حضرت کاشمیری رحمۃ اللہ علیہ سے خاص ساعتوں میں خاص وظائف پڑھنے کا ثبوت
ماہنامہ عبقری میں اکابر کی تعلیمات کے مطابق مختلف مسائل کے حل کیلئے خاص ساعتوں میں پڑھنے کیلئے مستند وظائف شائع کیے جاتے ہیں، جن پر کم علم طبقے کی طرف سے اعتراض اٹھتا ہے کہ یہ وظائف خود ساختہ ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ یہ اعتراض عبقری پر فٹ ہوتا ہے یا آگے بڑھتے بڑھتے اکابرین تک پہنچ جاتا ہے؟
استاذ الحدیث، علامہ سید انور شاہ کاشمیری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ جس شخص کی زبان میں لکنت ہو اسے چاہئے کہ شبِ جمعہ میں چار رکعت نفل اس طرح پڑھے کہ پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ یاسین، دوسری رکعت میں سورہ دخان، تیسری رکعت میں سورہ الم السجدہ اور چوتھی رکعت میں سورہ ملک پڑھ کر سلام پھیر دے اور اپنی لکنت کے دور ہونے کی دعا کرے۔ ان شاء اللہ زبان جاری ہو جائے گی۔ بہت مجرب ہے۔
(بحوالہ کتاب: گنجینۂ اسرار، ص 144 ناشر: ادارہ اسلامیات، 190 انارکلی۔ لاہور)
محترم قارئین! غور فرمائیں کہ اس عمل کے نیچے قرآن و حدیث کی کوئی دلیل موجود نہیں، اس کے باوجود حضرت کاشمیری رحمۃ اللہ علیہ فرما رہے ہیں: ”بہت مجرب ہے“ یعنی بار بار کا تجربہ شدہ عمل ہے۔ اب آپ خود ہی فیصلہ کریں کہ کیا عبقری کی مثال ایک ایمان دار ڈاکئیے جیسی نہیں ہے؟ جو اکابرینِ امت کی ڈاک بڑی حفاظت اور احتیاط سے آپ تک پہنچانے کا فرض انجام دے رہا ہے۔ ڈاکیا تو ڈاکیا ہی ہوتا ہے۔ آپ اپنی ڈاک وصول کر کے عبقری اور تسبیح خانے کا شکریہ ادا کریں، جس پر کسی ایرے غیرے کی نہیں، بلکہ اکابر و اسلاف ہی کی اصل مہرِ ثبت ہے۔
