وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جیسے جیسے نئی نئی بیماریاں بڑھتی جا رہی ہیں اسی طرح دورِ حاضر میں جادوگر اور جادو بھی نت نئے طریقے سے ہماری جان مال اور عزت پر ڈاکہ ڈال رہا ہے جادو بڑی بڑی ہستیوں کیلئے بیماریوں حتیٰ کہ جان لینے کا بھی ذریعہ بنا ہے ذیل کی دو مثالیں اس موضوع کو سمجھانے کیلئے کافی ہیں۔
مولانا عبدالحی صاحب رحمہ اللہ کا جادو کی وجہ سے انتقال
فرمایا مولانا عبدالحی صاحب بڑے صاحبِ کمال تھے تقریباً 38 یا 40 سال کی عمر ہوئی کسی نے جادو کر دیا تھا، مولوی صاحب کے سرہانے خون کی ایک شیشی دبی ہوئی نکلی، اس سے شبہ ہوا تھا کہ کسی نے جادو کیا اور اسی میں ان کا انتقال ہو گیا، اس تھوڑی سی عمر میں بہت کام کیا، سمجھ میں نہیں آتا، وقت میں بہت برکت تھی، ہر فن سے مناسبت تھی، اور ہر فن کے خدمت کی۔ (عملیات و تعویذات کا پی نمبر 17)
مفتی اعظم پاکستان مولانا محمد شفیع رحمہ اللہ پر جادو کا اثر
(مکتوب گرامی: حضرت اقدس مفتی محمد شفیع صاحب بنام حکیم الامت رحمہ اللہ) ناکارہ خادم تقریباً ایک ماہ سے بیمار ہے، ضعف اس قدر ہو گیا کہ نشست برخاست مشکل ہو گئی، میرے قویٰ تقریباً ساقط ہوتے جا رہے ہیں حالت روز بروز گرتی جاتی ہے۔ حضرت میاں صاحب مدظلہ نے اپنے طریقے کے مطابق، میری حالت کو دیکھا تو فرمایا کہ جادو کے اثرات بالکل نمایاں ہیں اور تمام اعضاء بدن میں اس کا اثر ہو چکا ہے، اس وقت زیادہ اہتمام سے ان کا علاج کر رہا ہوں، ڈیڑھ ماہ تک مختلف طبیبوں کا علاج کرتا رہا، ذرا برابر فائدہ محسوس نہ ہوا، حضرت والا بھی اگر کوئی تعویذ جادو کو دور کرنے کیلئے عطا فرمائیں تو انشاء اللہ تعالیٰ باعثِ برکاتِ عظیمہ ہوگا۔
جواب حکیم الامت رحمہ اللہ
(تعویذ) ملفوف ہے (لپٹا ہوا ہے) پاس رکھیے اور بعد نمازِ فجر اگر کوئی محب (خیر خواہ، ہمدرد) چینی کی پلیٹ وغیرہ پر سورۂ فاتحہ اور یہ دعا لکھ کر دھو کر پلا دیا کرے تو زیادہ بہتر ہے۔ ”يا حَيُّ حينَ لا حَيَّ فِي ديمومَةِ مُلْكِهِ وبَقائِهِ ياحَيُّ“
(بحوالہ البلاغ کراچی، اشاعتِ خصوصی مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع صاحب ص 189)
محترم قارئین! اب آپ ہی بتائیں جب اتنے بڑے بڑے اکابر پر جادو کا اثر ہو گیا ہے اسی وجہ سے عبقری جادو کے توڑ کیلئے عملیات پر اتنا زور دیتا ہے۔
