شیخ الوظائف دامت برکاتہم لاکھوں کی تعداد میں پودے لگانے کی کیوں ترغیب دیتے ہیں اور کیوں اس کی حفاظت کی تلقین کرتے ہیں، اس میں ان کا کیا مفاد ہے آئیے جانتے ہیں۔۔۔! آپ نے اپنے تمام مراکز خانقاہ تسبیح خانہ لاہور، درود محل لاہور، ہجویری محل شیخوپورہ، روحانی منزل مری، گوشہ درود و سلام کراچی، عبقری حویلی احمد پور شرقیہ میں لاکھوں کی تعداد میں پودے لگائے ہیں۔ اس میں آپ کے پیشِ نظر احادیثِ مبارکہ پر عمل کرنا ہے جن میں پودے لگانے کی ترغیب اور ان کی حفاظت کی تعلیم دی گئی ہے چند احادیثِ مبارکہ پڑھیے اور آپ کے جذبہ اتباعِ سنت کو داد دیجئے۔۔۔!
1 سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس مسلمان نے کوئی درخت لگایا اور اس کا پھل آدمیوں اور جانوروں نے کھایا تو اس لگانے والے کے لیے صدقہ کا ثواب ہے۔“ (بخاری)
2 حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کہ جب مسلمان کوئی درخت یا کھیتی اگاتا ہے، پھر اس سے کوئی انسان، جانور یا کوئی بھی چیز کچھ کھا لیتی ہے تو یہ اس کے لیے صدقہ شمار ہوتا ہے۔“ (مسلم)
3 حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کہ جب کوئی شخص کوئی درخت اگاتا ہے تو جتنا پھل اس میں سے نکلتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بقدر اس کے لیے اجر لکھ دیتا ہے۔“ (مسند احمد)
4 حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کے پاس علم حاصل کرنے کی غرض سے کچھ طلبہ آئے، تو انھوں نے دیکھا کہ حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ درخت لگا رہے ہیں، تو ان طلبہ نے تعجب سے عرض کیا کہ آپ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہو کر یہ دنیوی کام کر رہے ہیں؟ تو حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”جس شخص نے کوئی درخت اگایا، تو اس میں سے کوئی انسان، پرندہ یا کوئی اور جانور جو کچھ بھی کھاتا ہے تو اللہ اس کو اس کا اجر دیتا ہے یہاں تک کہ وہ خشک نہ ہو جائے۔“ (الترغیب والترھیب)
5 حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سات اعمال ایسے ہیں جن کا اجر و ثواب بندے کو مرنے کے بعد بھی ملتا رہتا ہے، حالانکہ وہ قبر میں ہوتا ہے: (1) جس نے علم سکھایا (2) یا نہر کھدوائی (3) یا کنواں کھودا (یا کھدوایا) (4) یا کوئی درخت لگایا (5) یا کوئی مسجد تعمیر کی (6) یا قرآن شریف ترکے میں چھوڑا (7) یا ایسی اولاد چھوڑ کر دنیا سے گیا جو مرنے کے بعد اس کے لیے دعائے مغفرت کرے۔ (مجمع الزوائد ومنبع الفوائد)
6 حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہ اگر قیامت قائم ہونے لگے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں پودا ہو (جس کو وہ لگانا چاہ رہا ہو) تو اگر قیامت قائم ہونے سے پہلے اسے لگا سکتا ہے تو لگا لے۔“ (اتحاف الخیرۃ المہرۃ)
