Kya Tamaam Akabireen-o-Aslaaf Mirzai Thay Qisat No 17

کیا تمام اکابرین و اسلاف مرزائی تھے؟

چند برس پہلے ماہنامہ عبقری میں خیروبرکت پانے کے لئے ایک وظیفہ شائع ہوا۔

اس پر چند لوگوں کی طرف سے ایک بے بنیاد اعتراض اٹھایا گیا کہ یہ تو قادیانیوں کا کلمہ ہے۔اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں۔حالانکہ اول بات تو یہ ہے کہ مرزائی قادیانی یہ کلمہ پڑھتے ہی نہیں ہیں۔دوم یہ کہ جب ہم اپنے اکابرینؒ کی مستند کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ اس مبارک وظیفہ کے فضائل و برکات کو مختلف اکابرین ؒ نے بیان فرمایا ہے۔

(1) حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ نے زیارت رسولﷺ کے لئےبیان فرمایا۔(حوالہ:فضائل درود شریف‘ ص 50‘ ناشر:کتب خانہ فیضی لاہور۔)

(2) یہی عمل محدث کبیر‘ محقق العصر علامہ انور شاہ کاشمیریؒ نے رزق میں برکت کے لئے اپنے تمام متعلقین کو عنایت فرمایا۔(حوالہ:گنجینہ اسرار‘ ص29‘ ناشر:ادارہ اسلامیات‘انارکلی لاہور)

(3) یہی وظیفہ شہنشاہ عملیات‘ ابو العباس شیخ احمد علی بونیؒ نے ولایت کے اعلیٰ مقامات پانے کے لئے اپنے ہزاروں مریدین کو عطا کیا۔(شمس المعارف‘ ص34‘ ناشر: شبیر برادرز‘ لاہور)

(4) حضرت علامہ کمال الدین دمیریؒ نے گناہوں سے چھٹکارہ حاصل کرنے کےلئے اپنی مشہور زمانہ کتاب’’ حیات الحیوان‘‘ میں بیان کیا(حوالہ:حیات الحیوان‘ ص 128‘ ناشر:مکتبہ الحسن‘اردو بازار لاہور)

(5) اسی عمل کو زبدۃ المحدثین نواب سید محمد صدیق حسن خان بھوپالی ؒ نے جنات سے حفاظت کے لئے اکسیر المجرب بتا یا ہے۔(حوالہ:الداء والدواء‘ ص 110‘ ناشر:مشتاق بک کارنر ‘الکریم مارکیٹ ‘اردو بازار‘ لاہور)

اس کے علاوہ تمام علمائے کرام و مشائخ عظام نے اس عمل کو سراہا اور پنےمعمولات کا حصہ بنایا ہے۔جن میں مولانا ابولمظفر ظفر احمد قادری‘ مولانا حافظ محمد اقبال قریشی‘ مفتی احمد الرحمانؒ کے صاحبزادے مولانا عزیز الرحمانی‘ مولانا محمد اسحاق ملتانی‘ مولانا اعجاز احمد سنگھانوی جیسی معتبر شخصیات سر فہرست ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا یہ تمام اکابرین مرزائی تھے؟کیا انہوں نے مسلمانوں کو راہ راست سے گمراہ کرنے کا حلف اٹھایا ہوا تھا؟ہر گز ایسا نہیں ہے۔یہ وظیفہ تو اس وقت کا ہے جب مرزا قادیانی ابھی پیدا بھی نہیں ہوا تھا۔محترم قارئین! ہمیں اپنے اکابرین کے ایمان میں شک کیوں پیدا ہو گیا ہے۔یہ وہی اکابرینؒ ہیں کہ جن کی مساعی کے صدقے ہم تک ایمان اور اعمال والی زندگی پہنچی۔کیا آج کے فتنوں بڑے دور میں ہم ان سے بڑے محقق اور مجدد بن چکے ہیں۔

کیا یہ سچ نہیں کہ ماہنامہ عبقری اور تسبیح خانہ انہی اکابرینؒ امت کے آزمودہ وظائف و عملیات کو آپ تک پہنچانے کا فریضہ نبھا رہا ہے۔تو پھر قصور کس کا ہے؟اعتراض کرنے والے لا علم لوگوں کا یا علم و عمل کے پہاڑ اکابرینؒ امت کا۔۔؟

Kya Tamaam Akabireen-o-Aslaaf Mirzai Thay Qisat No 17

فیس بک پر پڑھیں

سلام علی نوح فی العلمین کا وظیفہ 4 اولیائے کرام ؒ کا متفقہ فیصلہ

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025