جنات سے گفتگو کرنے والے صحابہ کرام رضوان الله عليهم أجمعين

محدثِ زمانہ، مفسرِ یگانہ حضرت علامہ امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: امام ابن ابی الدنیا رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ”مکائد الشیطان“ میں اور علامہ ابو الشیخ رحمۃ اللہ علیہ نے ”کتاب العظمۃ“ میں حضرت ابو اسحاق رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کی ہے کہ ایک رات حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اپنے باغ میں گئے تو وہاں شور سنا۔ انہوں نے آواز دے کر پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ وہاں سے ایک جن کی آواز آئی کہ ہم پر قحط پڑ گیا ہے اس لیے میں نے چاہا کہ آپ کے باغ میں سے کچھ پھل لے لوں، لہٰذا آپ خوشی خوشی ہمیں کچھ ہدیہ عنایت کر دیں۔ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ٹھیک ہے لے جاؤ مگر کیا تم مجھے وہ چیز نہیں بتاؤ گے جس کے ذریعے ہم تم سے پناہ میں رہیں؟ اس جن نے کہا: وہ چیز تو آیۃ الکرسی ہے۔

اسی طرح امام ابن ابی الدنیا رحمۃ اللہ علیہ ”مکائد الشیطان“ میں حضرت ولید بن مسلم رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی ایک درخت کے پاس گیا تو اس نے وہاں کچھ حرکت سنی۔ اس نے آواز دی تو کوئی جواب نہ ملا۔ پھر اس نے آیۃ الکرسی پڑھی تو اس کے پاس ایک جن اتر آیا۔ اس آدمی نے پوچھا: ہمارا ایک آدمی بیمار ہے، ہم اس کا علاج کس چیز سے کریں؟ جن نے کہا: اسی چیز سے جس کے ذریعے تم نے مجھے درخت سے نیچے اتارا ہے، یعنی آیۃ الکرسی کے دم سے اس کا علاج کرو۔

محترم قارئین! جنات سے ملاقات اور گفتگو کرنا، ان سے وظائف پوچھنا یا ان سے احادیث کی روایات لینا تو ہمارے تمام اکابر سے تواتر کے ساتھ چلا آ رہا ہے۔ موجودہ دور میں انہی اکابرینِ امت کے سچے خادم اور تعلیماتِ اکابر کے مخلص داعی و مبلغ حضرت علامہ لاہوتی پراسراری دامت برکاتہم بھی مخلوقِ خدا کو جنات کے شر سے بچنے کے وظائف قومِ جنات ہی سے پوچھ پوچھ کر ماہنامہ عبقری کے ذریعے بتا رہے ہیں۔ جو اس چیز کا واضح ثبوت ہیں کہ ہر دور میں ایسے اولیاء کرام موجود رہیں گے جن پر اللہ تعالیٰ کائنات کا ماورائی نظام کھول دیتا ہے۔ انسانوں کی طرح جنات بھی ایسے اولیاء کرام سے محبت کرتے ہیں اور ان کی خدمت کرنا اپنے لیے سعادت سمجھتے ہیں۔

پوسٹ کو شیئر کریں

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026