(مولانا قاری خلیل الرحمن صاحب، فاضل جامعہ امدادیہ، فیصل آباد)
شیخ الوظائف دامت برکاتہم مشاجراتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں فرماتے ہیں کہ کبھی بھی کسی اہل بیت و صحابیؓ کے بارے میں بے ادبی اور گستاخی نہ کرنا جو گستاخی کرے گا وہ اپنی دنیا اور آخرت برباد کرے گا اگرچہ تمہارے کانوں میں کتنی ہی آواز آئے کبھی بے ادبی کا سوچنا بھی نہیں یہی ہمارے اکابر کا عقیدہ ہے۔ آپ ﷺ کے صحابہ کرامؓ آپس میں رحم دل تھے جیسا کہ قرآنِ مقدس میں ارشادِ باری ہے رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ۔ شیخ الوظائف دامت برکاتہم کے اس فرمانِ تعلیماتِ اکابرین کا ہی نچوڑ ہے۔
(1) حضرت حسن بصری رحمہ اللہ سے صحابہ کرامؓ کے مشاجرات کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ ایسی ہستیاں تھیں جس میں محمد ﷺ کے اصحابؓ موجود تھے اور ہم موجود نہ تھے، ان کو علم حاصل تھا اور ہمیں حاصل نہیں ہے، جس میں انہوں نے اتفاق کیا اس میں ہم نے ان کی پیروی کرتے ہیں اور جس میں ان کا اختلاف ہوا اس میں ہم خاموش رہتے ہیں۔
(2) امام قرطبیؒ فرماتے ہیں کہ اہل بیت عظامؓ اور صحابہ کرامؓ ہمارے امام ہیں اور ہمیں حکم ہے کہ ان کے مابین جو مشاجرات پیش آئے ان میں ہم خاموش رہیں اور صحبتِ نبوی ﷺ کے احترام کی وجہ سے اور اس بناء پر کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو برا کہنے سے منع کیا ہے اور اس بناء پر کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بخش دیا ہے اور ان سے اپنے راضی ہونے کی خبر دی ہے ان کا صرف ذکرِ خیر کریں۔
(تفسیر القرطبی بحوالہ مقامِ صحابہ ص 92)
(3) ’المعجم الکبیر للطبرانی‘ (2/96) میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ: جب میرے اصحابؓ کا (یعنی ان کے باہمی اختلافات وغیرہ کا) ذکر چھیڑے تو باز آ جاؤ، اور جب ستاروں کا ذکر چھیڑے تو باز آ جاؤ، اور جب تقدیر کا ذکر چھیڑے تو رک جاؤ، (یعنی اس میں زیادہ غور و خوض اور بحث ومباحثہ نہ کرو)۔
(دارالافتاء: جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن)
— اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ: اہلسنت والجماعت سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نیک و متقی جانتے ہیں اور ان کے باہمی اختلافات کی تفاصیل پر نظر کرنا حرام سمجھتے ہیں کیونکہ اس طرح شیطان ان متقی بندوں کے متعلق بدگمان کر کے گمراہی کی طرف لے جاتا ہے۔ (اعتقاد الاحباب: ۲۰۳۸، چشتی)
(4) علامہ ابن حجر عسقلانیؒ فرماتے ہیں کہ اہل سنت اس بات پر متفق ہیں کہ صحابہ کرامؓ کے مابین واقع ہونے والے مشاجرات کی بنا پر ان میں کسی ایک صحابیؓ پر طعن و تشنیع سے اجتناب واجب ہے، اگرچہ یہ معلوم ہو جائے کہ فلاں صحابیؓ کا موقف موقفِ حق تھا؛ کیونکہ انہوں نے ان میں صرف اپنے اجتہاد کی بنا پر حصہ لیا اور اللہ نے مجتہدِ مخطی کو معاف فرما دیا ہے، بلکہ یہ بات ثابت ہے کہ مجتہد کے اجتہاد میں خطا ہو جائے تب بھی اسے ایک گنا اجر ملے گا، اور جس کا اجتہاد درست ہو گا اسے دوگنا اجر ملے گا۔
(فتح الباری، کتاب الفتن باب إذا التقى المسلمان، ۱۳/ ۴۳)
(5) حضرت مولانا ڈاکٹر طاہر القادری صاحب فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے درمیان جو باہمی مشاجرات ہوئے ہیں ان پر لب کشائی ہم مناسب نہیں سمجھتے۔ تمام صحابہ کرامؓ اسلام کے لیے مخلص، اور حق گوئی و حق طلبی کے لیے کوشاں تھے۔ مشاجراتِ صحابہ رضی اللہ عنہم میں بحث و تکرار سے گریز کرنا ضروری ہے، کیونکہ اس کا نتیجہ سوائے خود کو شیطان کے حوالے کرنے کے اور کچھ نہیں ہے۔ (دارالافتاء منہاج القرآن، مفتی محمد شبیر قادری)
(6) امام محیی الدین ابو زکریا یحییٰ بن شرف النوویؒ (المتوفی 676ھ) شرح صحیح مسلم میں فرماتے ہیں کہ اہل سنت اہل حق کا مذہب یہ ہے کہ سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں حسنِ ظن رکھا جائے۔ ان کے آپس کے اختلافات میں خاموشی اور تاویل کی جائے۔ (شرح مسلم)
(7) حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندیؒ فرماتے ہیں: مشاجراتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نیک نیت پر محمول کرنا چاہیے اور ہوا و تعصب سے دور سمجھنا چاہیے۔ یہی اہل سنت کا مذہب ہے۔
(مکتوباتِ امام ربانی، مکتوب: 251، دفتر اول)
(8) شیخ محمد بن عبدالوہاب نجدی رحمہ اللہ (1206-1115ھ) فرماتے ہیں: ”اہل سنت کا اس بات پر اجماع ہے کہ صحابہ کرامؓ کے باہمی اختلافات کے بارے میں خاموشی اختیار کی جائے گی۔ ان کے بارے میں صرف اچھی بات کہی جائے گی۔
(مختصر سیرۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم، ص: 317، طبعۃ وزارۃ الشئون الاسلامیۃ، السعودیۃ)
(9) شیخ الاسلام، تقی الدین، ابو العباس، احمد بن عبد الحلیم، ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728-661ھ) فرماتے ہیں کہ اہل سنت کے عقائد میں یہ بات شامل ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں جو بھی اختلافات ہوئے، ان کے بارے میں اپنی زبان بند کی جائے، کیونکہ (قرآن و سنت میں) صحابہ کرامؓ کے فضائل ثابت ہیں اور ان سے محبت و مودت فرض ہے۔
(منہاج السنۃ النبویۃ: 1/448، 449، طبعۃ جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیۃ)
شیخ الوظائف دامت برکاتہم محبتوں کے داعی ہیں اور یہی اکابرینِ امت کی تعلیمات ہیں۔
