سنن ترمذی میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی کریم ﷺ کے پاس کھجوریں لایا اور عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! ان میں اللہ تعالیٰ سے برکت کی دعا فرما دیں۔ آپ ﷺ نے برکت کی دعا کی، پھر فرمایا: ان کو پکڑ لو اور اپنے کسی تھیلے میں ڈال لو۔ جب ضرورت ہو تو تھیلے میں ہاتھ داخل کرنا اور بقدرِ ضرورت استعمال کر لینا اور انہیں کھلی مت نکالنا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ان میں سے 60 صاع (کم و بیش ساڑھے 4 من) کھجوریں نکال کر اللہ تعالیٰ کے راستے میں دے دیں۔ ہم خود بھی اس میں سے کھاتے تھے اور لوگوں کو بھی کھلاتے تھے۔ وہ تھیلی ہمیشہ میرے پاس رہی۔ حتیٰ کہ جس دن حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا، اس دن وہ تھیلی بھی گم ہو گئی (سنن ترمذی 3839)
(بحوالہ کتاب: برکت کیسے حاصل کریں، صفحہ 25 مصنف: شیخ امین عبداللہ الشقاوی، ناشر: مکتبہ بیت السلام، لاہور، ریاض)
محترم قارئین! یہ وہ عظیم الشان برکت تھی جو نبی اکرم ﷺ کی دعا کی بدولت انہیں حاصل ہوئی کہ وہ تقریباً پچپن برس تک انہی کھجوروں کو کھاتے اور لوگوں کو کھلاتے رہے۔ عبقری اور تسبیح خانے میں جب ایسے اعمال بتائے جاتے ہیں، جن کے ذریعے اللہ جل شانہٗ کے غیبی خزانوں سے برکت ملنے کا ذکر ہو تو کچھ لوگ ان باتوں کو عقل کے شکستہ پیمانے میں تولتے ہیں اور جھٹ سے اعتراض کرتے ہوئے کہتے ہیں: بھلا ایسا کس طرح ممکن ہے؟ اللہ کے نبی ﷺ سے تو ایسا کوئی واقعہ نہیں ملتا۔ حالانکہ سیرتِ نبوی ﷺ کا مطالعہ کیا جائے تو ایسا ایک نہیں، ایک سو ایک واقعات مل سکتے ہیں، جن میں آقا سرورِ کونین ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے برکت کے متلاشی بننے اور برکت والی چیزوں کی قدر کرنے کا ثبوت ملتا ہے۔ درج بالا واقعے میں تسبیح خانے کے ذریعے پھیلنے والی ایک عظیم نعمت "برکت والی تھیلی” کا بھی حدیث سے ثبوت پیش ہے، یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس بھی تھیلیاں ہوا کرتی تھیں، جن میں اللہ جل شانہٗ اپنے غیب کے خزانے سے برکت نازل فرماتے تھے۔
