امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ ایک رات ایک صحابی، رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر کر رہے تھے کہ آپ ﷺ نے کسی شخص کو سورۃ الکافرون کی تلاوت کرتے ہوئے سنا تو فرمایا: اس کی مغفرت ہو گئی۔
صحابی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنی سواری روک دی، تاکہ دیکھوں کہ تلاوت کرنے والا شخص کون ہے؟ چنانچہ جب دائیں بائیں دیکھا تو کوئی بھی نظر نہ آیا
(دلائل النبوۃ، بحوالہ کتاب: جنوں کے حالات صفحہ 148 مصنف: امام جلال الدین سیوطیؒ، ناشر: مکتبہ حنفیہ، گنج بخش روڈ لاہور)
قارئین! اس سے پتہ چلتا ہے کہ انسانی زندگی میں جنات کے واقعات صرف "جنات کے پیدائشی دوست” حضرت علامہ لاہوتی پراسراری دامت برکاتہم العالیہ ہی کے ساتھ پیش نہیں آتے، بلکہ یہ سلسلہ چودہ صدیوں سے چلا آ رہا ہے اور ہر دور کے صلحائے امت ایسے حقائق بیان فرمایا کرتے تھے۔
