بہت سے کم علم لوگوں کو تشویش ہے کہ شیخ الوظائف دامت برکاتہم بالاکوٹ مزار پر کیوں جا رہے ہیں تو ایسے بھائیوں کی خدمت میں گزارش ہے کہ آپ اگر ’’مزارات سے فیض اور ہمارے اکابرؒ ‘‘ کتاب کا مطالعہ کریں تو کبھی بھی اعتراض نہ کریں یہ فیض تو ہمارے تمام ہی اکابرین کا طریقہ رہا ہے:
استاذ العلماء حضرت حکیم العصر
(شیخ الحدیث جامعہ باب العلوم کہروڑ پکا، ساتویں امیر عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوت) نے ف1رمایا کہ جب شیخ الہندؒ دارالعلوم کے رئیس المدرسین تھے تو اس وقت ایک طالب علم پنجاب سے داخلہ لینے کے لیے آیا اور کہا کہ حضرت میں نے یہاں پر پڑھنا ہے لیکن میری دو شرطیں ہیں، ایک یہ کہ کھانا مدرسہ سے لوں گا۔ دوسری یہ کہ امتحان نہیں دوں گا۔ حضرت نے فرمایا کہ یہ ممکن نہیں ہے لیکن وہ بضد کہ میں نے پڑھنا بھی ہے اور امتحان بھی نہیں دینا تو حضرت نے فی الوقت اس کو ٹالنے کے لیے کہہ دیا اچھا کل یا پرسوں آنا، میں سوچوں گا تو اگلے دن پانچ روپے کا ایک منی آرڈر آیا (اس وقت مدرس کی تنخواہ پانچ روپے ہوتی تھی) اور منی آرڈر کے کوپن پر لکھا ہوا تھا کہ یہ رقم ایسے طالب علم کو دے دیں جو قانوناً دارالعلوم سے مالی امداد نہ لے سکتا ہو اور یہ رقم ہر ماہ آئے گی۔
تو حضرت فرماتے ہیں کہ میں سمجھ گیا اگلے دن وہ آیا تو میں نے اس کو کہہ دیا کہ لو بھائی تیرا تو اللہ نے انتظام کر دیا، وہ طالب علم پڑھ کر چلا گیا کافی عرصہ بعد ملنے کے لیے آیا تو کہا کہ آپ نے مجھے پہچانا نہیں تو حضرت نے کہا کہ نہیں تو پھر کہا حضرت میں وہی طالب علم ہوں (یعنی اوپر ذکر کردہ واقعہ سنایا) تو حضرت بہت خوش ہوئے اور اس سے حال احوال پوچھا تو کہنے لگا کہ حضرت کیا بتاؤں یہاں سے جانے کے بعد میں ایسی بستی میں امام مسجد ہو گیا ایک مرتبہ وہاں پر ایک پیر جبّے قبّے والا آیا اس نے علماء دیوبند کے خلاف بڑی زوردار تقریر کی اور ثابت کیا کہ یہ کافر و مشرک اور گستاخ ہیں، تو پورا گاؤں مشتعل ہو کر لاٹھیاں لے کر میرے مکان پر آ گیا کہ تو کافر ہے اور تو نے ہماری نمازیں خراب کی ہیں یا اس کے اعتراضات کا جواب دے دیا یا ہم تجھ کو بہت ماریں گے تو اس وقت پیر نے تقریر کی اور علماء پر اعتراضات کیے۔
بیداری میں نبی، ولی، پیر، استاد، بزرگ کی زیارت:
جب وہ تقریر کر رہا تھا تو اس وقت میرے پہلو میں ایک بوڑھا آ کر بیٹھ گیا، جب پیر نے تقریر ختم کی تو اس بوڑھے نے مجھے کہا کہ اٹھ بیٹھے تقریر کر میں مجبوراً اٹھ کر کھڑا ہو گیا، (مرتا کیا نہ کرتا) بس مجھے اتنا یاد ہے کہ میں نے بسم اللہ اور کچھ خطبہ پڑھا پھر مجھے یاد نہیں کہ میں نے کیا کہا لیکن میری تقریر کے کچھ ہی دیر بعد وہ پیر ہاتھ جوڑے کھڑا تھا اور کہہ رہا تھا کہ ہم سب سے غلطی ہوئی اور ہم آپ کو غلط سمجھتے رہے تو حضرت شیخ الہندؒ نے پوچھا کہ اس بوڑھے کا حلیہ کیا تھا تو اس نے حلیہ بتایا جب آپ نے حلیہ سنا تو فرمایا کہ اوہ یہ تو ہمارے استاد حضرت نانوتویؒ تھے اس واقعہ کے بعد حضرت حکیم العصر مدظلہ (شیخ الحدیث جامعہ باب العلوم کہروڑ پکا، ساتویں امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت) نے فرمایا کہ بیداری میں نبی، ولی، پیر، استاد، بزرگ کی زیارت ہو سکتی ہے۔ اس کا انکار کرنے کی ضرورت نہیں۔
(کتاب: مجالس حکیم العصر، صفحہ 235، اہتمام: مولانا مفتی ظفر اقبال، ناشر: مکتبہ شیخ لدھیانوی، لودھراں)
