سورۃ قریش کا یہ وظیفہ کہاں سے ثابت ہے؟

کچھ عرصہ پہلے ماہنامہ عبقری میں ایک عمل دیا گیا کہ ’ہر کھانے کے بعد تین مرتبہ سورۃ قریش پڑھنے سے ان شاء اللہ اس کھانے سے سائیڈ ایفیکٹ (فوڈ پوائزن) نہیں ہوگا، 7 نسلوں میں رزق کی فراوانی رہے گی اور انسان پر کبھی فاقہ نہیں آئے گا۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ عبقری میں خود ساختہ وظیفے شائع ہوتے ہیں، ان کی خدمت میں گزارش ہے کہ خدارا تھوڑا سا وقت نکال کر اپنے ان اکابر و اسلاف کے متعلق شناسائی حاصل کریں، جن کے ذریعے دین منتقل ہوتے ہوتے ہم تک پہنچا۔ ان سب حضراتِ ذی وقار رحمہم اللہ اجمعین نے دین کے ہر پہلو اور ہر شعبے کو نہایت دیانت داری سے ہم تک پہنچایا اور اعمال سے بننے، اعمال سے پلنے اور اعمال کے ذریعے بچنے کا یقین ہمیں سکھایا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے متعلق احادیث میں آتا ہے کہ اعمال کے ذریعے کام بننے کا یقین ان کے دلوں میں اتنا پختہ ہو چکا تھا کہ اگر جوتی کا تسمہ بھی ٹوٹ جاتا تو وہ پہلے اللہ جل شانہٗ کی طرف رجوع کرتے بعد میں بازار جاتے۔ شیخ الوظائف رزق کی فراوانی، برکت و وسعت کے لئے جو سورۃ قریش پڑھنے کی تلقین کرتے ہیں یہ عمل بھی ان کا خود ساختہ نہیں بلکہ اکابرین سے ثابت ہے۔

سورۃ قریش کا درج ذیل ایک ”خاص الخاص وظیفہ“ شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوری رحمۃ اللہ علیہ اپنے مخلصین کو دیا کرتے تھے، جس پر نہ ہی تعداد کے خود ساختہ ہونے کا فتویٰ لگایا جاتا ہے اور نہ ہی یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ سورۃ قریش تو تلاوت کیلئے نازل ہوئی تھی، اس کا وظیفہ پڑھنا کہاں سے ثابت ہے؟

مرشدِ عالم حضرت الشيخ مولانا غلام حبیب صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو حضرت لاہوری رحمۃ اللہ علیہ نے تیر بہدف وظیفہ عطا کیا۔ جس کے بارے میں شیخ فرمایا کرتے تھے کہ یہ وظیفہ درحقیقت ایک چیک تھا جو کیش کی صورت میں مجھے ملا۔ اس کی برکت سے میں جو چاہتا مجھے مل جاتا اور حج کے موقع پر میں لاکھوں روپے راہِ خدا میں خرچ کرتا۔ وظیفہ یہ ہے کہ ”ہر نماز کے بعد اول و آخر ایک ایک مرتبہ درود شریف اور درمیان میں سات مرتبہ سورۃ قریش پڑھیں“۔

پوسٹ کو شیئر کریں

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026