آئیں تسبیح خانہ کے منبر سے بیان کیے جانے والے نوافل کی تحقیق کرتے ہیں

سالہا سال سے تسبیح خانہ میں انفرادی صلوٰۃ التسبيح پڑھنے کی ترغیب دی جاتی ہے اور تسبیح خانہ کی شاخ خانقاہِ روحانی منزل مری کے معمولات میں صلوٰۃ التسبيح اہتمام سے شامل ہے اور ہر آنے والا شخص اس مسنون عمل کو ضرور ادا کرتا ہے (یہ تو وہ جگہ تھی جہاں لوگ سیر و سیاحت کیلئے آتے ہیں لیکن یہاں آنے کے بعد بھی لوگ تسبیح خانہ کی حکمت و بصیرت کے ذریعے مسنون اعمال سے جڑ جاتے ہیں)۔ یہ نوافل حدیث سے ثابت ہیں اور ہمارے بڑے بڑے اہلِ علم نے انھیں ذکر کیا ہے چند حوالہ جات پیشِ خدمت ہیں جس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ تسبیح خانہ کس حکمت اور بصیرت سے قرآن و سنت کے پرچار کو عام کر رہا ہے۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اے میرے چچا! کیا میں تمہیں ایک عطیہ کروں۔۔۔۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلوٰۃ التسبيح کی تعلیم فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ روزانہ ایک مرتبہ اس نماز کو پڑھ لیا کرو یہ نہ ہو سکے تو ہر جمعہ کو ایک مرتبہ۔۔۔ یہ بھی نہ ہو سکے تو ہر مہینہ میں ایک مرتبہ۔۔۔ یہ بھی نہ ہو سکے تو پھر سال میں ایک مرتبہ پڑھ لیا کرو۔۔۔ یہ بھی نہ ہو سکے تو عمر بھر میں ایک مرتبہ پڑھ لو۔

حدیث شریف میں صلوٰۃ التسبيح پڑھنے پر تمام اگلے پچھلے۔۔۔ نئے پرانے۔۔۔ بھول چوک سے اور دانستہ ہونے والے۔۔۔ صغیرہ بھی۔۔۔ کبیرہ بھی۔۔۔ ڈھکے چھپے بھی اور اعلانیہ تمام گناہوں کی مغفرت کا وعدہ ہے۔ (ابوداؤد)

1 نفل نمازوں میں صلوٰۃ التسبيح بہت عظیم الشان نماز ہے جس کی بڑی فضیلت اور ثواب ہے۔ حضرت عبدالعزیز بن ابی داؤد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جو شخص جنت میں جانا چاہے وہ صلوٰۃ التسبيح کا اہتمام کرے۔ اور حضرت ابو عثمان حیری رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ مصیبتوں اور غموں سے نجات کیلئے میں نے کوئی عمل صلوٰۃ التسبيح سے بڑھ کر نہیں دیکھا۔ یعنی اس کے پڑھنے سے رنج و غم اور مصیبتیں دور ہو جاتی ہیں۔

2 صلوٰۃ التسبيح کا حدیث میں بڑا ثواب منقول ہے، اس کے پڑھنے سے بے انتہا ثواب ملتا ہے۔۔ (جواب نمبر: 59764 واللہ تعالیٰ اعلم دارالافتاء، دارالعلوم انڈیا)

3 حضرت مفتی احمد یار نعیمی صاحب بدایونی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: صلوٰۃ التسبيح پڑھنے سے تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ (مرأۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ص 309، مصنف: حضرت مفتی احمد یار نعیمی صاحب بدایونی، ناشر: دعوتِ اسلامی)

4 صلوٰۃ التسبيح چار رکعت نماز ہوتی ہے۔ یہ نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو بطورِ تحفہ و عطیہ کے سکھائی تھی، اس کی فضیلت یہ ارشاد فرمائی ہے کہ اس کے پڑھنے سے سارے گناہ (چھوٹے بڑے) معاف ہو جاتے ہیں۔ اس نماز کے کے پڑھنے کے دو طریقے ہیں۔ (فتویٰ نمبر: 143709200040، دارالافتاء: جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن)

5 شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم فرماتے ہیں کہ صلوٰۃ التسبيح نفلی نماز ہے۔ (بحوالہ فتاویٰ عثمانی ۳۰/ ۱۷۸)

6 ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی صاحب فرماتے ہیں کہ مشہور و معروف محدث امام بیہقیؒ (۳۸۴ھ۔۴۵۸ھ) نے حدیث کی مشہور کتاب (شعب الایمان ۱/ ۲۷۱) میں تحریر کیا ہے کہ امام حدیث شیخ عبداللہ بن مبارکؒ (۱۱۸ھ۔۱۸۱ھ) صلوٰۃ التسبيح پڑھا کرتے تھے اور دیگر سلف صالحین بھی اہتمام کرتے تھے۔ اس موضوع پر زمانہ قدیم سے محدثین، مفسرین، فقہاء و علماء نے متعدد کتابیں تحریر فرما کر صلوٰۃ التسبيح کے صحیح ہونے کے متعدد دلائل ذکر فرمائے ہیں، جن میں سے امام حافظ ابوبکر خطیب بغدادیؒ (۳۹۲ھ۔۴۶۳ھ) کی کتاب (ذکر صلوٰۃ التسبيح) کافی اہم ہے۔ (ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی www.najeebqasmi.com)

7 ایک جماعت اس حدیث کو صحیح یا حسن ضرور قرار دیتی ہے، انہیں میں سے جن لوگوں نے اس حدیث کو صحیح یا حسن قرار دیا ہے درج ذیل ہیں: (۱) ابوبکر الآجری (۲) ابو محمد عبدالرحیم المصری (۳) حافظ ابوالحسن المقدسی (۴) ابو داؤد صاحب السنن (۵) امام مسلم رحمہ اللہ صاحب الجامع الصحیح (۶) حافظ صلاح الدین العلائی (۷) خطیب بغدادی (۸) حافظ ابن صلاح

(۹) امام سبکی (۱۰) سراج الدین البلقینی (۱۱) ابن مندۃ (۱۲) امام حاکم (۱۳) امام منذری (۱۴) ابو موسیٰ المدینی (۱۵) امام زرکشی (۱۶) امام نووی نے تہذیب الاسماء واللغات کے اندر (۱۷) ابو سعید السمعانی (۱۸) حافظ ابن حجر نے الخصال المكفرۃ اور امالی الاذکار میں (۱۹) ابو منصور الدیلمی (۲۰) امام بیہقی (۲۱) امام دار قطنی رحمہم اللہ اور دیگر لوگوں نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ (بحوالہ: مرعاۃ المفاتیح ص: ۲۵۳)

امام مسلم رحمہ اللہ اس حدیث کے متعلق کہتے ہیں کہ ”لا يروى فيها اسناد احسن من هذا به“ (عون المعبود: ص: ۱۲۴ ج: ۲ جز ۴)

یعنی صلوٰۃ التسبيح سے متعلق سب سے بہترین سند یہی ہے، ابن شاہین ترغیب کے اندر کہتے ہیں: ”سمعت ابا بكر بن ابی داؤد يقول سمعت ابى يقول أصح حديث في صلوة التسبيح هذا“ (عون المعبود: ص: ۱۲۴ ج ۲ جز ۴)

یعنی ابوبکر کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کو فرماتے ہوئے سنا کہ صلوٰۃ التسبيح سے متعلق سب سے صحیح حدیث یہی ہے، اس طرح امام بیہقی رحمہ اللہ نے بھی بیان کیا ہے: ”کان عبداللہ ابن المبارک يصليها و تداولها الصالحون بعضهم عن بعض و فيه تقوية للحديث“ (عون المعبود: ج ۲ ص: ۱۲۴ ج ۲ جز ۴)

یعنی عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ بھی صلوٰۃ التسبيح کا اہتمام کرتے تھے اور سلف صالحین سے بھی صلوٰۃ التسبيح کا طریقہ منقول ہے جس کی وجہ سے حدیث کو تقویت حاصل ہو جاتی ہے اسی طرح سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی یہ حدیث دوسرے طریقے سے بھی آئی ہوئی ہے جس میں موسیٰ بن عبدالعزیز کی متابعت ابراہیم بن حکم نے کی ہے اور عکرمہ کی متابعت عطاء اور مجاہد نے کی ہے۔ (بحوالہ عون المعبود: ج ۲ ص: ۱۳۵ جز ۴)

اور صرف یہی نہیں کہ صلوٰۃ التسبيح سے متعلق وارد ہونے والی حدیث اکیلے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے بلکہ بہت سارے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بھی حدیث وارد ہوئی ہے، مثلاً حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ،

حضرت عباس رضی اللہ عنہ، عبداللہ بن عمرو، عبداللہ بن عمر، علی بن ابو طالب، جعفر رضوان اللہ علیہم اجمعین اور ان کے بیٹے عبداللہ بن جعفر اسی طرح ابو رافع، ام سلمہ اور دیگر صحابہ رضوان اللہ علیہم سے بھی یہ حدیث منقول ہے۔ (بحوالہ مرعاۃ المفاتیح: ص ۲۵۲)

خلاصہ کلام یہ کہ صلوٰۃ التسبيح سے متعلق حدیث صحیح ہے اور اس پر عمل کرنا بالکل درست اور جائز ہے۔ شیخ الحدیث عبید اللہ محدث مبارکپوری رحمہ اللہ کہتے ہیں:

”والحق عندی ان حدیث ابن عباس لیس بضعیف فضلاً عن ان يكون موضوعاً او كذباً بل هو حسن لا شك في ذالك عندی فسنده‌ لا ينحط عن درجة الحسن بل لا يبعد ان يقال انه صحيح لغيره بما ورد من شواهد‌ه وبعضها لا بأس“

یعنی میرے نزدیک عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث ضعیف نہیں چاہے کہ وہ موضوع اور من گھڑت ہو بلکہ اس حدیث کے حسن ہونے میں کوئی شک نہیں بلکہ اگر یہ کہہ دیا جائے کہ دیگر شواہد کی بنیاد پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے تو کوئی بعید بات نہیں ہے۔ (مرعاۃ المفاتیح ج ۲ ص: ۲۵۳)

مولانا عبدالرحمن محدث مبارکپوری رحمہ اللہ نے بھی تحفۃ الاحوذی ج ۲ کے اندر بیان کیا ہے: ”والظاهر عندی لا ينحط عن درجة الحسن“

یعنی میرے نزدیک بھی یہ حدیث حسن کے درجہ سے کم نہیں ہے۔ یہی علامہ البانی رحمہ اللہ کا بھی نظریہ ہے کہ ”صلوٰۃ التسبيح“ سے متعلق حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی یہ حدیث صحیح ہے۔ (مجلس التحقیق الاسلامی، محدث فورم)

ہمارے بڑے مشکلات، پریشانیوں اور دکھوں سے نجات کیلئے صلوٰۃ التسبيح پڑھتے آئے ہیں اور تسبیح خانہ اسی ترتیب کو آگے لے کر چل رہا ہے۔

پوسٹ کو شیئر کریں

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026