں لکھے جانے کا ذکر ہے اور سنن أبی داؤد کی روایت میں ہے کہ پہلے وار میں مارنے والے کو70 نیکیاں ملیں گی۔ (سنن أبی داؤد:حدیث نمبر:۵۲۶۴،ج:۴،ص:۳۶۶،ط:المکتنۃالعصریۃ۔تحفۃالأحوذی:ج:۵،ص:۴۸،ط:دارالکتب العلمیۃ۔کذا فی الدر المنضود شرح سنن أبی داؤد:ج:۶،ص:۶۵۶،ط:مکتبۃ الشیخ۔ کذا فی تحفۃالألمعی:ج:۴،ص:۴۱۸،ط:زمزم پبلیشرز بحوالہ دارالافتاء الاخلاص، کراچی) (2)چھپکلی کو مارنا ثواب ہے، اور پہلی مرتبہ مارنے پر ثواب زیادہ ہوتا ہے، جیسا کہ ترمذی شریف کی روایت میں ہے۔ (رواہ الترمذي وقال: حدیث أبي ہریرة حدیث حسن صحیح: ۱/۲۷۳، أبواب الصید، باب في قتل الوزغ، ط: مریم أجمل فاوٴنڈیشن ممبئی إنڈیابحوالہ دار الافتاء انڈیا41968) 3) چھپکلی اور گرگٹ کو مارناسنت اور باعث اجر وثواب فعل ہے۔ شیخ صالح العثیمن رحمہ اللہ فرماتے ہیں: أما قتل الوزغ فإنه سنة وفيه أجر عظيم۔ (فتاوی نور علی الدرب:جزء111، ص41، المکتبة الشاملة) (4)۔چھپکلی موذی یعنی تکلیف دینے ولا جانور ہے، کبھی کبھی وہ کھانے میں اپنا لعاب یعنی تھوک ڈل دیتی ہے، تو کھانے میں زہریلے اثرات پیدا ہوجاتے ہیں، اور حدیث میں بھی اسکو مارنے کا حکم ہے، اس لئے اسے مارنا جائز بلکہ باعثِ ثواب ہے۔ (فتاوی رحیمیہ۱۰ ص۱۸۶) (5)۔حضرت سائبہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں حضرت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر گئی تو دیکھا کہ گھر میں ایک برچھا رکھا ہو اہے تو عرض کیا کہ اے ام المومنین آپ اس سے کیا کرتی ہیں تو فرمانے لگیں ہم اس سے گرگٹ اور (چھپکلیاں) مارتے ہیں اس لیے کہ ہمیں اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا کہ جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا توزمین کے ہر جانور نے آگ بجھانےکی کوشش کی سوائے گرگٹ کے کہ وہ اس میں پھونک ماررہا تھا (تاکہ اور بھڑکے) اس لیے اللہ کے نبی ﷺ نے اسے مارنے کا حکم فرمایا ۔ (سنن ابن ماجہ حدیث نمبر 2331 بحوالہ عثمانی دالاافتاء) اللہ کے فضل و کرم سے تسبیح خانہ کےمنبر سے بیان ہونے والی بات دین اور شریعت کے عین مطابق اور تعلیمات اکابر کی ترجمان ہوتی ہے ۔
عبقری شفایابی ڈھکوسلہ یاافسانہ ۔۔۔۔آئیں دیکھتے ہیں !

سوال : میں شیخ الوظائف کے ہر جمعرات ہفت وارتسبیح خانہ لاہور میں ہونے والے درس کو باقاعدگی سے سنتاہوں‘ اس کی برکت سے میر ی زندگی میں سنتوں کا نور سجتا جارہا ہے میں نےعبقری رسالہ میں ’’سنا مکی‘‘ کا تذکرہ پڑھا کہ یہ طب نبویﷺ میں استعمال ہونے والی بوٹی ہے براہ کرم’’ اکابرؒ پر اعتماد‘‘ کے احباب سے گزارش کرتاہوں کہ وہ اس کے حوالہ جات ارشاد فرمادیں تاکہ میں لوگوں کو عبقری کے پلیٹ فارم سے ملنے والے اس نبوی ؐ پیغام کو زیادہ سے زیادہ عام کروں۔ جزا ک اللہ! جواب : ماہنامہ عبقری اور تسبیح خانہ کے منبر کی کوشش یہی ہےکہ ساری دنیا میں سنتیں عام ہوجائیں اسی وجہ سے ماہنامہ عبقری لاہور کے شمارے میں نبویﷺ جڑی بوٹیوں ، مسنون اعمال کا مستقل پرچار کیا جاتاہے اور تسبیح خانہ کامنبر بھی نبویﷺ اعمال اور نبویﷺ جڑی بوٹیوں کی افادیت کو سارے عالم میں عام کرنےکیلئے ہمہ تن کوشاں ہے آپ نےپوچھا ہے کہ عبقری میں’’ سنامکی‘‘ کا جو تذکرہ آیا ہے ان روایات کی تحقیق اور تخریج آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں اللہ کریم ہمیں سنتوں پر عمل کرنے والا بنائے۔ آمین! ( 1)’’تین چیزوں میں سوائے موت کے ہر مرض کے لیے شفاء ہے،’’ سنا مکی اور سنوت۔‘‘راوی(محمد )فرماتے ہیں کہ میں تیسری چیز بھول گیا ہوں۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: یا رسول اللہ ! ’’سنا مکی‘‘کو تو ہم پہچان چکے ہیں، یہ’’ سنوت ‘‘کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اللہ تعالی چاہتے تو تمہیں بتادیتے۔ (بحوالہ مستدرک حاکم۔کتاب الطب : ص 120 – 121،تالیف: شیخ عبد اللطيف البغداديؒ۔ الجامع الصغير3/ 304،رقم 3464۔وكذا في السراج المنير في ترتيب أحاديث صحيح الجامع الصغير) –سنا مکی سے متعلق ذکر کردہ روایت حسن (صحیح کی قسم ) ہے، لہٰذا قابل بیان ہے۔ (مفتیان دار الافتاء الاخلاص کراچی ،فتوی نمبر :4509) (2)’’حضرت ابو ابی ابن ام حرام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ تم ’’سنامکی‘‘ اور’’ شہد‘‘ کو لازم پکڑوکیونکہ ان میں سام کے علاوہ ہر بیماری سے شفا ہے۔ عرض کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول سام کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: موت۔‘‘ اس حدیث کی تحقیق میں علامہ نور الدین سندھی رحمہ اللہ نے امام حاکم رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے اور اس کا صحت پر اعتماد کیا ہے، البتہ علامہ ذہبی رحمہ اللہ نے اس سند پر کچھ کلام فرمایا ہے لیکن چونکہ اس حدیث کے دیگر متابعات اور شواہد بھی موجود ہیںلہذا ان کی وجہ سے یہ حدیث صحت کے درجے میں پہنچ جاتی ہے۔ (حاشية السندي علی سنن ابن ماجه، كتاب الطب، باب السنا والسنوت، 2/ 344) محترم قارئین ماہنامہ عبقری اورتسبیح خانہ کا منبر سارے عالم میں مسنون زندگی کی ہدایت اور رہنمائی پھیلانے کا عزم رکھتا ہے.